کتب خانہLibrary

Feb 21 سامراجی نظام اور اسلامی انقلابی جدوجہد

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

سامراجی نظام اور اسلامی انقلابی جدوجہد ہم سامراج کے سایہ میں جی رہے ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ سامراجی عمل اور سامراجی نظام کی ہیئت اور ماہیت کو اچھی طرح سمجھیں۔اس کے بغیر سامراج سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ سامراجی نظام کے اجزائے ترکیبی سامراجی نظام کی ابتدا پندرھویں صدی عیسوی سے ہوئی جب عیسائیوں نے اندلس سے بڑ ے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا اور ان کو وہاں سے ملک بدر کیا۔ اندلس کی فتح کے بعد اسپین اور پرتگال نے وسطی اور جنوبی امریکا پر ہلہ بول دیا۔ اس یلغار کا مقصد اراضی پر قبضہ کرنا اور معدنی اور زرعی دولت کی لوٹ مار تھا۔ لیکن جو نظریاتی بیانیہ اس دہشت گردی کے جواز کے طور پر مرتب کیا گیا وہ مسلمانوں اور امریکا کے قدیم باشندوں کو غیر انسان گردانتا تھا۔ ان ”غیر انسانوں“ کے قتل عام اور بے دخلی کو جائز قرار دیتے ہوئے اس وقت کے پوپ نے برصغیر جنوبی امریکا کو اسپین اور پرتگال کے درمیان آدھا آدھا بانٹنے کا فرمان جاری کر دیا۔ اصولاً پوپ کی نظر میں تمام عیسائیوں کو غیر انسان تصور کیا گیا۔ صلیبی جنگوں کے وقت سے ہر غیر عیسائی شیطان کا چیلا گردانا جاتاتھا۔ سترھویں صدی میں شیطان کے چیلوں کے گروہ میں امریکا میں اغوا کیے گئے افریقی غلام بھی شامل کر دیے گئے۔ نسل پرستی سامراجیت کی اس وقت سے لے کر آج تک روح رواں ہے۔ ہر غیر مغربی طرزِ حیات غیر مہذب قرار دیا گیا اور مغربی تہذیبی اجارہ داری نے بزور شمشیر اور بذریعہ انجیل انسانیت پرمسلط کر دی گئی۔ نسل پرستی کی نظریاتی توجیہ مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر بھی کی جا سکتی ہے۔ مثلاً امریکا میں بسنے والے لاطینی باشندوں کے خلاف ج نسلی تعصب برتا جاتا ہے وہ لسانی بنیادوں پر ہے۔ سامراجیت ایک سرمایہ دارانہ مہم ہے۔ سامراجی قتل عام اور لوٹ مار کے بغیر یورپی سرمایہ داری کا قیام اور استحکام ناممکن تھا۔ ابتداً سرمایہ نے مقبوضہ علاقوں کی اراضی پر قبضہ کیا اور یورپ کا صنعتی ارتقا اسی زمینی قبضہ کے مرہون منت تھا۔ غیر ممالک کی اراضی اور وسائل پر تسلط قائم رکھنے کے لیے آج بھی عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ تجارت، سرمایہ کاری، سرمایہ دارانہ ضوابط اور سرمایہ دارانہ تخریب کاری اور جنگیں وضع اور نافذ کیے جاتے ہیں۔ سامراج کی دو واضح قسمیں مرتب ہوئیں۔ ہندوستان، چین اور افریقہ وغیرہ میں سرمایہ دار قوتیں ملکی وسائل کو لوٹنے اور کالونیوں کو اپنی مارکیٹ میں تبدیل کرنے لائے۔ امریکا اور آسٹریلیا میں بڑے پیمانہ پر نسل کشی جاری رہی اور وہاں کی اراضی پر سرمایہ داروں نے مستقل قبضہ جما لیا۔ امریکا اور آسٹریلیا میں جو ریاستیں قائم ہوئیں وہاں یورپی تارکین وطن ہی کو سٹیزن گردانا گیا۔ ان ریاستوں کا سیاسی اور معاشی نظام شروع ہی سے مزید مقبوضہ علاقوں کے حصول کے لیے کوشاں رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال اسرائیل ہے جو 1948 سے آج تک مستقل اپنی سرحدوں کو پھیالنے کی جستجو کرتا رہا ہے۔ امریکی سامراج بھی بحرالکاہل کے ساحل تک پہنچنے کے بعد سمندری علاقوں میں سیکڑوں جزائر پر قبضہ کیا اور تقریباً دو سو فوجی تنصیبات پوری دنیا میں پھیلا دیں۔ اس کا سامراجی نظاماتی دعویٰ عالمگیر ہے اور وہ پوری دنیا پر بلا شرکت غیرے حکومت کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ خود امریکی براعظم میں ریاست ہائے متحدہ امریکا نے اپنے قیام کے بعد اٹھائیس بلین ایکڑ اراضی کو اپنے اندر ضم کیا۔ سامراجی نظام کے ابتدائی دور میں غلامی نے بھی عالمی سرمایہ دارانہ ترقی کو ممکن بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ریڈ انڈینوں سے چھینی گئی لاکھوں ایکڑ زمین کی کاشت افریقہ سے اغوا کیے گئے کروڑوں غلام کئی صدیوں تک کرتے رہے اور صنعتی انقلاب ان ہی غلاموں کی پیداکردہ مصنوعات، اجناس اور معدنیات کو خام مال کے طور پر استعمال کرتا رہا۔

