تحریک لبیک پر پابندی اور ہمارے لیے سبق
تحریک لبیک پر پابندی اور ہمارے لیے سبق ملک میں ۸۷ تنظیمیں بین ہیں اور ان میں اکثر تنظیمیں وہ ہیں جو دعوت دین سے متعلق ہیں۔ مشرف کے دور سے anti-terrorism laws کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے تحت ہزاروں اسلامی کارکن لاپتہ ہیں۔ بنیادی طور پر یہ قانون اسلام کے ریاستی اظہار کو محدود کرنے کے لیے اور دہریہ درستوری نظام میں جو جمہوری حقوق عوام کو حاصل ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ آج تحریک لبیک اس کا شکار ہے اور ا س کا اگلا ہدف جمعیت علمائے اسلام ہے۔ چونکہ اس قانون کا ماخذی اور بنیادی تصور دہشت گردی مبہم اور پیچیدہ ہے لہٰذا یہ ہر اسلامی جماعت (بشمول جماعت اسلامی) اور اس کے ہر کارکن کے سر پر ایک ننگی تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ غیر سیاسی اسلامی صف بندیاں (مدارس، مساجد، خانقاہیں) بھی اس کے ظلم سے محفوظ نہیں۔ پاکستان کا ریاستی ادارتی نظام سامراج کا تسلسل ہے۔ ہر ریاستی ادارہ (عدلیہ، انتظامیہ، فوج، کارپوریشنیں، میڈیا وغیرہ) برطانوی سامراج کے وضع کردہ خطوط پر منظم ہے۔ دستور بھی انہی خطوط پر منظم کیا گیا ہے۔ دہریہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی کارفرمائی کا مقصد تحکم قانون سرمایہ کی تنفیذ ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں تحفظ قانون سرمایہ کا دائرہ کار محدود ہے اور اس تحدید کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اسلامی معاشرت کاپھیلاؤ اس تحکیم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ تحکیم قانون سرمایہ جو انفرادی آزادیاں فراہم کرتا ہے اسلامی گروہ ان کا ”غلط“ استعمال کرتے ہیں۔ ”غلط“ ان معنوں میں کہ سول سوسائٹی میں ضم نہیں ہوتے بلکہ ان وسائل کو اسلامی معاشرت، علمیت اور ادارتی صف بندی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے سامراج نے دو حکمت عملیاں اختیار کی ہیں۔ ایک طرف سامراج کی یہ کوشش ہے کہ اسلامی تعلیمات کو یوں مسخ کرے کہ اسلامی انفرادیت اور اجتماعیت سرمایہ دارانہ معاشرت (سول سوسائٹی) اور ریاستی نظام میں ضم ہوتی چلی جائے۔ دوسری حکمت عملی اسلامی گروہوں کو ان سرمایہ دارانہ انفرادی اور اجتماعی حقوق سے محروم کرنا ہے جو دہریہ ریاستی نظام تحکیم قانون سرمایہ کے ضمن میں انہیں فراہم کرتا ہے۔ عمران خان سامراج کا باج گزار ہے اور جمال عبدالناصر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیک وقت وہ ان دونوں حکمت عملیوں پر عمل کر رہا ہے۔ ایشیا اور افریقا کے ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات ایک بیرونی اجنبی درآمد ہے اور سرمایہ دارانہ روحانیت کی معاشرتی جڑیں نہایت کھوکھلی ہیں اور مذہبی روحانیت اور جذباتیت کاپھیلاؤ عام ہے۔ عوامی کی اسلامی جذباتیت اور روحانیت کے اظہار سے سرمایہ دارانہ سیاسی اشرافیہ خطرہ محسوس کرتی ہے۔ قومی مفاد کا جو دہریانہ تصور سرمایہ دارانہ سامراجی باج گزار حاکموں نے گھڑ رکھا ہے وہ محبان اسلام کے لیے بالکل اجنبی اور غیر مانوس ہے۔ فدایان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم امت کا اجتماعی مفاد مادی ترقی کے حصول میں نہیں سمجھتے نہ وہ سامراجی عالمی نظام میں اپنے ملک کے لیے ایک ترجیحی مقام حاصل کرنے کو قومی مفاد گردانتے ہیں۔ وہ ان ذلیل مقاصد کو اخروی فلاح اور شفاعت رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کے لیے قربان کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں قومی مفاد یہ ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ اسلامی اور دہریہ سرمایہ دارانہ تصورات میں اس اختلاف کا اظہار لازمی طور پر سیاسی سطح پر ہی ممکن ہے لیکن اس بات کا شعور پاکستانی معاشرہ میں ازخود اور حادثاتی ہے اور تفکراتی اور ادارتی نہیں ہے لہٰذا اسلامی جذباتیت کے وقتی اظہار کو منظم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی اور دہریہ سامراجی ریاست اس کو انتظامی قانون کے ذریعہ کچلنے میں کامیاب ہوتی رہتی ہے۔
