بین الاقوامی قانون
بین الاقوامی قانون ممالک گیر سرمایہ دارانہ شکنجہ ہے بین الاقوامی قانون ممالک گیر سرمایہ دارانہ شکنجہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ قانونی نظام اب انٹرنیشنل نہیں رہا بلکہ عملاً ٹرانس نیشنل ہو گیا ہے۔ ٹرانس نیشنل نظام کی کارفرمائی کا مقصد ممالک کی سیاسی اور معاشی خود مختاری پر تحکم قانون سرمایہ کو مسلط کرتا ہے۔ یہ سامراج کی ابھرتی ہوئی نئی تخلیق ہے۔ لیکن اس ملک گیر قانون کی گرفت امریکا اور چین پر قدرے ڈھیلی ہے۔ یعنی ان سرمایہ دارانہ سرخیل ممالک (سپر پاورز) کی خود مختاری کی نسبتاً کم تحدید کرتی ہے اور عالمی سرمایہ کی بڑھوتری اور ارتکاز کو اپنے مفاد میں ترتیب دینے کی محدود گنجائش فراہم کرتی ہے۔ چین اور امریکا کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے لیے خود مختاری ان معنوں میں معطل ہو گئی ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(1) میں درج ہے اور معطلی کا اقرار اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل ویٹو کے تقریباً دو سو میں سے صرف 5 ممالک کو حق دار قرار دیا گیا ہے اور عملاً امریکا، چین اور روس ہی اس حق سے مستفید ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اختیاریت کی یہ تقسیم جس کی ممالک گیر قانون ایک تشریح ہے تہذیب یافتہ اور غیر تہذیب یافتہ دنیا کی تفریق کا عکاس ہے جو ہیوگو گروٹئیس نے کئی سو سال قبل یورپی سامراجی پھیلا ؤ کے جواز کے طور پر مرتب کی تھی۔ لیگ آف نیشنز کے قیام کے وقت سے لے کر آج تک جو بین الاقوامی قانون ممالک پر مسلط کیا گیا ہے اس کے تخلیق کار بڑی سامراجی قوتیں رہی ہیں۔ بین الاقوامی قانون کا کوئی نافذ کنندہ نہیں۔ لہٰذا اصولاً اس کو قانون نہیں کہا جا سکتا۔ عملاً اس کی ذمہ داری جب چاہیں اور جہاں چاہیں صرف سپر پاورز ہی ادا کرتی ہیں۔ ممالک گیر قانون (ٹرانس نیشنل لاء) کے اصول و ضوابط کا اطلاق و معطلی امریکا کے ترجیحات اور خواہشات کے مطابق طے ہوتا ہے۔ امریکا نے بار ہا ممالک گیر قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور کر رہا ہے۔ یوگوسلاویہ اور عراق پر بم باری، غزہ میں اسرائیل کی فوجی اعانت، وینزویلا کے صدر کا اغوا سب اس کی مثالیں ہیں۔ آج ٹرمپ کی حکومت اور اس کی پیدا کردہ MAGA تحریک بہت سے عالمی قوانین اور بین الاقوامی اداروں کو نظرانداز بھی کر رہی ہے اور ان کے انہدام کی جستجو بھی۔ وہ عالمی صحتی نظم (ڈبلیو ایچ او) سے آزاد ہے اور اس عالمی تجارتی ادارہ کو برباد کر رہا ہے۔ وہ کسی بھی آزاد ملک پر حملہ کرنے کا حق کا اقرار کرتا ہے اور کئی لاطینی امریکی ممالک اور ایران اور افغانستان پر حملہ آور ہونے کا بار ہا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔ لیکن اپنی تنفیذی استطاعت سے محرومی کے باوجود ممالک گیر قانون اس ٹرانس نیشنل نظام کا حصہ ہے جو سرمایہ دارانہ تعقل کو تقریباً ہر ملک کی معاشرتی زندگی پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ ممالک گیر قانون ہر ملک میں سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ بھی دیتا ہے اور اس کے عالمی ارتباط کو محفوظ اور منظم بھی کرتا ہے۔ وہ ہر ملکی معیشت پر سرمایہ کہ گرفت مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ رہا ہے۔ ممالک گیر قوانین عالمی سرمایہ دارانہ تحکم کا ایک اہم جزو ہیں۔ عالم گیریت ایک قانونی مہم ہے۔ تحکم قانون سرمایہ تنظیم ریاستی اقدار، تجارتی اور صارفین کے حقوق اور انفرادیت کی ثقافت کو مسخر کرتا ہے۔ سرمایہ کے قانون کی گرفت ہر ملک کے تمام عوامی روابط پر مسلط کی جاتی ہے۔ ممالک گیر قانونی اصول و ضوابط اور ادارے ہر عالمی رابطے کو قانون سرمایہ کی شکل میں ڈھالتے ہیں اور یہ قانونی ڈھانچہ ہر رابطے ، معاہداتی حقوق اور فرائض، تنظیم تحکم اور دائرہ کار متعین کرتا ہے۔ یہ قانونی ڈھانچہ سرمایہ تصوراتِ انفرادیت، حقوق اور ذمہ داریوں کو مفروضہ کرتا ہے اور ان تصورات کے عالم گیری اطلاق کی پیہم جستجو کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظم میں قوت، حقوق، بازار، زر قرضہ سب کو قانونی قالب میں ڈھالا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون کا دعویٰ ہے کہ وہ غیر جانب دار ہے۔ اس کے مطیع اس تعلق سے آنکھیں بند کر کے جس کے نتیجہ میں نافذ کیا گیا ہے، اس کی اطاعت کو قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ سرمایہ دارانہ سیاسی عمل متعدد قانونی دعووں میں سے ان دعووں کا انتخاب کرتی ہے جو اس کی رائے میں بڑھوتری سرمایہ کا ارتکاز سرمایہ کے لیے سب سے مفید تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ منتخب دعوے ایک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام میں حق کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔
ممالک گیر سرمایہ کی عالمی حرکت مغرب نے بین الاقوامی قانون کو عالمی سرمایہ دارانہ سامراجی تحکم کا ذریعہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آج ممالک گیر قانونی نظام ہر ملک کی اندرونی پالیسی سازی پر بھی محیط ہے۔ وہ اس کی توانائی، ماحولیاتی، محنت کش اور فنانشل پالیسیاں وضع کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سامراج نواز ترقی پذیر ریاستوں کی تخلیق ممالک گیر تجارتی، سرمایہ کارانہ اور قرضہ جاتی قانون کی تنفیذ کی مرہون منت ہے۔ باج گزار سامراجی ریاستوں میں ممالک گیر ہیومن رائٹس قوانین اور ضوابط شہریوں اور ریاست کے تعلقات متعین کر رہے ہیں۔ ملکی معاشی پالیسی ممالک گیر اداروں ورلڈ بینک، فیٹف وغیرہ کے زیر نگیں آتی جا رہی ہے اور یہ ادارے اندرونی تحکمی نظام کو گڈ گورنینس کے ضوابط کے مطابق مرتب کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا 2030 کا Sustainable Development Agenda ہر ملک کے قانون سازی شعبہ کے ہر شعبہ کی نگرانی کر رہا ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے ہر شعبہ کی طرح اس کا ممالک گیر قانونی ذیلی نظام بھی تضادات کا شکار ہے۔ مثلاً ممالک گیر تجارتی نظام کے بہت سے ضوابط ممالک گیر ماحولیاتی قانون متصادم ہیں اور ممالک گیر ہیومن رائٹس کے قوانین ممالک گیر تحفظاتی قوانین سے۔ اس قسم کے تضادات کی روشنی میں ممالک گیر قوانین کی تنفیذ مرتب کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ قانونی تعقل جو حقوق اور فرائض اور ملکی خود مختاری کے جائز حدود اپنے مقصد وجود کے ضمن میں کرتا ہے اور چونکہ ممالک گیر قانونی نظام پر سرمایہ دارانہ نظام کا ایک ذیلی شعبہ ہے لہٰذا یہ وجہ وجود مستقل بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام عدالتوں، ٹریبیونلز، معاشی تنظیموں، نگران کمیٹیوں اور قانونی مشیروں سے بھرتا جا رہا ہے۔ صرف طاقت ور سرمایہ دارانہ ممالک یا ان کے زیر پناہ ممالک ہی ان ادروں کی کارفرمائی کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ ممالک گیر قانون اور سرمایہ دارانہ ملکیت ممالک گیر قانون سازی کا ایک اہم مقصد سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ اور فروغ ہے۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کی سب سے ترقی یافتہ شکل کارپوریشن ہے۔ سامراجی نظام ریاستی قوت اور سرمایہ دارانہ دولت کے اشتراک عمل کے نتیجہ میں وجود میں آیا۔ ولندیز، فرانس اور برطانیہ نے سامراجی دور کی ابتدا میں اپنی کالونیوں میں کارپوریشنیں (جوائنٹ اسٹاک کمپنیاں) قائم کیں اور ان کمپنیوں کی فوجی اور انتظامی امداد کی۔ بین الاقوامی قانون (ممالک گیر قانون نہیں) ویسے تو صرف ممالک کے عالمی تعلقات سے بحث کرتا ہے لیکن اس کے تصورات ملکی تحکم، معاہداتی ضوابط ، قانون جنگ وغیرہ سب تصورات سرمایہ دارانہ ملکیت، معاہدہ سازی اور قانون ضابطگی عمل سے ماخوذ ہیں۔ انہی تصورات کی تشریح موجودہ دور کا ماحولیاتی قانون، ہیومن رائٹس کا قانون، قانون دہشت گردی کرتے ہیں۔ ملک گیری قانون ملکوں کو اپنی ماتحتی میں ایسے ہی جکڑتا ہے جیسے عام شہری ایک ملک کے اندر وہاں کے قانون کی پابندی پر مجبور کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کا نظاماتی تحکم کی اطاعت اسی قانونی نظام میں جکڑے جانے سے برآمد ہوتی ہے۔ اس کا ایک اظہار نظام مصالحت کا عالمی پھیلاؤ ہے جو مقروض اور کمزور ملکوں کو اپنے بیرونی سرمایہ کاروں کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے رقوم مہیا کریں۔ اس لیے اس مصالحتی نظام کے ماتحت جو ملک آ جائے وہ صنعتوں کو قومیانے کی بات نہیں کر سکتا۔ قدرتی حادثات اور سیاسی خلفشار کے نتیجہ میں اگر بیرونی سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچے تو اسے پورا کرنے کے لیے adjudicationکا عمل استعمال کیا جاتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے 1968 میں ورلڈ بینک میں ایک مرکز کھولا گیا International Center for Settlement of Investment Disputes کے کام کے نتیجہ میں ممالک گیر قانونی نظام کا سب سے اہم قانون وجود میں آیا۔ The Law of Foreign Investment ۔ اس قانون کے تحت جنوری 2026 تک 3163 معاہدے کیے گیے ہیں جن ممالک نے قبول کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کے تنازعات کو اپنے ملکی قانونی نظام کے تحت نہیں کریں گے بلکہ اپنے عالمی ٹربیونلز کے سپرد کریں گے جو بیرونی کمپنیاں اور ان کے میزبان ممالک کی مشاورت کے سپرد کریں گے۔ ان ٹربیونلز کی کارروائی خفیہ کی جاتی ہے۔ ابھی تک فارن کمپنیوں نے 1402 مقدمات اس قانون کے تحت میزبان ملکوں کے خلاف دائر کیے ہیں اور ممالک گیر ٹربیونلز کے فیصلوں کی تنفیذ کا نظام نہایت سخت ہے۔ کمپنیوں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے میزبان ممالک کے معاشی اثاثے ، عمارت، ہوائی جہاز ، بحری جہاز ضبط کیے جا سکتے ہیں ان مقدمات میں بیرونی کمپنیوں کی وصول یابیاں ہوش ربا ہیں۔ وصول یابیاں 100000000 سے 1000000000000 ڈالر کی رینج میں ہوتی ہیں۔ 2019 میں پاکستان نے دو بیرونی کمپنیوں کو 6000000000000 ڈالر تاوان ادا کیا۔ مجموعی طور پر اس نظام کے تحٹ بیرونی کمپنیوں کو 100000000000000 جنوری 2026 تک حاصل ہو چکا ہے۔ آج غریب ریاستیں ان تینوں کے آگے بے بس اور لاچار بنائی جا رہی ہیں اور یہ ممالک گیر قانونی نظام کا ایک اہم ہدف ہے۔
