کتب خانہLibrary

January 21 چینی استعمار

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

کیا چینی سامراج عالمی امریکی نظاماتی بالادستی کو ختم کر دے گا؟ ہم اسلامی انقلابی ہیں اور اس بات کا احساس رکھتے ہیں کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہماری جدوجہد صدیوں تک جاری رہے گی لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس دور میں جاری رہنے والی سرمایہ دارانہ عالمی نظاماتی کشمکش پر نظر رکھیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام شکست و ریخت سے دو چار ہے۔ کئی نظاماتی بحران (ماحولیاتی، وبائی، معاشی، اطلاعاتی، سماجی) ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ ان بحرانوں کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجہ میں اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ نظاماتی مرکز قوت نافذہ امریکا سے چین منتقل ہو جائے۔ اس مضمون میں میں اس امکان پر غور کروں گا اور ان اقدامات کی نشان دہی کرنے کی کوشش کروں گا جو امریکی اور چینی سامراج نے اس ضمن میں کیے ہیں اور اس ضمن میں اسلامی انقلابی حکمت عملی کے خدوخال بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ چینی سامراجی پھیلاؤ کوروکنے کی امریکی کوششیں: چین ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ ملک ہے۔ 1979ء کے بعد سے اس کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک امریکی اور جاپانی اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سرمایہ دارانہ تجارت پر ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں عالمی سرمایہ دارانہ پیداواری نظام ایسی رسدی زنجیروں (supply chain)میں پیوست ہو گیا ہے جو امریکا، یورپ، جاپان، جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر چین تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حرام خور مارکیٹ (یعنی سود اور سٹہ کے مارکیٹ) بھی عالمی ہو گئے ہیں اور چین ہر سال کھربوں ڈالر کے امریکی تمسکات (ٹریژری بلز) خریدتا ہے۔ 2018ء سے امریکی سامراج نے چینی سامراج کے خلاف ایک سرد تجارتی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس جنگ کا مقصد ملٹی نیشنل کمپنیوں پر زور ڈالنا ہے کہ وہ اپنا پیداواری سرمایہ چین سے نکال کر ایسے ممالک میں منتقل کریں جو امریکی تسلط کو قبول کرتے ہیں۔ بائیڈن سرکار ”چینی خطرہ“ کو اسی شدت سے محسوس کرتی ہے جیسے ٹرمپ کیا کرتا تھا اور امریکی سامراج چینی سامراج کے خلاف نظریاتی، سیاسی، عسکری، ٹیکنالوجیکل اور فنانشل جنگ کو تیز کرنے کا پورا ارادہ رکھتا ہے۔ آج امریکی عسکری بجٹ ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے اور چین اور روس ہی اس کے اہم ترین ہدف ہیں۔ امریکا بھارت کو چینی سامراج کے خلاف اپنے سامراجی جتھے میں سمونے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی متوقع تصادم میں امریکا کے لیے بھارتی فوجی لاکھوں کی تعداد میں مریں۔ اسی سامراجی پیش رفت کو انڈو پیسفک الائنس کے تحت منظم کیا جا رہا ہے۔ چین سے امریکی سامراجی مزاحمت کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ چین سرمایہ کاری کے ذریعہ جو منافع اور سود امریکی کمپنیاں کماتی تھیں ان میں کمی واقع ہو رہی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ چین تیز رفتاری سے ٹیکنولوجیکل ترقی (بالخصوص مواصلاتی ٹیکنالوجی) کے ضمن میں کر رہا ہے جس سے امریکی سامراجی نظام کی عسکری اور اطلاعاتی اجارہ داری ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ ان دونوں عوامل کا ذمہ دار امریکی سامراج چینی کمیونسٹ پارٹی کو ٹھہراتا ہے اور چینی سامراج کی عالمی گرفت کو کمزور کرنے کے لیے امریکی سامراج چینی کمیونسٹ پارٹی کو کمزور کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کو کمزور کرنے کے لیے امریکی سامراج ضروری سمجھتا ہے کہ چینی معیشت پر کمیونسٹ پارٹی کی پالیسی گرفت کو کمزور کیا جائے۔ کمیونسٹ پارٹی کے اندر بھی امریکا کے کئی حلیف موجود ہیں جو مستقلاً حرام خور مارکیٹوں کو ریاستی تسلط سے آزاد کروا کر بین الاقوامی حرام خور مارکیٹوں کی ماتحتی قبول کروانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ امریکی سامراج چینی سامراج کو اسی طرح منتشر کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے جس طرح سوویت نظام منتشر کیا گیا تھا۔ چینی سامراج کا OBOR اور سی پیک منصوبہ اسی امریکی حکمت عملی کو ناکام بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔

حصہ ۲

لیکن کمیونسٹ پارٹی کی قومی معاشی نظام پر گرفت کو کمزور کرنا آسان نہیں۔ وہ بیوروکریٹائزیشن کا یقیناً شکار ہے لیکن اس نے حیرت انگیز نظریاتی اور تزویراتی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ اشتراکیت کی اس کی وضع شدہ تشریح مقبول عام ہے اور بلاشبہ وہ دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے مقبول عام جمہوری جماعت ہے۔ یہ بات اس کی حالیہ کووڈ-19 کے خلاف جدوجہد سے ثابت ہے۔ ان مہمات کو اس نے عوامی جمہوری جنگ (people revotonery war)کے طور پر منظم کیا اور کووڈ-19 کو عملاً ختم کرنے کی جنگ میں تقریباً ایک کروڑ عوام اس کے دست و بازو بن گئے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی کے اندر گھس بیٹھیے امریکا کی توقعات پر پورے اتریں گے؟ اس سوال کا جواب دینا میرے لیے ناممکن ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کمیونسٹ پارٹی سوویت کمیونسٹ پارٹی سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ امریکی سامراج چینی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے چین کے حرام خور (فنانشل) سیکٹر کا سہارا لے رہا ہے۔ 2015ء میں چین کے سٹہ مارکیٹ میں ایک بڑا بحران آیا۔ حرام خور مارکیٹوں کا دباؤ تخفیف محصولات کے مقابلہ میں چینی سامراج کو زیر نگیں کرنے میں کہیں زیادہ موثر ثابت ہو رہے ہیں حالانکہ 2018ء کے بعد سے امریکا نے چینی برآمدات گھریلو استعمال کی مشینری، شمسی ٹیکنالوجی، گاڑیوں، ایروناٹکس، مواصلاتی ٹیکنالوجی، دواؤں Basic chemicals,وغیرہ پر محصولات کی بھرمار کر دی ہے۔ محصولات کی بھرمار سے امریکی صارف ہی متاثر ہو رہے ہیں (قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں)۔ لیکن بین الاقوامی مارکیٹوں میں امریکا اپنی مسابقتی برتری بتدریج کھوتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق کمپیوٹر ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، آپٹکس، گاڑیوں، ٹریلرز اور ادویات کے ضمن میں چینی-امریکی تجارت سے امریکا کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ امریکا چینی سامراج کی بڑھتی ہوئی مواصلاتی ٹیکنالوجیکل صلاحیت سے بالخصوص خائف ہے۔ چینی سامراجی نظاماتی سبقت لے جانے کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس نے امریکی سامراج کے وضع کردہ تجارتی اور تمویلی نظام کو اپنی قومی سرمایہ دارانہ سامراجی ترقی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے جو قومی معاشی پالیسی وضع کی اس کے ذریعے چینی پیداواری استعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور چینی زر مبادلہ کی شرح مستحکم رہی۔ یہ دونوں رجحانات چینی عالمی مسابقتی صلاحیت کو فروغ دینے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ لیکن چینی معیشت کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اب بھی اس کے آدھے سے زیادہ برآمدات غیر ملکی ملٹی نیشنلز تیار کرتے ہیں۔ امریکی سامراج خوب جانتا ہے کہ چینی زر مبادلہ کی شرح کی مینجمنٹ کمیونسٹ پارٹی کے لیے دشوار ہے کیونکہ زیادہ تر چینی کرنسی ذخائر (reserves) ڈالروں میں امریکی تمسکات کی شکل میں رکھے ہوئے ہیں اور یوآن کی شرح تبدل میں اضافہ چینی ریزروز پر منفی طور پر اثرانداز نہ ہو گا۔ لہٰذا امریکی سامراجی گرفت عالمی حرام خور فنانشل مارکیٹوں پر چینی سامراج کے مقابلہ مٰں نہایت مضبوط ہے۔ چین امریکا کے خلاف کرنسی جنگ کی بڑی قیمت دینے پر مجبور ہے۔ چینی اور امریکی سامراج عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے دو مربوط ستون ہیں۔ چین اپنی برآمدات کے ذریعہ جو ڈالر کماتا ہے اس کا بہت بڑا حصہ واپس امریکا امریکی تمسکات کی خریداری کے ذریعہ بھیج دیتا ہے۔ تجارتی جنگ کے ساتھ ساتھ امریکا چین کو زیردست رکھنے کے لیے دو اور محاذ بھی کھول چکا ہے۔ اسی نے مواصلاتی نظام میں چین کو بے دخل کرنے کے لیے چینی کمپنیوں LTE اور ہواوے پر سخت ترین عالمگیر تنصیبی پابندیاں (seanctions)عائد کر دی ہیں۔ اسی قسم کی پابندیاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور سوشل میڈیا کمپنیوں WeChat اور ٹک ٹاک پر بھی عاید کر دی گئی ہیں۔

