پروفیسر ابراہیم و اسدالل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محترم سراج الحق صاحب ، امیر جماعت اسلامی پاکستان بخدمت محترم پروفیسر ابراہیم، محترم اسداللہ بھٹو محترم بزرگو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ہم ارکان جماعت اس بات سے نہایت پریشان ہیں کہ جماعت 2023ء کے انتخابات میں وہی روایتی طریقہ کار اختیار کرے گی جو وہ 1970ء سے اختیار کرتی چلی آئی ہے۔ ہم نے اس ضمن میں محترم امیر جماعت کو ایک خط لکھا تھا جس کا جواب محترم محمد اصغر صاحب ، نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان نے دیا ۔ ان دونوں خطوط کی نقل ہم اس خط کے ساتھ ملفوف کر رہے ہیں۔ محترم محمد اصغر صاحب کے خط سے معلوم ہوا کہ آپ بزرگوں کے مشورہ سے کہ 2023 کی انتخابی حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ اس واسطے ہم اپنی چند معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ روایتی انداز میں انتخابات لڑنے کے نتائج ہمارے لیے ہمیشہ ہولناک رہے ہیں اور اگر ہم نے یہی طریقہ کار اختیار کیے رکھا تو 2023 کےنتائج 2018ء اور 2013ء سے کچھ مختلف نہ ہوں گے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں منصفانہ انتخابات نہ کبھی پہلے ہوئے ہیں نہ کبھی آیندہ ہو سکتے ہیں۔ یہاں کا ریاستی اقتداری نظام وضع ہی ایسا کیا گیا ہے کہ ایک کرپٹ ریاستی انتظامیہ (اسٹیبلشمنٹ) ہمیشہ اس پر غالب اور حاوی رہتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ریاستی نظام موالیاتی ہے۔ یہ موالیاتی (Client-patronage network system) برطانیہ نے منٹو مارلے ریفارمز کے وقت سے برصغیر پر مسلط کیا اور برطانوی سامراج کے پاکستانی جانشینوں نے اس نظام کو مستحکم سے مستحکم تر کر دیا ہے۔ اس نظام میں عوام گروہی مفاداتی دھڑوں میں تقسیم کر دیے گئے ہیں اور ہر گروہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک ریاستی مربی سے وابستگی قائم رکھتا ہے۔ انتخابی عمل لازمی اسی وابستگی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی مقتدرین کی صفوں میں انفرادی ردوبدل کے باوجود ریاستی نظاماتی حکمت عملی میں کبھی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ ان حالات میں روایتی طریقوں سے عوام کو نظاماتی تبدیلی کے لیے راضی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لہٰذا انتخابی عمل کو نظاماتی تبدیلی کے لیے استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انتخابات انقلابی بنیادوں پر لڑے جائیں۔ انقلابی اسلامی حکمت عملی کا بنیادی ہدف اس موالیاتی سیاسی نظام کو توڑنا ہے جو ہم پر برطانیہ مسلط کر گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک طویل المدت عمل ہے لیکن 2023ء کے انتخابات اس عمل کو شروع کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس موالیاتی نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا تخاطب ان افراد سے ہو جن کی پیوستگی اس موالیاتی نظام میں قدرے ڈھیلی ہو اور جن کی دینی عصبیت ان کی گروہی وابستگیوں پر حاوی ہو۔ ایسے افراد کو ہم مخلصین دین کہتے ہیں۔ یہی ہماری اصل ماس بیس ہے۔ اس ماس بیس کی تعداد کروڑوں میں ہے اور یہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے(مبلغین اور مصلحین کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں)۔ 2018ء میں تمام اسلامی جماعتوں کو 2013ء کے انتخابات کے مقابلہ میں 63 فیصد زیادہ ووٹ ملے تھے (رائے دہندگان کے تقریباً دس فیصد)۔ کسی نہ کسی حد تک اس ماس بیس تک تحریک لبیک اور جمعیت علمائے اسلا م کو رسائی حاصل ہے۔ ہم اس ماس بیس سے دور سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ انقلابی انتخابی جدوجہد کے ذریعہ ہم اس خلیج کو پاٹ دیں گے (ان شاء اللہ) جو ہم میں اور مخلصین دین کی صفوں میں پیدا ہو رہی ہے۔ 2023ء میں انقلابی بنیادوں پر انتخابات لڑنے کا طریقہ کارحسب ذیل ہو سکتا ہے۔ 1۔ انتخابات جذباتی فضا میں لڑے جائیں۔ حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تحفظ شعائر اسلام پر زور دیا جائے۔ فرانس سے تعلقات منقطع کرنا ہمارا بنیادی مطالبہ ہو۔ عوام میں یہ احساس اجاگر کیا جائے کہ سامراج کے پٹھو حکمرانوں کے تسلط کے نتیجہ میں اسلام شدید خطرہ میں ہے۔ انتخابی مہم میں طالبان افغانستان کی بھرپور حمایت کی جائے۔
