کیا پاکستانی معیشت بحران کا شکار ہے
بخدمت جناب ڈاکٹر محمد امین صاحب محترم استاد، السلام علیکم ورحمۃ اللہ میں نے جو پہلے 15 صفحہ کا مضمون لکھا تھا وہ گم ہو گیا ہے۔ امین اشعر بھائی کو نہیں ملا۔ لہٰذا اب قلم برداشتہ ایک نیا مضمون البرہان کے لیے روانہ کر رہا ہوں۔ تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کا خادم جاوید اکبر انصاری کیا پاکستانی معیشت بحران کا شکار ہے؟ بحران کی نوعیت آج کل پورے ملک میں یہ تاثر عام ہے کہ ہم معاشی بحران کے دور سے گزر رہے ہیں۔ تورم (inflation) آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ بین الاقوامی ادائیگیوں کا خسارہ بڑھ رہا ہے۔ سودی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حکومتی اخراجات وصولیوں سے بہت زیادہ ہیں۔ منظم معیشت (formal economy) میں سرمایہ کاری اور بچتیں منجمد ہیں۔ اس سب کے باوجود عوام خاموش ہیں اور کسی بڑی نظاماتی بغاوت کے کئی آثار دکھائی نہیں دیتے( جیسا کہ لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ کے ممالک میں معمول ہے)۔ عوام کے معاشرتی جمود کی تین اہم وجوہات ہیں۔ 1۔ عوام کی نظریاتی لاتعلقی۔ عوام نظریاتی طور پر بانجھ ہیں۔ وہ کسی سرمایہ دارانہ طرز یا غیر سرمایہ دارانہ نظاماتی تغیر کا تصور نہیں کرتے۔ نظریاتی عدم موجودگی میں تحرک ناممکن ہے۔ 2۔ عوام جس نظاماتی ساخت (structure) کے محکوم ہیں وہ مستحکم ہے۔ یہ موالیاتی نظام ہے جس میں عوام مفاداتی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر گروہ اپنے سیاسی مربی پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے میں سرمایہ دارانہ یا غیر سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد کمزور بھی ہوتی ہے اور سیاسی نظاماتی انجماد کو تقویت دینے والی بھی۔ ریاستی اور سیاسی اشرافیہ میں کشمکش نورا کشتی بنتی جاتی ہے (جیسا کہ عمران خان اور موجودہ حکومت کی کشمکش ہے) اور اس نورا کشتی سے نظاماتی تغیر برپا نہیں ہوتا۔ 3۔ ملک دو بڑے دائروں میں منقسم ہے۔ عوام کی بہت بڑی اکثریت (لیبر فورس کے تقریباً 80 فیصد) منظم معیشت سے گہرا تعلق نہیں رکھتی۔ لوگ اپنا رزق خود پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود ملازمتی (self-employed) ہیں۔ ان کا سرمایہ کی گردش (سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کی کارفرمائی) سے بالواسطہ رابطہ نہیں پڑتا۔ غیر منظم معیشت (informal economy) مستحکم ہے اس میں کوئی بحران نہیں۔ بحران صرف منظم معیشت میں آیا ہوا ہے۔ اس معیشت کے بھی دو حصے ہیں۔ نجی منظم معیشت اور سرکاری منظم معیشت۔ دونوں سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم ہیں۔ سرکاری معیشت اور نجی منظم معیشت کا حرام خور (financial) بڑے کارپوریشنوں کا شعبہ عالمی سرمایہ دارانہ معیشت سے پیوست ہے اور یہ دونوں شعبے بحران کا شکار ہیں۔ عمران خان کےدورِ حکومت میں اس پیوستگی میں شدید اضافہ ہوا۔ عمران خان نے اتنے بین الاقوامی سودی قرضے لیے جو پچھلے ستر سال میں لیے گئے قرضوں کے برابر تھے۔ عمران خان نے 2019ء میں آئی ایم ایف سے وہ شرمناک معاہدہ کیا جس کی وجہ سے سامراج کی گرفت پاکستانی معیشت پر اتنی مضبوط ہوئی کہ ہمیں اسٹیٹ بینک کو سامراج کے ہاتھوں بیچنا پڑا۔ عمران خان نے درآمدات کے سیلاب میں منظم معیشت (formal economy) کو ڈبو دیا۔ عمران خان سامراج کا غلام ثابت ہوا۔ مسلم لیگ/ پیپلز پارٹی بھی سامراج کی غلام جماعتیں ہیں۔ ہم ان کی کشمکش کو نورا کشتی اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں تبدیلی اقتدار کے نتیجہ میں پاکستانی منظم معیشت کی عالمی سامراجی نظاماتی پیوستگی میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ منظم شعبہ کے بحران سے نکلنے کی لازمی شرائط اس منظم شعبہ جاتی بحران سے نکلنے کی دو ضرورتیں ہیں جو مجوزہ سیاسی اشرافیہ (خواہ عمران خان خواہ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی) کبھی پوری نہیں کر سکتی۔ پہلی ضرورت یہ ہے کہ منظم معیشت کی غیر منظم معیشت میں پیوستگی میں برق رفتار اضافہ ہو۔ یعنی منظم معیشت غیر منظم معیشت میں ضم ہوتی چلی جائے۔ اس کے لیے سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کو منہدم کرنا، تمام بینکوں (بشمول اسلامی بینکوں) اور حرام خور اور فنانشل اداروں کو قومیانا، قومی پیداواری رسدی زنجیروں (domestic production supply chains) کی تعمیر اور توسیع اور ایک قومی کرنسی کا اجرا جس کی مقدار کا تعین قومی پیداواری ضرورتوں کے مطابق کیا جائے اور جس کا تعلق بیرونی کرنسیوں کے ذخائر (foreign exchange reserves) سے نہ ہو، ضروری ہے۔
