کتب خانہJAS Library

پاکستان میں مزاحمت

رسالہاردو۱۹ جولائی ۲۰۲۱کتب و مضامین
حصہ ۱

پاکستان میں عوامی مزاحمت کیوں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی ہم نے انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے اکثر عوامی مزاحمت کا سہارا لیا ہے اور عموماً اس سے متوقع نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ ہماری عوامی مزاحمت عموماً سرمایہ دارانہ انفرادی اور اجتماعی حقوق کی فراہمی پر منتج ہوتی ہے مثلاً کے الیکٹرک کی کارفرمائی کے خلاف مزاحمت یا پاکستان میں(متوقع) امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف احتجاج۔اس قسم کی جدوجہد بڑے شہروں کے مخصوص علاقوں تک محدود رہتی ہے اور عوام الناس کا ایک قلیل حصہ اس سے وقتی طور پر متحرک ہوتا ہے اور ہم دیرپا مزاحمت کی بنیاد ڈالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس قسم کی جدوجہد اس تنظیمی ڈھانچہ کو تحلیل نہیں کرتی جس پرپاکستان کی نیم استبدادی جمہوریت قائم ہے اور یہ انتظامی ڈھانچہ پاکستان میں برطانوی سامراج نے انیسویں صدی میں قائم کر دیا تھا۔ اس ڈھانچہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عوام اور سرمایہ دارانہ ریاستی اور سماجی اشرافیہ کو موالیت(client-patron network) کی زنجیروں میں مقید کر دیا ہے۔ عوام بے شمار واسطوں سے ریاستی اور معاشرتی سرمایہ دارانہ اشرافیہ سے منسلک ہیں۔ مسلم قوم پرستی کے زوال کے بعد پاکستانی عوام کی بہت بڑی تعداد اجتماعی طور پر بالکل غیر نظریاتی ہو گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ اجتماعی حقوق کی فراہمی سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان میں سرمایہ دارانہ اشتراکیت اور قوم پرستی کے زوال سے ملتا ہے۔ عوام کا روحانی اور اخلاقی حال نہایت پست ہے۔ ان کی انفرادیت حب مال اور حب جاہ سے مغلوب ہے۔ ان کی عقلیت ان کے نفس امارہ کے احکامات کی تابعداری پر راضی ہے۔ نظاماتی شعور بالکل ناپید ہے۔ وہ صرف اپنے انفرادی ریاستی اور معاشرتی مربیوں سے ان مفادات کے حصول کے لیے گٹھ جوڑ کر تے رہتے ہیں۔ ان میں اصلاحی اسلامی جماعتوں (تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی، صوفیائے عظام) کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہے لیکن ان اصلاحی جماعتوں نے دانستاً عوام میں نظاماتی شعور پیدا کرنے کو شجر ممنوعہ تصور کر رکھا ہے۔ ایسے میں نظاماتی نظریاتی شعور پیدا کرنے کے لیے وقتی مزاحمت لازماً ناکام ثابت ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی عوامی مزاحمتی جدوجہد تحکم قانون سرمایہ کے تناظر میں مرتب کرتے ہیں۔ اس قسم کی جدوجہد حکومت کو چیلنج کرتی ہے اور وہ بھی صرف مطالباتی سطح پر۔ ریاست کو چیلنج نہیں کرتی۔ حکومت ریاست کا ایک نہایت کمزور سرمایہ دارانہ ریاستی ادارہ ہے اور اس کی تبدیلی سے تحکم قانون سرمایہ کی رائج شدہ شکل متاثر نہیں ہوتی۔ نیم استبدادی جمہوری نظام میں تحکم قانون سرمایہ کی تنفیذ کے ذریعہ خود غرض انفرادیت فروغ پاتی ہے۔ نظریاتی اجتماعیت فروغ نہیں پاتی۔ لہٰذا پاکستان میں روایتی بنیادوں پر جاری انتخابی عمل نفوس فاسدہ کے اظہار کا ذریعہ ہی بنتا ہے۔ پھر تحکم قانون سرمایہ کا مطلب ہے ایک دہریہ ریاستی نظام کی کارفرمائی ,کیوں کہ قانون سرمایہ انسانی بہیمیت کی بالادستی کا اظہار ہے۔ لہٰذا جو اسلامی جماعتیں تحکم قانون سرمایہ کو دانستاً (مجبوراً نہیں) قبول کرتی ہیں اور اس کے تضادات کو مہمیز دینے کی جستجو ترک کرتی ہیں وہ عملاً (نظریاتی طور پر نہیں)کسی نہ کسی حد تک سیکولر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس کی مثال ترکی، تیونس، ملائشیا اور کسی نہ کسی ھد تک ایران فراہم کرتا ہے۔ جیسے جیسے ایک اسلامی جماعت سرمایہ دارانہ حقوق کی جدوجہد تحکم قانون سرمایہ کے تناظر میں عوامی مزاحمت کے ذریعہ کرتی ہے ویسے ویسے وہ اپنی فطری ماس بیس کٹتی چلی جاتی ہے۔ پاکستانی اسلامی جماعتوں کی فطری ماس بیس ان کڑوروں مخلصین دین پر مشتمل ہے جو روایتی انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ 2016ء میں یہ رائے دہندگان کے 7 فیصد تھے۔ ان میں مخلصین کی جماعتوں کے متاثرین بھی شامل ہیں اور لاکھوں ایسے متدین اشخاص بھی جو کسی اسلامی حلقہ سے تعلق نہیں رکھتے۔

