حصول اختیار کی راہ میں رکاوٹیں4
ہم اصل حز ب اختلاف کیوں ہیں چند اصولی گزارشات………….. حصہ چہارم ہماری سیاسی جدوجہد کا مقصد دہریہ جماعتوں کے بارے میں ہمارا رویہ غیرمنتخب ریاستی ادارہ استعمار تحرک اور تنظیم آئندہ پانچ سالہ حکمت عملی کی تشکیل کے ضمن میں بحیثیت ایک عام کارکن کے چند اصولی گزارشات ایم ایم اے کی قیادت کی خدمت میں پیش کررہاہوں ۔ ۱۔ہماری سیاسی جدوجہد کا مقصد: ہم سیاسی میدان تحفظ دین اورغلبہ دین کا فریضہ ادا کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ کسی دہریہ (secular) جماعت کا مقصد نہیں ہوسکتا ۔ان معنوں میں ہم لازماً اصل حزب اختلاف ہیں –ہم نظاماتی تغیر کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔نظاماتی پیوندکاری کےلئے نہیں ، آج پاکستان میں جو نظام زندگی عملاً غالب اور محفوظ ہے وہ سرمایہ داری ہے۔اس نظام کی تعمیر کردہ انفرادیت معاشرت اور ریاست کا تغلب آج مستحکم اور محفوظ ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام میں قدر مطلق بڑھوتری سرمایہ ہے اور ہرعمل کی قدر اس ہی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے بڑھوتری سرمایہ کی رفتار پر کیا اثر پڑا ۔سرمایہ دارانہ نظام ہر فرد کو نفس امارہ کا بندہ بنا دیتاہے اور سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ہرفرد اپنی زیادہ سے زیادہ خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں ۔یہ سرمایہ دارانہ نظاماتی اصول کارفرمائی ہے اور یہ فرد کو خدا کے بندہ subject of GOD ) سے سرمایہ کا بندہ( subject of capital ) بنادیتی ہے ۔ لہذا ہم سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی کوششوں کو ظلم عظیم گردانتے ہیں ۔ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سرمایہ داری ایک کلیت( Totality)ہے ۔ کرامویل (( Cromwell سے لیکر مودی تک سرمایہ دارانہ قالب میں مذہبی روح پھونکنے کی جتنی بھی کوشش ہویئں ان سب کے نتیجہ میں مذہبی انفرادیت ،معاشرت اور نظام اقتدار سرمایہ دارانہ نظام میں مغلوبانہ انضمام( subordinated subjugation ) کا شکار ہوگیا ۔ بے شک دورحاضر میں سرمایہ داری کاکوئی بیرون(Exterior ) موجود نہیں اور ہم سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہی اپنی کارفرمائی مرتب کرنے پر مجبور ہیں لیکن ہماری جدوجہد کا مقصد سرمایہ داری نظاماتی انہدام ہے سرمایہ داری میں مذہبی پیوند کاری نہیں۔ ۲۔دہریہ جماعتوں کے بارے میں ہمارا رویہ: پاکستان کی تمام دہریہ (secular )جماعتیں –پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ،تحریک انصاف،اے این پی وغیرہ-سرمایہ دارانہ جماعتیں ہیں۔ان سب کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا فروغ اور استحکام ہے ۔یہ بات ان کے معاشی اور معاشرتی اقدام سے واضح ہوتی ہےمثلاً پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ اور تحریک انصاف تینوں نے آئی ایم ایف(IMF) کی معاہداتی زیردستی قبول کی تینوں نے مواصلاتی فحش کاری ( media pornography )کو فروغ دیا تینوں نے استعمار کی چاکری قبول کی وغیرہ۔ ان دہریہ جماعتوں سے نظاماتی تعاون سے ہمارے نظریاتی تشخص کو بے اندازہ نقصان ہوتا ہے ،تحریک انصاف سے تعاون کی جماعت اسلامی کو بہت بڑی قیمت دینا پڑی اور اس کے کئی فعال ترین کارکن سرمایہ داری کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔موجودہ صدرپاکستان اور اسپیکر قومی اسمبلی کبھی ہمارے کارکن ہوا کرتے تھے آج وہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل ہیں۔ ۲۰۱۳سے۲۰۱۸ میں ہم مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی حکومتوں کاحصہ بنے رہے اس نے عوام میں ہمارے نظریاتی تشخص کو بری طرح مجروح کیا اور ہماری ۲۰۱۸ کی مایوس کن کارکردگی کی یہ اہم ترین وجہ رہی ۔۲۰۲۳ میں انتخابی کامیابی صرف اس صورت میں حاصل کی جاسکتی ہے کہ ہم قوم کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں کہ اصل حزب اختلاف ایم ایم اے ہے ،پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ،تحریک انصاف ایک ہی تھیلی کے گندے انڈے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے متحدہ حزب اختلاف بنانے کی جو کوشش کی تھی وہ ناکام ہوگئی ۔ایسے اتحاد میں ہمارا مقام زیردستی کے علاوہ کیا ہوسکتا تھا اور اس اتحاد کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ اور فروغ کے علاوہ کیا ہوسکتا تھا۔ہمیں ایسی تمام کوششیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ترک کردینی چاہئیں دہریہ (سیکولر) جماعتوں سے جزوی تعاون عمل ممکن ہے۔بشرطیکہ یہ تعاون ان معاملات تک محدود رہے جو انہدام سرمایہ داری کی اسلامی جدوجہد کےلئے مفید ہوں اور جن کا مقصد سرمایہ دارانہ عدل کے قیام پر منتج نہ ہو مثلاً اگر کوئی دہریہ (سیکولر) جماعت حالیہ کیے جانے والے آئی ایم ایف کے معاہدہ کی تنفیذ کے خلاف جدوجہد کرے تو اس سے تعاون اس معاملہ میں کیا جا سکتا ہے ۔ ۳۔ریاستی نظام: پاکستان ریاستی ساخت خالصتاً سرمایہ دارنہ خطوط پر مروج کی گئی ہے اور اس ریاستی ساخت کا ہماری قدیم اسلامی ریاستی ساخت اور ماہیت کا سرے سے کوئی تعلق نہیں۔جو نمائشی اسلامیت پاکستان کے دستورمیں ہے اس کا کوئی اظہار ریاستی ادارتی کارفرمائی میں مطلقاً نظر نہیں آتا ۔اسلامی نظریاتی کونسل اور شرعی عدالتوں کا دائرہ عمل اتنا محدود ہے کہ وہ عملاً معطل اور مجروح ہیں۔ہم پچھلے70سال سے یہ لغو گوئی کررہے ہیں کہ پاکستانی ریاست نے کلمہ پڑھ لیا ہے ریاست کوئی فرد نہیں افراد کے مابین ایک تعلقاتی نظام ہے اس کے کلمہ پڑھنے کے کیا معانی ہوسکتے ہیں؟ پاکستانی ریاستی نظام کا اصول کارفرمائی سرمایہ دارانہ قانون ہے ۔یہاں سرمایہ کی حاکمیت ( rule of law of capital) کارفرما ہے جو حقوق سرمایہ دارانہ ہیں اور سرمایہ کے تابعداروں کے لئے مختص ہیں اگر کوئی اس تابعداری کو چیلنج کرے تو جیسا کہ عمران خان نے اپنی ۳۱ اکتوبر کی تقریر میں کہا کہ دستور کا تقاضہ ہے کہ اس کو حقوق سے محروم کردیا جائے۔ مثلاً غازی ممتاز قادری کے عدیم المثال جنازہ او رتحریک لبیک کی اکتوبر /نومبر تحریک کا مکمل بائیکاٹ میڈیا نے کیا جبکہ عمران خان کے ۲۰۱۴ کے اسلام آباد دھرنے کا تفصیلی کوریج (coverage ) کیا گیا ۔