حصہ ۲

سرمایہ داری، سامراج اور نسل پرستی کا تعلق نہایت گہرا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ یورپی نسلوں نے مذہبی جواز کی بنیاد پر اپنے سامراجی نسب کا جواز پیش کیا۔ نسل پرستی سرمایہ دارانہ تقسیم وسائل کی نامساویت کا جواز فراہم کرتی ہے۔ نسل پرستی کے ذریعہ محنت کش طبقوں میں تفریق کر کے اجرتوں میں عمومی تخفیف کو ممکن بنایا جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عوامی جدوجہد کی راہ کھوٹی کی جاتی ہے۔ عموماً کالونیوں میں بسنے والے اقوام سرمایہ دار نہیں ہوتے۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کر کے سرمایہ کی گردش کی توسیع ممکن بنائی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا عروج ممکن ہوتا ہے اور سامراجی مقبوضات سرمایہ کے چکر میں شامل ہو کر سرمایہ دارانہ پھیلاؤ کو بھی مہمیز دیتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ سامراج کی علمیاتی بنیادیں یہ بات بھی واضح ہے کہ مقامی باشندوں کی نسل کشی کا اکیلا سبب معاشی نہیں تھا۔ شروع ہی سے یورپی باشندے امریکا، افریقہ اور ایشیا میں بسنے والے لوگوں کو وحشی، اجنبی اور خدا دشمن سمجھتے تھے اور ان سے نفرت بھی کرتے اور لاشعوری طور پر خائف بھی رہتے تھے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کا بنیادی عقیدہ ڈیکارٹ کے مقولہ ”میں سوچتا ہوں لہٰذا میں ہوں“ میں مضمر ہے۔ اس عقیدہ کے مطابق وہ تمام لوگ جو وجودیت کے اس تصور پر ایمان نہیں لائے ہوئے ہیں وہ غیر انسان اور بے عقل ہیں۔ ان میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ Ramon Grosfoguel کے مطابق ”میں سوچتا ہوں لہٰذا میں ہوں کا عملی اظہار ”میں ہوں لہٰذا میں فتح کرتا ہوں“ میں کیا گیا۔ کیونکہ سرمایہ دار ہی انسان ہیں اور چونکہ کالونیوں میں سرمایہ دار ناپیدا ہیں لہٰذا ان کی نسل کشی اور ان کی املاک پر قبضہ صرف جائز نہیں بلکہ انسانوں یعنی یورپی سرمایہ داروں کا فرض ہے۔ صرف نسل کشی ہی نہیں بلکہ غیر انسانوں کی تہذیب، علمیت اور ثقافت کو تباہ اور نیست و نابود کرنا بھی یورپی سرمایہ داروں کا فرض عین ٹھہرا۔ نسلی، علمی اور تہذیبی قتل عام چار گروہوں پر روا رکھا گیا۔ ہسپانیہ کے مسلمانوں پر، امریکا اور آسٹریلیا/نیوزی لینڈ کے قدیم باشندوں پر، افریقی غلاموں پر جو اغوا کر کے لائے گئے اور مفروضہ یورپی جادوگرنیوں پر جو تنویری عقلیت اور عیسائی تعلیمات کو رد کرتی تھیں۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی عالمی غلبہ یورپی تمدن کے پھیلاؤ ہی سے ممکن ہوا۔ سرمایہ داری یورپی معاشرت، سیاست اور نظریاتی تہذیبی آدرشوں سے برآمد ہوا اور اسی تاریخی ورثہ کا تسلسل ہے۔ یورپی تہذیب کی تعلیم یہ ہے کہ انسانیت نسلی طور پر درجہ بند ہے اور حقیقی انسان صرف وہ ہیں جو یورپی نسل کے ہوں یا یورپی علمیت اور معاشرت کو کلی طور پر قبول کر لیں اور نسل ہی کی بنیاد پر سیاسی، معاشی اجتماعیتیں قائم کی جانی چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی عالمی جمہوری ریاست قائم نہ ہو سکی اور تمام صف اول کے مغربی فلسفی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ عالمی جمہوری ریاست کا قیام اصولاً ناممکن ہے۔ ان مفکرین میں رالز، ہابرماس، رارٹی، دیلیوز سب شامل ہیں۔ دورِ حاضر کی سرمایہ دارانہ سامراجیت دورِ حاضر کی سامراجیت کے اجزائے ترکیبی چار ہیں۔ جنگ (عموماً پراکسی جنگ) اور دہشت گردی، رسدی زنجیروں سے مربوط عالمی سرمایہ کاری، پسماندہ ممالک پر ریاستی تسلط اور معاشی استحصال۔ یہ سامراجی نظام پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد امریکا نے قائم کیا اور 1950 کے بعد تقریباً ساٹھ سال تک اس پر امریکا کی حکمرانی قائم رہی۔ اس دوران امریکا نے عالمی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنولوجیکل ارتقا اور محنت کشوں کے نقل مکانی کے ایسے ضوابط اور قوانین وضع اور نافذ کیے جن سے امریکی نظاماتی بالادستی مستحکم ہوئی۔ امریکی ریاستی بالادستی حرام خور مارکیٹوں اور پیداواری صنعتی اور زرعی اور تجارتی منڈیوں پر قائم ہو گئی اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اور حرام خور ادارے امریکی عسکری اور سیاسی سہارے کے بل بوتے پر بڑھوتری اور ارتکاز سرمایہ کے عمل کو جاری رکھے رہے۔

