تحریک لبیک کا مستقبل
تحریک لبیک کا مستقبل تحریک اقامت دین میں بریلویت کا مقام حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی قوتوں کی اجبنیت اور کمزوری کا بنیادی سبب برصغیر کی اسلامی تاریخی روایات سے دوری ہے۔ ان روایات، رسوم، رواج اور معاشرت کا اصل سرچشمہ بریلوی اور قادری مکاتب ہیں۔ سامراج کے خلاف ابتداً جن علما نے جدوجہد کی وہ سب بریلویت کے پیش رو ہیں۔ جہاد 1857ء سے لے کر 1940ء کی دہائی جن اکابر مجاہدین کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ مولانا احمد اللہ شاہ، مولانا فضل حق خیر آبادی، فقیر اپی، جنرل بخت خاں، صبغت اللہ مجددی رحمہم اللہ اجمعین ، سب بریلوی مکتب فکر کے پیش رو ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ بریلویت اصلاً اور ابتداً ایک انقلابی اسلامی تحریک ہے۔ بریلویت کی انقلابیت کا اظہار غازی ممتاز قادری کے اقدام سے ہوتا ہے۔ غازی کے عمل نے آناً فاناً لاکھوں شیدائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوانہ وار متحرک کر دیا۔ یہی والہانہ جذباتیت تحریک لبیک کی 2017ء اور 2020 اور 2021ء کی عوامی مزاحمت میں نمایاں تھی۔ ان معنوں میں تحریک لبیک غازی ممتاز قادری مولانا احمد اللہ شاہ، مولانا فضل حق خیر آبادی اور فقیر اپی کی فکر کی وارث جماعت ہے لیکن اس جماعت کی قیادت اور اس کے تمام کارکنوں کو اپنے اس تاریخی ارتباط اور فطری رجحان کا احساس نہیں۔ پاکستانی بریلویت اس کی وجہ یہ ہے کہ برصغیر کی بریلوی تحریک انیسویں صدی کے آخر سے زوال کا شکار ہے اور اس تحریک میں دو بنیادی کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس دور سے لے کر آج تک سندھ اور پنجاب کے بڑے بریلوی شیوخ کے خانوادے سامراجی نظام اقتدار کا حصہ بن گئے اور پاکستانی سیاسی نظام میں یہی بریلوی خانوادے دہریہ نظام اقتدار کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں بریلویت کا سوادِ اعظم انہی بکے ہوئے خانوادوں کا مرید اور پیرو ہے۔ ان خانوادوں نے تحریک لبیک کا بھی ساتھ نہ دیا لیکن اپنے گھس بیٹھیے تحریک میں داخل کر کے اس کی فطری انقلابیت کو مجروح کرنے کی پیہم جستجو کیے جا رہے ہیں۔ دہری نظام اقتدار سے وابستگی کے نتیجہ میں بریلوی صفوں میں اپنے ایک مفاداتی نظاماتی گروہ (انٹرسٹ گروپ) ہونے کا احساس پیدا ہو گیا (اور یہ بیماری شیعوں کو بھی لاحق ہو گئی ہے)۔ بریلوی گروہ اپنے نظاماتی مادی مفادات کے فروغ کے لیے جدوجہد کرنے لگے اور سامراجی سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کا کوئی تصور ان کے پاس نہ رہا۔ وہ اپنا حریف کفر اور الحاد اور سامراج اور سرمایہ کو نہیں دیوبندیوں اور اہل حدیث کو سمجھنے لگے۔ رحماء بینہم کے مقدس اصول کو ترک کر کے وہ اتحادِ امت کی راہ میں ایسی رکاوٹ بنے کہ امام نورانی رحمہ اللہ (جو اتحادِ امت کی علامت تھے) کی ایک نہ سنی۔ تحریک لبیک کا مستقبل اس وقت تحریک لبیک کے سامنے جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ اس مسخ شدہ بریلویت کو بریلویت کی فطری انقلابی روایات میں ضم کرنے کا ہے۔ دورِ حاضر میں یہ کام ایرانی علما نے شیعیت کے ضمن میں کر کے دکھا دیا۔ اپنی ستر سالہ جدوجہد میں (انقلاب سفید سے لے کر انقلاب اسلامی تک) وہ شیعیت ایک گروہی مفاداتی تحریک غلبہ دین کی تحریک بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ کام پاکستان میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ احیائے بریلویت کی حکمت عملی کے چند نکات پیش خدمت ہیں: 1۔ تطہیر و احیائے رسوم اسلامی اور فروغ اسلامی جذباتیت حضرت امیر شریعت کے بعد ہمارے سب سے زیادہ مقبول عام سیاسی رہنما حضرت مولانا خادم حسین رضوی تھے اور آپ کے جلیل القدر صاحب زادہ حضرت مولانا سعد رضوی آپ ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے انسیت کو فروغ دینا تحریک لبیک کی اساس ہے۔ تحریک لبیک کو اپنی سیاسی جدوجہد کا محور و مرکز حب رسول کو فروغ دینے کو بنانا چاہیے۔ حب رسول میں عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ان رواج و رسوم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو اکابر صوفیہ کے یہاں رائج رہے ہیں۔ وہ شکوک و شبہات جو ان رسوم کے بارے میں عوام میں سامراج نے پھیلائے ہیں ان کو رفع کرنا چاہیے اور اعلیٰ حضرت احمد رضا خان اور پیر جماعت علی شاہ کی ان رسوم کی تطہیر اور شریعت مطہرہ سے مطابقت کو واضح کرنے کی کوشش جاری رہے۔ تحریک لبیک کو خانقاہی نظام اور نظاماتِ مزارات پر خاص توجہ دینی چاہیے اور ان مقامات کو بدعات رذیلہ سے پاک کرنے کی ملک گیر مہم چلانا چاہیے۔
