کتب خانہLibrary

انسداد دہشت گردی قانون اور انقلابی انتخابات

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

اینٹی ٹیررازم کا قانون اور اسلامی انقلابی جدوجہد بیش تر دہریہ حکومتوں کی طرح عمران خان کی حکومت بھی اسلام پر حملہ آور ہے۔ اس جارحیت کا مقصد اسلامی جذباتیت کے سیاسی اظہار کو غیر دستوری قرار دینا ہے۔ اس کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ۱۔ اسلامی کارکنوں کی غیر دستوری گرفتاریاں اور گم شدگیاں ۲۔ اسلامی جذباتیت کے سیاسی اظہار کی غیر دستوری تحدیدِ تشہیر اور نشریات پر غیر دستوری پابندی یہ دونوں اقدام جس غیر دستوری قانون کے تناظر میں منظم کیے جاتے ہیں وہ 1997 کا Anti-terrorism Act (ATA)) ہے۔ یہ قانون صرف اسلامی سیاسی اظہار پر پابندیاں عائد نہیں کرتا بلکہ دستوری جمہوریت کو بھی اس سے شدید خطرہ ہے۔ لہٰذا اس غیر دستوری قانون کی تنسیخ کے لیے اسلامی انقلابی دہریہ دستوریت کے حامیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد کر سکتے۔ اس مضمون میں انسداد دہشت گردی قانون کی خصوصیات بیان کر نے کے بعد اس دستوری جدوجہد کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کے تحت اس کی تنسیخ یا ترمیم کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ ATC کی خصوصیات اے ٹی اے میں ”ٹیررازم“ کی کوئی واضح تعریف متعین نہیں۔ صرف ان اقدامات کا ذکر ہے جن کو وہ ٹیررازم کے پھیلاؤ کا ذریعہ گردانتا ہے۔ وہ اقدام ”ٹیررسٹ“ قرار دیے گئے جن کے وقوع پذیر ہونے سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پھیلنے کا امکان ہوتا ہے۔ عدم تحفظ کے اس احساس کو جانچنے کا کوئی پیمانہ تجویز نہیں کیا گیا۔ یہ اے ٹی اے نافذ کرنے والوں کی صوابدید پر ہے۔ ٹیررازم کے اس مبہم تصور کا اطلاق ان واقعات پر ہو گا جو ریاست کے خلاف کی گئی ہیں۔ ریاست کی کوئی واضح تعریف اے ٹی اے میں موجود نہیں۔ عملاً ریاست سے مراد حکومت اور سرکاری ادارے (عدلیہ ،انتظامیہ ، فوج ،پولیس، مقننہ)لیے گئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اے ٹی اے سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو تحفظ فراہم کرنے والا غیر دستوری قانون ہے یعنی اے ٹی اے کے مطابق ہر وہ عمل ٹیررسٹ مانا جائے گا جو سرمایہ دارانہ نظام اقدار کو غیر محفوظ کر دے۔ اے ٹی اے تمام دستوری قوانین سے بالادست ہے۔ اے ٹی اے کے ماتحت ان اقدام پر بھی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے جو ٹیررسٹ اقدام کی فہرست میں شامل نہیں لیکن جن کو ان اقدام سے متعلق قرار دیا جا سکتا ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت جب چاہے جس عمل کو چاہے دہشت گردی سے منسلک قرار دے سکتی ہے۔ لہٰذا اے ٹی اے کا اطلاق قتل غیرت کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے قانون قصاص کو منسوخ کرتا ہے حالانکہ قتل غیرت کے اقدام سے تحفظ عامہ متاثر نہیں ہوتا نہ قتل غیرت کو ریاست کے خلاف جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ تمام سرمایہ دارانہ قوانین کی طرح اے ٹی اے بھی صریحاً ایک غیر اسلامی قانون ہے۔ ٹیررازم کا اطلاق ان اقدام پر بھی لاگو ہو گا جو حکومت یا پبلک(واضع نہیں) کو دھمکا نے کے لیے کیے جائیں گے۔ دھمکیوں سے کیا مراد ہے واضح نہیں۔ اے ٹی اے کی عدالت کسی بھی بیان کو دھمکی قرار دے سکتی ہے خواہ وہ دھمکی حکومت کو دی ہو کسی سرکاری ادارے کو یا کسی سرمایہ دارانہ بزنس کو۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کو اے ٹی اے تحفظ فراہم کرتاہے۔ اے ٹی اے کے تحت پولیس اور مسلح افواج کے حقوق درج ذیل ہیں: ۱۔ ابتدائی تنبیہ کے بعد ٹیررسٹوں پر گولی چلائے ۲۔بغیر وارنٹ کے کسی شخص کو بھی گرفتار کر لے ۳۔ بغیر وارنٹ کسی بھی جگہ گھس کر کسی بھی شخص کو گرفتار کر لے اور جتنا چاہے وہاں سے اسباب ضبط کر لے یہ حقوق دستور پاکستان دفعہ 19 اور سپریم کورٹ کے حکم کی صریح مخالفت ہیں۔ پولیس اور مسلح افواج کے یہ حقوق دستور پاکستان کی دفعہ ۴۱ کی بھی نفی کرتے ہیں۔ اے ٹی اے کا اطلاق ان اقدامات اور دھمکیوں اور احتجاجوں پر بھی ہوتا ہے جو کسی سامراجی حکومت یا سامراجی ادارہ کے خلاف منظم کیے جائیں۔ ہر وہ مذہبی دھمکی جو کسی حکومتی یا سرمایہ دارانہ ادارہ کو دی جائے اے ٹی اے کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی جذباتیت کے سیاسی اظہار کو ممنوع قرار دینا اور جرگوں اور دارالقضا کے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دینا ہے۔

