کتب خانہLibrary

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج

رسالہاردو۱۰ اگست ۲۰۲۱کتب و مضامین
حصہ ۱

آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج ہم نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات پھر روایتی انداز میں لڑے اور حسب سابق نتائج حوصلہ شکن رہے۔ ہمیں ایک سیٹ بھی نہ مل سکی اور رائے دہندگان میں ہمارے ووٹوں کا تناسب گرا۔ عوام نے ہمارا انتخابی بیانیہ عملاً رد کر دیا۔ اگر ہم نے 2023ء کے انتخابات اسی روایتی انداز سے لڑے تو نتائج مختلف نہ ہوں گے۔ ہم 1970ء سے لے کر آج تک تمام انتخابات (بلدیاتی، صوبائی، وفاقی) روایتی انداز سے لڑتے آ رہے ہیں اور ان میں ہمارا انتخابی بیانیہ حیرت انگیز طور پر یکساں رہا ہے گو کہ کبھی یہ بیانیہ مقبول عام نہ ہو سکا (گوکہ 1970ء اور 2002ء کے انتخابی بیانیہ میں ضمنی ترمیم موجود تھی جس کی تفصیل بعد میں آتی ہے) بحیثیت مجموعی ہمارا بیانیہ عوام سے تخاطب کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ ریاستی ظلم کے خاتمہ کے وعدوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ آج بھی ہم جن مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ان کا تعلق سرمایہ دارانہ ظلم کے پھیلاؤسے ہے یعنی بے روزگاری، مہنگائی، شہری معاشی بد انتظامی، کرپشن وغیرہ۔ ہمارادعویٰ ہے کہ ہم ایسی مخلص، دیانت دار قیادت فراہم کر سکتے ہیں جو ان مسائل کو دفع کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان دعووں کی بنیاد پر ہم اپنے کارکنوں میں کچھ تحرک پیدا تو کر سکتے ہیں جیسا کہ کراچی میں ہو رہا ہے اور آزاد کشمیر میں بھی ممکن ہے کیونکہ وہاں بھی کسی نہ کسی حد تک ہماری اسٹریٹ پارور موجود ہے لیکن پاکستان کے سیاسی نظاماتی تناظر میں ان دعووں کا مقبول عام ہونا ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرت میں سرمایہ دارانہ اجتماعیت کا شعور نہایت کمزور اور محدود ہے یہاں جو سول سوسائٹی قائم کی جا رہی ہے اس کا رنگ اشرافی ہے عوامی نہیں اور اشرافیہ اپنی سرمایہ دارانہ اجتماعیت کا اظہار سامراجی نظام سے وابستگی سے کرتی ہے۔ پاکستانی عوام سرمایہ دارانہ اجتماعی مظالم (کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری) کے خلاف کسی ہمہ گیر مزاحمت کے لیے تیار نہیں (جیسا کہ لاطینی امریکی اور مشرقی یورپ کے علاقوں میں ہیں) کیونکہ برطانوی دور اقتدار میں جو سیاسی اور معاشرتی نظام موالیت قائم کر لیا گیا تھا وہ محفوظ اور کارفرما ہے اور پولیس ، سول ایڈمنسٹریشن، عدلیہ جاگیرداری کے ذریعہ عوام اور اشرافیہ کے نظاماتی روابط مستقلاً مستحکم کیے جاتے رہتے ہیں۔ اپنے انفرادی سرمایہ دارانہ حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے عوام حتی المقدور ریاستی کرپشن اور ظلم میں شریک رہتے ہیں۔ وہ انتخابی عمل سے اپنے ریاستی مربیوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں تاکہ ریاستی لوٹ مار اور کرپشن میں ان کے انفرادی مفادات فروغ پاتے رہیں۔ سرمایہ دارانہ اجتماعیت کی شناخت کی بنیادیں لازماً سرمایہ دارانہ نظریاتی ہوتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 1970ء میں اور عمران خان نے 2018ء میں اشتراکیت اور لبرل ازم کی بنیاد پر عوام میں سرمایہ دارانہ اجتماعیت کو فروغ دینے کی ناکام کوششیں کی تھیں لیکن یہ دونوں جماعتیں موالیت کے اس نظام میں دراڑیں نہ ڈال سکیں جو سامراج نے انیسویں صدی میں قائم کیا تھا اور یہ دونوں جماعتیں بہت جلد اسٹیبلشمنٹ اور الیکٹیبلز کا شکار ہو گئیں۔ ہم نے بھی 1970ء اور 2002ء کے انتخابات میں عوام میں اسلامی شناخت ابھارنے کی محدود کوشش کی تھی۔ لیکن ہمارے یہ اقدام ردعملی، اشتراکیت اور افغانستان میں امریکی جارحیت کے خلاف تھے ایجابی نہ تھے۔ تحریک لبیک نے اس قسم کی کوشش 2018ء کے انتخابات میں کی۔ ان الیکشنوں (1970، 2002ء، 2018ء) میں اسلامی جماعتوں کو سب سے زیادہ عوامی پذیرائی حاصل ہوئی لیکن ان محدود کامیابیوں کی بنا پر ہم سامراجی سرمایہ دارانہ موالیتی نظام اقتدار (client patronage network) میں دراڑیں نہ ڈال سکے۔

