اسلامی قوتوں کو عمران خان کے چیلنج
اسلامی قوتوں کو عمران خان کے چیلنج اسلامی جماعتیں اور عوامی جدوجہد سلطنت مغلیہ کے سقوط سے لے کر آج تک اسلامی قوتیں برصغیر کی مسلم سیاسی حمایت سے محروم رہی ہیں۔ یہ اس کے باوجودہے کہ برصغیر کے مسلمان حلقوں میں اسلامی معاشرتی اور روحانی اثر غالب ہے اور ہمارے دشمن قوم پرست، لبرل، اشتراکی دہریے اس عوامی اسلامی عصبیت کا سہارا لے کر ہمیں بار ہا شکست دیتے آ رہے ہیں۔ بیسویں صدی میں ہماری پہلی شکست تحریک خلافت کی ناکامی سے شروع ہو کر 1940 کی دہائی میں اپنے عروج کو پہنچی جب قوم پرست تحریکوں – تحریک استخلاص وطن اور تحریک پاکستان – نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر مسلم عوام کو اپنا ہم نوا بنا لیا۔ تحریک احرار پسپا ہو گئی اور عوام، خواص اور علما تک نے درویش خدا مست حضرت شاہ جی کو بالکل تنہا چھوڑ دیا۔ ہماری دوسری بڑی شکست 1970 ء کے انتخابات میں ہوئی جب بھٹو نے مسلم عوام کو ”اسلامی سوشلزم“ کے فریب میں گرفتار کر لیا۔ آج عمران خان ”حقیقی آزادی “ کا جھانسہ دے کر بھٹو کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ وہ ”ریاست مدینہ“ کے قیام کے فریب کی بنیاد پر ہمیشہ مسلم حلقوں بالخصوص نوجوانوں میں تائید حاصل کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ لیاقت بلوچ صاحب نے بھی اس کی تائید شروع کر دی ۔ عمران خان اسلام سے مخلص نہیں اس دعویٰ کا ثبوت اس کی پونے چار سال کی حکومتی پالیسیوں سے بھی ملتا ہے اور اقتدار سے محرومی کے بعد اس کی کی ہوئی تقریروں سے بھی۔ اپنے دورِ اقتدار میں عمران خان نے: 1۔نفاذِ شریعت کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا اور کوئی اسلامی قانون سازی نہیں کی۔ 2۔ سود اور سٹہ بازی کے نظم ملکیت کو مستحکم کیا۔ 3۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 2019ء تا 2023ء کا وہ شرم ناک معاہدہ کیا جس کے نتیجہ میں اسٹیٹ بینک کو سامراج کے ہاتھوں میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ 4۔ شفقت محمود جیسے دہریہ کی سرپرستی میں نظام تعلیم کی دہریت سازی (secularization) کی۔ 5۔ اسلامی نظام مدارس کو ریاستی تحویل میں لانے کی طرف پیش رفت کی۔ 6۔ فحاشی اور عریانی کو کھیلوں، تھیٹر، مارٹ اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعہ فروغ دیا۔ 7۔ اس نے جنرل مشرف کے دیرینہ ساتھیوں کو جو enlightened moderation کے وکیل تھے اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ اس کی کابینہ میں اسلامی دشمن پیپلز پارٹی کے سابق رہنما بھی شامل رہے۔ 8۔ اس نے شاتم رسول آسیہ کو ملک سے فرار کروایا۔ 9۔ اس نے تحریک لبیک کے احتجاج کو کچلا۔ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیا اس کے رہنماؤں کو گرفتار کیا اور پابندیاں عاید کین۔ اپنی حالیہ مہم جسے وہ اپنی روایتی دروغ گوئی سے ”جہاد“ کہتا ہے اس نے: 1۔ اسلامی قانون سازی اور نفاذ شریعت کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ 2۔ اس نے آئی ایم ایف کے حالیہ معاہدہ کو منسوخ کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ 3۔ اس نے سودی اور سٹہ بازی کے نظام کو ختم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ 4۔ اس نے عریانی اور فحاشی اور جنسی بے راہ روی کو روکنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ 5۔ ا س نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ عمران خان اتنا ہی کرپٹ اور جھوٹا ہے جتنا نواز اور شہباز شریف۔ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آ گیا تو کرپشن بھی فروغ پاتا رہے گا، ریاستی اسلام دشمنی بھی جاری رہے گی، سامراجی تابعداری میں کمی واقع نہیں ہو گی اور معاشرتی سطح پر عریانی اور فحاشی کا سیلاب بھی اسلامی معاشرت کو ڈبوتا رہے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہرہ طالع آزما – بھٹو، عمران خان – مذہبیت کا لبادہ اوڑھ کر مسلم عوام کو بار بار دھوکہ دینے میں کامیاب ہوتے رہتے ہیں۔ اس سوال کا جواب دیے بغیر اسلامی قوتیں – سیاسی اور غیر سیاسی دونوں – اپنی نظاماتی محرومی سے نجات حاصل نہیں کر سکتیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرت کو اختیار کیے ہوئے عوام اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت سے آگاہ نہیں۔ وہ اپنی مذہبیت کے اظہار کو انفرادی اور معاشرتی سطح پر محدود رکھنے پر مطمئن ہیں۔ ہماری غیر سیاسی جماعتیں تو اس رویہ کی باقاعدہ وکالت کرتی ہیں اور تحریک احیائے دین کو انفرادی اصلاح کی سطح تک محدود رکھنے پر اصرار کرتی ہیں اور فرض کرتی ہیں کہ انفرادی اصلاح کا کام اگر پھیل گیا تو خود بخود (spontaneously) اسلامی ریاستی نظام وجود میں آ جائے گا۔ وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کی ایک افسانوی تعبیر کرتے ہیں جو ہماری علمی روایات کے لیے بالکل اجنبی اور غیر معتبر ہے اور جس کے مطابق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں ریاست بین الریاست (state within a state) قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہماری غیر سیاسی اسلامی جماعتیں اسی افسانوی مکی دور میں رہ رہی ہیں عوام کو یہ سبق دے رہی ہیں کہ اس دور میں قوت حاصل کرنے کی جدوجہد نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ عبث اور گمراہ کن ہے۔ ہماری سیاسی اسلامی جماعتیں جمہوریت کی اسلام کاری پر مطمئن ہیں۔ وہ جمہوری عمل دہری نظام کے انہدام کے لیے استعمال نہیں کرتیں بلکہ دہری (سیکولر) جمہوری نظام میں پیوند کاری کو کافی سمجھتی ہیں۔ وہ نظام سرمایہ داری کے انہدام کی نہیں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہیں، ان کے اور دہری سیاسی جماعوں کے پالیسی ایجنڈا میں مماثلت حیرت انگیز حد تک بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا اسلامی روحانیت اور معاشرت کا سیاسی اظہار وقتی مہماتی سطح تک محدود رہتا ہے۔ تحریک ردِ قادیانیت، تحریک ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی معاشرت اور روحانیت کی بنیاد پر حصول اقتدار کے لیے ہم عوام کو نہ متحد کر پائے اور نہ منظم۔ پاکستانی سیاست کی روحانی اور معاشرتی جڑیں دہری ہیں، اسلامی نہیں۔ لہٰذا عوام انہی افراد سے اپنی توقع قائم کرتے ہیں جو اسلامی شعار کو دہریہ نظام اقتدار کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 2022ء میں عمران خان نے بھی عوامی مہمات چلائیں اور سراج الحق نے بھی۔ عمران خان عوامی ہیرو بن گیا سراج الحق کی عوامی شناخت شاید ایک فیصد بھی نہیں۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کا سیاسی پیغام انہی معاشرتی /روحانی میلانات کا عکاس ہے جو عوام کے لیے مانوس ہے۔ سراج الحق جب عمران خان کی نقل اتارتے ہیں تو عوام ان کا اعتبار نہیں کرتے کیوں کہ جس جماعت کے وہ امیر ہیں اس کا نظریاتی پس منظر نہ قوم پرست ہے اور نہ سرمایہ دارانہ۔ وہ ایک اسلامی جماعت ہے اس کو ماڈرن، لبرل، قوم پرست بنانے کی کوشش کامیاب ہوئی تو اس کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ جماعت اسلامی اپنی اسلامیت سے رجوع کر کے دہری (سیکولر) سیاسی نظام کا جزو بن گئی ہے۔ مقابلہ کیسے کیا جائے؟ سب سے پہلی ضرورت تین بنیادی غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی ہے۔ سب سے پہلی غلط فہمی اپنے اصل حریف کی شناخت کے بارے میں ہے۔ ہمارا اصل حریف نہ عمران خان ہے نہ بلاول بھٹو نہ نواز شریف۔ ہمارا اصل حریف سرمایہ دارانہ سامراج ہے اور عمران خان، بلاول بھٹو اور نواز شریف اس کے آلہ کار ہیں۔ برصغیر پر سرمایہ دار سامراج کی گرفت جنگ پلاسی کی شکست (1757ء) کے بعد سے آج تک قائم ہے۔ 1947ء کے بعد سے یہ گرفت ڈھیلی نہیں پڑی۔ نہ اس کی ہیئتی تشکیل میں کوئی بنیادی فرق واقع ہوا۔ ہماری غلبہ دین کی جدوجہد سرمایہ دارانہ سامراج کی اس نظاماتی گرفت کو مسخر کرنا ہے اور یہ ایک طویل المدت جدوجہد کی متقاضی ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہماری ریاست جمہوریہ ضرور ہے لیکن کسی معنی بھی اسلامی نہیں۔ ریاست نام ان اداروں کا ہے جس کی معاشرہ پر نظم تحکم قائم رکھتے ہیں۔ دور حاضر میں یہ ادارے انتظامیہ، فوج، کارپوریشن (سرمایہ دارانہ ملکیت)، عدلیہ، میڈیا اور مقننہ ہیں۔ پاکستان میں یہ تمام ادارے اپنی ہیئت اور ماہیت کے لحاظ سے سرمایہ دارانہ لبرل خطوط پر مروج کیے گئے ہیں۔ان میں سے کوئی ادارہ کسی اسلامی ریاست – خلافت راشدہ ، اموی خلافت، خلافت عثمانیہ، سلطنت مغلیہ – کے مماثل نہیں۔ ہمارے کسی سیاسی امام – امام شیبانی، امام ماوردی، امام ابو یعلیٰ، امام ابن خلدون، امام ولی اللہ رحمہم اللہ اجمعین نے یہ نہیں کہا کہ اگر کسی ملک کی اکثریت مسلم ہو تو وہ لازماً ایک اسلامی ریاست بن جائے گی۔