دوسری ضرورت اس بات کی ہے کہ سامراجی معیشت پر انحصار کم کیا جائے۔ زر مبادلہ (foreign exchange) کی شرح کا تصور قومی پیداواری ضرورتوں کے مطابق ہو۔ اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف اور سامراجی زری مارکیٹوں (global commercial markets) کی غلامی سے نجات دلائی جائے۔ زر کی بین الاقوامی ترسیل پر پابندی عاید کی جائے۔ درآمدات کو لائسنسنگ کے ذریعے کلیدی شعبوں (تیل، توانائی، پیداواری مشینری) تک محدود کیا جائے۔ درآمدات کی ملکی پیداواری سکت (import stability capacity) کو فروغ دیا جائے۔ اور سب سے اہم اور فی الفور کرنے کا کام یہ ہے کہ سری لنکا، لبنان، وینزویلا اور دیگر کئی لاطینی امریکی ملکوں کی طرح سامراجی قرضہ جات کی اصل اور سود کی ادائیگیوں کو ایک مدت کے لیے منسوخ کیا جائے۔ سودی ادائیگیوں سے ہمیشہ کے لیے انکار کیا جائے کیونکہ بیش تر مذاہب (اسلام، عیسائیت) میں حرام خوری کی اور اصل کی ادائیگی کے لیے قرضہ دینے والے اداروں سے مذاکرات کیے جائیں۔ اصل (princinpal) کی سالانہ ادائیگی برآمد محصولات کے تقریباً دس فیصد تک محدود کی جائے (یعنی رواں سال میں تقریباً تین بلین ڈالر)۔ نئے سودی قرضے نہ نجی بینکوں سے نہ سرکاری اداروں سے نہ سامراجی بین الاقوامی قرضہ اداروں (آئی ایم ایف) ورلڈ بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ) سے لیے جائیں۔ یہ حکمت عملی ہرگز اختیار نہیں کی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیفالٹ سے کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ ڈیفالٹ سرمایہ دارانہ سودی بازاروں میں عام ہے۔ روزمرہ کا معاملہ ہے۔ 1988 سے 2020 تک تقریبا 23 ممالک ڈیفالٹ کر چکے ہیں اور ان کی بہت بڑی اکثریت کے خلاف کوئی تنفیذی کارروائی نہیں کی گئی۔ پاکستان کے بین الاقوامی واجبات کچھ بھی نہیں۔ ان کی عدم ادائیگی یا وقتی منسوخی کا کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ سری لنکا اور لبنان نے حال میں ڈیفالٹ کر دیا۔ بنگلہ دیش ڈیفالٹ کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔ ان ممالک کے خلاف نہ کوئی sanctions نافذ کیے گئے نہ کوئی تادیبی کاروائی عمل میں آئی۔ Sanctions کے نفاذ کی وجہ ڈیفالٹ کبھی نہیں ہوتی۔اس کی وجہ سیاسی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاسی اشرافیہ کبھی ڈیفالٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ چنانچہ مسلم لیگ/ پیپلز پارٹی کی حکومت سامراج سے بھیک مانگتی پھر رہی ہے اور عمران خان اپنی مزاحمتی مہم میں ڈیفالٹ کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کر رہا۔ وہ یہ تک نہیں کہہ رہا کہ اگر میں دوبارہ آیا تو سامراجی قرضے لینے سے پرہیز کروں گا۔ سامراجی قرضوں کی بہتات نے ہی منظم شعبہ کا بحران پیدا کیا ہے اور ہمارے حکمران سامراجی قرضوں کے انبار میں اضافہ کو ہی بحران کا حل تصور کرتے ہیں ؎ اسی عطار کے لونڈوں سے دوا لیتے ہیں ایسا کیوں ہے اور ان حرامخوروں سے کچھ کہنا کیوں عبث ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرام خور سامراج کی تخلیق اور اس کے پروردہ ہیں۔ یہ سامراجی سرمایہ دارانہ عقائد اور نظریات پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ قوم پرست ہیں۔ لبرل ہیں۔ ہیومنسٹ ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ ہیں۔ جس گھناؤنی ثقافت میں یہ زندگی گزار رہے ہیں وہ ان کے ان فاسد عقائد اور ایمانیات کو مستحکم کر رہا ہے۔ پھر ان کے مادی مفادات بھی سامراج سے وابستہ ہیں۔ ان کی اولاد بھی سامراج کی آغوش میں پل رہی ہے۔ یہ اپنے نفس کے بھی غلام ہیں اور اپنے سامراجی آقاؤں کے بھی۔ ان کے بس میں نہیں کہ یہ سامراج کی تابع داری کو ترک کریں۔ ناحق ان مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی اسلامی جماعتیں کیا کریں ہماری اسلامی جماعتوں (سیاسی اور غیر سیاسی) دونوں نے کبھی بھی کوئی مربوط نظاماتی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔ لہٰذ ملک میں کوئی اسلامی معاشی تشخص ابھر نہ سکا۔ اپنی اس نظاماتی کمزوری کو رفع کرنے کے لیے دو اقدام ممکن بھی ہیں اور ضروری بھی۔