حصہ ۳

2013ء میں ایک عالمی حرام خور فنانشل ادارتی صف بندی قائم کی گئی جس میں امریکا، یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا، جاپان اور سوئزرلینڈ کے مرکزی بینک منسلک کیے گئے۔ ان بینکوں نے ایک طویل المدت ترسیل زر (swap management) کا معاہدہ وضع کیا ہے جو عالمی حرامخور فنانشل نظام کی سیالیت(liquidity) اور استحکام کو سہارا دیتا ہے۔ یہ نظام ان ممالک کے ان حرامخور اداروں (Financial institute )کو بچانے کے لیے رقومات بھی فراہم کرے گا جن کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ بحرانوں کو ان ممالک کی طرف مثلاً چین، پاکستان کی طرف منتقل کرنے کا ایک منصوبہ ہے جو اس اتحاد سے باہر رکھے گئے ہیں۔ امریکا اسی نظام میں آسٹریلیا، برازیل، جنوبی کوریا، میکسیکو، سنگاپور، دنمارک، زمبابوے اور نیوزی لینڈ کو شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ اب مرکزی بینکوں کا یہی نظام عالمی سرمایہ دارانہ حرام خور فنانشل مارکیٹوں کا تنظیمی محور بن گیا ہے۔ اس مرکزی نظام میں شامل قومی مرکزی بینک طویل المدت swap معاہدات بھارت، اسرائیل، جنوبی افریقا اور تائیوان سے کرنے کے مجاز ہیں۔ اس نظام سے قصداً چین کو اس کی شدید خواہشِ شمولیت کے باوجود باہر رکھا گیا ہے۔ چینی سامراج پر حرام خور (فنانشل) یگانگت (isoloation)مسلط کی جا رہی ہے۔ چینی سامراج اس تنہائی سے متاثر ہو رہا ہے اور 2015ء میں سٹہ مارکیٹ کے بحران کا تعلق امریکی مرکزی بینک (FRS)کے تمسکات کی تحدید کرنے کی 2013ء کی پالیسی( یعنی (contative earning کے وقتی اختتام کے لیے تھا۔ اس کے بعد چینی سامراج یوآن کے بین الاقوامی شرح تبدل کے نظام کو نرم کرنے پر مجبور ہوا اور چین کے عالمی کرنسی ذخائر میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی۔ چین میں زری رسد کا انحصار غیر ملکی کرنسیوں کی آمد پر پچھلے بیس سال سے رہا ہے۔ قانوناً تمام بیرونی کرنسیاں جو تجارت وغیرہ کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہیں چینی مرکزی بینک کو دے دی جاتی ہیں جو انہیں قومی کرنسی میں تبدیل کرکے زری رسد M2میں شامل کر لیتا ہے۔ 2008سے 2019 تک M2 اس میں اضافہ مجموعی چینی قومی پیداوار میں اضافہ سے دگنا سے زیادہ رہا ہے۔ چین کے حرامخور (فنانشل) مارکیٹ بہت تیزی سے بڑھوتری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور چین بھی فنانشلائزیشن کا شکار ہے۔ نجی اور سرکاری قرضہ بہت تیزی سے ناقابل برداشت حد تک بڑھ رہا ہے۔ تورم(inflation) کا رجحان عروج پر ہے۔ پیداواری شعبہ میں شرح منافع گر رہا ہے۔ سرمایہ تیزی سے پیداواری شعبوں سے حرام خور (فنانشل) شعبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چینی سٹہ مارکیٹ اور اراضی مارکیٹ (Real state) عدم استحکام کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ چینی حرام خور (فنانشل) نظام عالمی حرام خور نظام کا ماتحت بنتا جا رہا ہے اور قومی سیاسی نظام میں عالمی حرام خور مارکیٹوں کے تسلط کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ چینی حرام خور (فنانشل) اور پیداواری نظاموں کی پیوستگی مجروح ہو رہی ہے اور چھوٹے کاروباریوں کے لیے قرضہ حاصل کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ چینی سامراج کی معاشی ترقی کا فائدہ حرام خور (فنانشل) اجارہ داریاں اٹھا رہی ہیں۔ مقامی حکومتیں (local Gobvernment)جن کو چینی سرمایہ دارانہ نظام میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے حرام خور شعبہ پر انحصار (بالخصوص سٹہ مارکیٹ پر) کرتی جا رہی ہیں اور یہ چینی سیاسی نظام پر کمیونسٹ پارٹی کی گرفت کو کمزور کر رہا ہے۔ عالمی کارپوریٹ قرضہ میں 2019ء میں چینی کمپنیوں کا حصہ 66 فیصد تھا۔ کسی وقت بھی چین میں ایک کلاسیکی سرمایہ دارانہ بحران وقوع پذیر ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں کے قومی حرام خوروں مارکیٹوںپر کمیونسٹ پارٹی کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