ہماری تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ عوام کی اکثریت غلبہ دین کی متمنی ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ملک کی عظیم ترین عوامی اکثریت یہ جانتی ہی نہیں کہ غلبہ دین کے کیا معنی ہیں۔ وہ مخلصین دین جو غلبہ دین کی ضرورت کا کچھ نہ کچھ شعور رکھتے ہیں ان کی تعداد ایک سے دو کروڑ ہے (ملکی آبادی کا اوسطاً 7 فیصد)۔ ان غلط فہمیوں کو رفع کیے بغیر پاکستانی اسلامی قوتیں کوئی حقیقت پسندانہ سیاسی حکمت عملی مرتب نہیں کر سکتیں۔ ایک حقیقت پسندانہ (realist) سیاسی حکمت عملی قلیل المدت بھی ہوتی ہے اور طویل المدت بھی۔ اس مضمون میں میں صرف قلیل المدت حقیقت پسندانہ اسلامی انقلابی حکمت عملی کے چند خدوخال بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ 1۔ 2023ء میں قومی انتخابات متوقع ہیں۔ ہماری پہلی ضرورت ان انتخابات میں اسلامی جماعتوں – بالخصوص جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک – کے اتحاد کی ہے۔ اس بات کی بھی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری غیر سیاسی اسلامی جماعتیں – بالخصوص تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی – سیاسی عمل سے لاتعلق نہ رہیں بلکہ اسلامی سیاسی اتحاد کی پشت پناہی کا فریضہ انجام دیں۔ 2۔ اسلامی انتخابی مہم جتنی جلد شروع کی جائے اتنا ہی اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی سیاسی اتحاد فی الفور قائم ہو اور جمعیت علما وزارتیں چھوڑ دے اور بلوچستان کی حکومت میں شامل نہ ہو۔ 3۔ ہماری انتخابی مہم خالصتاً جذباتی ہو۔ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مرکزی محرک ہو اور فرانس کے سفیر کے انخلا اور فرانس سے معاشی اور معاشرتی تعلقات کا انقطاع ہمارا سب سے اہم مطالبہ ہو۔ ہم اپنی انتخابی مہم مساجد اور مدارس اور خانقاہوں اور درگاہوں کی بنیاد پر منظم کریں۔ تمام انتخابی دفاتر مساجد ، مدارس اور درگاہوں میں قائم کیے جائیں۔ زیادہ سے زیادہ ائمہ مساجد اور پیروں کو قائدانہ ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ حضرت مولانا خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت تحریک غلبہ دین کا ایک بڑا المیہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ 2023ء کی انتخابی مہم کے دوران ایک ایسی کرشماتی، مقناطیسی شخصیت قیادت کی سطح پر ابھرے جو اسلامی روحانی فیض کا مظہر ہو اور جو دہریہ کرشماتی (عمران خان) کا توڑ کر سکے۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کی شخصیت (حضرت مجدد الف ثانی، سید بادشاہ، مہدی سوڈانی، امام خمینی رحمہم اللہ اجمعین) کے ظہور کے بغیرتحریک غلبہ دین عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر سکتی۔ انتخابی مہم کے دوران مخلصین دین کو مسجد کی سطح پر متحد اور منظم کرنے کی ابتدا کی جائے۔ محلہ اور بازار کی تنظیمی ذمہ داریاں انہیں سونپی جائیں اور کوشش کی جائے کہ محلہ کی سطح پر لوکل گورنمنٹ کا متبادل نظام تحکم بتدریج استوار ہو۔ 2018ء کے انتخابات میں 12 اسلامی جماعتوں نے تقریباً 55 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔ اگر اسلامی جماعتیں متحد ہو کر مندرجہ بالا خطوط پر 2023ء کے انتخابات لڑیں تو ہمیں ان شاء اللہ ایک کروڑ سے زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں اور 35 سے زیادہ نمایندے قومی اسمبلی میں بھیج کر حکومت کی سامراج نواز پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بھی ڈال سکیں گے اور مسجد کی سطح پر قائم مخلصین دین کی ادارتی صف بندی کے دائرہ کار کے تحفظ اور توسیع کے لیے موثر اقدام کرنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