کتب خانہJAS Library

مارچ دھرنا

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

مارچ کے دھرنے میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ مضبوط کیجیے حضرت مولانا فضل الرحمنٰ ان تاریخی روایات کے وارث رہنما ہیں جو آج سے تقریباً سو سال قبل حضرت شیخ الہند محمود الحسن اسیر مالٹا رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند نے قائم کی تھیں۔ یہ دفاع دین کی سیاسی جدوجہد ہے جو سرمایہ دارانہ دستوری تناظر میں ایک صدی تک جاری رہی ہے اور جس کا مقصد دہریہ قوتوں کو اسلامی شعار اور ذہن تعلیمی نظام پر حملہ آور ہونے سے روکنا ہے۔ آج عمران خان کی دہریہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ذریعہ اسلامی نظام تعلیم اور اسلامی معاشرتی رجحانات پر براہ راست حملہ آور ہے۔ ہمارے ہزاروں کارکن لاپتہ ہیں اور ریاست اور انتظامیہ کی یہ دہشت گردی اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ اس سے ہماری مسلکی اور غیرمسلکی سیاسی جماعتیں تک محفوظ نہیں۔ عمران کی دہریہ حکومت کے تسلسل کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کی ریاستی دہشت گردی کو مزید تقویت دینا ہے۔ پھر جمال ناصر ملعون کی طرح عمران خان بھی اسلام کو ریاست کے تابع کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔ اسلامی نظام تعلیم کو دہری ریاست کے تابع کرنے کے لیے اس نے وفاق المدارس کو ختم کرنے کے لیے دہریہ ریاستی مدارس کے تعلیمی بورڈ تشکیل دیے ہیں۔ اس کا مقصد امریکی سامراج کی ایماد پر دینی تعلیمی نظام کی بتدریج بیخ کنی ہے۔ پاکستان میں فحاشی پھیل رہی ہے،سود اور سٹہ کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ اپنے ڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں عمران خان نے بارہ ہزار کھرب روپے کے سودی قرضے لیے ہیں جس میں سے تقریباًپانچ ہزار کھرب روپیہ بیرونی قرضہ جات ہیں لیکن اس سب کے باوجود عمران خان بے غیرتی سے ”ریاست مدینہ“ قائم کرنے کی رٹ لگا ئے ہوئے ہے اور ناصر ملعون کی طرح اپنے ارد گرد سامراج نواز علمائے سو کو جمع کر لیا ہے۔ حضرت مولانا فضل الرحمنٰ اس مضموم ریاستی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لیے دہریہ سیاسی قوتوں کو استعمال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہماری تاریخ میں اس نوعیت کی جدوجہد کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ نے کانگریس کو اور حضرت شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلم لیگ کو اسی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ تحریک نظام مصطفی اور آئی جے آئی کی تحریکوں میں اسلامی جماعتوں نے دہریہ جماعتوں سے اسی حکمت عملی کو اپنا کر تعاون کیا تھا۔ اگر پی ڈی ایم کی تحریک کامیاب ہوئی تو جو نئی حکومت قائم ہو گی وہ لازماً ایک دہریہ سرکار ہو گی لیکن ہماری تو قع یہ ہے کہ اس دہریہ حکومت کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کی ریاستی دہشت گردی میں کمی واقع ہو گی اور اسلامی شعار اور اسلامی نظام تعلیم پر ریاستی حملے کم ہو جائیں گے۔ لیکن ان توقعات کا پورا ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم پر ویسے ہی چھا جائیں جیسے میاں طفیل محمد اور حضرت مولانا شاہ احمد نورانی رحمہم اللہ اجمعین تحریک نظام مصطفی پر چھا گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے سیاسی تدبر اور بالغ نظری کے ذریعہ ہماری 2018 کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کی شکستوں کو فتح میں بدلنے کی راہ نکالی ہے۔ یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ اتنی بڑی سیاسی شکست کے باوجود آج ملک کے جمہوری حزب اختلاف کی قیادت ایک جید عالم دین کے ہاتھوں میں ہے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ اگر پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہو تو ملک کے آیندہ صدر مولانا فضل الرحمان ہوں اور اگر ایسا ہوا تو ہمارا دینی تعلیمی نظام بڑی حد تک سامراجی دست برد سے محفوظ ہو جائے گا اور اسلامی جماعتوں پر ریاستی دہشت گردی میں خاطرخواہ کمی آ جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مارچ کے دھرنے میں تمام اسلامی جماعتیں اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود مولانا فضل الرحمان کے سیاسی قائدانہ وقار کو بلند کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگا دیں۔ ہمارے زیادہ سے زیادہ کارکن اس جلوس اور دھرنے میں شریک ہو کر فعال کردار ادا کریں اور جلوس اور دھرنے کا عوامی رنگ خالصتاً اسلامی بنانے کی کوشش کریں تاکہ دہریہ قیادت (مریم نواز اور بلاول بھٹو) کے مقابلہ میں مولانا فضل الرحمان کا سیاسی قد بلند ہو اور ثابت ہو جائے کہ پاکستان میں عوامی تحرک لازماً اسلامی بنیادوں پر ہی برپا کیا جا سکتا ہے۔

