کے پی کے میں جمعیت علماء اسلام کی شاندار پیش رفت
- افغانستان اور امارت اسلامیہ
- امریکی سامراج
- انتخابات
- عمران خان اور تحریک انصاف
- جمعیت علمائے اسلام
- پی ڈی ایم
- طالبان
- تحریک لبیک
خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام کی شاندار پیش رفت جاوید اکبر انصاری الحمدللہ خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام نے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو شکست فاش دی ہے۔ آج سے تقریباً دو ماہ قبل حضرت مولانا فضل الرحمان نے پختون خواہ کے لوکل انتخابات کو بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دیا تھا کیونکہ بلدیاتی حکومتیں پاکستانی نظم اقتدار میں کچھ وزن نہیں رکھتیں اور جو سرکار یہ انتخابات کروا رہی تھی وہ خود مقتدرہ کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہوئی تھی وہ پاکستان کی تاریخ کی کرپٹ ترین اور سامرجی قوتوں کی کاسہ لیس تھی۔ لیکن جمعیت علما ئے اسلام کی مرکزی اور مقامی شوریٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان حقائق کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا جائے تاکہ اپنی عوامی قوت اور پذیرائی کا اظہار ہو اور یہ فیصلہ درست ہوا اور پورے صوبہ میں (صرف مخصوص علاقوں میں نہیں) جمعیت کو اللہ رب العزت نے شاندار کامیابی سے نوازا۔ کامیابی کی وجوہات اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام وہ واحد اسلامی جماعت ہے جو پاکستان میں برملا طالبان افغانستان کی ہم نوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے 2002ء میں جو انتخابات جیتے تھے وہ بھی طالبان افغانستان کی حمایت کا نتیجہ تھے اور آج بھی جو جمعیت کو کامیابی ہوئی ہے وہ اس کی طالبان افغانستان سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی مخلصین دین اور عوام الناس کا ایک بڑا حصہ طالبان افغانستان کو اپنا ہیرو مانتا ہے اور ان سے شدید محبت کرتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے اسی والہانہ محبت کے اظہار کا ایک نظاماتی موقع فراہم کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ دہریہ جماعتیں (تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ) امریکا کو خوش کرنے کی تگ و دو میں طالبان اقتدار کو مجروح کرنے کے در پے ہیں۔ جمعیت کو فتح دلا کر پختون خواہ کے عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ طالبان کے ہم نوا ہیں۔ دوسری اہم وجہ حضرت مولانا فضل الرحمان کی مدبرانہ قیادت ہے۔ 2018ء میں اسلامی سیاسی قوتوں کو اسٹیبلشمنٹ نے عبرت ناک شکست دلوائی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ اسلام قومی سیاسی منظر نامہ سے بالکل غائب ہو جائے گا۔ ان نامساعد حالات میں حضرت مولانا فضل الرحمان نے جو حکمت عملی اختیار کی وہ دین کے سیاسی دفاع کو (غلبہ دین کو نہیں) فروغ دینے کے لیے مفید اور موزوں ثابت ہوئی۔ آپ سیاسی منظر نامہ پر چھا گئے اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ آپ اپنے والد بزرگوار مفتی محمودؒ ہی کے نہیں بلکہ شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ کے بھی جانشین ہیں۔ آپ کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں جمعیت علمائے اسلام اب اس پوزیشن میں ہے کہ پی ڈی ایم پر قبضہ کر لے بالکل جس طرح ہم نے 1977ء میں پی ایم اے پر قبضہ کیا تھا۔ تحریک تحفظ دین کی خصوصیات لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جمعیت علمائے اسلام ، جمعیت علمائے ہند کی وراث جماعت ہے وہ سرمایہ دارانہ ریاستی تغلب کے تناظر میں ہی دین کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ وہ کوئی انقلابی جماعت نہیں اور اس سے تصور کرنا کہ وہ نظاماتی تغیر کی طرف پیش رفت کر سکتی ہے غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ریاست درون ریاست قائم کرنے کا کوئی تصور جمعیت کے لیے مانوس نہیں۔ نظاماتی الیکٹیبلز کا وجود نہ صرف موجودہ ہےبلکہ جمعیت علما اسلامی یہ میں بڑھتا رہے گا۔ اسی ماہ حضرت مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما نواب رئیسانی کو جمعیت علما میں شمولیت کی دعوت دی اور جیسے جیسے جمعیت علما کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہو گا ویسے ویسے نظاماتی الیکٹیبلز اس میں گھسنے کی کوشش کریں گے (اور اس کوشش میں وہ کامیاب بھی ہوتے رہیں گے)۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلامی انقلابی اسلامی مدافعین سے لاتعلق رہیں۔ اسلامی مدافعین اسلامی انقلابیوں کے فطری سیاسی حلیف ہیں۔ اور مدافعین کی ہر سیاسی کامیابی انقلابی جدوجہد اور غلبہ دین کی تحریکات کی پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر 2024ء میں مولانا فضل الرحمان پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے تو پاکستان کی سیاسی فضا یکسر تبدیل ہو جائے گی اور اسلامی انقلابی جدوجہد کے لیے حالات سازگار ہوتے چلے جائیں گے(ان شاء اللہ)۔
تمام اسلامی قوتوں کو مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ آیندہ لائحہ عمل جمعیت کی فتح ملک گیر بنانے کے لیے حسب ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ 1۔ طالبان کی حمایت میں اضافہ آج پاکستانی مخلصین دین اور عوام کی عصبیت کو ابھارنے کے لیے طالبان افغانستان سے تعلق کا اظہار (identification) ضروری ہے۔ انقلاب کے پہلے اور دوسرے سال (2023-2021) مصائب سے ہر جگہ لبریز ہونے سوویت یونین (1922-1918) چین (1950-1949) شمالی کوریا (54-1953) ۔ افغان معیشت بھی امریکی لوٹ مار کے نتیجہ میں افغان معیشت بھی مصائب کا شکار ہے گو کہ صورت حال ہرگز اتنی گھمبیر نہیں جتنی سامراج تشہیر کر رہا ہے۔ سامراج اقوام متحدہ کے ذریعہ افغان بینک کاری نظام پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جو امداد فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں ان کا ہی مذموم مقصد ہے۔ بینک کاری نظام پر قبضہ کرنے کے لیے امریکا نے اقوام متحدہ کو 2.2 بلین ڈالر 2022 میں دینے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دنیا کے مخلصین دین اورعوام ان کٹھن حالات میں افغانستان کو امداد فراہم کریں تاکہ وہ سامراجی امداد ٹھکرانے کے قابل ہوجائے۔ جمعیت علما کو اس ضمن میں پہل کرنی چاہیے اور ملک گیر سطح پر فی الفور ایک افغان حمایتی فنڈ قائم کرنا چاہیے جس کے ذریعہ ہم اپنے افغان بھائیوں کو اجناس، کپڑے، جوتے، کیمیکل کھاد، دوائیاں اور روپیہ مستقل فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ فنڈ جمعیت علمائے اسلام سے متعلق مساجد اور مدارس میں قائم کیا جائے اور ہر مسجد و مدرسہ کے لیے ماہانہ وصولی اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ سنا ہے کہ ملائشیا اور انڈونیشیا میں اس قسم کا کام شروع ہو گیا ہے یا ہونے والا ہے۔ فنڈ کی بازیابی اور ترسیل کے اس منصوبہ کو 2023ء کی انتخابی مہم سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے اور جو عوامی تحرک افغان اعانت کے ضمن میں پیدا ہو اس کو سیاسی جدوجہد کو مہمیز دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ اعانتی مہم کے ذریعے عوام کی اسلامی حمعیت بیداری کی جائے گی اور لوگ جوق در جوق جمعیت کے ہم نوا بنتے چلے جائیں گے۔ 2۔ پی ڈی ایم کی اسلام کاری الحمدللہ پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی کا اخراج ہو گیا ہے اور ا س طرح اس اتحاد کو اسلامی رنگ دینے کی سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ پی ڈی ایم کے سیاسی ایجنڈے کو اسلامی رنگ دینا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جمعیت کی قیادت اپنی سیاسی اسلامی شناخت پر زور دیں۔ پی ڈی ایم کے ایجنڈے میں اسلامی مطالبات شامل کریں مثلاً طالبان کی حکومت کو فی الفور تسلیم کرنے کا مطالبہ، فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ، غیر اسلامی قوانین جو 2020ء اور 2021ء میں نافذ کیے گئے ہیں ان کی تنسیخ کا مطالبہ، ملکی نظام تعلیم کو دہریانہ (سیکولرائز) کرنے کی کوششوں کی مصلحت، مدارس کی مجوزہ ناکہ بندی کی مخالفت وغیرہ۔ پی ڈی ایم کو پی این اے کی طرح اسلامیانے کی مہم کی کامیابی کا انحصار 2022 مارچ کے مظاہرہ پر بڑی حد تک منحصر ہے۔ یہ مظاہرہ مارچ اور گھیراؤ ضرور ہو اور مسلم لیگ کو اسٹیبلشمنٹ سے کسی خفیہ معاہدہ کرنے کا موقع اور اجازت نہ دی جائے۔جمعیت شہباز شریف کو نظرانداز کرکے نواز شریف سے باضابطہ روابط قائم کرے۔ توقع ہے کہ شہباز شریف کے مقابلہ میں نواز شریف پی ڈی ایم کو ایک اسلامی اتحاد بنانے میں کم مزاحم ثابت ہوں گا۔ اگر مارچ 2022 کے مظاہرہ اور مارچ پر جمعیت علمائے اسلام غالب آ گئی اور مظاہرہ اور مارچ کا رنگ خالص اسلامی ہو گیا تو پی ڈی ایم کی اسلام کاری کا عمل آسان ہو جائے گا بشرطیکہ اس مظاہرہ کے ذریعہ جو تحرک پیدا ہوا ہے اس کو جمعیت فروغ دینے اور منظم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرے۔
3۔ اسلامی اتحاد ہمیں 2018ء کے انتخابات میں تقریباً 55 لاکھ ووٹ ملے تھے جو 2013ء کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں سے تقریباً 65 فیصد زیادہ تھے۔ ووٹوں میں یہ اضافہ تقریباً سارے کا سارا تحریک لبیک کی وجہ سے ہوا تھا۔ آج بھی پنجاب میں تحریک سب سے بڑی اسلامی قوت ہے اور اس بات کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ آیندہ انتخابات میں تحریک انصاف کا ساتھ دے گی۔ یہ تحریک لبیک کی سیاسی ناتجربہ کاری کا نتیجہ ہے۔ دشمن اس ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھا نا خوب جانتا ہے۔ آج ملک میں اسلامی اتحاد کو فروغ دینے کا مطلب دیوبندی بریلوی اتحاد فروغ دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ بریلوی دیوبندی اتحاد کو فروغ دیے بغیر تحفظ دین کی سیاسی جدوجہد کامیاب ہونا دشوار گزار ہے۔ تحریک لبیک بریلوی حلقوں کو منظم اور متحرک کرنے کی سب سے اہم کوشش اور شناخت ہے۔ لہٰذا جمعیت علما کو تحریک لبیک سے مکالمہ اور مفاہمت شروع کرنے کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ تحریک لبیک عمران خان کے جال میں نہ پھنسے اور ملک بھر میں اسلامی ووٹ بینک منتشر نہ ہو۔ جمعیت علما کو پنجاب میں بالخصوص تحریک لبیک سے تعاون کی راہیں کھولنے کی طرف توجہ دینا چاہیے اور اگر جمعیت اور تحریک لبیک میں انتخابی اتحاد عمل میں آ گیا ہم ان شاء اللہ 2023ء کے انتخابات میں ایک کروڑ سے زیادہ قوت حاصل کر لیں گے اور تحفظ دین کی یہ دونوں جماعتیں پاکستان کے سیاسی منظرنامہ پر چھا جائیں گی۔