حصہ ۴

چینی ردعمل: کمیونسٹ پارٹی کو اس بات کا احساس ہے کہ امریکی سامراج سے اس کے روایتی روابط اب زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھے جا سکتے گوکہ 1979 سے 2017 تک چینی معاشی ترقی امریکی سامراج کی معاونت ہی سے کی گئی تھی۔ آج بھی امریکی اور چینی سامراجی نظام کا ارتباط نہایت گہرا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ وہ ترسیل ڈالر کے ایک وسیع چکر میں جکڑے ہوئے ہیں (چین اپنے برآمدات کے ذریعہ جو کچھ کماتا ہے اس کا بہت بڑا حصہ چینی خریداری امریکی تمسکات اور چین کی امریکا میں سرمایہ کاری کی شکل میں واپس امریکا جاتا رہتا ہے) بلکہ امریکی اثرات چینی ثقافت اور سماجی اور معاشی ادارتی صف بندی پر بھی نہایت گہرے ہیں۔ لیکن آج امریکی سامراجی اشرافیہ ان روابط کو مسمار کرنے پر تلی ہوئی ہے اور کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو یہ احساس ہے کہ ان کی تابع داری اور مسابقت کی جو قیمت امریکی سامراج طلب کر رہا ہے اس کا مطلب کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی سامراجی اشرافیہ یہ قیمت ادا کرنے پر راضی نہیں۔ وہ ایک ایسی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں امریکا پر قومی انحصار تو بتدریج کم ہو لیکن چینی عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی سامراجی حیثیت کو ترقی دیتا رہے۔ اسی وجہ سے 2020 میں چینی سیکورٹی ریگولیٹنگ کمیٹی نے بیرونی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ بلاچینی کمپنیوں سے اشتراک کیے چین میں سو فیصد سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔ چین نے حال میں امریکی سامراج پر انحصار کم کرنے کے لیے کئی اقدام کیے ہیں۔ اس نے اپنے کموڈٹی مارکیٹس قائم کیے ہیں جہاں زرعی اور معدنیاتی بالخصوص تیل، اجناس اور دھاتوں کی تجارت کی جاتی ہے۔ یوں چین ان اشیا کی عالمی قیمتیں متعین کرنے کی اہلیت حاصل کر رہا ہے۔ اس نے پیٹرو ڈالر کے مقابلہ میں اپناپیٹرو یوآن متعارف کرایا ہے جس کو امریکا پیٹرو ڈالر کے عالمی تسلط کے لیے خطرہ کہتا ہے۔ OBOR اور سی پیک کے ذریعہ چینی سامراج ایسی پیداواری اور تجارتی رسدی زنجیریں (Global supply chain) پھیلا رہا ہے جو ان رسدی زنجیروں کی متبادل ہوں جو امریکی تسلط میں ہیں۔ چینی سامراج نے ڈالر نظام کی عالمی بالادستی کو چیلنج کرنا بھی شروع کر دیا ہے اور اس چیلنج کے نتیجہ میں اس بات کا امکان ہے کہ عالمی حرام خور (فنانشل) نظام منتشر ہو جانے کا امکان قوی ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی حرام خور نظام پر امریکی تسلط Society for worldwide telecommunications, Interbank financial system اور Interbank Payments کے تغلب کا ذریعہ ہیں اور ان اداروں کی کارفرمائی عالمی حرام خور نظام کی کارروائیوں کو منظم کرتی ہے۔ اس نظام کی کارفرمائی ہی امریکی پابندیوں کی عالمی تنفیذ کا ذریعہ ہے۔ چینی بلاک چین اور کرپٹو گرافی ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔ اس نے اپنا قومی الیکٹرانک ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم بنا لیا ہے جو دھیرے دھیرے چینی ریزرو منی ) (M2کی جگہ لے گا جو یوآن سے منسلک ہے۔ چینی سامراج کی توقع ہے کہ اس ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا کے نتیجہ میں یوآن کی بین الاقوامی مقبولیت بڑھے گی اور یوں ڈالر کا عالمی نظاماتی تسلط چیلنج کرے ۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو اس کا بھی احساس ہے کہ امریکا پر انحصار کم کرنے کے لیے چینی اندرونی معیشت میں ہیئتی تبدیلیوں کی بھی ضرورت ہے۔ چین میں ماحولیاتی بحران نہایت شدید ہے اور ماحولیاتی کثافت کو دور کرنے کے لیے چین نے جو حکمت عملی مرتب کی ہے وہ زرعی شعبہ کی ترقی پر زور دیتی ہے۔ چین ایک ماحولیاتی مثبت معیشت (eco friendly economy)بنانے کی جستجو کر رہا ہے اور اس کوشش میں زرعی شعبہ کو سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم کرنا اس کی ترجیحات میں ہے۔ اس پیش رفت کو کمیونسٹ پارٹی Capital Deepening of the economy کہتی ہے۔ اس حکمت عملی کی تنفیذ سے امید کی جا رہی ہے کہ بحران خطرات (جو فنانشلائزیشن اور بیرونی تجارت پر انحصار کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں) کم ہوں گے۔