آج میزبان ممالک بیرونی کمپنیوں کے آگے خوف زدہ ہیں۔ ان کی دھمکیوں کے ڈر سے اپنا محصولیاتی اور زری نظام مرتب کرنے پر مجبور ہیں۔ اور بیرونی کمپنیوں کو دی گئی مراعات قومی سرمایہ دار کمپنیوں سے حکومتی برتاؤ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کا اثر و رسوخ کلیدی شعبوں میں بڑھتا جا رہا ہے۔ ان شعبوں میں توانائی، آبی وسائل، مواصلات، بینکنگ، سونا اور زرعی شعبہ شامل ہیں۔ محنت کش کے قوانین بھی بیرونی کمپنیوں کی ایما پر وضع کیے جا رہے ہیں۔ یہ سب حکومتوں کی خود مختاری کی تحدید اور ان پر سرمایہ داری تعقل کے تسلط کا ذریعہ ہے۔ آج معاہداتی قانونی نظام دنیا بھر میں یکساں ہوتا جا رہا ہے اور کمپنیاں اپنا سرمایہ جہاں چاہیں منتقل کر نے کا حق رکھتی ہیں۔ پوری دنیا میں ایسے آزاد علاقے قائم کیے جا رہے ہیں جہاں میزبان ممالک رضاکارانہ طور پر اپنے ملکی محنت کشی اور محصولیاتی قوانین معطل کر چکے ہیں۔ جنوری 2026 تک ان آزاد علاقوں کی تعداد 141 ملکوں میں 6200 سے تجاوز کر گئی تھی۔ پھر رسدی زنجیروں کا وسیع جال دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور جس سے بڑے صنعت کار، تاجر، مارکیٹس اور ڈیزائنر منسلک ہیں وہ بھی ماہر قانونی مشیروں کے توسط سے قومی ریاستی گرفت سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں۔ ان رسدی زنجیروں کا تحکیمی نظام امریکی اور یورپی سرمایہ دار متعین کر رہے ہیں اور سامراجی خطوط پر مرتب کیا جا رہا ہے۔ غریب ملکوں کی بے بسی ممالک گیر قرضہ جاتی نظام کی کارفرمائی سے عیاں ہے جہاں تمام کاروباری اصول اور ضوابط سرمایہ کار ادارے ہی مرتب کرتے ہیں۔ Futures اور Derivatives کا بڑھتا ہوا کاروبار کی ریگولیشن بیسڈ کمیٹیز نہیں بلکہ انٹرنیشنل ڈیریویٹو ایسوسی ایشن کرتی ہے جو ایک نجی سرمایہ دارانہ ادارہ ہے جس میں حکومتیں شریک کار ہیں۔ ڈیریویٹو سے متعلق تنازعات بھی نجی مصالحت کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں جن میں حکومتی نمائندوں کا کوئی حصہ نہیں۔ ممالک گیر قانون کے ماہرین نے ایک ایسی قانونی ٹیکنالوجی تخلیق کی ہے جس کے اطلاق نے سرمایہ کاروں کا تسلط اور حکومتوں کی بے بسی کو دائمی بنا دیا ہے۔ ملک گیر قانونی نظام آج بیش تر ممالک کے داخلی قانونی نظام ایک سامراجی قانونی نظام میں ضم ہو رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ قانونی تصورات حکومتی اختیارات، مارکیٹ، انفرادیت، معاہداتی تنظیم اور زرعی نظام، مواصلات، محصولیاتی نظام اور ججوں اور وکیلوں کا دائرہ سماجی تصرف ممالک گیر قانون کو سامراجی قالب میں ڈھال رہا ہے۔ دور حاضر کا سامراج مستحکم قانون سرمایہ پوری دنیا پر مسلط کر رہا ہے۔ آج ممالک گیر قانونی شکنجہ سے آزادی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام سے مقابلہ کا ایک اہم جزو ہے۔ ملک گیر قانون کے کئی مظہر ہیں۔ معاہداتی ضوابط، معیارات، تجارتی قوانین، ماحولیاتی قوانین، ہیومن رائٹس لاء ان سب میں سامراجی سرمایہ دارانہ مفروضات اور تصورات کا عکس موجود ہے۔ ہیومن رائٹس لاء سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ کار معاہداتی قانون حکومتی اختیارات کی تحدید کا اہم ذریعہ ہیں۔ ممالک گیر نظاماتی تحکم مستحکم کرنے کے لیے بیش تر ممالک کی عدلیہ اور وکلاء اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت ایسے اداروں اور ماحول میں کی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ قانونی مفروضات اور ترجیحات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ لہٰذا ان اداروں کے تربیت یافتہ وکلاء ملک گیر قانونی نظام کو حادثاتی نہیں فطری اور ناقابل تبدل تصور کرتے ہیں۔ اپنے ملکی نظام عدل (مثلاً شریعت اسلامی ) کی تشریح بھی ممالک گیر قانون کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ نتیجتاً ملکی نظام عدل یا تو مستقلاً معطل ہو جاتا ہے یا ایک مسخ شدہ شکل میں اس کے کچھ دفعات ممالک گیر قانونی نظاماتی تناظر میں ضم کر لی جاتی ہیں۔