مثلاً تحریک لبیک کے مظاہروں میں جذباتیت کا اظہار خالصتاً ازخود تھا۔ اور ۷۱۰۲ءاور ۰۲۰۲ءمیں جو مراعات حکومت سے حاصل کی گئیں ان سے اسلامی اجتماعیت کو فروغ دینے کے امکانات پیدا نہیں ہوئے۔ حکومت نے مولانا سعد رضوی اور تحریک کی قیادت کو ۰۲ اپریل سے پہلے جبراً گرفتار کر کے اس قیادت کا عام کارکنوں سے رابطہ منقطع کر دیا ورنہ تحریک لبیک کا تشدد اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ ۷۱۰۲ءکے مظاہرے بھی اس وقت تک پرامن رہے جب تک پولیس نے درندگی کا مظاہرہ نہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک لبیک کوئی تشدد پسند تحریک نہیں۔ وہ ایک خالصتاً مسلکی جماعت ہے جو پہلے دن سے جمہوری مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ وہ ملک کی سب سے مقبول عام اسلامی جمہوری جماعت ہے جس کو ۸۱۰۲ءکے انتخابات میں تقریباً ۲۲ لاکھ ووٹ ملے(ہر دوسری اسلامی جماعت سے زیادہ)۔ وہ فرقہ واریت کی علمبردار نہیں۔ اس نے کبھی کہیں کوئی فرقہ ورانہ فساد برپا نہ کیا نہ اس میں حصہ لیا۔ اس کا سندھ، پنجاب، بلوچستان اور پختونخوا کی پرتشدد تحریکات سے کوئی تعلق نہیں۔ تحریک لبیک کی عوامی مقبولیت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس کا دعویٰ جذباتی، روحانی اور رسوماتی ہے۔ اس کے کوئی نظاماتی اہداف نہیں۔ علمیاتی مباحث اور سیاسی مکالمہ اس کی عوامی دعوت کی بنیاد نہیں۔ وہ صرف شعار اسلامی کے تقدس کی حفاظت چاہتی ہے۔ حکومت ایک ایسی جماعت کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے جس کا عام کارکن اسلامی طرز زندگی کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے پر آمادہ ہے۔ وہ اسلامی طرز زندگی میں سامراجی دراندازی کو برداشت پر رضامند نہیں۔ حکومت تحریک لبیک کے لاکھوں وابستگان کو اسلامی جذباتیت کے اظہار سے روک کر اور ان کی قیادت کو پابہ جولاں کر کے ان مخلصین دین کے زیر زمین جانے اور باضابطہ تشدد کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ حکومت خود تشدد پسندی کو فروغ دے رہی ہے اور اپنے عمل سے ثابت کر رہی ہے کہ دستوری نظام میں اسلامی انفرادیت کے اظہار کے مواقع معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جو دشمنوں سے گھرا ہوا ہے اور جہاں سرمایہ دارانہ ریاستی گرفت معاشرہ پر مضمحل ہے اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں میں عمران خان سب سے بڑا احمق ثابت ہوا ہے۔ اسباق طالبان نے جوتے مار مار کر امریکا کو افغانستان سے نکال دیا ہے۔ اس انخلا کے نتیجہ میں غالباً سامراج کی گرفت پاکستان کے سیاسی نظام پر مضبوط ہو جائے گی اور اس سے دستوری نظام کی تحدید کا شدید خطرہ ہے۔ اسلامی جذباتیت کے دستوری اظہار کو ممنوع قرار دینا ریاست کے لیے ایک اہم ترین وجودی خطرہ ہے۔ یہ مصر کے خلاف اسرائیلی فتوحات سے ثابت ہو چکا ہے۔ اگر بھارت ہم پر حملہ کر دے تو عوام کو اسلامی جذباتیت کی بنیاد پر ہی فوج کی پشت پناہی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ مصر کی طرح اگر پاکستان بھی ایک استثنائی ریاست(یہ تصور نازی فلسفی Schemid کاہے ) بن گئی جہاں استبدادی نظام حکومت دیرپا تسلط حاصل کر گیا تو بوقت جنگ فوج عوامی حمایت سے محروم ہو جائے گی۔ اس لیے دستوری نظام کے تحت اسلامی جذباتیت کے اظہار کے مواقع کی تحدید کو برداشت نہ کرنا چاہیے۔ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے کا احمقانہ فیصلہ ملکی سالمیت کو خطرہ میں ڈالنے اور تشدد پسندوں کی صفوں میں بے اندازہ اضافہ کرنے کا باعث ثابت ہو گا۔ حکومت کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ جس کو چاہے دہشت گرد قرار دے کر اپنی دہشت گردی کا شکار بنا دے۔ اسلامی جماعتوں کو انسداد دہشت گردی قوانین کے دستوری نظام میں سمونے کی قانونی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ جبری نظربندیوں اور قانون سے ماورا گمشدگیوں کا سیلاب تھمے۔ انتظامی قانون اور صدارتی آرڈنینس کا دائرہ کار محدود ہو اور جمہوری عمل کے ذریعہ اسلامی انفرادیت کے اظہار کے مواقع معدو م نہ ہوں۔ اسی میں قومی مفاد کے فروغ کا آئینی ذریعہ ہے۔
ہمیں اس بات کی بھی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ تحریک لبیک کے دلبرداشتہ کارکن تشدد کی راہ اختیار نہ کریں۔ یہ بات ان کارکنوں سے بھی اور سپریم کورٹ میں بھی کی جائے کہ تحریک لبیک کی قیادت نے کبھی پرتشدد رویہ اختیار کرنے کی وکالت نہیں کی اور مظاہروں میں جو پرتشدد کارروائیاں ہوئیں وہ ازخود اور انتشاری تھیں اور ان سے کوئی مثبت نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ تحریک لبیک نے ۸۱۰۲ءکے انتخابات میں ۲۲ لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ یہ ہماری ضرورت ہیں اور ان کے سبب اسلامی ووٹ بینک دوگنا ہو گیا۔ ہمیں بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے کہ ۳۲۰۲ءکے انتخابات میں ہمارا ووٹ بینک دہریہ جماعتیں ہڑپ نہ کر لیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ۳۲۰۲ءکے انتخابات زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتیں متحد ہو کر خالص اسلامی جذباتیت اور روحانیت کی فضا میں لڑیں اور ہمارا شناختی مطالبہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور سامراجی ریاستی دہشت گردی کے خاتمہ کا ہو۔ ہم ابھی سے زیادہ سے زیادہ مخلصین دین بشمول کارکنان کالعدم تحریک لبیک کو بین المسالک مساجد کے نظم میں سمو کر مقامی سطح پر بااختیار بنانے کی کوشش شروع کر دیں۔ ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ اسلامی اتحاد کو ۳۲۰۲ءکے انتخابات میں کم از کم ایک کروڑ ووٹ ملیں۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ ہدف ہے کیونکہ ۸۱۰۲ءکے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو مجموعی طور پر ساڑھے پچپن لاکھ ووٹ ملے تھے۔ انتخابی اور پارلیمانی عمل ریاستی دہشت گردی اور استثنائی ریاست کی دراندازیوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ایک موثر اسلامی بلاک پارلیمان میں کارفرما ہو تو انسداد دہشت گردی قوانین کی نظرثانی پر سامراج نواز حکومت کو مجبور کیا جا سکتا ہے اور مخلصین دین کے مقامی دائرہ اختیارات کی بتدریج توسیع برداشت کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ کرنے کے لیے وسیع اسلامی اتحاد کا قیام اور انقلابی خطوط پر انتخابی عمل سازی ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی ایک انقلابی جماعت ہے اور یہ اسی کی ذمہ داری ہے کہ اس ضمن میں پیش رفت کرے۔جاوید اکبر انصاری