حصہ ۵

چین میں 2020 میں 230 ملین کسان گھرانے تھے۔ ان میں زیادہ چھوٹے کسان گھرانے ہیں۔ زرعی کارکنوں میں ان کا حصہ اکیانوے فیصد ہے اور وہ قابل کاشت اراضی کے ستر فیصد علاقہ پر کاشت کر رہے ہیں۔ چین نے دیہی معیشت کی نتظیم نو کے ضمن میں بہت سے تجربات کیے ہیں اور آج کل دیہی علاقوں میں سرمایہ کاری تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بقول معروف چینی معیشت دان(Sittsui) یہ رجحان اب ناقابل تبدل (irreversible)ہے۔ اجتماعی سرمایہ دارانہ ملکیت (Collective ownership of capital assets_کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ زرعی سرمایہ کاری کا یہ رجحان اس وجہ سے مستحکم ہوتا جا رہا ہے کہ چینی صنعتی شعبہ ضرورت سے بہت زیادہ پیداواری سکت(productive capacity) حاصل کر چکا ہے۔ چینی صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور اس شعبہ میں شرح منافع گر رہی ہے۔ بیرونی حرام خور (فنانشل) اور تجارتی مارکیٹوں سے تحدید (sanctions)کے ذریعہ چین کو نکالا جا رہا ہے۔ ان حالات میں چینی معاشی حکمت عملی بتدریج اندرونی مانگ (Domastic demand) کو فروغ دینے اور بین الاقوامی، علاقائی، معاشی اتحاد کو فروغ دینے کی طرف مائل ہوتی جا رہی ہے۔ پھر کمیونسٹ پارٹی کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ 1979 کی اصلاحات کے بعد جو شدید معاشی نامساویت چین میں پیدا ہوئی ہے وہ اس کے لیے ایک خطرہ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چینی عوام میں خود انحصاری کا رجحان طاقتور ہے۔ اب تک بیش تر دیہی آبادیاں نسبتاً خود کفیل ہیں اور عوامی تنظیم سازی(self organizing) کا تاریخی تجربہ رکھتی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کی ماس بیس اس کی پالیسی سازی میں ریک نہیں لیکن متحرک بے روزگار اور نیم بے روزگار مزدوروں (lumpan prolitarate)کے علاوہ منظم بھی ہے اور بآسانی منظم کی بھی جا سکتی ہے لہٰذا کمیونسٹ پارٹی کے لیے اپنی معاشرتی حکمت عملی میں تبدیلی لانا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ امریکی سامراج کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ چینی سامراج ۔ بین الاقوامی علاقائی اتحادی پھیلاؤ کو سی پیک وغیرہ کے ذریعہ فروغ دے۔ ۔ اپنی مواصلاتی ٹیکنالوجیکل صلاحیت کو محفوظ رکھے اور ترقی دے اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں وغیرہ کے ذریعے ۔ اپنی عسکری صلاحیت میں بحرالکاہل اور ہمالیہ کے علاقوں میں اضافہ کرتا رہے ۔ اپنی معاشی حکمت عملی کو اندرونی مانگ کو فروغ دینے کا ذریعہ بنائے اور اپنی بیرونی معاشی انحصاریت کو کم کرے اور اس ضمن میں یہ بھی ضروری ہے کہ چینی عالمی قانون سرمایہ (Rule of law of capital)کی تنفیذ کے ایسے اصولوں اور ایسی ادارتی صف بندی کو فروغ دے جو اس کی نظاماتی قومی بالادستی کو قائم کریں۔ کمیونسٹ پارٹی کس حد تک یہ سب کر پائے گی؟ اس کا صحیح اندازہ میں نہیں لگا سکتا۔ کمیونسٹ پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اور ہر جمہوری جماعت کی طرح اس کی ماس بیس پالیسی سازی کے عمل میں شمولیت سے محروم ہے (اس محرومیت کا احساس منظم مزدوروں کو بھی ہے جن کی قیادت ٹریڈ یونین کے اندر اور باہر بھی ہڑتالیں کرتی رہتی ہے اور نوجوان لبرل ازم سے متاثر دانش وروں کو بھی)۔ لیکن یہ ماس بیس متحرک بھی ہے، منظم بھی اور اس کو اس بات کا یقین ہے کہ کمیونسٹ پارٹی بحیثیت مجموعی اس کے مفادات کو فروغ دے رہی ہے۔ لیکن پچھلے چالیس سال میں چین میں مغربی تہذیبی اثر تیزی سے پھیلا ہے۔ اس تہذیبی ترسیل کا بنیادی ذریعہ مارکسزم ہے جو اٹھارھویں صدی کی تحریک تنویر ہی کی ایک تشریح ہے۔ مارکسزم کا تصور حیات لبرل ازم سے مماثل ہے اور مارکسزم جس اجتماعیت کو فروغ دیتا ہے وہ لبرل انفرادیت کی تمام خصوصیات کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسزم لبرل ازم کی طرح آزادی، مساوات اور ترقی کو معاشرتی اہداف کے طور پر قبول کرتا ہے۔