معیارات اور ضابطگیاں ممالک گیر نظام میں تیزی سے ایسے معیارات اور ضابطے تخلیق کیے ہیں جو ریاستی معاشی اور معاشرتی کارکردگی کو سامراجی سرمایہ دارانہ اصولوں کے اوپر مستقلاً پرکھتے رہتے ہیں۔ ان معیارات اور ضابطگیوں کے اطلاق کا مقصد سرمایہ دارانہ ملکیت کی نظاماتی تحکیم کو مستحکم بنانا ہے۔ یہ معیارات اور ضابطگیاں ایک نئے قسم کے قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ریگولیشن کی تابع داری ملکی نظام کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے آلہ کار میں تبدیل کر رہی ہے۔ ممالک گیر ریگولیٹری انتظامیہ کئی اہم جگہوں پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ ان شعبوں میں رسدی زنجیروں کی ترکیب، عالمی مصالحت، اشیا خوردو نوش ، تجارت، انٹرنیٹ کی عالمی تنظیم، ماحولیاتی تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف کاروبار شامل ہیں۔ یہ ریگولیٹری نظام ریاستی اختیارات کو محدود کرتی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کے عالمی استحکام کا ذریعہ ہیں۔ آج محنت کشی کے قانون کو عالمی ریگولیٹری ڈھانچہ میں جکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ریگولیٹری نظم سامراج کی تخلیق ہے اور امریکی اور یورپی یونین کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر تخلیق کیا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک سالانہ معیارات کی ایک فہرست جاری کرتا ہے جس میں دنیا کے ممالک کو سرمایہ دارانہ معیارات کے مطابق درجہ بند کیا جاتا ہے۔ اوا ی سی ڈی نے بھی ایسے معیارات کی سالانہ لسٹ جاری کی ہے۔ ملکی ریگولیٹری نظم کو عالمی سرمایہ دارانہ ریگولیٹری امن معیارات کے اجرا کا مقصد نظم کا حصہ بنانا ہے۔ نجی سرمایہ دارانہ ادارے بھی معیارات تخلیق کرتے رہتے ہیں۔ امریکی بار ایسوسی ایشن کی دنیا کے 142 ممالک کی درجہ بندی ایک تحکیم قانون سرمایہ انڈیکس کے مطابقت کرتی ہے۔ 2004 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں سامراجی ممالک کا یہ حق تسلیم کیا گیا کہ وہ ہر ایسے ملک پر حملہ آور ہو سکتے ہیں جہاں ان کی انفرادی رائے میں ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اس اعلامیہ کو سراہتے ہوئے مشہور جرمن فلسفی یورگن ہیبرماس نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ ایک ممالک گیر دستور بنائے جو پوری دنیا میں نافذ کیا جائے۔ ہیومن رائٹس ممالک گیر قانون کی تنفیذ کا ایک اہم مقصد ہیومن رائٹس کو مذاہب عالم کے متبادل کے طور پر نافذ کرنا ہے۔ ہیومن رائٹس صرف ریاست کے اختیارات پر حملہ آور نہیں یہ اپنی اخلاقیات پر بھی حملہ آور ہیں کیونکہ یہ خود کو خودمختاری احساس دلا کر اس کو صرف اپنے نفس امارہ کی غلامی قبول کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ آج معاشرتی زندگی کا کوئی پہلو بھی ہیومن رائٹس کی یلغار سے محفوظ نہیں رہا۔ سب سے اہم ہیومن رائٹ حق سرمایہ دارانہ ملکیت ہے۔ ہر ہیومن رائٹ کا تقاضا اپنی ملکیت منوانے پر اصرار کرتا ہے اور اس کو جیسے چاہے استعمال کرنے کے حق کا دعوے دار ہوتا ہے۔ ممالک گیر معاہداتی قانون اسی دعوے کی تشریح ہے۔ اور اسی کنٹریکٹ لاء کی تنفیذ اور تحفظ کے لیے عالمی ٹربیونل اور مصالحتی نظام قائم ہے۔ چونکہ ملک گیر سرمایہ کا ارتکاز ناگزیر ہے لہٰذا ممالک گیر قانونی نظام اپنی ہیومن رائٹس میں پیوستگی کے دعوے کے باوجود سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ نہیں دیتا۔ بدترین قسم کی معاشرتی ناانصافیوں کو فروغ دیتا ہے اور سرمایہ کے بیش تر محکومین اپنے مفروضہ ہیومن رائٹس سے عملاً محروم رہتے ہیں۔ وہ اپنے جسم کو جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں بلکہ سرمایہ کی اجرتی غلامی پر مجبور (آزاد) رہتے ہیں۔ ہیومن رائٹس قانون ہیومن بینگ کو ریاست کے خلاف جو تحفظ فراہم کرتا ہے وہ سرمایہ صرف کر لیتا ہے۔ ماہرین کی نظاماتی بالادستی سرمایہ کا معاشرتی غلبہ سرمایہ دارانہ علمیت کا غلبہ ہے۔ یہ علمیت جمہوری نہیں ہے۔ یہ سرمایہ کی مستقل بڑھوتری اور ارتکاز کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس علمیت کا اظہار معاشرتی سطح پر ماہرین کے تفوق سے ہوتا ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ عمل تضاداتی ہے لہٰذا اس کی بڑھوتری اور ارتکاز کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقہ وضع نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا دور حاضر میں یہ اختلاف ناگزیر ہے۔ تجارتی ماہر جو راہ تجویز کرتا ہے وہ ماحولیاتی قانون سے مختلف اور ہیومن رائٹس کا ماہر جو رائے پیش کرتا ہے وہ تحفظاتی قانون دان کی رائے سے جدا ہوتی ہے۔ گوکہ سب کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کو فروغ دینا ہی ہے۔ ان آراء کو تطبیق دینا ممالک گیر کے نظاماتی سرخیل قوت کی ذمہ داری ہے جو لازماً اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ تعین ترجیحات کا یہ تضاداتی نظام لازماً معاشرتی بے چینی اور انتشار پیدا کرتا ہے۔ چونکہ ماہرین کے اس تضاداتی ملکی نظام سے معاشرتی انخلا جمہوری عمل کے ذریعہ ناممکن نظر آتا ہے۔
اسلامی ممالک کا رویہ سردست دنیا میں صرف تین اسلامی ممالک ہیں۔ ایران، افغانستان اور یمن۔ باقی 53 ممالک سب سامراج کے باجگزار ہیں اور ممالک گیر عوامی نظام سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ لہٰذا مضمون کے اس حصہ میں ہمارا تخاطب صرف تین اسلامی ممالک سے ہی ہے۔ ممالک گیر قانونی نظام ایک ایسی تہذیب کی پیداوار ہے جو عالمگیر ہے۔ یہ تمام ممالک کے معاشرتی شعبہ پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کی اخلاقی، علمیاتی، ثقافتی اور سیاسی گرفت ہمہ گیر ہے۔ اس کے کئی اظہار اس نوعیت کے ہیں کہ ان سے فی الحال اسلامی ممالک سہو نظر نہیں کر سکتے۔ ان اظہاروں میں حربی ٹیکنالوجی، اے آئی ٹیکنالوجی مقدم ہے۔ اور کسی نہ کسی حد تک جمہوری ادارتی صف بندی نمایاں ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز سے کسی نہ کسی حد تک استفادہ حاصل کرنے پر اسلامی ممالک مجبور ہیں۔ اس مجبوری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بہت سے مخلصین دین ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ ہم سامراج سے مصالحت کا رویہ اختیار کریں اور سامراجی نظام کی تضاداتی تحلیل سے یہ امیدیں وابستہ کریں کہ اس کا متبادل نظام یعنی اسلامی نظام خود بہ خود عالمی سطح پر غالب آ جائے گا۔ مخلصین دین تاتاری اور ہندو تہذیبوں کی مثال بیان کرتے ہیں جن کے تناظر میں اسلامی قوتوں نے نبردآزمائی کا رویہ اختیار نہ کیا بلکہ باطل نظام کی خود تحلیلی کا وسط ایشیا اور انڈونیشیا میں انتظار کیا۔ لیکن یہ مثالیں اس بات کو نظرانداز کرتی ہیں کہ تاتاری اور ہندوؤں کی اخلاقی، علمیاتی اور سیاسی گرفت کمزور تھی۔ اسی وجہ سے دوسری تہذیبوں میں ضم ہوتی چلی گئیں۔ ان کا دعوت کے ذریعے مسخر کیا جا سکتا تھا۔ مغربی تہذیب جاہلیت خالصہ ہے۔ اس جاہلیت خالصہ کی پشت پناہ ایک طاقت ور ریاست ہے جو اس فاسد تہذیب کی اخلاقیات، علمیات اور معاشرت کو عالمی فوقیت دلانے کی پیہم جستجو کر رہی ہے۔ اس لیے سرمایہ کو انفرادیت، معاشرت اور حکومت پر غالب کیا جا رہا ہے۔ جاہلیت خالصہ کا مقابلہ کرنے کے لیے دعوتی عمل کو قوت کے سہارے کی ضرورت ہے۔ اس لیے قلندر لاہور نے فرمایا نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری رسم شبیری کی ادائیگی کے لیے اللہ رب العزت کی اعانت سے تین اسلامی ریاستیں وجود میں آ چکی ہیں جو رزم گاہ حیات کے ہر درجہ پر سامراج سے بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔ یقیناً وہ منتخب سامراجی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں لیکن ان کی پالیسی سازی کا ایک مقصد ان ٹیکنالوجیز کا ایسا استعمال ہونا چاہیے جو سامراجی معاشرتی ، علمیاتی اور معاشی عمل کی تحدید کرے۔ سامراجی غلبہ کا اصل ذریعہ مارکیٹی روابط کا عالم گیر معاشرتی پھیلاؤ ہے۔ ممالک گیر قانونی نظام اس وجہ سے مارکیٹی روابط کے تحت ریاستی اختیارات کو ضم کرنے کے لیے ہے لہٰذا مارکیٹ ریاستی تحکم کا قیام ملکی معیشت اور معاشرت سے سامراجی بے دخلی کے لیے لازم ہے۔ اسلامی ریاستوں کو ہمہ گیر منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے مارکیٹی نظام کی ترتیب نو اپنے منصوبہ کے اہداف کے حصول سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ زر کے بازار اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ کو کالعدم کر دینا چاہیے۔ کلیدی صف بندی کان کنی، توانائی، آبی وسائل وغیرہ کو اپنی تحویل میں لے کر قومیانا اور قرضہ جاتی نظام پر بھی ریاست کا مکمل اختیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک گیر قانونی نظام کی گرفت بتدریج زائل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کیے جا سکتے ہیں۔ 1۔ معاشی خود کفالت کا فروغ۔ پالیسی کے تحت بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر انحصار میں منصوبہ بندی کے تحت کمی۔ ایران نے اس ضمن میں نہایت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بالخصوص آئی ٹی کے شعبہ میں اور کئی بڑے مسلم ممالک پاکستان، ترکی، انڈونیشیا جس حد تک وہ اپنی ریاستی خود اختیاریت محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ایران کے اس تجربہ سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔
2۔ تمام بین الاقوامی مانیٹری تنظیموں سے اتحاد (یہ عملاً امریکی سینکشنز کی وجہ سے ہے) ایران، افغانستان اور یمن کے لیے عملاً ہو چکا ہے۔ 3۔ تمام نجی زری اور سرمایہ مارکیٹوں سے روابط کا خاتمہ۔ بیرونی قرضہ کسی صورت میں نہ لیے جائیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے انخلا 4۔ سامراجی قانون بین الاقوامی سرمایہ کاری اور اس کے تحت قائم کردہ معاشی نظام سے انخلا 5۔ بین الاقوامی تجارت پر ریاستی اجارہ داری کا قیام اور زر مبادلہ کو مارکیٹی عمل سے باہر نکال کر حکومتی تحویل میں لینا۔ 