اولاً ہمیں غیر منظم معیشت (informal economy) کو اسلامی خطوط پر منظم کرنے کی جدوجہد کرنا چاہیے۔ یہ شعبہ سرمایہ دارانہ گرفت سے بھی قدرے آزاد ہے( اس پر سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کا تسلط بھی نہ ہونے کے برابر ہے)اور حکومتی گرفت سے بھی۔ الحمدللہ اسلامی بینک بھی اس شعبہ میں دراندازی سے قاصر رہے ہیں۔ ہمیں اس شعبہ میں ایک ملک گیر تمویلی نظام کے اجرا کی جدوجہد کرنا چاہیے جس کا مقصد غیر سودی قرضوں کی فراہمی کے باعث حلال کاروبار کے دائرہ کار میں فروغ ہو جو اس شعبہ کو خود کفالتی (self-sustaining) بنا دے۔ ہمیں اس شعبہ کو حکومتی دست برد سے محفوظ رکھنے کی بھی کوشش کرنا چاہیے۔ بالخصوص دستاویزیت (documentation) کی مہم کو ناکام بنانے کی جدوجہد اور محصولاتی منصوبوں (tax returns) کو فروغ دینا چاہیے۔ یہ اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ غیر منظم شعبہ سودی اور غراری تحکم سے محفوظ رہے اور منظم شعبہ کا بحران غیر منظم شعبہ پر اثرانداز نہ ہو۔ غیر منظم شعبہ میں پیداواری اور حکومتی رسدی زنجیروں (value chains) کو تقویت دینے کی بھی ضرورت ہے اور آئی ٹی سروسز اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ثانیاً، اسلامی جماعتوں کو سامراج نواز پالیسیوں کی بھرپور مخالفت اور مذمت کرنی چاہیے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہماری سب سے بڑی اسلامی جماعت یعنی جمعیت علمائے اسلام مسلم لیگ، پیپلز پارٹی کی سامراج نواز معاشی پالیسیوں کی تائید کر رہی ہے۔ اس نے حکومت میں وزارتیں قبول کرنے کی غلطی کی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے شریعت کورٹ کے امتناع سود کے بارے میں فیصلہ دیا ہے اس کی مخالفت سے عملاً دست کش ہو گئی اور آئی ایم ایف کی تابع داری کے ذہن میں جو رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اس کے بارے میں بالکل خاموش ہے۔ اس سب کی سیاسی قیمت جمعیت علمائے اسلام کو دینی پڑے گی اور اس عمل سے اس کی اسلامی شناخت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ موثر سامراج مخالفت کا کیا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے؟ تمام اسلامی جماعتوں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی) کو فی الفور آئی ایم ایف کے معاہدہ کی توسیع کی مخالفت کرنا چاہیے اور مطالبہ کرنا چاہیے کہ پاکستان بیرونی قرضوں(سود اور اصل) دونوں کی ادائیگی معطل کر دے۔ کوئی دہریہ سیاسی جماعت اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی اور موجودہ سیاسی حالات میں ڈیفالٹ اور آئی ایم ایف معاہدہ کی تنسیخ کی عوامی تائید بھی محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بنیادی اسلامی constitutency یعنی ملک بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں مخلصین دین میں سامراج مخالفت کی ضرورت کا احساس نہایت محدود ہے (اور ہم نے اس شعور کو بیدار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی)۔ موثر سامراج مخالفت کا ممکنہ ذریعہ آیندہ انتخابات میں کامیابی پر منحصر ہے۔ اگر: 1۔ اسلامی جماعتیں متحد ہو جائیں 2۔ اور ان کے انتخابی منشور میں ڈیفالٹ کرنے اور آئی ایم ایف منصوبے کی تنسیخ کامطالبہ ہو۔ انشاء اللہ ہمیں ایک کروڑ سے زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں اور تیس سے پینتیس تک نشستیں قومی اسمبلی میں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ہمارے نمایندوں کا یہ بلاک حکومتی پالیسی سازی کے عمل پر اثرانداز ہو سکتا ہے اور دہریہ جماعتوں کی چاکری کی بڑی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ جاوید اکبر انصاری