حصہ ۶

آج جن چینی خصوصیات (Socialism with chainess Characterstics)کو سوشل ازم میں ضم کرنے کی کمیونسٹ پارٹی کوشش کر رہی ہے وہ قوم پرستی کے علاوہ کچھ نہیں۔ لہٰذا یہ چین کو سوویت یونین اور نازی جرمنی کی طرح ایک قوم پرست عالمی سامراجی سرمایہ دار طاقت بنا دے گی جو تنویری تہذیب (Enlightenment Civilization)کا تسلسل ثابت ہو گا۔ چین کی ایک عالمی سرمایہ دارانہ سامراجی بالادست قوت بننے کی مخالفت کمیونسٹ پارٹی کے اندر کئی طاقت ور گروہ کر رہے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو حرام خور (فنانشل) طبقہ سے وابستہ ہیں اور چین کا عالمی حرام خور (فنانشل) نظام کی تسخیر اور تعمیر نو کی جستجو ان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ دوسرے وہ آرٹسٹ، موسیقار اور دانش ور ہیں جو اشتراکیت کی ایک لبرل تشریح مرتب کر رہے ہیں۔ تیسرے وہ محنت کشوں کی تنظیموں کے رہنما اور مارکسسٹ دانشور ہیں جو مزدوروں کے انفرادی اور اجتماعی حقوق میں فراہمی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان تینوں گروہوں کو امریکی اور یورپی سامراج کی بھرپور اعانت حاصل ہے۔ چینی معاشرہ میں امریکی اور یورپی گھس بیٹھیوں کی کمی نہیں اورسوویت یونین اور مشرقی یورپی ممالک کی طرح چین میں بھی یہ سامراجی گھس بیٹھیے قومی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام میں نقب زنی کیے جا رہے ہیں۔ کیا کمیونسٹ پارٹی کی اکثریتی قیادت اپنی ماس بیس کی تحرک اور تنظیم کے ذریعہ چین کو ایک عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ بالادست قوت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی؟ چینی کمیونسٹ پارٹی سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اس اس کی عوامی مقبولیت اسی سطح کی ہے جو ہٹلر کی نازی پارٹی کو 1930 کی دہائی میں حاصل تھی۔ نازی پارٹی کے زوال کا سبب وقت کی غالب سامراجی قوتوں سے قبل از وقت اور براہ راست تصادم تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اس نوعیت کے تصادم سے فی الوقت ہر قیمت پر بچنا چاہتی ہے اور ظاہر ہے آج کا سیاسی عالمی تناظر 1930 سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ایک ایسی تزویراتی حکمت عملی مرتب کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے اس کا عالمی سامراجی غلبہ فروغ پاتا رہے۔ وہ اس حکمت عملی کی تنفیذ میں کس حد تک اور کب تک کامیاب ہوتی رہے گی اس سوال کا جواب میں نہیں دے سکتا۔ ہم کیا کریں: ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ عالمی سیاسی اور معاشی تبدیلیوں سے آگاہ رہنا اور ان کے بارے میں اپنا رویہ متعین کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے۔ اگر ہم نے یہ آگاہی اپنی صفوں میں پیدا نہیں کی تو ہم دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور عالمی تزویراتی تغیرات کو سازشوں کا نتیجہ ہی سمجھتے رہیں گے۔ یہ ایک ردعملی، منفی رویہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہماری ریاستی گرفت نہایت کمزور ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل اور تنفیذ میں کسی اسلامی جماعت کا کوئی حصہ نہیں۔ ہماری سب سے موثر سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام ہے اور اس نے خارجہ پالیسی کو کبھی خاطرخواہ اہمیت نہ دی۔ بے شک ہم نے کشمیر اور کسی نہ کسی حد تک افغانستان میں جاری مزاحمت کی حمایت کے لیے دہریہ حکومت پر پریشر ڈالا ہے لیکن یہ اقدام خارجہ پالیسی کے عمومی رجحان کو کبھی متاثر نہ کر سکے۔ لیاقت علی خاں اور ظفراللہ خاں کے وقت سے لے کر آج تک پاکستان کی خارجہ پالیسی سامراج نواز رہی ہے۔ اس سامراج نوازی کے رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے ایک مربوط سامراج مخالف بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ بیانیہ عملی اقدامات کی نشان دہی کرے، لفاظی نہ ہو۔ اب میں اس امر پر گفتگو کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ کون سے اقدام ہیں جو امریکی چینی سامراجی کشمکش کے تناظر میں حکومت کو اٹھانے کے لیے مجبور کرنے کی ہم کوشش کر سکتے ہیں۔