ہمیں صرف ان آراء کے اظہار کا حق حاصل ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ بڑھوتری سرمایہ کے لئے مفید اور معاون ہیں، باقی کسی راۓ کے اظہار کاکوئی حق نہیں کیونکہ میڈیا اور ریاستی انتظامیہ پر سرمایہ غالب ہے۔ تمام ریاستی ادارے سرمایہ کےآلہ کار ہیں۔ان کا وجود ہی اس بات پر منحصر ہے کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ قائم رہے مثلاً نفاذ شریعت بغیر موجودہ عدالتی نظام کی مکمل تحلیل کے بالکل ناممکن ہے۔کیا تعجب کہ سپریم کورٹ نےانسداد سود اور تنفیذ حسبہ بل کو غیر دستوری قراردیکر مسترد کردیا ۔ لہذا ریاستی اداروں کی کارفرمائی کو غیر اقداری (value neutral)تصور کرنا غلط ہے اس ریاستی نظام کے ذریعہ صرف سرمایہ دارانہ تحکم قائم کیا جاسکتا ہے ۔سرمایہ دارانہ ریاستی ادارتی تناظر میں غلبہ دین ناممکن ہے۔ ۴۔تحرک اور تنظیم: اس نظاماتی تناظر میں ہمیں آئندہ پانچ سال کے لئے جو حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے اس کے دوپہلو ہیں: 1:ایم ایم اے کے دائرہ کا میں وسعت: پچھلے انتخابات میں کئی اسلامی جماعتوں نے علیحدہ علیحدہ حصہ لیا اور اس سے سب کو نقصان پہنچا۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ۲۰۲۳ کے انتخابات میں یہ افتراق نہ ہوبلکہ تمام اسلامی جماعتیں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔سب سے اہم ضرورت تحریک لبیک سے نظریاتی اور عملی تعاون کو متعین کرنے کا ہے اس کے ساتھ ساتھ غیر سیاسی اسلامی جماعتیں (بالخصوص تبلیغی جماعت اور دعوۃ اسلامی ) بھی انتخابی عمل سے بالکل لاتعلق رہیں جس کے نتیجہ میں مخلصین دین کی ایک بڑی تعداد غیر فعال رہی اور بہت سے اسلامی کارکنوں نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن اور ق) کو ووٹ دیے۔ ملک میں اتحاد اسلامی کو فروغ دینا ایک نہایت پیچیدہ اورمشکل کام ہے ۔اس کے طویل المدت حکمت عملی کی تشکیل اور تنفیذ لازم ہے اور اس حکمت عملی کی تنفیذ میں ہمیں جو ناکامیاں وقتاً فوقتاً ہوتی رہیں ان کو برداشت کرنے کی سکت پیداکرنا چاہئے ۔ایم ایم اے کو اتحاد اسلامی کو فروغ دینے کی جدوجہد کو تمام کاموں پر فوقیت دینی چاہئے ۔
۶۔بنیادی تنظیم سازی: ہمارا بنیادی یونٹ( unit) محلہ کی مسجد ہے اورہمارا بنیادی عوامی رہنما مسجد کا امام ہے ۔ہم بالائی سطح پر جو اتحاد قائم کریں اس کی جڑیں محلہ کی مساجد میں پیوست ہونا چاہئے ۔آئمہ مساجد کی صفوں سے فرقہ واریت کے زہر کا اخراج۔ان میں ربط وتعاون کے رحجانات کا فروغ اور حالات حاضرہ سے ان کی واقفیت میں اضافہ کے لئے ایم ایم اے کو منصوبہ بندی کرنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ عوام میں آئمہ مساجد واحد جائز (legitimate ) عوامی قائد کے طورپر پہچانے جائیں۔مساجد میں دارلافتاء اور دارالاقضاء قائم ہوں اور امام مسجد کا اختیار بازاروں،اسکولوں اور دیگر عوامی اداروں میں قابل قبول بنایا جائے ۔اور عوام کی سرکاری اداروں سے مواصلت آئمہ مساجد کے ذریعہ منظم ہو ۔ مساجد کے اتحاد کے ذریعہ ہم آئندہ پانچ سالہ دورانیہ کے اختتام ایک متبادل لوکل گورنمنٹ کا نظام کسی نہ کسی حدتک قائم اور کارفرما کردیں اور ۲۰۲۳ کے انتخابات میں اس ہی مسجد کی بنیاد پر قائم کردہ نظام کے ذریعہ لڑیں۔ جاوید اکبر انصاری