حصہ ۲

یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت کو اجاگر کرکے ہم انقلاب اسلامی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ کچھ اسلامی جماعتوں مثلاً جماعت اسلامی اور تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی ڈی ایم کا ساتھ نہ دیا کیونکہ یہ ایک دہریہ اتحاد ہے۔ یہ موقف درست ہے اور اسلامی جماعتوں کی انقلابی شناخت واضح کرنے کا ایک ذریعہ بنا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلامی انقلابی سیاسی حقائق سے اپنا منہ موڑ لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اب تک عوامی انقلابی اسلامی ادارتی صف بندی کی طرف مطلق توجہ نہیں دی ہے اور اسلامی انقلابی دہریہ قوتوں کو کوئی نظاماتی چیلنج دینے سے قاصر ہیں۔ یہ بات ہمارے جلسے جلوسوں سے بالکل واضح ہوتی ہے جہاں ہم مطالباتی سیاست سے آگے نہیں بڑھ پاتے اور یہ مطالبات بھی عموماً یا تو تصوراتی ہوتے ہیں یا سوشل ڈیموکریٹ (کراچی کے حقوق کی تحریک کا کوئی مضبوط اثر آئندہ انتخابات پر پڑنے کا امکان نہیں) اسلامی انقلابی عوامی ادارتی صف بندی کے لیے وقت درکار ہے۔ فی الحال پاکستان میں ایک اسلامی انقلابی حکومت قائم نہیں ہو سکتی لیکن ایسی حکومت ضرور قائم ہو سکتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کو ریاستی دہشت گردی سے باز رکھنے کی کوشش کرے اور جو اسلامی معاشرتی روایات اور اسلامی نظام تعلیمات کے پھیلاؤ میں مزاحم نہ ہو۔ اگر ایسی حکومت قائم ہو جائے تو ہمیں وہ وقت مل جائے گا جس میں عوامی انقلابی ادارتی صف بندی کا وسیع جال پورے ملک میں پھیلا سکیں۔ مولانا فضل الرحمان کوئی اسلامی انقلابی نہیں لیکن وہ نہایت باصلاحیت زیرک اور صاحب تدبیر عالم دین ہیں جن کا ہاتھ سیاست وقت کے نبض پر ہے۔ وہ اسلامی انقلاب کے مخالف نہیں بلکہ ان کی جماعت سیاسی نگاہ میں ہماری فطری حلیف ہے۔ ان کے سیاسی تدبر کے نتیجہ میں آج پاکستان کے سیاسی منظرنامہ میں اسلامی شناخت معتبر اور منظم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی اسلامی جماعتیں ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ جوانو! قابل تقلید ہے اقدام عالم کا جبین لوح غیرت پہ لکھاہے نام عالم کا جاوید اکبر انصاری