حصہ ۲

یہ مخلصین دین سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق کی جدوجہد سے عموماً لاتعلق رہتے ہیں۔ ان میں عموماً اجتماعیت کا شعور معدوم ہے۔ ان کی مزاحمت کا اظہاران کی ذاتی زندگی تک محدود رہتا ہے اور یہ امت کے اجتماعی مسائل کے ضمن میں مداخلت کو اپنانا نہ ممکن سمجھتے ہیں اور نہ ضروری۔ لہٰذا ان کا انفرادی سیاسی عمل عوام الناس سے ممیز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بڑے پیمانے پر دہریہ سیاسی جماعتوں مسلم لیگ، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی یہاں تک کہ ایم کیو ایم جیسی اسلام دشمن جماعت سے توقعات وابستہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو نظاماتی شعور رکھتے ہیں وہ روایتی انتخابی اور جمہوری مزاحمتی عمل سے مایوس ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ اس قسم کی جدوجہد سے غلبہ دین کی طرف پیش رفت نہیں ہوتی۔ علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی ہم نہ تصوراتی ہیں نہ مطلب پرست۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں اور ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ہماری جدوجہد سرمایہ دارانہ تغلب کے جبر کے تناظر میں مرتب کی جا رہی ہے لیکن ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر اس مجبوری کو کم کر رہے ہیں۔ اس نظاماتی جبر کو دائمی سمجھ کر قبول نہیں کرتے۔ ہم انتخابی عمل اور عوامی مزاحمت کے ذرائع کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان اعمال کی احاطہ بندی یوں کرنا چاہتے ہیں کہ تحکم قانون سرمایہ کا دائرہ محدود ہوتا چلا جائے۔ اب میں اس حکمت عملی کے چند نکات بیان کروں گا جن کو اپنا کر ہم عوامی مزاحمت سرمایہ دارانہ سامراجی نظم ریاست کی تسخیر کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ عوامی مزاحمت نہ وقتی ہو نہ مطالباتی بلکہ دائمی اور اقدامی ہو۔ مثلاً کے الیکٹرک کی جدوجہد کا مرکزی قدم منتخب محلوں کی سطح پر ایک متبادل بجلی کا نظام قائم کرنے پر اور محفوظ رکنے کی کوشش ہو۔ اس کی بہترین مثال جنوبی افریقہ کی SWETO بستی کے عوامی ترسیل بجلی کے تجربہ سے ملتی ہے اور اس ضمن میں ہماری لیبر اور انجینئروں کی تنظیم کو ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ بڑے کارخانوں، دکانوں اور امراء کے علاقوں میں فراہمی بجلی کے تعطل کا انتظام بھی ممکن ہے (اس کی مثال پیرو اور بولیویا کی تحریکیں فراہم کرتی ہیں) بجلی کی ادائیگیوں کے بائیکاٹ کو بھی منظم کیا سکتا ہے۔ غرض کہ ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو مالی اور انتظامی نقصان پہچان بغیر کسی سرمایہ دارانہ پالیسی کی مخالفت بے معنی ہے۔ اگر عوامی مزاحمت دائمی کشمکش کی صورت اختیار نہیں کرتی تو اس کو تحکم قانون سرمایہ اپنے اندر جذب کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کے لیے ملک گیر قانونی مزاحمت منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ملکی نظام میں استبدادیت اور دستوریت کی جاری کش مکش سے فائدہ اٹھا کر ہم احتجاج کرنے والوں کے دائرہ اختیار میں مستقلاً توسیع کو ممکن بنا سکتے ہیں اور اس کے لیے دستوری ، قانونئ نظام کی ہر سطح پر ہمیں چارہ جوئی کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا مقصد پولیس، ایجنسیوں اور مقامی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں تحدید ہو۔ تیسرا عمل احتجاج کرنے والوں کو دائمی بنیادوں پر منظم کرنا ہونا چاہیے اور ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ یہ نظم سرمایہ دارانہ خطوط پر قائم نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظم مخلصین دین کی قیادت میں محلہ اور بازار کی سطح پر قائم ہوجاے۔ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ مخلصین دین اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی خطوط پر متحرک اور منظم ہوں اور ان میں (بالخصوص مصلحین کی جماعتوں اور صوفیا کے حلقوں میں) اقامت دین کا عمل ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات اور شریعت کی تنفیذ مقامی سطح پر مخلصین دین کو بااقتدار بنا کر ہی ممکن ہے۔ مخلصین دین اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کرنے کی اہلیت کا مظاہرہ کریں اور ثابت کریں کہ وہ خود ایک اسلامی ریاست محلہ اور بازار کی سطح پر قائم کرنے اور کارفرما رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ محض حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دارانہ ریاستی اور معاشرتی اشرافیہ سے اقتدار چھین کر ایک اسلامی ریاستی نظام ترتیب دینے عزم رکھتے ہیں۔