2۔ ہمارا انتخابی ایجنڈا خالصتاً اسلامی اور دوسری جماعتوں سے مختلف ہو۔ سوشل ڈیموکریٹک دعووں اور جمہوری حقوق و سودوں سے احتراز کیا جائے کیوں کہ اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے مخلص کارکن ہیں اور ہمارا نظریاتی تشخص بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ڈیموکریٹک حقوق کی وکالت ہمیں مخلصین دین سے دور کیے جا رہی ہے۔ 3۔ ہم صرف ان حلقوں میں امیدوار نامزد کریں جہاں ہم مخلصین دین میں تحرک پیدا کرنےمیں کسی نہ کسی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس تحرک کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ 1۔ جلد از جلد منتخب علاقوں کی مساجد میں ایسے حلقے قائم کیے جائیں جو 1۔ مقامی دارالافتااور قضا کے فرائض انجام دیں۔ 2۔ علاقہ کے مسائل (پانی اور بجلی کی فراہمی ، امن عامہ کا قیام وغیرہ) کے لیے کوشاں ہوں۔ 3۔ ائمہ مساجد کو مقامی جائز رہنما کی حیثیت دلانے کے لیے کوشاں ہوں۔ 2۔ یہی مساجد کے حلقے ہمارے انتخابی دفاتر ہوں اور پوری انتخابی مہم مساجد سے چلائی جائے۔ 3۔ اس انتخابی نظام کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہونے والے لوکل انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کریں کیونکہ موجودہ دستوری نظام کے تناظر میں لوکل حکومتوں کے نظاماتی تغیراتی اختیارات نہایت محدود ہیں۔ ہم مساجد کی بنیاد پر لوکل گورنمنٹ کا متبادل ڈھانچہ مرتب کرنا چاہتے ہیں اور مساجد کے نظاماتی سیاسی اختیارات کو توسیع دینے کے لیے ضروری ہے کہ لوکل گورنمنٹ اداروں کے اختیارات معطل ہوتے جائیں۔ 4۔ اس نظام کو موثر بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم دیگر سیاسی اور غیر سیاسی اسلامی جماعتوں سے اشتراک عمل کی راہیں کھولیں۔ ہمیں مخلصین دین کی صفوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے کہ جماعت اسلامی تمام تحریکات اسلامی کی رابطہ جماعت ہے، کسی کی حریف نہیں۔ سب کی بہی خواہ ہے۔ ہم سب کے سب ہمارے ہم رب کے رب ہمارے 5۔ انتخابی عمل میں دو بڑی اسلامی جماعتیں شریک ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک۔ ہمیں ان سے مکالمہ فوراً شروع کر دینا چاہیے۔ اس کا خدشہ یقینا ً موجود ہے کہ جمعیت مسلم لیگ اور تحریک لبیک تحریک انصاف کا 2023ء کے انتخابات میں ساتھ رہیں۔ ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو۔ 6۔ ہمیں ان جماعتوں پر واضح کرنا چاہیے کہ 2018ء کے انتخابات میں ناکامی کے دو اسباب تھے۔ ایک یہ کہ ایم ایم اے کا اتحاد قائدین کی بالائی سطح تک محدود رہا مسجد کی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ دوسرے تحریک لبیک اور جمعیت میں عدم تعاون ۔ اگر اسلامی اتحاد محلہ اور مسجد کی تک قائم ہو جائے تو ہم انتخابی بریک تھرو یقیناً کر سکتے ہیں۔ یہ اتحاد قائم ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں 2023ء میں ایک کروڑ سے زیادہ ووٹ نہ ملیں۔ 7۔ اگر ہم تحریک لبیک اور جمعیت علما کو اس پر راضی نہ بھی کر سکیں تو بھی ہمیں کسی حلقہ میں ان کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ کوشش کرنا چاہیے کہ یہ جماعتیں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کریں۔ انقلابی انتخابی عمل کے نتائج 2023ء میں یقیناً محدود رہیں گے لیکن یہ انتخابی عمل وہ بنیادیں فراہم کر دے گا جس کے نتیجہ میں موالیاتی ریاستی نظام کمزور ہو اور اقتدار سرمایہ دارانہ سامراجی آلہ کاروں کے ہاتھوں سے نکل کر بتدریج مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے۔ ان شا ء اللہ۔ یہ چند معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ ہمیں اس کا احساس ہے کہ ہماری فکر خام ہے اور ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ ان بے شمارغلطیوں کی تصحیح فرما لیں گے جو اس مراسلہ میں شامل ہیں۔ والسلام آپ کے خادم امین اشعر، جاوید شیخ، محمد سلمان ا رکان جماعت اسلامی کراچی اس خط کی ایک نقل محترم امیر جماعت کو بھیج دی گئی ہے۔