حصہ ۲

اپنی نوعی حیثیت سے انتخابات سرمایہ دارانہ اقتدار کو مستحکم کرنے کا ہی ذریعہ ہیں۔ اگر ایک بالغ سول سوسائٹی قائم بھی ہو جہاں سرمایہ دارانہ اجتماعیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا احساس موجود ہو تو بھی لازماً انتخابات سرمایہ دارانہ تحکم کو فروغ دینے کا حصہ بنتے ہیں جیسا کہ لاطینی امریکا کی عوامی مفاہمتی تحریکوں کی ناکامی سے ثابت ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے دور میں انتخابات میں شرکت ناگزیر ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ تحکم کی نظاماتی بنیادوں کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انتخابات روایتی نہیں انقلابی بنیادوں پر لڑے جائیں۔ ہم ان شاء اللہ 2023ء کے انتخابات انقلابی بنیادوں پر لڑیں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ وسیع سے وسیع تر اسلامی اتحاد قائم کیا جائے جس میں اسلامی سیاسی جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی شامل ہوں اور اس کی پشت پناہی غیر سیاسی اسلامی جماعتوں سے حاصل کی جائے۔ اگر آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں تحریک لبیک اور جماعت اسلامی میں انتخابی اتحاد بن جاتا ہے تو یقیناً اسلامی ووٹ بینک تگنا ہو جاتا۔ ہمارا انتخابی پلیٹ فارم خالصتاً اسلامی ہو۔ ہم قوم پرستانہ اور سوشل ڈیموکریٹ دعووں سے اعتراض کریں۔ ہماری انتخابی مہم اسلامی جذباتیت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہو۔ تحفظ ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا اولین ہدف اور فرانس سے تمام سفارتی اور تجارتی تعلقات کا انقطاع ہمارا بنیادی مطالبہ ہو۔ ہم مخلصین دین کو باور کرائیں کہ دہریہ سیاسی کارفرمائی کے نتیجہ میں اسلامی شدید خطرہ میں ہے۔ ہمارا اتحاد مخلصین دین کو محلہ، مسجد اور بازار کی سطح پر اس طرح منظم اور متحد کرے کہ عوام کے روزمرہ کے مسائل (پانی اور بجلی کی فراہمی، قیمتوں اور فیسوں کے تعین اور مقامی امن عامہ کے فروغ) کے حل میں وہ فیصلہ کن قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔ اور محلہ کی مسجدوں پر قائم کردہ یہ نظام اقتدار لوکل گورنمنٹ کا متبادل بنتا چلا جائے۔ اس نوعیت کے اقدامات کے نتائج ظاہر ہونے میں وقت لگے گا لیکن یہ انتخابی مہمات کو انقلابی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ناگزیر ہے اور بغیر یہ کیے ہم روایتی انتخابی ہزیمت کی بند گلی سے کبھی نہیں نکل سکتے۔ جاوید اکبر انصاری امین بھائی ، جسارت کے علاوہ یہ ڈاکٹر امین صاحب کو بھی بھیج دیجیے۔