انتخابات میں دھاندلی کب نہیں ہوتی؟
انتخابات میں دھاندلی کب نہیں ہوتی؟ امین اشعر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا قانون منظور ہو گیا ہے۔ جیسا کہ مولانا فضل الرحمان نے فرمایا اس سے یہ بات تقریباً یقینی ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ 2023 کے انتخابات میں دھاندلی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جب سے بالغ رائے دہی کا رواج عام ہوا ہے بیش تر سرمایہ دارانہ ممالک میں انتخابی عمل شفاف اور سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام شکست و ریخت کے مراحل سے گزر رہا ہے شفاف انتخابات کی روایت بھی داستانِ پارینہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال امریکا کے 2020 کے صدارتی انتخابات ہیں۔ PEW کے محققین کے مطابق 42 فیصد امریکی ووٹ دہندگان ان انتخابات کے نتائج کو بڑے پیمانے کی دھاندلی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ برازیل کے صدر بلا ساریوبھی ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ 2022 کے انتخابات میں وہاں کی انتظامیہ بڑے پیمانہ پر دھاندلی کا ارادہ رکھتی ہے اور پچھلی تقریباً دو دہائیوں سے پولینڈ اور ہنگری کی حزب اختلاف اس ہی قسم کے دعوے کر رہی ہے۔ بیلارس، عراق، مصر کے انتخابات کو تو شفاف کوئی بھی نہیں مانتا۔ بھارت کے 2024 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی توقع ہے۔ اور پاکستانی میں 1951ء سے لے کر آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے تقریباً سب کے سب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ موجودہ سیاسی تناظر میں پاکستان میں شفاف انتخابات ہو ہی نہیں سکتے۔ اس مضمون میں میں اسلامی جماعتوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ سرمایہ دارانہ نظام میں انتخابی عمل کی حیثیت تاریخ انسانی کے سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ جمہوری عمل کے ذریعہ عوامی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے (اس کی تفصیل ہماری زیر طبع کتاب ”جمہوریت کی حقیقت“ میں ملاحظہ فرمائیے)۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام حکومت کر ہی نہیں سکتے اور اور انہوں نے کبھی حکومت نہیں کی۔ نہ قدیم ایتھنز میں نہ بیسویں صدی کے برطانیہ میں نہ دورِ حاضر کے عوامی جمہوریہ چین میں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں جمہوری عمل کے ذریعہ عوام کو حکومت سونپی نہیں جاتی بلکہ ا ن کو سرمایہ کی حکومت پر راضی کیا جاتا ہے۔ آج ماسوائے ایران غیر سرمایہ دارانہ جمہوریت کا کہیں وجود نہیں۔ انتخابی عمل تحکیم سرمایہ سے وفاداری کا اظہار ہے۔ ایک ایسا ذریعہ ہے جو سرمایہ دارانہ رائج ریاستی ادارتی صف بندی کو تسلیم کرتا ہے۔ ریاستی ادارتی صف بندی کو مرتب کرنے اور اس کو تقدیس بخشنے کا ذریعہ دستور ہوتا ہے (جو کتاب اللہ کی جگہ لے لیتا ہے)۔ دستور کرتا یہ ہے کہ تحکم سرمایہ کس مخصوص طریقہ سے کارفرما کیا جاتا ہے۔ جب تک عوام اس مخصوص ادارتی تقسیم ریاستی اقتدار کو عادلانہ تسلیم کرتے ہیں ان کو شفاف انتخابات کے ذریعہ اس بات کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کے فروغ کے لیے ان مختلف النوع معاشرتی حکمت عملیوں میں سے جس کی چاہیں تائید کریں۔ شرط یہ ہے کہ جن حکمت عملیوں میں مقابلہ ہو رہا ہو وہ سب کی سب دستور (یعنی ادارتی اقتدار کے ایک عمومی تصور) کے تقدس کو قائم رکھنے کی دعوے دار ہوں۔ انتخابات میں دھاندلی کب ہوتی ہے؟ انتخابات مخصوص تصوراتِ عدل کی کارفرمائی کا ذریعہ ہیں۔ انتخابات ”منصفانہ“ جب تک ہو سکتے ہیں جب تک عوام اس مخصوص تصورِ عدل پر ایمان رکھتے ہوں۔ اگر عوام اس ایمان سے انحراف کریں تو انتخابی عمل لازماً غیر شفاف اور غیر عادلانہ ہو گا۔ اس انحرافِ ایمانی کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ گو کہ عوام سرمایہ دارانہ حق تحکیم کو تو تسلیم کرتے ہوں لیکن اس ادارتی اقتداری تقسیم پر ایمان نہ رکھتے ہوں جو ان کے ہاں رائج شدہ دستور کے ذریعہ نافذ ہے جیسا کہ روس (1917) چین (1949)، وینزویلا (1999)، بولیویا (2003) اور پیرو وغیرہ میں ہوا۔ان حالات میں ”غیر منصفانہ“ انتخابی عمل پر انقلابی قوتیں غالب آ جاتی ہیں اور وہ عوام کی تائید کے ذریعہ ایک سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کر دیتی ہیں۔ وہ ایک نیا دستور نافذ کرتی ہیں جو تحکم سرمایہ اور سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے لیے ادارتی اقتدار کی نئی ترتیب کا رفرما کرتا ہے۔ عموماً یہ لبرل جمہوریت سے استبدادی جمہوریت کی مراجعت کا سفر ہوتا ہے۔
دوسرا یہ کہ عوام تحکم سرمایہ کے خلاف بغاوت کریں جیسا کہ ایران میں 1979 اور مصر میں 2012 میں ہوا اور کل ان شاء اللہ پاکستان میں ہو گا۔ اس بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے انتخابی عمل کو لازماً غیرشفاف اور کرپٹ بنانا پڑتا ہے۔ پاکستانی انتخابی عمل لازماً غیر منصفانہ کیوں؟ پاکستانی انتخابی نظام اس انتخابی عمل کا تسلسل ہے جو برصغیر میں منٹو مارلے اصلاحات کے نفاذ کے وقت (1905) سے برصغیر میں جاری ہے۔ برطانیہ نے ہم پر جو اقتداری ادارتی تقسیم کار مسلط کیا تھا وہ آج اور مستحکم ہو گیا ہے۔ اس نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کا دائرہ محدود ہو گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ حقوق صرف سرمایہ داروں اور ان کے حواریوں – انتظامیہ، عدلیہ، فوج، جاگیردار اور صنعت کار – حلقوں کو میسر کیے گئے ہیں۔ انتخابی عمل ان حیلوں بہانوں میں سے ایک ہے جو عوام کو ان سرمایہ دارانہ حلقوں کی نظاماتی بالادستی کو تسلیم کروانے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ عوام عموماً سرمایہ دارانہ حقوق کے طالب ہیں اور سرمایہ دارانہ عقلیت (جاہلیت خالصہ) کی بالادستی پر اعتماد رکھتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ حقوق تک عوام کی رسائی سرمایہ داروں اور ان کے حواریوں کے ذریعہ ہی میسر آ سکتی ہے۔ یہ چیز اس موالیاتی نظام (Client-patronage network) نے ناگزیر بنا دی ہے جو پاکستانی سیاسی ڈھانچہ ہے۔ اس موالیاتی ڈھانچہ نے عوام کو نسبتاً چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر گروہ کا کوئی نہ کوئی سرمایہ دار یا اس کا حواری مربی ہے۔ اور اس ہی مربی کے ذریعہ وہ مخصوص عوامی گروہ سرمایہ دارانہ حقوق تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ انتظامیہ عدلیہ اور فوج اس موالیاتی سیاسی نظام کی پشت پناہی کرتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان اداروں کا ریاستی تسلط برقرار رکھنے کے لیے یہ ایسے ہی ضروری ہے جیسا ”آزادی“ سے قبل برطانوی سامراج کے لیے تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستانی انتظامیہ عالمی سامراجی نظام کا زیردست جزو ہے اور پاکستان میں سرمایہ دارانہ عدل کی توسیع سے لازماً سامراج مخالفت فروغ پانے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ معاشی طور پر خود کفیل ریاست کا قیام پاکستان سے سامراجی تسلط کے خاتمہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تمام سرمایہ دارانہ مقتدرین کا یہ ناقابل تبدل مقصد ہے کہ پاکستانی عوام موالیاتی بنیاد پر منقسم رہیں اور اس عوامی موالیاتی تقسیم کو قائم رکھنے کے لیے انتخابی دھاندلیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔ ہم کیا کریں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 2023 کے انتخابات پہلے انتخابات کے مقابلہ میں زیادہ کرپٹ ہوں گے لیکن اس انتخابی عمل سے دور رہنا اسلامی جماعتوں کے لیے کوئی قابل عمل آپشن نہیں۔ پاکستانی انتخابات میں اب تک ڈاکو، لٹیرے، خائن، جاہل، غنڈے، وڈیرے، سٹہ باز، سود خور عموماً منتخب ہوتے رہتے ہیں۔ یہی الیکٹیبلز ہیں کیونکہ یہی سرمایہ دارانہ حقوق کے طالب عوام کے حقیقی سرمایہ دارانہ مربی ہیں۔ ان حرام خوروں کی سرپرست اسٹیبلشمنٹ ہے اور اس ہی وجہ سے پنڈورا اور پاناما انکشافات کے باوجود ان کے خلاف عدلیہ بے بس نظر آتی ہے اور جہانگیر ترین اور اس کے ساتھی بھی بالکل محفوظ ہیں اور شوکت ترین آج وزیر خزانہ بنا بیٹھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہماری دو بڑی جماعتوں (جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک) کو 2018ء کے انتخابات میں تقریباً 50 لاکھ ووٹ ملے اور اگر جماعت اسلامی کے تقریباً ساڑھے نو لاکھ ووٹ اور چھوٹی اسلامی جماعتوں کے ووٹ بھی شامل کر لیے جائیں تو ہمیں 2018 میں ووٹ دہندگان کے تقریباً 10 فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور یہ شرح 2013 کے انتخابات سے تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔ انتخابی کامیابی کا اظہار قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بالکل نہیں ہوا۔ جمعیت علمائے اسلام کو پہلے سے کم سیٹیں ملیں اور تحریک لبیک 23 لاکھ ووٹ لینے کے باوجود قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی حاصل نہ کر سکی۔ باقی اسلامی جماعتوں کی نمایندگی تو نہ ہونے کے برابر بھی نہیں کی جا سکتی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری انتخابی حکمت عملی (electoral strategy) ناقص ہے۔ اور روایتی انداز کی انتخابی شرکت سے ہم بہت محدود اور بہت وقتی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں انتخابات ضرور لڑنے چاہئیں لیکن روایتی انداز میں نہیں انقلابی انداز میں۔ انتخابی انقلابی حکمت عملی کے دو اہداف ہیں۔ اپنی بنیادی constituency کو منظم اور متحرک کرنا سرمایہ دارانہ انتظامیہ اور اس کے آلہ کار سرمایہ دارانہ الیکٹیبلز کی ریاستی اقتداری گرفت کو کمزور کرنا ہماری ماس بیس ان ایک سے دو کروڑ مخلصین دین پر مشتمل ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں اور ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبیت کے سبب یہ ماس بیس مستقلاً وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ ہم کئی بار اس ماس بیس کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کی مثال 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ 75-1974ء کی تحریک ختم نبوت اور 2017ء اور حالیہ تحریک ناموس رسالت ہے۔ لیکن ہم اس ماس بیس کو کبھی منظم نہ کر سکے اور تمام تحریکیں سرمایہ دارانہ ریاستی مقتدرین سے سمجھوتے پر ختم ہوئیں جن سے ان کی ریاستی اقتداری گرفت کمزور نہ ہوئی۔ 2023 کی انتخابی مہم جس کو فی الفور شروع ہو جانا چاہیے مخلصین دین کو انقلابی بنیادوں پر منظم کرنے کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کے جزو حسب ذیل ہیں۔ 1۔ جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک کی قیادت میں اسلامی انتخابی اتحاد کا قیام جس میں زیادہ سے زیادہ دیگر اسلامی جماعتیں شامل کی جانے کی کوشش کی جائے۔ 2۔ ہمارا انتخابی منشور خالصتاً اسلامی ہو۔ 2023ء کی انتخابی مہم تحریک ناموس رسالت 2021ء کی مہم کا تسلسل ہو۔ ہمارا مرکزی نعرہ ”اسلام خطرے میں ہے“ اور ہمارا بنیادی مطالبہ ”فرانس کے سفیر کو ملک سے فوراً نکالو“ ہو۔ 3۔ ہمارا انتخابی اتحاد مسجد، محلہ اور بازار کی سطح پر منظم ہو۔ ہمارے انتخابی جلسے جلوسوں میں ذکر، نعت اور قوالی کا خصوصی اہتمام ہو۔ 4۔ ہم سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کے وعدوں سے پرہیز کریں بلکہ عوام کی اسلامی عصبیت ابھارنے کی سرتوڑ جدوجہد کریں۔ 5۔ 2022 اور 2023 میں ہم محلہ اور مسجد کی سطح پر جو حلقہ قائم کریں وہ افتاء اور قضاء کے فرائض بھی انجام دیں اور عوام کے روزمرہ کے مسائل (بجلی اور پانی کی فراہمی، نکاسی اور صفائی، بازاروں، اسکولوں اور ہسپتالوں میں قیمتوں اور فیسوں میں استحکام وغیرہ) کے حل کے لیے بھی کوشاں ہوں۔ یوں محلہ کے مخلصین دین کی مقامی سیاسی قیادت ابھرے گی اور ہماری عوامی ادارتی صف بندی لوکل گورنمنٹ کا متبادل بننے لگے گی۔ 2022ء میں منعقد ہونے والے لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کا ہم بائیکاٹ کریں کیونکہ ہم لوکل گورنمنٹ کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں اس میں شامل ہو کر سرمایہ کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔ 2023 کے انتخابات میں ہم صرف ان حلقوں میں امیدوار کھڑے کریں جہاں ہمارا دعوتی اور انتظامی کام اتنا جڑ پکڑ گیا ہو کہ ہماری کامیابی تقریباً یقینی ہو۔ ہمارے امیدوار الیکٹیبلز نہ ہوں بلکہ مخلصین دین میں سے چنے جائیں۔ ہرامیدوار سے حلفاً اقرار کرایا جائے کہ وہ اسمبلی میں پہنچ کر ہمارے محلہ جاتی قائم شدہ ادارتی نظام کے قانونی اختیارات میں اضافہ کے لیے کوشش کرنے کو اپنا بنیادی فریضہ سمجھے گا۔ یہ محلہ جاتی ادارتی صف بندی تنفیذ شریعت مطہرہ کو سیاسی نظام کی عوامی سطح پر ممکن بنانے کی ایک کوشش ہے۔ ابھی تک ہم ڈاکو، خائن، سٹہ باز اورسود خور سرمایہ دار وں اور وڈیروں سے نفاذ شریعت کا مطالبہ کر تے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ ایک فعل لاحاصل ثابت ہوا ہے۔ اب ہم مخلصین دین کی قیادت میں عوام کو متحرک اور منظم کر کے انہی ڈاکوؤں، خائنوں اور سود خوروں کو نفاذ شریعت کے ریاستی عمل کو طوعاً و کرہاً قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے۔