2۔ تربیت کارکنان الحمدللہ تحریک لبیک کےملک بھر میں لاکھوں (یا شاید کروڑوں) کارکن ہیں لیکن یہ کارکن منظم نہیں۔ مظاہروں اور جلسوں میں یہ کارکن مثالی استقامت دکھاتے ہیں۔ ان کارکنوں کی روزانہ کی زندگی میں تحریک لبیک دخیل نہیں اور بریلوی مدارس میں بھی اس کی شمولیت کمزور ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ 1پیرو کار مزاحمت کے کوائف سے تحریک مستقلاً آگاہ رہے۔ 2 پیرو کار مزاحمت اور تمام کارکنوں کو حلقہ کی سطح پر ایسے منظم کرے کہ وہ منتشر نہ ہو۔ ہر روز کم از کم ایک گھنٹہ تحریک کے منظم گروہ حلقہ جاتی پروگراموں میں حصہ لیں۔ 3۔ یہ پروگرام روحانی (فاتحہ، درود، میلاد شریف، ختم خواجگان) جسمانی (کھیل، ورزش، مشاعرہ، ذہنی آزمائش) اور علمی (دروس، مراقبہ، ذکر) نوعیت کے ہوں اور ان کو علما اور صوفیا کی نگرانی میں منعقد کیا جائے۔ 4۔ تحریک کارکنوں کے لیے حلال رزق کمانے کے مساوی مواقع فراہم کرے۔ دہریہ سیاست سے اجتناب ہر اسلامی سیاسی جماعت کے لیے انتخابات میں حصہ لینا ناگزیر ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اپنے گروہی مفادات کے فروغ کے لیے کوئی اسلامی جماعت کسی دہریہ جماعت (تحریک انصاف، مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی) کی ٹیم بی بن جائے۔ آج تحریک انصاف ان کو اپنے جھانسے یں پھانسنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں دہریہ جماعتیں ہیں۔ دونوں اسلام کو سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار بنانا چاہتی ہیں۔ دونوں نے تحریک لبیک سے وعدہ خلافی کی ہے اور لازماً کرتی رہیں گی۔ فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے نہ مسلم لیگ تیار ہے نہ تحریک انصاف۔ تحریک لبیک کی 2023ء کی انتخابی مہم کاکلیدی مطالبہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانس سے تمام سفارتی اور تجارتی تعلقات ترک کیے جائیں ہونا چاہیے۔ انتخابات کو اسلامی جذباتیت کو فروغ دینے کے لیے یہ ضروری ہے۔ انتخابات میں مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تحریک لبیک اپنی انتخابی تزویراتی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ 2018 کے انتخابات میں تحریک لبیک کو تقریباً 22 لاکھ ووٹ ملے تھے لیکن قومی اسمبلی میں ایک نمایندہ بھی منتخب نہ ہو سکا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک لبیک ابھی دہریہ جماعتوں سے ملک گیر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پختونخوا، دیہی سندھ اور بلوچستان میں انتخابی کامیابی کے امکانات بہت محدود ہیں۔ انتخابی حلقہ جات کا چناؤ نہایت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے اور صرف ان حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے جائیں جہاں جہاں کامیابی کے امکانات کم از کم 75 فیصد ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق ایسے حلقے 25 سے 35 تک ہیں۔ تحریک لبیک کو فی الفور پنجاب میں حلقہ جاتی تجزیہ کی مہم شروع کر دینا چاہیے اور ان حلقوں میں جہاں کامیابی کی امید وافر ہو اپنا دعوتی اور سیاسی کام منظم اور تیز کر دینا چاہیے۔ اسلامی اتحاد 2018 کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو تقریباً 53 لاکھ ووٹ ملے جن میں سے 82 فیصد ووٹ تحریک لبیک اور جمعیت علمائے اسلام (جو دیوبندیوں کی نمایندہ جماعت ہے) کو ملے۔ 2023ء میں اگر اسلامی حلقوں کو سیاسی کامیابی حاصل کرنا ہے تو تحریک لبیک اور جمعیت علمائے اسلام میں انتخابی اشتراک عمل لازمی ہے۔ اس اتحاد کے بغیر ہمارا دہریہ دشمن یقیناً کامیاب ہو جائے گا۔ لہٰذا ان دونوں جماعتوں میں سیاسی مکالمہ فوراً شروع ہو جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ تحریک لبیک تحریک انصاف اور جمعیت علما مسلم لیگ کے جال سے نکل سکیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہم 2023ء میں 2002ء کی بریلوی اور دیوبندی اتحاد کی انتخابی کامیابی پھرحاصل کر لیں گے۔ جاوید اکبر انصاری