حصہ ۷

سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ ہمیں خود اس بات کا احساس ہو جائے کہ آج سرمایہ درانہ سامراجی نظام کئی ہمہ گیر بحرانوں میں گرفتار اور شکست و ریخت کا شکار ہے اور امریکی اور چینی سامراجی تصادم اس سے زیادہ گھمبیر خلا پیدا کر رہا ہے جو امریکی سوویت تصادم کے نتیجہ میں 1950 کی دہائی میں پیدا ہوا تھا اور جس سے فائدہ اٹھا کر سوئیکارنو اور نکروما نے خودمختار ملکی نظام تعمیر کیے تھے۔ پاکستان کا جغرافیائی تزویراتی (Geo strategic)وقوع ایسا ہے کہ وہ امریکی چینی قوت کو نیوٹرالائز کرنے کے لیے موزوں ہے۔ بشرطیکہ پاکستان چین یا امریکی سامراج کا پٹھو نہ بنے اور عالمی معاشی بحرانی نظام سے اپنے روابط بتدریج منقطع کرتا چلا جائے۔ اس انقطاع کے دو پہلو ہیں۔ اولاً پاکستانی معیشت پر آئی ایم ایف پالیسی سازی کی گرفت کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کی مجوزہ معاشی پالیسی(Micro Economic policy ) پاکستانی معیشت کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام مین ضم کرنے کا ذریعہ ہے اور جیسے کہ ہم نے اوپر عرض کیا عالمی سرمایہ دارانہ نظام کئی گھمبیر بحرانوں کا شکار ہے ۔ اس نظام سے بتدریج رشتہ توڑے بغیر پاکستانی معیشت نہ کبھی مستحکم ہو سکتی ہے نہ خود انحصاری۔ ہمیں بیرونی تجارتی اور بیرونی سرمایہ کاری اور بھیک سے نجات حاصل کرنا ہے اور ملکی معیشت بیرونی تجارت (برآمدات و درآمدات) اور بیرونی سرمایہ کاری (public & Private sec, PFI, DFI, Loan and Grants)کا حجم کم کرنا ہے اور ایک ایسی معاشی پالیسی وضع کرنی ہے جو اندرونی مانگ (Domestice demand)کو فروغ دینے پر فوکس کرے۔ ظاہر ہے کوئی دہریہ جماعت(نہ عمران خان، نہ مسلم لیگ نہ پیپلز پارٹی) یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ تمام دہریہ جماعتیں سامراج کی باجگزار ہیں۔ عوام کو بھی ان معاملات کا شعور نہیں۔ اور ان کو کم از کم فی الحال عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت کی ہلاکت خیزی کا احساس بھی نہیں دلایا جا سکتا۔ لہٰذا دہریہ جماعتوں پر ان معاملات کے ضمن میں موثر عوامی دباؤ بھی نہیں ڈالا جا سکتا۔ لیکن آئی ایم ایف کے پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے اسلامی جماعتیں دو اہم اقدام کر سکتی ہیں۔ ایک تویہ کہ حکومت کے مالی وسائل کی بڑھوتری کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں۔ محصولیاتی دائرہ کو وسعت دینے کی مہم کو ناکام بنا دیں۔ دستوریت (documentation)کی جارحیت سے بازاروں کی حفاظت کریں اور محصولات سے آزاد سود اور سٹہ سے پاک حلال کاروبار کے فروغ کی راہ ہموار کریں۔ حلال کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایک تمویلی نظام کا اجرا کرنا ہو گا۔ اسلامی جماعتیں ایک ایسا نظام (Quasai Public sector)بنائیں جو مخلصین دین کی بچتوں کو کارکنان جماعتوں کے کاروبار میں مضارباتی اور مشارکتی بنیادوں پر لگانے کا انتظام کرے۔ جنوب لبنان کی طرح اس قسم کی ادارتی صف بندی حلال کاروبار کے دائرہ کو وسعت دینے میں بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ خود انحصاریت کو فروغ دینا ہے تو اس بات کی کوشش کرنا ہو گی کہ امریکا پر انحصار میں کمی کے نتیجہ میں پاکستانی معیشت و معاشرت چینی سامراج کی باجگزار نہ بنتی جائے۔ ریاستی اشرافیہ کا ایک دھڑا چینی سامراج کا آلہ کار بننے پر تلا بیٹھا ہے۔ ان کے افکار میں اطوار میں میں بہت ان بن ہے فکر میں چینی ہے اور وضع میں امریکی ہے ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا کی طرح چین بھی سامراجی قوت ہے اور یہ بات مشرقی ترکستان میں کئی دہائیوں سے جاری چینی درندگی اور استبداد سے ثابت ہے اور صرف مشرقی ترکستانی مسلمان اور تبتی باشندے اس ظلم کا شکار نہیں تقریباً ایک کروڑ چینی نژاد مسلمان بھی 1949 سے کمیونسٹوں کے ظلم و استبداد سہہ رہے ہیں۔ اسلامی سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کو پاکستانی و چینی سفارت کاروں سے مکالمہ کے دوران اور اپنے عمومی سیاسی ایجنڈہ میں اپنے ان مظلوم ترکستانی اور چینی مسلمان بھائیوں کی آہ و بکا کی بازگشت کو مستقلاً نشر کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری مسلکی جماعتیں بالخصوص تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی مشرقی ترکستان اور چین میں تسلسل کے ساتھ تبلیغی سرگرمیوں کے پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے موثر منصوبہ بندی کر سکتی ہیں اور ہماری دینی سیاسی جماعتوں کو ان پروگراموں کی پشت پناہی کرنا چاہیے۔