6۔ آئی ٹی اور اے آئی ٹیکنالوجیز پر عوامی استعمال پر تحدید اس کا استعمال صرف دفاعی صف بندی اور منتخب نجی اور سرکاری درآمدی اور برآمدی اداروں تک محدود ہو۔ ملکی سروس کا قیام۔ 7۔ بیرونی سرمایہ کاری صرف جوائنٹ وینچرز اور بی او ٹی معاہدوں کے تحت قبول کی جائے۔ 8۔ وہ ممالک جو ممالک گیر سامراجی نظام سے نکال دیے گئے ہیں شمالی کوریا، روس، بیلاروس، کیوبا ان میں چین شامل نہیں کیونکہ وہ تو ان ممالک گیر قوانین کے اصولوں کے اطلاق کی وکالت کرتا ہے، سے قریبی معاشی تعلقات کا فروغ اور اشتراک عمل کی بنیاد پر غیر سامراجی اصول تجارت اور ترسیل زر کے ضوابط کی تخلیق کی پیہم جستجو۔ 9۔ بین المسالک معیاری نظام سے مکمل انخلا۔ تمام پیداواری اور خدمتیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کو آئی ایس او اور اس نوعیت کے دوسرے سرٹیفکیٹ لینے سے روکا جائے اور ملکی معیاری پیمانہ کی ملکی تنفیذ عمل میں لائی جائے۔ 10۔ ممالک گیر درجہ بندنظاموں سے انخلا کی بھرپور کوشش سامراجی حکومتی اور نجی ادارے، ورلڈ بینک، اقوام متحدہ اور امریکی حکومت کی ایجنسیاں وغیرہ یہ درجہ بند فہرستیں انتظامی، سیاسی، معاشی اور سماجی اطلاعات پر ہر ملک میں اکٹھا کر کے بناتی ہیں۔ اس تخریب کاری کو روکنے کے لیے ان سامراجی اداروں کی ناکہ بندی کی جائے اور ان اداروں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں جو سامراج کو یہ اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ 11۔ چونکہ افغانستان میں ورلڈ بینک اپنی مختلف مانیٹرنگ اور ڈیٹا گیدرنگ کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے لہٰذا اسے فی الفور بند کیا جائے۔ 12۔ اسلامی ممال میں پائی جانے والی تمام این جی اوز فی الفور بند کی جائیں جو بیرونی ممالک سے امداد لیتی ہیں۔ 13۔ اسلامی ممالک میں تمام خدمت خلق فراہم کرنے والے اداروں کو دعوتی اداروں سے منسلک کیا جائے اور خدمت خلق کرنے والی تنظیموں کی نگرانی وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری ہو۔ 14۔ الحمدللہ اسلامی ممالک کا قانونی نظام فقہ حنفی اور فقہ جعفری کا عکاس ہے۔ اس لیے سامراجی سرمایہ دارانہ جیورسپروڈنس اور عدالتی نظام کے مفروضات، تصورات اور طریقہ کار کا ایسا نقد مرتب کیا جائے جس کی رشنی میں ہمارے مفتیان کرام اس نظام کی نامعقولیت، تضادات اور ظلم کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ اس فاسد نظام میں اسلامی احکامات کی پیوندکاری ناممکن ہو جائے۔ 15۔ دفاعی اور آئی ٹی اور اے آئی ٹیکنالوجیز کے معاشرتی اثرات کو رفع کرنے اور ان کی متبادل ٹیکنالوجیز تخلیق کرنے کے لیے رقوم فراہم کی جائیں اور ادارتی صف بندی کی جائے ۔ اس نوعیت کی ابتدائی پیش رفت ایران میں 1999 کے بعد سے جاری ہے۔ یہ سب فی الوقت قابل عمل پالیسیاں ہیں۔ اس پالیسی ایجنڈے پر بڑی حد تک سوویت یونین 1927 سے 1975 تک کامیابی کے ساتھ عمل پیرا رہا ہے۔ ہماری توقع ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ممالک اسلامی قالب میں ڈھل جائیں گے۔ اگر کوئی بڑا مسلم ملک پاکستان، انڈونیشیا، ترکی مصر، اسلامی ہو جائے تو اس پالیسی ایجنڈے پر عمل کرنا آسان ہوتا چلا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ جاوید اکبر انصاری نوٹ: سرمایہ دارانہ ملکیت سے مراد وہ ملکیت ہے خواہ نجی خواہ سرکاری جس کا مقصد وجود بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری سرمایہ ہو۔