حصہ ۳

چوتھا عمل تسلسل احتجاج کو انقلابی انتخابی عمل سے مربوط کرنے کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کی جدوجہد کو دانستاً غلبہ دین کا ذریعہ بنانا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ روزمرہ کی کشمکش انتخابی عمل میں اس طرح سمو دی جائے کہ دونوں اسلامی جذباتیت کے رنگ میں رنگ جائیں۔ ہماری کامیاب دیرپا عوامی احتجاجی مہمات (تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، تحریک ختم نبوت، تحریک ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم) وہ اسلامی جذباتیت سے سرشار تھیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان تحاریک کے نتیجہ میں ہم نظاماتی تبدیلی برپا نہ کر سکے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تحاریک نے شرکا کو مخلصین دین کی قیادت میں محلہ اور بازار کی سطح پر منظم نہ کیا اور ایک نیا اقتداری نظام ملک میں نہ ابھر سکا۔ خلاصہ احتجاجی اور انتخابی جدوجہد کو نتیجہ خیز ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ تحاریک مدت تک جاری رہیں اور ان کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظام کو مالی اور انتظامی نقصان برداشت کرنا پڑے اور اس کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی موالیت کمزور پڑے۔ مہمات کے شرکا کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کا انتظام کیا جائے اور وہ مظاہروں کے بعد منتشر نہ ہو جایا کریں۔ مزاحمتی اجتماعیت کا مقصد تنفیذی قوت کا سرکاری اور سرمایہ دارانہ اداروں سے مخلصین دین کے لیے قائم کردہ اقتداری اداروں کی طرف انتقال ہے۔ انتخابی مہم احتجاجی مہمات کا تتمہ ہو اور نئی پارلیمان میں انقلابی نمایندوں کی سب سے اہم ذمہ داری مخلصین دین کی قیادت میں کارفرما عوامی اقتداری اداروں کا تحفظ اور ان کے دائرہ اختیار میں مستقلاً توسیع کرنا ہو۔ نئے اقتداری اداروں کے دستوری حقوق کے دفاع کے لیے مستقل ہر سطح پر قانونی چارہ جوئی جاری رہے۔ جو احتجاجی اور انتخابی مہمات یہ شرائط پوری نہیں کرتے وہ اسلامی انقلابی جدوجہد کو تحلیل کر کے اسلامی انقلابی جماعت کو سرمایہ دارانہ نظم اقتدار میں سمونے کا باعث بنتے ہیں۔