حصہ ۲

اصولاً اے ٹی اے کا اطلاق ہر پرامن مظاہرے پر لاگو کیا جا سکتا ہے کیونکہ خطرہ امن عامہ اور دھمکی کی اصطلاحات غیر واضح ہیں اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی عوامی مظاہرہ مواصلاتی نظام میں مداخلت کے بغیر برپا نہیں کیا جا سکتا۔ تمام جمہوری قوتوں کے لیے اے ٹی اے سب سے بڑی دھمکی اور تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ اے ٹی اے تشہیرِ آراء پر بھی پابندی عائد کرتا ہے۔ اسلامی جذباتیت کے اظہار پر میڈیا کی مکمل ناکہ بندی کا جواز اے ٹی اے کی دفعہ ( (5:2:pفراہم کرتی ہے۔ اے ٹی اے کے تحت ٹیررسٹ سے مراد ہر وہ شخص ہے جو سرمایہ دارانہ سامراجی تحفظ کو غیر مستحکم کرنے کی حمایت کرے۔ اس سے عملاً مراد یہ ہے کہ ہر راسخ العقیدہ مسلمان ٹیررسٹ ہے خواہ اس نے کوئی ٹیررسٹ اقدام نہ کیا ہو اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ کسی بھی عمل کا مقصد عوام، حکومت یا سامراجی اداروں کے لیے عدم تحفظ کا احساس پھیلانا ہے۔صرف وہ مسلمان دستوری حقوق کے مستحق قرار دیے گئے ہیں جو سامراجی سرمایہ دارانہ نظام اقدار کے تحفظ کو قبول کرتے ہیں۔ اے ٹی اے عدالتوں کو اختیار ہے کہ وہ اس امر کا فیصلہ کریں کہ کون سا واقعہ عوام میں غیر تحفظ کا احساس پیدا کر رہا ہے۔ اے ٹی اے عدالتوں کو واقعہ کا محرک جانچنے کی ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دے کر اے ٹی اے قانون کو عملاً مہمل بنا دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ظالمانہ غیر دستوری قانون ٹیررازم کی تعریف میں مقصد عمل کو فیصل قرار دیتا ہے۔ جب کہ اے ٹی اے عدالتیں مقصد عمل کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ کون فیصلہ کرے گا کہ ایک عمل کا مقصد سرمایہ دارانہ نظاماتی عدم تحفظ پیدا کرنا تھا یا نہیں۔ دانستہ یہ سوال اے ٹی اے قانون کے ضمن میں نہیں اٹھایا گیا اور عملاً حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ جس عمل کو بھی چاہے ٹیررسٹ قرار دے۔ اے ٹی اے کا رروائیوں کا دائرہ کار عملاً لامحدود ہے۔ مثلاً اس قانون کی دفعہ دس کے تحت پولیس و سرکاری اہل کاروں کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی مکان میں بغیر وارنٹ گھس کر دستاویز کی تلاشی لیں اور جو چاہیں ضبط کر لیں۔ دفعہ گیارہ املاک کے ضبط کرنے کا اختیار بھی پولیس کو دیتاہے۔ دفعہ گیارہ ٹیررسٹ تنظیم کی تعریف یوں کرتی ہے: ”ہر وہ تنظیم ٹیررسٹ قرار دی گئی ہے جو ٹیررسٹ افعال میں ملوث ہو، ٹیررسٹ افعال کی تیاری کرے یا ان کی حمایت کرے یا کسی دوسری ٹیررسٹ تنظیم کی حمایت کرے۔ اپنی صفوں سے مبینہ ٹیررسٹوں کو خارج نہ کرے۔ اس کی قیادت بالواسطہ یا بلاواسطہ مبینہ ٹیررسٹوں کے ہاتھ میں ہو۔ کون سی تنظیمیں کس وقت اس تعریف پر پوری اترتی ہیں اس کی نشاندہی کی ذمہ داری کسی عدالت کو نہیں حکومت کی وزارت داخلہ کو سونپی گئی ہے اور حکومت کو مبینہ ٹیررسٹ تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ آج تحریک لبیک بین ہوئی ہے۔ کل جمعیت علمائے اسلام بین کی جائے گی۔ ملک کی ہر سیاسی اسلامی جماعت پر اے ٹی اے کی دفعہ گیارہ کی ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔وفاقی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سامراج کی نشان دہی پر مبینہ ٹیررسٹ تنظیموں کی شناخت کریں۔ لیکن چونکہ اے ٹی اے ایک عام فوج داری قانون اور سرمایہ دارانہ قانونی نظام کے ماتحت ہے لہٰذا مبینہ ٹیررسٹ تنظیم کو حکومت اور ہائی کورٹ سے اس حکم امتناعی پر نظرثانی کا اختیار موجود ہے۔حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ جس تنظیم کو چاہے مشکوک ٹیررسٹوں کی فہرست (سیکنڈ شیڈول) میں شامل کر کے اس کی نگرانی کرے۔ یہ نگرانی غیر مبینہ مدت تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اے ٹی اے دفعہ گیارہ کے تحت مبینہ ٹیررسٹ تنظیم کے دفاتر سیل کیے جائیں گے۔ تشہیری مواد پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ املاک ضبط کر لی جائیں گی۔ اس کے قائدین اور کارکنوں کی حکومتی نگرانی کی جائے گی اور حکومت جس کو چاہے ٹیررسٹ قرار دے کر اس کا نا م ٹیررسٹوں کی فہرست میں شامل کر دے۔ اس کے کارکنوں کے اموال پر وفاقی حکومت پابندیاں لگائے گی اور انہیں گرفتار کر کے غیر معینہ مدت تک رکھا جا سکتا ہے۔ مبینہ ٹیررسٹ تنظیموں کے کارکنوں کو قید کی سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔سزا کی مددت ۵ سال رکھی گئ ہے۔

