پاکستانی سیاسی سماجی تغیرات
پاکستانی سیاسی، سماجی تغیرات اور تحریکاتِ اسلامی کا لائحہ عمل سیاسی نظام حالیہ حکومتی تبدیلی سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ کا مرکزی دھارا ایک ہی سمت میں رواں دواں ہے۔ ایک مرتبہ پھر چوروں اور لٹیروں کے ایک گروہ کو اس سے بڑے چوروں اور لٹیروں کے دوسرے گروہ نے شکست دی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی نظام سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی سکت نہیں رکھتا۔ سرمایہ دارانہ عدل کا اظہار تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) سے ہوتا ہے۔ دورِ حاضر میں اس تحکم کے اظہار ہیں: فراہمی بنیادی حقوق (تحفظ سرمایہ دارانہ انفرادیت، ملکیت اور تعقل) اور فراہمی معاشرتی حقوق (فروغ سرمایہ دارانہ مساوات)۔ پاکستان ایک نیم سرمایہ دارانہ ملک ہے جو ان حقوق کی فراہمی کو اصولاً تسلیم کرتا ہے لیکن عملاً یہاں کا سیاسی نظام ان سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی میں مزاحم رہتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں دو بڑے دعوے دار سامنے آئے ہیں۔ ایک زیڈ اے بھٹو جس نے اشتراکی سرمایہ داری کے فروغ کا دعویٰ کیا اور دوسرے عمران خان جو قوم پرستانہ سرمایہ داری کا نعرہ لگارہا ہے۔ لیکن یہ دونوں بدمعاش منافق نکلے۔ اقتدار میں آ کر انہوں نے نہ اشتراکی سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی کوشش کی نہ قوم پرستانہ سرمایہ دارانہ عدل کی۔ اقتدار میں آنے کے لیے اور اقتدار میں آنے کے بعد یہ اس ہی قابض سیاسی اشرافیہ کا سہارا لیتے رہے جو سرمایہ دارانہ عدل کے عملی قیام کی راہ میں شروع سے مزاحم رہی ہے۔ سامراج کی باجگزاری میں بھی دونوں مستحکم رہے۔ ان کی معاشی اور معاشرتی حکمت عملیاں سابقہ حکومتوں سے مختلف نہ تھیں۔ آج عمران خان ”قومی خود مختاری“ کا نعرہ لگا رہا ہے۔ کل اس نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک شرمناک معاہدہ کیا تھا اور مرکزی بینک کو امریکا کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ بیرونی سودی قرضوں کا ایک انبار ملکی معیشت پر لاد دیا تھا اور اپنے پورے دور حکومت میں عمران خان بھیک مانگتا پھرا۔ آج شہباز شریف کا وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل انہی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی قسمیں کھا رہا ہے۔ وہ وزیر بنتے ہی آئی ایم ایف کے جوتے چاٹنے واشنگٹن روانہ ہو گیا تاکہ آئی ایم ایف کا شرمناک ESAF معاہدہ جاری رہے اور اس کی ستمبر کے بعد توسیع ہو۔ و آئی ایم ایف کی تمام شرائط قبول کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور SBP کی فروخت کی منسوخی کا (جس کی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کے مخالفت کی تھی) کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جب کہ SBP کی فروخت کے نتیجہ میں روپے کی شرح تبدل بحران کا شکار ہے۔ پالیسی کی یہ حیرت انگیز مماثلت عمران خان کے دعووں کے کھوکھلے پن کا اظہار ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلم لیگ او رپیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام میں امریکی تخریب کا ہاتھ ہے لیکن عمران خان کی حکومت بھی امریکی تخریب کاری کے سہارے قائم ہوئی تھی اور یہ روایت ملک غلام محمد کے گورنر جنرل بننے سے لے کر آج تک جاری ہے۔ پاکستان کی ہر حکومت کا عروج و زوال کسی نہ کسی حدتک سامراجی تخریب کاری کا نتیجہ ہی ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرتی نظام اور انفرادیت اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک نیم سرمایہ دارانہ ملک ہے جہاں سرمایہ دارانہ معاشی اور معاشرتی عمل غیر متوازن ہے۔ زرعی، خدمتی اور صنعتی شعبہ میں سرمایہ دارانہ عمل ان معنوں میں محدود ہے کہ عوام کی اکثریت گردش عمومی سے استفادہ کرنے کی امید نہیں رکھتی۔ معیشت کا ایک بڑا حصہ گردش سرمایہ کی دسترس سے باہر ہے اور حرام خور مارکیٹوں کی کاروباروں پر گرفت ڈھیلی اور غیر مستحکم ہے۔ عوام کی بہت بڑی اکثریت بینکوں میں کھاتے نہیں کھولتی اور سٹہ کے مارکیٹ میں تو عوامی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیادہ تر کاروبار حلال ہے (سود اور سٹہ کی گرفت سے آزاد)۔ ان حالات میں سرمایہ دارانہ عدل عمومی کی عوامی طلب محدود ہے اور بلدیاتی اور صنعتی پھیلاؤ روایتی سیاسی ڈھانچہ میں محدود پیمانے پر دراڑیں ڈالتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستانی عوام سرمایہ دارانہ تغلب کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ اقدار کو اپنا رہے ہیں۔ وہ حریص اور حاسد، خود غرض اور سفاک بنتے چلے جار رہے ہیں لیکن چونکہ سرمایہ دارانہ عدل عمومی کے وقوع کی توقع نہیں رکھتے لہٰذا ان اقدار کا اظہار سرمایہ دارانہ کرپشن کے طور پر کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ کرپشن یہ ہے کہ فرد اپنے ذاتی یا گروہی مفاد کو سرمایہ عمومی کے اجتماعی مفاد پر ترجیح ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت سرمایہ دارانہ اجتماعیت میں اس وقت ڈھلتی ہے جب تحکم قانون سرمایہ کی عملی تنفیذ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ کرپشن کو موثر اور مضبوط انداز میں منظم کیا جائے۔ ایک عام پاکستانی اپنے انفرادی گروہی سرمایہ دارانہ مفاد کے لیے کسی ایسے سیاسی مربی سے روابط قائم کرتا ہے جو سیاسی عمل کے ذریعہ سرمایہ دارانہ کرپشن کو فروغ دینے کی اہلیت رکھتا ہو ۔ پورا سیاسی ڈھانچہ موالیاتی بنیادوں پر متحرک ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت انفرادی مفاداتی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر دھڑا اپنے سیاسی مربی کا مطیع ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عوام کا ایک حصہ ان دھڑے بندیوں سے باہر ہے۔ ایسے لوگ دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک طرف مخلصین دین ہیں جو سرمایہ دارانہ اخلاقیات سے کم متاثر ہیں اور جن کی سیاسی تگ و دو کا مقصد دین اور غلبہ دین ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو سرمایہ دارانہ تعقل پر ایمان لے آئے ہیں اور جن کے لیے قومی سرمایہ دارانہ گروہوں میں گنجائش پیدا نہیں کی جا سکتی۔ منحرفین سرمایہ دارانہ کرپشن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن ملکی آبادی میں ان کا تناسب مختصر ہے۔ مخلصین دین کی تعداد ڈیڑھ سے دو کروڑ تک ہے اور معتقدین تعقل سرمایہ کی تعداد اس سے بھی بہت کم ہے۔ مخلصین دین سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کا کوئی شعور نہیں رکھتے۔ معتقدین تعقل سرمایہ کی ایمانیات محض زبانی کلامی ہیں۔ ان کی قیادت ان کو مستقل دھوکہ دیتی رہتی ہے اور اپنے گروہی مفادات کے فروغ کے لیے سرما یہ دارانہ عدل اجتماعی کے تقاضوں کو اپنے پیروں تلے روندتی رہتی ہے۔ یہ قیادت سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کے محرومین کو بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہانکتی پھرتی ہے۔ شکم کی آگ لیے پھرتی ہے شہر در شہر سگ زمانہ ہیں یہ کیا اور ان کی نفرت کیا پاکستان اور سامراجی سرمایہ داری ان حالات میں بکریوں کے اس ریوڑ سے یہ امید رکھنا کہ وہ سامراج پر حملہ آور ہو کر ملک میں سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کی راہ ہموار کر دے گا، دیوانے کا خواب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاسی نظام پر سامراج کی گرفت نہایت مضبوط ہے اور چینی سامراج کے نتیجہ میں مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ ان معنوں میں پاکستان کی سیاست ان ممالک سے بالکل مختلف ہے جہاں سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کی عوامی جدوجہد کامیاب ہوتی رہی ہے۔ بالخصوص لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ کے ممالک۔ ان ممالک میں قوم پرستی اور سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کی طلب ایک طاقتور عوامی قوت ہے اور اس قوت کے سہارے ایک ایسی قیادت ابھری ہے جو سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کے نظاماتی تقاضوں کو پورا کرنے کی کسی نہ کسی حد تک صلاحیت رکھتی ہے اور مقامی سامراج نواز سیاسی اشرافیہ کو گاہے گاہے شکست دیتی رہتی ہے (کیوبا، وینزویلا، یوکرین، ایران)۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کا سیاسی نظام ویسا نہیں رہا جیسا اس کو سامراج (ہسپانوی، رومی) نے تعمیر کیا تھا اور سامراج کی سیاسی گرفت ڈھیلی پڑتی چلی جائے گی۔ اس کے برعکس پاکستان میں مسلم قوم پرستی ایک تضادات سے بھرپور زوال پذیر تحریک ہے جو برطانوی سامراج نے پیدا کی اور جو آج تک سامراج سے ناطہ جوڑے ہوئے ہے۔ اس تحریک کا سرغنہ سرسید غدار تھا جس نے برطانوی سامراج سے تعلیمی تخریب کاری کے ذریعہ ایک ایسی سامراج نواز اشرافیہ پیدا کی جو سامراجی خدمت گزاری پر فخر کرتی تھی۔ بیسویں صدی کی ابتدا سے برطانیہ نے ایک سامراج ماتحت سیاسی، عدلیاتی، انتظامی، مقامی نظام تعمیر کر کے گاہے گاہے اس میں مسلم سامراج نواز اشرافیہ کے سپرد کر دیا اور 1947ء میں اس ہی سامراج نواز اشرافیہ کو اقتدار سونپ دیا۔
آج تک پاکستان میں سامراج کا قائم کردہ سیاسی، انتظامی، عدلیاتی، فوجی اور مقامی نظام اقتدار کارفرما ہے۔ حکومتوں کے تبدل سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک یہ سیاسی انتظامی، عدلیاتی، فوجی اور مقامی نظام کارفرما ہے۔ سامراج نواز اشرافیہ کا کوئی نہ کوئی دھڑا برسراقتدار رہے گا اور ملکی سیاسی عمل کا مقصد اولیٰ سامراج کی تابع داری اور خدمت گزاری ہی رہے گا۔ ہمارا لائحہ عمل ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کو ظلم عظیم گردانتے ہیں۔ ہمیں اس نظاماتی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی اصلاح کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ اس نظاماتی اصلاح کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظاماتی عدل (جو ظلم عظیم ہے) اور پاکستان ایک سرمایہ دارانہ معاشرت بنتا چلا جائے گا۔ ہم اس سیاسی اور انتظامی نظام کی بتدریج تحلیل اور تسخیر کے خواہاں ہیں۔ لیکن انقلاب ایک طویل المدت عمل ہے (ایران کی اسلامی انقلابی جدوجہد ک یابتدا 1905ء میں ہوئی تھی اور ریاستی غلبہ 1978ء میں حاصل ہوا)۔ انقلابی عمل رائج شدہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ کی تحلیل اور اس میں تضادات کو مہمیز دے کر آتا ہے۔ فی الحال پاکستان کی کوئی اسلامی جماعت نظاماتی تبدل کو فروغ دینے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ دعوتی جماعتیں سیاسی عمل سے لاتعلق ہیں اور اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ تعلیم و تربیت اور تبلیغ کا عمل خود بخود سیاسی نظام کے تبدل کا باعث بنے گا۔ جماعت اسلامی حقوق کی سیاست میں مصروف ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کے قیام (جو کہ ظلم عظیم ہے) کو شریعت جانتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے تحفظ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ایک اہم سیاسی کردار ادا کیا لیکن وزارتیں قبول کر کے وہ اسلام دشمن جماعتوں (پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم) کی حلیف بن گئی ہے اور غالب گمان یہی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے توسیع شدہ معاہدہ، SBP کی فروخت اور دیگر سامراج نواز پالیسیوں کی تائید پر مجبور کر دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی گرفت مضبوط ہونے کے نتیجہ میں مولانا فضل الرحمان کا آیندہ صدرِ پاکستان ہونے کا امکان معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ فریضہ غلبہ دین کو ترک کرنے کی راہ ہے۔ فریضہ اقامت دین کی ادائیگی کے لیے تحفظ دین اور غلبہ دین دونوں ضروری ہیں۔ اگر غلبہ دین کے عمل سے پہلو تہی کی گئی تو فریضہ تحفظ دین کی ادائیگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جائے گی۔ تحکم قانون سرمایہ کی بالادستی میں غلبہ دین کا فریضہ نہیں ادا کیا جا سکتا۔ لہٰذا تحلیل تحکم سرمایہ ناگزیر ہے۔ لیکن پاکستان کی تحریکات اسلامی اس ناگزیر ضرورت کا احساس نہیں رکھتیں اور اس رویہ کی نہایت گہری بنیادیں ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتدا میں حضرت اشرف علی تھانوی اور اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی رحمہما اللہ نے اپنے شیوخ قطب الاقطاب حضرت مہاجر مکی اور حضرت فضل حق خیر آبادی کے فلسفہ جہاد کو ترک کر کے عملاً (اصولاً نہیں) سرمایہ دارانہ سامراج سے مصالحت کر لی۔ اس کے نتیجہ میں تحریک غلبہ دین تحریک استخلاص وطن اور تحریک پاکستان میں ضم ہو گئی اور ہماری سیاسی جدوجہد میں مسلم قوم پرستانہ عصبیت اسلامی عصبیت پر غالب آ گئی۔ بیسویں صدی کی تحاریک غلبہ دین کی تحاریک تحریک احرار اور جماعت اسلامی علما کی رہنمائی سے محروم ہو کر سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کا شکار ہو گئیں اور مخلصین دین کی بہت بڑی اکثریت سیاسی طور پر مغلوب، منتشر اور غیر منظم ہوتی چلی گئی۔ آج سامراجی سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ سے لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ عمران خان جیسا منافق طالع آزما جس نے اپنے دورِ حکومت میں نفاذِ شریعت کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ سود اور سٹہ کا کاروبار روزافزوں ترقی پذیر رہا، آئی ایم ایف کی تابعداری میں ملک کا مرکزی بینک فروخت کر دیا گیا۔ فواحش کے پھیلاؤ کی ریاستی حوصلہ افزائی جاری رہی۔ اسی عمران خان کو تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل اپنے پورے دورِ حکومت میں اور آج بھی بھرپور اعانت حاصل رہی ہے۔ مولانا طارق جمیل آج عمران خان کی ویسے ہی جھوٹی اسلامی شخصیت سازی کر رہے ہیں جیسے کل مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے خانوادے نے لیاقت علی خان کی کی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے مخلصین دین تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ہم نوا ہیں۔ عمران خان کا دوغلاپن آج نہیں تو کل واضح ہو جائے گا۔ لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں کوئی حقیقی سرمایہ دارانہ قوم پرست (مودی، سوئیکارنو، کاسترو) اقتدار پر قابض ہو جائے۔ وہ سامراج کی نظاماتی بالادستی کو کمزور کرنے کی فی الواقع کوشش کرے اور مخلصین یہ سمجھ بیٹھیں کہ قوم پرستانہ سرمایہ دارانہ تحکم غلبہ دین کے مماثل ہے۔ یوں پاکستان میں اسلامی نظام زندگی اور طرز حیات سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست میں اس ہی طرح تحلیل ہوتا چلا جائے گا جیسے آج بھارت میں ہندومت قوم پرستانہ سرمایہ داری میں تحلیل ہو رہا ہے۔ یہی عمل پولینڈ میں بھی جاری ہے۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس نظام زندگی اور طرز حیات کے خلاف آج تحریکات تحفظ دین اور تحریکات غلبہ دین برسرپیکار ہیں وہ سرمایہ داری ہے (گوکہ اس بات اک ان کو شعور نہیں)۔ سرمایہ دارانہ مخالف جدوجہد منظم کرنا آج ممکن بھی ہے اور ضروری بھی کیوں کہ عالمی سطح پر اور ملک میں بھی سرمایہ دارانہ نظام تضادات اور شکست و ریخت کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں زبردست سرمایہ دارانہ مخالف جہدوجہد ان خطوط پر مرتب کی جا سکتی ہے۔ 1۔ تمام تحریکات اسلامی سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی ، اس کے عقائد ، نظریات، علمیت، معاشی، معاشرتی اور ریاستی ادارہ سازی سے واقفیت حاصل کریں۔ اس سلسلہ میں ہم نے مدارس کے لیے ایک ابتدائی کتاب دروس سرمایہ داری شائع کی ہے اور دوسری حقیقت جمہوریت زیر طبع ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ ان دونوں کتابوں کو نصاب میں شمولیت کے لیے علماء جانچیں۔ 2۔ مختلف تحریکات اسلامی میں ادارتی فاصلہ کم کرنے کی جدوجہد شروع کی جائے۔ اس بات کا احساس قوی کیا جائے کہ تحفظ دین اور غلبہ دین، اقامت دین کے دو متصل پہلو ہیں جو ایک دوسرے کا سہارا لیے بغیر معاشرتی تفوق حاصل نہیں کر سکتے۔ اس نوعیت کے اسلامی اتحاد کا قیام اور استحکام جس میں مخلصین دین کی زیادہ سے زیادہ تعلیمی، تبلیغی، دفاعی، علمی اور سیاسی جماعتیں شامل ہوں اور تمام فیصلے ہمہ گیر مشاورت کی بنیاد پر کیے جائیں۔ 3۔ یہ اتحاد بالائی سطح تک محدود نہ ہو ۔ اتحاد کا بنیادی یونٹ محلہ اور بازار کی مساجد میں قائم کیا جائے اور مساجد کے دائرہ اختیار کی توسیع کا انتظام کیا جائے۔ عملاً مساجد کے یونٹ لوکل گورنمنٹ کے دفاتر کے نعم البدل کے طور پر کام کریں۔ وہ محلہ بازار میں حلال کاروبار کے فروغ، ردِ فواحش، فروغ امن عامہ اور اجرائے فتویٰ اور اسلامی عدالتی فیصلوں کی تنفیذ کی ذمہ داری قبول کریں۔ ائمہ مساجد کو محلہ کے واحد سیاسی رہنما کے طور پر پہچانا جائے۔ 3۔ ہماری ریاستی جدوجہد کے دو مقاصد ہوں : 1۔ ریاستی اقتدار کو تحکیمی سرمایہ دارانہ اداروں (عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا، کارپوریشنوں اور مقننہ) سے منتقل کر کے مساجد اور اتحاد اسلامی کےضلعی، صوبائی اور مرکزی تنفیذی اداروں کی طرف مستقل منتقلی کی جدوجہد 2۔ ان پالیسیوں کی مخالفت جن کی تنفیذ کے نتیجہ میں ملکی معیشت اور معاشرت کا انہدام ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے خلاف اسلامی جدوجہد طویل المدت جدوجہد ہے جو ابھی پاکستان میں اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ ملک میں 2023ء (یا اس سے کچھ عرصہ قبل) انتخابات متوقع ہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ان انتخابات کے ذریعہ اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ لیکن سرمایہ دارانہ اقتداری ڈھانچہ میں دراڑیں ڈالی جا سکتی ہیں۔ اب وقت نہیں رہ گیا کہ مخلصین دین کی ادارتی صف بندی میں زیادہ کچھ پیش رفت کر سکیں۔ پھر بھی کچھ پیش بندی کی جا سکتی ہے۔ پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام آئی ایم ایف کے مجوزہ تجدیدی معاہدہ کی بھرپور مخالفت کرے اور اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو فی الفور وزارتی قلمدان واپس کر کے حزب اختلاف میں شامل ہو جائے۔
فی الفور ایک اسلامی انتخابی اتحاد کا ملک گیر قیام جس میں مرکزی اہمیت جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک جس میں زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتیں شامل ہوں اور جس کی پشت پناہی زیادہ سے زیادہ اصلاحی اور تبلیغی جماعتیں کریں۔ انتخابی مہم کا رنگ خالصتاً مذہبی ہو پوری مہم تحفظ ناموس رسالت پر مرکوز ہو اور ہمارا بنیادی مطالبہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور فرانس سے تمام سیاسی اور تجارتی تعلقات کو توڑنا ہو۔ انتخابی مہم کو مساجد اور مدارس کی بنیاد پر منظم کیا جائے اور مخلصین دین کو احساس دلایا جائے کہ اسلامی معاشرت شدید خطرہ میں ہے۔ اس احساس کو اجاگر کرنے کے لیے انتخابی مہم کے دوران محلہ اور بازار کی سطح پر فواحش اور حرام خوری کے خلاف جدوجہد برپا کی جائے۔ اسلامی اتحاد اپنے انتخابی منشور میں سوشل ڈیموکریٹ اور مسلم قوم پرستی کی بھرمار اور اسلام کاری سے پرہیز کرے۔ 2018ء میں ہمیں(تمام اسلامی جماعتوں کو)52 لاکھ ووٹ ملے تھے اگرہم 2023ء کے انتخابات اسلامی انقلابی بنیادوں پر لڑیں اور مخلصین دین کو متحرک اور (کسی حد تک) منظم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمیں بآسانی ایک کروڑ ووٹ اور قومی اسمبلی میں 30 سے 40 نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ان انتخابات کے ذریعہ اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ ایک مستحکم اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سرمایہ دارانہ ریاتی ادارتی صف بندی کی تسخیر کی ضرورت ہے اور اس کام کی پاکستان میں ابتدا 2023ء کے انتخابات کو انقلابی بنیادوں پر لڑ کر کی جا سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستی ادارتی تسخیر کے بغیر اسلامی حکومت کا قیام دیر پا ثابت نہیں ہو سکتا۔ وہ یا تو ختم کر دی جائیں گی جیسا کہ مصر میں ہوا یا سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں انضمام کا شکار ہوتی چلی جائیں گی جیسا کہ تیونس میں ہو رہا ہے۔ ہمیں پاکستان کے جمہوری نظام میں ایک مدت دراز تک حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہے۔ ایک ایسا حزب ۔ جوسامراجی سرمایہ دارانہ اقتدار کی معاشرتی سیاسی اقتدار کو سرمایہ دارانہ اداروں سے مخلصین دین کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کی پیہم جدوجہد کرتا رہے۔ ۔ جو حکومت اور دیگر ریاستی اداروں کو مجبور کرنے کی اہلیت رکھتا ہو کہ وہ شعائر دین اور معاشرت اسلامی کو مجروح کرنے سے باز رہیں۔ ۔ جو پاکستانی معیشت، معاشرت اور سیاست کو عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام سے منقطع کرنے کی جدوجہد کرتا رہے۔ جاوید اکبر انصاری