حصہ ۸

بلاشبہ پاکستان میں چینی سامراج کا سب سے اہم اقدام سی پیک پروگرام ہے۔ یہ ایک طویل المدت پروگرام ہے جو پاکستانی معیشت کو چینی معیشت سے انفراسٹرکچرل اور انسٹی ٹیوشنل سطح پر منسلک کرنے کے لیے چاروں صوبوں میں مواصلاتی، معدنیاتی، توانائی، آبی، صنعتی اور زرعی پروجیکٹس قائم کر رہا ہے۔ یہ پروجیکٹس ایکسپورٹ پروسسنگ زون کے اندر بھی قائم کیے جا رہے ہیں اور باہر بھی۔ ان پراجیکٹس کی سربراہی عموماً چینی سرکاری شعبہ کی ملٹی نیشنل کی مینجمنٹ کے ہاتھوں میں ہے لیکن یہ زیادہ تر لیبر والے پروجیکٹس ہیں اور ان میں بڑے پیمانہ پر پاکستانی اور چینی محنت کش ملازم ہیں۔ ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں بالخصوص اور باقی ملک میں بالعموم یہ محنت کش اپنے سرمایہ دارانہ قانونی حقوق سے محروم ہیں اور سی پیک کارپوریشنوں پر پاکستان کے قانون محنت(labour law) کی گرفت نہایت ڈھیلی ہے۔ ان سی پیک کارپوریشنوں کی پالیسیوں کو متاثر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پراجیکٹس میں کام کرنے والے محنت کشوں کو یونینز کے ذریعہ منظم کیا جائے۔ یہ کام ہماری جماعت اسلامی سے منسلک نیشنل لیبر فاؤنڈیشن کا ہے۔ این ایل ایف کو وکلا کے تعاون سے ایسی ملک گیر مہم چلانی چاہیے کہ حالیہ لیبر لاز کی تنفیذ ملک بھر بشمول ایکسپورٹ پروسسنگ زون ، سی پیک کے محنت کشوں پر یکساں طور پر نافذ ہو جائیں۔ یہ لیبر لاز نہایت کمزور اور ناقص العمل ہیں۔ این ایل ایف کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نئے لیبر لاز مرتب کرنے چاہئیں اور ہماری سیاسی جماعتوں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام سے گزارش کرنا چاہیے کہ ان نئے لیبر لاز کی بنیاد پر مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی کی جدوجہد کریں۔ امید ہے کہ پارلیمانوں سے بہت پہلے ملک کی مزدور تحریک ان نئے لیبر لاز کو اپنا لے گی اور ملک میں مزدور بیداری کی ایک لہر آ جائے گی۔ سی پیک پراجیکٹس کو ملکی مفادات کا ذریعہ بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی مینجمنٹ میں پاکستانیوں کا عمل دخل ہو۔ فی الواقع ایسا نہیں اور سی پیک پراجیکٹس میں تنظیمی ذمہ داریاں تقریباً کلیتاً چینی سرکاری کارپوریشنوں کی مینجمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں۔ لہٰذا این ایل ایف کے لیے ضروری ہے کہ سی پیک پروجیکٹس میں جو یونین بنائے ان کو کارپوریشن کی مینجمنٹ میں شرکت کے حقوق دلوائے تاکہ یہ مینجمنٹ میں شامل محنت کش نمایندگان شامل ہوں۔ ۔ حتی الوسع اس بات کی کوشش کریں کہ کارپوریشن کا کاروبار اور اس کی معاشرتی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات اور روایات کا احترام کرتی ہیں ۔ چینی مزدوروں میں دعوت اسلامی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ نہیں بنتیں ۔ چینی اور پاکستانی محنت کشوں کے مراعات (کارکن کی اجرت اور کارکردگی کا ماحول) یکساں ہیں ۔ کارپوریشن پر سود کا بوجھ کم سے کم ہو۔ کارپوریشن سودی ترجیحات دینے سے اجتناب کرے اور اسلامی سیاسی جماعتیں ملک بھر میں چینی سودی ادائیگیوں کی مکمل تنسیخ کی مہم چلائیں ۔ یاد رہے کہ سی پیک پراجیکٹس اور چینی فرموں پر سود کی شرح عالمی شرح سود سے تقریباً دگنی ہوتی ہے۔ ۔ اس بات کی کوشش کرے کہ کاروبار سے جو اضافی قدر اجرتوں اور منافع وغیرہ کی شکل میں پیدا ہوتا ہے اس کا زیادہ تر حصہ پاکستان میں کھپایا جائے۔ ۔ چینی محنت کشوں کو اردو سکھانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اختتامیہ: ہم اسلامی انقلابی ہیں لیکن ہماری جماعتیں نظریہ مسلم قوم پرستی سے شدید متاثر ہیں۔ ہمارے یہاں قومی مفاد کا وہی تصور عام ہے جو قوم پرستوں میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک جدید ترقی یافتہ طاقت ور ملک بن کر ابھر رہا ہے جو دوسرے سرمایہ دارانہ ممالک کے لیے ایک ماڈل ہو۔ تاریخ اسلامی میں قومی مفاد کا یہ تصور بالکل اجنبی ہے ، خاص ہے ترکیب میں قوم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہاشمی۔ ہم نے سامراجی غلبہ سے قبل کے دور میں جو سقوط خلافت عثمانیہ تک جاری رہا، قومی مفاد کا یہ تصور نہیں اپنایا۔ ہمارا انفرادی اور قومی مفاد سرمایہ دارانہ ترقی میں مضمر نہیں حصول رضائے الٰہی میں مضمر ہے۔ ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب و زر

حصہ ۹

ہم معاش کو محض معاد کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہماری دنیاوی جدوجہد عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں انہدام کی جدوجہد ہے۔ ہم عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں شرکت کے خواہاں نہیں س کے انتشار اور خاتمہ کے خواہاں ہیں۔ اس لیے اس نظام کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہماری سامراج مخالفت تجدید و احیائے دین کا حصہ ہے اور ہم تمام سامراجی قوتوں کے اصولی اورعملی مخالف ہیں۔