حصہ ۳

اے ٹی اے کی دفعہ گیارہ کے تحت ہر قسم کا ایسا مظاہرہ جس کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے عدم تحفظ کا اندیشہ ہو ٹیررازم کی تعریف میں شامل ہے اور اس قسم کے مظاہرہ کا ہر شریک سرمایہ دارانہ تحفظ کے لیے خطرہ پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ایسے مظاہرہ کے ہر شریک کو دس سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ حکومت یہ فیصلہ کرنے کا بھی حق ہے کہ کون سا عمل سرمایہ دارانہ تحکم کے لیے خطرہ پیدا کرتا ہے اور اس کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ جس کیس کو چاہے اے ٹی اے کی تحویل میں دے دے۔ لیکن اس بات کی اجازت ہے کہ اے ٹی اے کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ اے ٹی اے دفعہ 127A کے تحت مبینہ ٹیررسٹ کو اگر وہ کسی کو ہتھیار فراہم کرنے والا تصور کیا گیا تو ہتھیار استعمال کرنے والے کے مماثل قرار دیا جائے گا۔ اے ٹی اے میں یہ واضح نہیں کہا گیا کہ ٹیررازم کے خلاف اے ٹی اے عدالتوں کے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن دستور پاکستان ہائی کورٹ کے ہر فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ATA 1997 کی تنسیخ کی اسلامی جدوجہد یہ ایکٹ ریاستی سامراجی دہشت گردی کو فروغ دینے کا ایک قانونی تناظر فراہم کرتا ہے۔ یہ قانون کلنٹن سرکار کے شدید دباؤ میں آ کر مسلم لیگ نے پارلیمنٹ میں منظور کروایا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ATA 1997 کے متن کی مشابہت حیرت انگیز حد تک اس قانون سے ملتی جلتی ہے جو چلی کے آمر پنو شے نے اپنے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد نافذ کیا تھا۔ نہ نواز شریف اسلام دشمن ہے نہ عمران خان لیکن دونوں سامراج کے غلام ہیں۔ سامراج کو خوش رکھنے کے لیے اب عمران خان کو پاکستان کے بلاسفیمی لاز کی تنسیخ پر مجبور کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں اسلامی سیاسی جذباتیت کے اظہار کو قانونی طور پر کچلنا آج سامراج کی ضرورت ہے کیونکہ امریکا جوتے کھا کر افغانستان سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا ہے اور اب پاکستان میں اپنے فوجی اڈے اور تنصیبات قائم کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ATA 1997 وہ ظالمانہ قانون ہے جو ان امریکی اڈوں کے خلاف اسلامی عوامی جذباتیت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لہٰذا ATA 1997 کی تنسیخ ان تمام اسلامی اور دہریہ قوتوں کے لیے ضروری ہے جو پاکستان کی خود مختارانہ سالمیت کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں اور اس کو سامراجی دہشت گردی سے بچانا چاہتی ہیں۔ لیکن اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری اسلامی انقلابیوں ہی کی ہے کیونکہ وہ ATA 1997کے اصل شکار ہیں۔ انہیں کے کارکن لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ انہی کی تنظیمیں کالعدم قرار دی جا رہی ہیں۔ انہی کی عوامی سرگرمیوں کی نشریات پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ چونکہ جماعت اسلامی ملک کی تمام اسلامی جماعتوں (سیاسی اور غیر سیاسی) کی رابطہ کی جماعت ہے لہٰذا اسی کو نظاماتی خطرات کا شعور ہے۔ مندرجہ ذیل اقدامات ممکن العمل ہیں: ۱۔ تمام اسلامی جماعتوں میں ATA 1997 کی تنسیخ کی ضرورت واضع کی جانے اور ایک ایسا سیاسی مذہبی اتحاد قائم کیا جاے (جس میں اسلامی سیاسی اور غیر سیاسی جماعتیں شریک ہوں) جو ATC 1997 کی تنسیخ کی لئے ملک گیر جدوجہد کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ ۲۔ یہ اتحاد 2023 کےانتخابات میں ایک مشترکہ اسلامی منشور کی بنیاد پر لڑے اور اس انتخابی مہم کا مرکزی ایشو تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور ATA 1997 کی تنسیخ ہو۔ ۳۔ اس اتحاد کی قیادت جمعیت علمائے اسلام کو دی جائے اور اس میں جماعت اسلامی اور تحریک لبیک شامل ہوں۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتیں (بلخوصوص تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی) اس اتحاد میں شریک ہوں۔ ۴۔ کوشش کی جائے کہ پی ڈی ایم تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور تنسیخ ATA 1997 کے ایشو کو اپنے پروگرام اور انتخابی مہم میں مرکزی اہمیت دے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پی ڈی ایم کے تمام روابط اسلام دشمن پیپلز پارٹی سے منقطع ہو جائیں۔

حصہ ۴

۵۔مسلم لیگ کے عام کارکنوں اور حمایتیوں کے حلقہ میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جذباتیت کو فروغ دینے کے لیے مستقل کوشش کی جائے۔ یہ عمل کسی نہ کسی حد تک تحریک انصاف کے عام کارکنوں میں بھی جاری کیا جائے بالخصوص ان طبقوں میں جو پہلے اسلامی جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں۔ ۶۔اسلامی اتحاد فی الفور فرانس سے تمام ثقافتی و تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی عوامی مہم چلائے اور کوشش کرے کہ ہر محلہ میں جمعہ کے خطبات میں فرانس میں جاری اسلام دشمن اقدامات کی تشہیر ہو اور فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ زور و شور سے پیش کیا جائے اور مقامی تاجروں سے فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی درخواست کی جاتی رہے۔ 2023 تک فرانس مخالف عوامی تحرک اپنے عروج کو پہنچ جائے۔ ۷۔ اسلامی اتحاد فی الفور ایک ملک گیر وکلا کی مجلس قائمہ قائم کرے جس میں چوٹی کے وکلا شامل ہوں۔ وکلا کمیٹی کے دو فرائض ہوں: ۱۔ تحریک لبیک کے کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں تیاری اور پیشی۔ اس کمیٹی کے کام کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ ۲۔ اے ٹی اے کے قانون کی ایسی ترمیم کی تیاری جو عملاً اس کی تنسیخ پر منتج ہو۔ یہ ترمیمی بل کمیٹی کے قیام سے زیادہ سے زیادہ تین مہینہ بعد قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے۔قومی اسمبلی میں یہ بل جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور ہم خیال مسلم لیگی اراکین کے ساتھ مل کر پیش کریں اور اس بل کی بھی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