جماعت اسلامی کی حالیہ حکمت عملی
جماعت اسلامی کی حالیہ حکمت عملی: چند تجاویز اس مضمون میں ہم ایک ایسی حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کریں گے جس کے انعقاد کے نتیجہ میں ہماری جماعت ملکی سیاسی منظرنامہ میں ایک ایک اہم کردار ادا کر سکے گی۔ اس مضمون کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں پاکستان کے سیاسی منظرنامہ پر گفتگو کی جائے گی۔ دوسرے حصے میں اپنی جماعت کی موجودہ حکمت عملی کا تجزیہ کیا جائے گا اور آخری حصہ میں اس حکمت عملی کی توسیع اور ترمیم کے لیے چند تجاویز مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان کا حالیہ سیاسی منظر نامہ بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک نیوکولونیل سرمایہ دارانہ ریاست ہے اور اس ریاست کا ہر ادارہ – مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج، میڈیا، کارپوریشن – سامراج کا باج گزار ہے۔ سامراج سے وابستگی آج جتنی گہری ہے پہلے کبھی نہ تھی اور یہ سامراجی پیوستگی ریاست سے سرائیت کر کے معاشرہ کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی پیوستگی کے نتیجہ میں ریاست تقریباً پورے طور پر دہریت (سیکولرازم) کی زد میں آ گئی ہے اور معاشرہ بھی جزوی طور پر سیکولرائز ہوتا جا رہا ہے۔ سامراج سے یہ وابستگی معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کو مہمیز دے رہی ہے۔ ریاستی مالیاتی نظام گھمبیر بحران کا شکار ہے اور سرکاری معیشت قومی اور عالمی قرضہ جاتی شکنجہ میں کسی ہوئی ہے اور معیشت پر سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کی گرفت مستحکم سے مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ دولت کھنچ کھنچ کر پیداواری شعبوں (زراعت، صنعت، خدمات) سے سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں منتقل ہو رہی ہے اور افرادی پیداواری سکت کی شرح نمو(rate of factor production growth) منجمد ہے۔ اس کے نتیجہ میں بیش تر نیوکالونیوں کی طرح پاکستان میں بھی سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے اور سرمایہ دارانہ ظلم فروغ پا رہا ہے۔ عوام کے وہ گروہ اور طبقے جو سیکولرائزیشن کی زد میں ہیں احساس محرومی کا شکار ہیں اور اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کے طلب گار ہیں۔ لیکن ان سیکولرائزڈ عوامی گروہوں کی جدوجہد ردعملی ہے اور کسی نظریاتی تناظر میں پیوست نہیں۔ اس وجہ سے ریاستی مقتدرہ قوتیں اس قسم کی عوامی مطابقت کو سرمایہ دارانہ نظاماتی تحکم کے لیے استعمال کر لیتی ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال تحریک انصاف ہے۔ تحریک انصاف ایک دہریہ سرمایہ دار جماعت ہے جس نے اپنے دور اقتدار میں سامراجی ریاستی اداروں اور عالمی سامراجی قوتوں کی باج گزاری کی راہ ہموار کی اور جس کے دور میں سرمایہ دارانہ ظلم پھیلتا رہا اور آج بھی مقتدرہ ریاستی اداروں سے اور عالمی سامراج سے مفاہمت کرنے کی بازی لگائے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کو حساس سرمایہ دارانہ مظلومین کی پرزور حمایت میسر ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں اسلامی جماعتوں کے ارکان ہوا کرتے تھے۔ نظریاتی غیروابستگی کو فروغ دینا سرمایہ دارانہ تحکم کے استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ سرمایہ کا بندہ (subject of Capital) نہ لبرل ہوتا ہے نہ قوم پرست نہ اشتراکی۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام تحکم اور سرمایہ دارانہ طرز حیات کو ایک فطری ، ناقابل تبدل تناظر تصور کرتا ہے اور اسے غرض صرف اپنے حصول تعیش سے ہوتی ہے۔ جب سرمایہ کا بندہ (subject of Capital) سیاسی نظام کا فعال ترین جزو بن جائے تو ایسے نظام میں نظریاتی جماعتوں irrelevant ہوجانا ناگزیر ہے۔ اس ماحول میں ایک اسلامی سیاسی جماعت کو اپنا نظریاتی تشخص محفوظ رکھتے ہوئے سرمایہ دارانہ اقدار کو موثر انداز میں چیلنج کرنا ایک نہایت دشوار گزار جدوجہد کا متقاضی ہے۔ جماعت اسلامی کی موجودہ حکمت عملی محترم سراج الحق کے دور میں ہم نے جو حکمت عملی اپنائی اس کی بنیادی خصوصیت اپنے روایتی انقلابی مکالمہ سے بتدریج پہلو تہی تھی ۔ ہم نے دنیا بھر کی تحریکات جہاد سے پہلو تہی کا رویہ اختیار کیا یہاں تک کہ ہم جہاد افغانستان اورکشمیر کی عملی حمایت سے دست بردار ہو گئے۔ آج افغانستان میں تعمیر ریاست اسلامی کے عمل میں ہمارا کوئی حصہ نہیں اور اس لاتعلقی کا یہ عالم ہے کہ تاریخ اسلامی کی اس شان دار کامیابی کا ذکر تک ہمارے بیانیہ سے معدوم ہو گیا ہے۔
انقلابی عمل سے لاتعلقی کا یہ فطری نتیجہ ہے کہ ہماری تمام تر توقعات دستوری جمہوری عمل سے وابستہ ہو گئی ہیں۔ ہماری جدوجہد خالصتاً سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کی جدوجہد ہو کر رہ گئی ہے اور ہماری توقعات تمام تر سرمایہ دارانہ محرومین سے وابستہ ہو گئی ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ محرومین جن کو اپنی سرمایہ دارانہ مظلومیت کا احساس ہے اور جو سرمایہ دارانہ ظلم میں تخفیف کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں، غیر نظریاتی ہیں اورہ وہ سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کو سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں ممکن سمجھتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ محرومین کی واضح اکثریت ہم اپنے ساتھ ملانے میں ملک بھر میں ناکام رہے۔ 2024ء کے انتخابات میں ہمیں 2018ء کے انتخابات کی طرح صرف دو فیصد ووٹ ملے اور سرمایہ دارانہ محرومین نے اس کی تمام وعدہ خلافیوں اور دروغ گویوں کے باوجود تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔ لیکن کراچی میں یہ حکمت عملی نسبتاً کامیاب رہی جہاں ہمیں ساڑھے چھ لاکھ ووٹ ملے۔ لیکن اس کامیابی کی ہمیں بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ کراچی کے سرمایہ دارانہ مظلومین کو متحرک کرنے کے لیے جو پیمانہ وضع کیا وہ خالصتاً غیر نظریاتی تھا۔ ہمارے جلسے جلوس میں عموماً شعائر اسلامی کو نظرانداز کیا گیا۔ موسیقی اور تصویر کشی کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ خواتین کی پبلک لائف میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ جلسوں کی روح خالصتاً سیکولر رہی اور مقررین کے بیانیے اظہارِ مذہبیت سے کوسوں دور رہے۔ جماعت کے کارکنوں میں یہ رائے پھیلائی گئی کہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد ہی غلبہ دین کا تقاضا ہے یعنی اسلام کوئی خود کفیل ، مکمل نظام حیات نہیں بلکہ مروجہ ہندومت اور عیسائیت کی طرح سرمایہ دارانہ نظام کی ایک مذہبی تشریح ہے جس کا دائرہ کار اصولاً ذاتی زندگی تک محدود ہے اور جس کا معاشرتی اور بالخصوص سیاسی اظہار سرمایہ دارانہ عدل کے حصول ہی کی جستجو سے ممکن ہے۔ یہ جماعت اسلامی کو سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں نارملائز کرنے کا طریقہ ہے۔ سرمایہ دارانہ سیکولرائزڈ نظام ریاست میں مذہبی جماعتوں کے سمونے کی گنجائش موجود ہے (مثلاً اٹلی اور جرمنی کی کرسچین ڈیموکریٹ پارٹی، بھارت کی بی جے پی، امریکا کی ریپبلکن پارٹی وغیرہ) بشرطیکہ وہ سرمایہ دارانہ دستوری نظام میں انضمام قبول کریں۔ لیکن اس کے نتیجہ میں وہ نارملائز ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے نظاماتی تحکم کے دعووں سے دست بردار ہو جاتی ہیں۔ اسلامی جماعتوں پر لاگو یہ عمل ترکی اور تیونس میں تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ جیسے جیسے جماعت نارملائز ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے اس کی اسلامی شناخت مجروح ہو رہی ہے اور روایتی دینی حلقوں اور جماعتوں سے ہمارے فاصلے وسیع سے وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے 2018ء کے ایم ایم اے کی شکست و ریخت کے بعد عملاً اتحاد اسلامی کو فروغ دینے کی جدوجہد ترک کر دی ہے۔ ”حق دو کراچی کو“ کی مہم میں شہر کے علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے قطعاً نظرانداز کیا اور جماعت میں شامل علما کی شرکت بھی بالکل برائے نام تھی۔ کوئی اسلامی جماعت بھی اس مزاحمت میں ہماری شریک کار نہ رہی۔ جماعتی سرمایہ دارانہ نارملائزیشن کا ایک اہم اشاریہ ہماری قیادت میں علماء کرام کی بڑھتی ہوئی غیر موثریت بھی ہے۔ آیندہ حکمت عملی کی چند تجاویز ہماری رائے میں سرمایہ دارانہ نارملائزیشن کے اس عمل کو ریورس کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر اور پاکستان میں شکست و ریخت کا شکار ہے اور دنیا بھر میں اور پاکستان میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ پھر سرمایہ دارانہ عدل کے سرمایہ دارانہ محرومین کی نظر میں معتبر دعویٰ دار عمران خاں ہے۔ ہم نہیں۔ مستقبل قریب میں عمران خاں کے اس عوامی اعتبار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ سامراج اور مقتدرہ سے گٹھ جوڑ کر کے دوبارہ اقتدار میں آ جائے اور اپنے نئے دور اقتدار میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کی توقعات پوری نہ کر سکے۔ اس صورت میں ہم ایسے سرمایہ دارانہ عدل کے وکیل کے طور پر ضرور ابھر سکتے ہیں جن کو سرمایہ دارانہ مظلومین کا اعتبار حاصل ہو۔ اس میں خطرہ یہ ہے کہ ترکی اور تیونس کی اسلامی جماعتوں کی طرح ہم بھی سرمایہ دارانہ خطوط پر نارملائز ہوتی چلی جائے گی اور ہمارا اسلامی انقلابی تشخص مجروح ہوتا چلا جائے گا۔ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور اپنے مرشد مولانا مودودیؒ کے اس اجتہاد پر کاربند ہیں کہ دورِ حاضر میں ریاستی عمل میں انقلابی مزاحمت غلبہ دین کے لیے لازم اور ناگزیر ہے۔ ہم سیاسی عمل سے پہلوتہی نہیں کر سکتے اور اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ظلم کی وقوع پذیری سرمایہ دارانہ نظاماتی نزاعات کا واضح ترین اظہار ہے۔ لہٰذا ہم اس ظلم کے عوامی اظہار سے سہو نظر نہیں کر سکتے۔ دور حاضر میں ہمارے سامنے جو بنیادی چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ انہدامی جدوجہد کو اسلامی نظریاتی تناظر میں منظم کیا جائے۔ سرمایہ دارانہ ظلم کے اظہار کا بنیادی سرچشمہ آئی ایم ایف کا وہ متوقعEFF منصوبہ ہے جو 2024ء میں کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے خلاف مزاحمت اسلامی جماعتوں کے علاوہ کوئی اور جماعت نہیں کر سکتی۔ تحریک انصاف نہ مسلم لیگ نہ پیپلز پارٹی نہ مقتدرہ کیونکہ یہ سب سامراج کی باج گزار جماعتیں ہیں۔ جماعت اسلامی کو جلد از جلد آئی ایم ایف کے متوقع معاہدہ کے خلاف ملک گیر مہم کا آغاز کرنا چاہیے جس کا خالص اسلامی رنگ ہو اور جس کا بنیادی موقف یہ ہو کہ اس معاہدہ کے ہوتے ہوئے شریعت کورٹ کا 2022ء کا امتناع سود کے حکم کا نفاذ ناممکن ہو جائے گا۔ ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ حکومت فوراً بیرونی قرضہ جاتی ادائیگیوں سے ڈیفالٹ کرے اور اندرونی سرکاری اور نیم سرکاری سودی ادائیگیاں معطل کرے۔ نج کاری کے عمل کو ریوائز کرے۔ توانائی میں ٹیکسوں میں کمی کرے اور غریب آبادیوں میں مفت بجلی فراہم کی جائے۔ یہ مزاحمت طویل المدت میں اس میں جلسہ جلوسوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ٹیکس اور نج کاری کے خلاف ہڑتالوں اور دھرنوں اور مقتدر سیاست دانوں اور اہل کاروں کے گھیراؤ کی مہمات بھی چلائی جائیں۔ لاطینی امریکا اور جنوبی افریقہ میں اس قسم کی مہمات کامیاب ہوئی ہیں اور کئی ممالک نے عوامی دباؤ کی بنیاد پر آئی ایم ایف کے معاہدے منسوخ کیے ہیں۔ مہمات کے شرکا کی نظریاتی اور مذہبی تربیت پر خاص توجہ دی جائے۔ مہمات کے انتظامی مراکز محلہ اور بازار کی سطح پر مساجد ہوں اور مہمات کی قیادت میں ائمہ مساجد اور دیگر علما کو پیش پیش رکھا جائے۔ مہمات کا مکالمہ خالص اسلامی ہو۔ مدارس کے طلبہ مزاحمت کا ہراول دستہ ہوں اور مزاحمت کو غلبہ دین کی راہ ہموار کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر فروغ دیا جائے۔ یہ کام میاں طفیل کی ولولہ انگیز قیادت میں ہم نے 1976ء، 1977ء میں کامیابی سے کر لیا تھا جب تحریک بحالی جمہوریت ، تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں تبدیل ہو گئی اور اس کی سب سے روشن مثال ایرانی علما کی 1975 سے جاری جدوجہد ہے جس نے ایک جمہوری اور قوم پرست تحریک کو غلبہ دین کا ذریعہ بنا دیا۔ ہم یہ کام اکیلے نہیں کر سکتے۔ ہمیں یہ کرنا ہے تو لازماً وہ فاصلے پاٹنا پڑیں گے جو 2018ء کے بعد سے جماعت اسلامی اور دیگراسلامی جماعتوں کے درمیان پیدا ہو گئے ہیں۔ اتحاد اسلامی سرمایہ دارانہ محرومین کی مذہبی اور نظریاتی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے اور تحریک مزاحمت کو اسلامی نظریاتی قالب میں ڈھالنے کے لیے بھی۔ جماعت اسلامی تحریکات اسلامی کی رابطہ کی جماعت ہے اور وہ اپنا انقلابی ریاستی کردار مصلحین جماعتوں اور گروہوں کے تعاون اور اشتراک عمل کے بغیر ادا نہیں کر سکتی۔
جاوید احمد شیخ۔ رکن جماعت امین اشعر۔ رکن جماعت