انقلابی انتخابی حکمت عملی اور پی ڈی ایم کی تشکیل نو کی ضرورت
انقلابی انتخابی حکمت عملی اور پی ڈی ایم کی تشکیل نو کی ضرورت اب یہ بات تقریباً یقینی ہو گئی ہے کہ آیندہ قومی انتخابات ۳۲۰۲ءمیں ہی ہوں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت اس وقت تک لازماً قائم رہے گی۔ اسلام دشمن پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کر کے درونِ خانہ (in-house) تبدیلی لانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے اور اس نے اپنے روایتی غدارانہ کردار کو اپناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو دھوکا دیا ہے۔ اگر جہانگیر ترین اسلام دشمن پی پی پی میں شریک ہو گیا تو تحریک انصاف سے وابستہ جنوبی پنجاب کے وڈیروں اور گجرات کے چوہدریوں کو خریدنا کچھ مشکل نہ ہو گا اور ایک سامراجی پٹھو عمران خان کی جگہ دوسرا سامراجی پٹھو بلاول بھٹو برسراقتدار آ جائے گا۔ لیکن غالباً ان درون خانہ تبدیلیوں کے باوجود ۳۲۰۲ءکے قومی انتخابات موخر نہ کیے جائیں گے اور ان انتخابات میں اسلام دشمن پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی ویسی ہی پشت پناہی حاصل ہو گی جیسی عمران خان کو ۸۱۰۲ءکے انتخابات میں تھی۔ ہمارے انتخاب ۳۲۰۲ءکے اہداف ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ نہ تخیلاتی ہیں نہ مطلب پرست۔ اپنی انتخابی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے ہمیں ایک حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ان انتخابات کے نتیجہ کے طور پر ملک میں کوئی اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ لیکن دہریہ جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی اقتداری گرفت کمزور ضرور کی جا سکتی ہے اور تحفظ اور غلبہ دین کی تحریکات اس کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ۳۲۰۲ءکے انتخابات کو اسلامی انقلابی بنیادوں پر لڑنے کا اہم ترین ہدف دہریہ اقتداری قوتوں (جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور معاشرتی صف بندیوں) کو کمزور کرنا ہے۔ اسلامی انقلابیوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ سرمایہ دارانہ اقتداری نظام ہمہ جہت ہے۔ اس کی روح رواں سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ، ریشنلٹی) ہے اور یہ علمیت پورے معاشرہ اور ریاست پر محیط ہے۔ اس ریشنلٹی کا اظہار کارپوریشنوں، بینکوں، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا اور سامراجی بین الاقوامی اداروں کی کارفرمائی کے ذریعہ ہوتا ہے اور مقننہ اس اظہار کا نمائشی وسیلہ ہے جس کو اس کے مقصد وجود کے علی الرغم بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن تاریخی تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مقننہ کی استعداد دیگر سرمایہ دارانہ اداروں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے ضمن میں محدود رہتی ہے جب تک انقلابی ان دیگر سرمایہ دارانہ اقتداری اداروں کو منظم اور متحد ہو کر کمزور نہ کرتے رہیں۔ لہٰذا ۳۲۰۲ءکے انتخابات میں حصہ لینے ہدف دہریہ قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح کمزور کرنا ہے کہ یہ دہریہ قوتیں اور اسٹیبلشمنٹ ایسی انقلابی معاشرتی ادارتی صف بندی کو برداشت کرنے پر مجبور ہو جائے جو سرمایہ دارانہ کارپوریشنوں، فنانشل مارکیٹوں، عدلیہ ، انتظامیہ اور میڈیا سے کم از کم مقامی سطح پر دہریہ سرمایہ دارانہ اقتدار کی جگہ مخلصین دین کا اقتدار قائم کریں۔ اگر پی ڈی ایم کی تشکیل نو کی جائے تو اس کی انتخابی کامیابی ایک ایسی حکومت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جو معاشرتی اقتدار کی اسلامی انقلابی ادارتی صف بندی کو برداشت کرنے پر مجبور کی جا سکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلم لیگ ایک دہریہ جماعت ہے جس کی پوری کی پوری قیادت جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور دروغ گو سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔ ان پر کرپشن کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ تقریباً سو فیصد درست ہیں اور زرداری اور گجرات کے چودھریوں کے علاوہ نواز شریف اور شہباز شریف سے زیادہ خائن اور لٹیرے پاکستان کی تاریخ میں شاید کوئی نہیں۔ مسلم لیگ کی قیادت بھی سامراج کی باجگزار ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے برخلاف مسلم لیگ کوئی اسلام دشمن جماعت نہیں۔ ہزاروں مخلصین دین اس کے حمایتی ہیں۔ یہ اس کی ماس بیس اب نہیں رہی لیکن تحریک پاکستان کے دوران اس کی صفوں سے نواب بہادر یار جنگ، خواجہ ناظم الدین، مولوی تمیز الدین خان اور آئی آئی چندر رحمہ اللہ یگر جیسے مخلص اور دین دار قائدین برآمد ہوئے ہیں۔ آج بھی اگر مسلم لیگ میں شامل مخلصین دین کی اسلامی حمیت کو للکارا جائے تو وہ اسلامی شعار کے دفاع کے لیے کمربستہ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ذریعہ مسلم لیگ کی حالیہ قیادت تو تبدیل نہ ہو گی نہ اس کی دہریانہ روش میں کوئی فرق آئے گا۔
لیکن اس نوعیت کے تحرک سے مسلم لیگی حکومت کو اسلامی انقلابی معاشرتی ادارتی صف بندی کو برداشت کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ کی صف اول کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے دائرہ اقتدار کی تحدید کو ضروری سمجھتی ہے اور مسلم لیگی اقتدار کے دور میں سرمایہ دارانہ حفاظتی اداروں اور سرمایہ دارانہ عدلیہ کے دائرہ اقتدار کو محدود کرنے کی جستجو جمہوری عمل کا لازمہ بنا دی جائے گی۔ پی ڈی ایم کی تشکیل نو ہم نے پی ڈی ایم میں نہ شامل ہونے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا۔ اس سے ہماری اسلامی انقلابی اصولی شناخت کو تقویت حاصل ہوئی۔ لیکن اس شناخت کا اظہار محض زبانی کلامی حد تک رہا اور ہم وہی روایتی سیاست کرتے رہے جو پہلے کرتے آئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاست وقت کی نبض پر ہمارا ہاتھ نہیں۔ ہم زعما سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ”حق دو کراچی کو“ مہم چلا رہے ہیں۔ جلسے جلوس اور مطالبات کی بھرمار ہے اور اب ”گو آئی ایم ایف گو“ کی مہم کی تیاری کررہے ہیں جو لازماً ویسے ہی ناکام ہو گی جیسے کہ سید منور حسن کی ”گو امریکا گو“ کی تحریک۔ یہ طرز جاری رہا تو نتائج ۳۲۰۲ءکے انتخابات کے ویسے ہی ہوں گے جیسے انتخابات ۳۱۰۲ءاور ۸۱۰۲ءکے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے اقدام سے ہماری ماس بیس جو کروڑوں مخلصین دین پر مشتمل ہے نہ منظم ہوتی ہے نہ متحرک اور یہ ملک کا سیاسی نظام جو کلائنٹ پیٹرونیج کے اصول پر مرتب ہے متاثر نہیں ہوتا۔ اس قسم کے نتائج سے بچنا ہے تو ہمیں لازماً ۳۲۰۲ءکی انتخابی مہم کو اسلامی انقلابی خطوط پر منظم کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مخلصین دین کی اپنی ماس بیس کو محلہ اور بازار کی سطح پر متحد و منظم کر کے اس قابل بنا دیں کہ وہ بتدریج اپنے روزمرہ کے مسائل (پانی اور بجلی کی فراہمی، قیمتوں، کرایوں اورفیسوں کے تعین) اور حلال کاروبار کے فروغ کی خود استطاعت پیدا کر سکیں۔ ہمارے روابط دینی حلقوں کی بالائی سطح تک محدود نہ رہیں اور ہم اس قابل ہو جائیں کہ ائمہ مساجد کو عوام کی واحد جائز مقامی قیادت کے طور پر سامنے لا سکیں۔ اس کام کی تو ابھی ابتدا بھی نہیں ہوئی ہے۔ اس کام کی ابتدا پی ڈی ایم کی تشکیل نو سے متعلق کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ۱۔ پی ڈی ایم سے تما م اسلام دشمن جماعتوں بالخصوص پی پی پی ، پختونخوا ملی ، عوامی پارٹی اور اے این پی کو فی الفور اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال دیا جائے۔ ۲۔ زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی، مسلم لیگ نون کے ساتھ مل کر ایک سیاسی اور انتخابی اتحاد بنائیں۔ ۳۔ اس اتحاد کی عوامی شناخت تحریک نظام مصطفی سے مماثل ہو اور اس کا سیاسی ایجنڈا تحفظ شعائر دین پر مرکوز ہو۔ ۴۔ اس اتحاد کی (بالخصوص مسلم لیگی) قیادت کو یہ باور کرایا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی تحفظاتی اداروں کے دائرہ اقتدار کو محدود کرنے کا ناگزیر ذریعہ عوامی مقامی ادارتی صف بندی ہے۔ ۵۔ اس اتحاد کے مرکزی قائد مولانا فضل الرحمان ہوں اور مسلم لیگ کو مجبور کیا جائے کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مولانا فضل الرحمان کو صدر پاکستان کی حیثیت سے نامزد کرے گی۔ ۶۔ جو اسلامی جماعتیں اس میں شریک ہوں وہ انتخابی مہم محلہ کی مساجد کی بنیاد پر منظم کریں۔ محلوں میں بین المسالک مساجد کے وفاق قائم کریں اور ان وفاق کا دائرہ عمل محلہ کے باشندگان کے روزمرہ کے مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے تنظیم سازی پر مرکوز ہو۔ بالخصوص مندرجہ ذیل امور پر خاص توجہ دی جائے: ۱۔ ذکر، رقائق، اوراد اور دروس کی محافل کا انعقاد ۲۔ محلہ کی سطح پر موثر نظام قضا اور افتا کا قیام ۳۔ پانی اور بجلی کے نظام کی ترسیل پر محلے کے عوام کا تسلط اور قبضہ
۴۔ محلہ کے بازاروں میں اشیائے خور و نوش ، محلہ کے اسکولوں کی فیسوں اور مکانوں کے کرایوں اور ہسپتالوں کے اخراجات کی نگہداشت ۵۔ انتخابی مہم کو اس وسیع تر تنظیمی عمل سے مربوط اور منسلک کرنا چاہیے۔ اس بات کی خاص کوشش کی جائے کہ لاہور اور اسلام آباد کے کم از کم دس اپنے انتخابی حلقوں میں بین المسالک اوقاف المساجد قائم کیے جائیں جہاں سے مسلم لیگ کے نمایاں قائدین الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انتخاب کے وقت تک یہ بین المسالک اوقاف المساجد اتنے بااقتدار ہو جائیں کہ محلہ کی سطح پر ان کے زیر سایہ عوام کی ایک بڑی تعداد منظم ہو جائے۔ ترسیل آب و بجلی کے نظام پر ان کا تسلط قائم ہو جائے اور قیمتوں اور فیسوں کے تعین میں ایک اہم کردار ادا کرنے لگیں۔ یہ بین المسالک اوقاف مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیں اور مسلم لیگ میں شامل مخلصین دین کو اپنا ہم نوا اور شریک کار بنانے کی پیہم کوشش کریں۔ اگر انتخابات کے وقت تک یہ ادارے اسلام آباد اور لاہور میں مخلصین دین کی اجتماعی سیاسی قوت کے اظہار کے مکلف ہو گئے تو مسلم لیگ کی قیادت پھیلتی ہوئی انقلابی صف بندی کی راہ میں مزاحمت کرنے کی ہمت نہ کر سکے گی۔ ایک انقلابی انتخابی حکمت عملی کی تشکیل اور تنفیذ اسلامی انقلابیوں(یعنی جماعت اسلامی) کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہ ذمہ داری ہم اپنی فطری حلیف جماعتوں کے تعاون کے بغیر ادا نہیں کر سکتے۔ ہماری فطری حلیف جماعتیں وہ ہیں جو مجلس عمل میں شامل ہیں اور تحریک لبیک ابھی تک ہماری طرح یہ جماعتیں بھی انتخابات روایتی انداز میں لڑتی رہی ہیں اور گو کہ اس سے دفاع دین کی جدوجہد میں پیش رفت ہوتی ہے لیکن مخلصین دین کی اقتداری نظاماتی لاچاری اور بے بسی میں مستقل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ مخلصین دین کی اس نظاماتی بے بسی کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ محض دہریہ حکومتوں سے بے اثر مطالبات نہ کرتے رہیں بلکہ خود تنفیذ شریعت اور اعلائے کلمة الحق کی اہلیت حاصل کریں۔ یہی اسلامی انقلابی عمل ہے اور انہی معنوں میں اسلامی انقلابی تمام مخلصین دین اور ان کی جماعتوں کے خادم ہیں۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتوں کا اسلامی انقلابی محاذ میں شامل ہونا ضروری ہے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ انقلابی اتحاد تحریکات اسلامی کی بالائی سطح تک محدود نہ رہے (جیسا کہ ایم ایم اے تھا) بلکہ اس کی بنیادیں محلہ کی مساجد میں پیوست ہوں اور اس کے ذریعہ ائمہ مساجد ہی عوام کے واحد جائز قائد کے طور پر ابھریں۔ انتخابات اس قسم کی اسلامی انقلابی جدوجہد کر مرتب کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں اور ہم ۳۲۰۲ءمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی پوری استطاعت رکھتے ہیں بشرطیکہ ان انتخابات کو انقلابی بنیادوں پر لڑنے کی تیاری فی الفور شروع کر دیں۔