امیر جماعت اسلامی کے نام دستخطتی مہم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محترم امیر جماعت اسلامی السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 30 نومبر 2021 آپ نے اپنی حالیہ تقریر میں تسلسل کے ساتھ اس کا شکوہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کی دین داری اور خدمت گذاری کے باوجود عوام اس کو ووٹ نہیں دیتے۔ یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور اس کے صحیح جواب مرتب کرنے پر ہمارے مستقبل کا انحصار ہے۔ ہمیں ووٹ نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سامراج نے جو ریاستی نظام بیسویں صدی کی ابتدا سے برصغیر میں مرتب کیا ہے وہ آج تک پاکستان میں مستحکم ہے۔ یہ نظام موالیاتی ہے۔ اس نظام کو Client-Patronage Network کہتے ہیں۔ اس میں شہری اور دیہی عوام کے مخصوص دھڑے ریاستی اشرافیہ کے مخصوص دھڑوں سے اپنے مادی مفادات کے حصول کے لیے سودے بازی کرتے ہیں۔ مجموعی عوامی مفادات پر کسی کی نظر نہیں ہوتی۔ ایسے سیاسی ہیئتی نظام میں عمومی مفادات کی جدوجہد ہمیشہ غیر موثر ثابت ہوتی ہے۔ ان ممالک میں عوام بے روزگاری، مہنگانی، قومی سالمیت کے ایشوز پر متحرک نہیں ہوتے کیونکہ موالیاتی نظام مستحکم ہوتا ہے اور عوام کا ہر دھڑا اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کو عمومی مفادات کے حصول پر ترجیح دیتا ہے۔ اس سیاسی تناظر میں عوامی عمومی حقوق کو فروغ دینے کے دعوے ہمیشہ بے معنی ثابت ہوتے ہیں۔ لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کی انقلابی تحریکوں نے اس موالیاتی نظام کو توڑنے کے بعد ہی انتخابی عمل سے کامیابی حاصل کی (جو دیر پا ثابت نہ ہوئی کیونکہ ایک نیا موالیاتی نظام منظم کر لیا گیا اور انقلابی تحریکات اپنی معاشرتی ادارتی صف بندی ریاستی نظام میں ضم کرتی چلی گئی)۔ ہمیں ان تجربات سے یہ سیکھنا چاہیے کہ 1۔ اس موالیاتی نظام کو توڑے بغیر عوام کے عمومی حقوق کی فراہمی کے دعوے ہمیشہ غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔ 2۔ لہٰذا اس موالیاتی نظام کو منتشر کرنا انتخابی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ 3۔ اس موالیاتی نظام کو منہدم کرنے کا عمل بنیادی طور پر معاشرتی ہے۔ ریاستی یا سیاسی نہیں ہے۔ 4۔ اور اس معاشرتی عمل کی بنیاد لازماً نظریاتی ہوتی ہے۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ یہ محض نعرہ نہیں حقیقت ہے۔ اگر ہم نے اپنی انقلابیت کو ترک کر دیا تو ہمارے وجود کے قائم رہنے کا نہ کوئی امکان ہے نہ جواز۔ ہمیں اس معاشرتی انقلاب کی داغ بیل ڈالنی ہے جسے اسلام کہتے ہیں۔ اس ہی معاشرتی انقلاب کی بنیاد پر ہم انشاء اللہ اسلامی ریاستی نظام قائم کریں گے۔ ہم جس معاشرتی انقلاب کے علم بردار ہیں اس کی نظریاتی اساس اسلامی روحانیت، علمیت اور اخلاقیات فراہم کرتی ہیں۔ لہٰذا ہماری معاشرتی صف بندی کے رہنما اصول حسب ذیل ہیں: 1۔ عوام کو منظم اور متحرک کرنے کی بنیاد ان میں دین کاری کا فروغ ہو ہم حقوق اللہ کی ترغیب دیں۔ ہیومن رائٹس او رسوشل رائٹس کی نہیں۔ 2۔ اس معاشرتی اجتماعیت کی فطری بنیاد مسجد ہو جہاں عوام کو مخلصین دین کی قیادت میں متحرک اور متحد کیا جا جائے۔ 3۔ مسجد کی بنیاد پر قائم ہر حلقہ اپنے علاقہ (محلہ ، بازار) کے روزمرہ کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری قبول کرے اور یوں لوکل گورنمنٹ کا متبادل عملاً ثابت ہو۔ 4۔ انتخابی مہمات ان ہی مقامی مسجد یونٹوں کی بنیاد پر قائم شدہ مراکز سے لڑی جائے اور منتخب نمایندہ انہی مراکز کو جوابدہ ہوں۔ 5۔ زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتوں اور ان کے کارکنوں کو اس ادارتی صف بندی میں شامل کیا جائے۔ یہ انتخابات کو انقلابی بنیادوں پر لڑنے کا طریقہ کار ہے اور اس کے استعمال سے 2023ء کے انتخابات میں بھی چیدہ چیدہ مقامات پر موالیاتی نظام میں دراڑیں ڈالی جا سکتی ہیں جن کی آیندہ انتخابات میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا ہماری استدعا ہے کہ حضور 2023ء کی انتخابی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات پر غور فرمائیں۔
1۔ 2023ء کے انتخابات ہرگز روایتی بنیادوں پر نہ لڑے جائیں اور ماضی کے تلخ تجربات اور آزاد کشمیر کے 2021ء کے انتخابی نتائج سے سبق سیکھا جائے۔ 2۔ زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتوں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک سے معاشرتی سطح پر تعاون کی استدعا کی جائے اور ان کے مخالف کہیں بھی جماعت اپنے امیدوار کھڑا نہ کرے۔ 3۔ جن انتخابی حلقوں میں ہماری کارکردگی بہتر رہنے کی توقع ہے وہاں مسجد کی بنیاد پر دیگر اسلامی جماعتوں کے تعاون کے ذریعہ اسی نوعیت کی معاشرتی صف بندی قائم کرنے کی کوشش کی جائے جس کی اوپر وضاحت کی گئی ہے۔ 4۔ کوشش کی جائے کہ غیر سیاسی اسلامی جماعتوں بالخصوص تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی اس مقامی معاشرتی صف بندی میں شریک ہوں۔ والسلام امین اشعر اور جاوید شیخ اورسلمان علی خان (ارکان جماعت اسلامی کراچی)