حصہ ۳

عالمی سرمایہ کی اصل پشت پناہ امریکی فوج ہے جس کی تنصیبات دو سو سے تجاوز کر گئی ہیں جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور جنوب بحرالکاہل کے علاوہ تمام سمندری علاقہ اس کے زیر نگیں ہے۔ اس عسکری قوت کے عالمی غلبہ کو بہت محدود بنیادوں پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔ مشرقی اور جنوبی بحرالکاہل میں چین، مشرقی یورپ میں روس اور افغانستان اور وسطی اور مغربی افریقا میں اس سے مجاہدین اسلام برسرپیکار ہیں لیکن ان میں سے کوئی چیلنج بھی عالمی نوعیت کا نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ امریکی قوت روبہ زوال ہے لیکن زوال کی رفتار قدرے دھیمی ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اس زوال کے اسباب داخلی بھی ہیں اور بیرونی بھی۔ امریکا کو ایک سفید فام جمہوریت کے طور پر تعمیر کیا گیا ہے اور وہاں کے مقامی بیانیہ، استبدادی ضوابط، قانونی ڈھانچہ اور معاشی حکمت عملی سے سفید فام نسلی برتری کی جوازیت مستحکم کرتی ہیں لیکن 2040تک سفید فام نسل امریکا میں ایک اقلیت ہو جائے گی۔ امریکی ثقافتی روایات اور تاریخی روایات غیر سفید فاموں کو امریکی تہذیب اور معاشرت میں پورے طور پر سمونے کی راہ میں حائل ہیں اور حالیہ سیاسی خلفشار کی بنیادی وجہ سفید فاموں کا غیر سفید فاموں کی اجنبیت کو برقرار رکھنے پر شدید اصرار ہے اور یہ اصرار امریکی سیاسی نظام کو مستقبل میں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ نسلی تصادم سے امریکی جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن امریکی سرمایہ کاری کو کوئی خطرہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی استعماری تسلط اور لوٹ مار سے سب مستفید ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار بھی، محنت کش بھی، سفید فام بھی، غیر سفید فام بھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عالمی دہشت گردی اور جنگی مہموں کے سب طرف دار اور مداح ہیں۔ سرمایہ کار بھی، محنت کش بھی، سفید فام بھی اور امریکی غیر سفید فام بھی۔ سامراجی ممالک سے سرمایہ کو کالونیوں اور نیوکالونیوں کی طرف بڑھوتری سرمایہ کی تلاش میں منتقل ہوتا رہا ہے۔ کالونیوں کے محنت کشوں کو نہایت سستی اجرت دی جاتی ہے اور بڑے پیمانہ پر سرمایہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف ارسال کیا جاتا ہے۔ یوں سرمایہ کی گرفت اشیا اور زر کے عالمی مارکیٹ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے رہتے ہیں۔ اشیا کے مارکیٹوں پر سرمایہ دارانہ اجارہ داری کی ایک مثال تیل کی منڈی فراہم کرتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے امریکا میں تیل کی ایک خاص قسم جس کو شیل آئل کہتے ہیں میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔ اس کی وجہ سے کئی سال تک امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ کئی سالوں سے اور بالخصوص ۰۲۰۲ کے کووڈ 19 کے بحران کے نتیجہ میں تیل کی عالمی رسد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ قیمتوں کا یہ زوال امریکن شیل آئل (جسے بھاری تیل بھی کہا جاتا ہے) کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ کیونکہ اس صنعت کے پیداواری اخراجات نہایت زیادہ ہیں اور یہ صنعت قرضوں کے بہت بڑے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے اور بہت سی شیل آئل پیدا کرنے والی ملٹی نیشنلز سود اور اصل ادا کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔ سینکڑوں نسبتاً چھوٹی شیل تیل کمپنیاں دیوالیہ وہ رہی ہیں۔ امریکی تیل کی پیداوار میں جو اضافہ ہوا ہے اس نے امریکی سامراج کو ایران اور وینزویلا کے سامراجی جارحیت پر اکسایا ہے۔ جب تک وینزویلا سے امریکا بڑے پیمانہ پر تیل درآمد کرتا تھا اس وقت تک وینزویلا کے بیرونی اثاثوں پر قبضہ کرنا اور اس پر پابندیاں لگانا امریکا کے لیے دشوار تھا۔ لیکن اوباما سرکار نے شیل آئل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر کے وینزویلا کے بیرونی اثاثے ختم کر لیے اور اس پر کڑی پابندیاں نافذ کر دیں۔ ٹرمپ سرکار کی اسرائیل نواز پالیسیاں اور ایران سے نبردآزمائی بھی شیل تیل کی فراوانی نے امریکا کے لیے ممکن بنائیں۔ اب جب شیل تیل کی صنعت دیوالیہ ہو رہی ہے اور امریکی انحصار تیل کی درآمدات پر بڑھنے کا امکان ہے تو عرب ممالک (صرف سعودی عرب اور امارات نہیں بلکہ تمام خلیجی رجواڑوں) پر بائیڈن سرکار اپنے پنجے گاڑ رہی ہے اور ایران سے اوباما کے کیے گئے نیوکلیئر معاہدہ کی توسیع پر آمادہ نظر آتی ہے۔

حصہ ۴

سامراجی نظام کی کارفرمائی نے بڑے پیمانہ پر افرادی نقل مکانی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ افرادی نقل مکانی تاریخ انسانی کی ابتدا سے اسی وقت تک جاری رہاتھا جب تک سرمایہ دارانہ ملکیت معیشتوں پر غالب نہ آئی اور جب تک قومی جمہوریتیں پوری دنیا کے سیاسی نظام پر نہ چھا گئیں۔ امریکا میں جو ریڈ انڈین قبائل صدیوں تک آتے جاتے رہے تھے ان پر امیگریشن کنٹرول نافذ کیا جانے لگا اور جو سفید فام تارکین وطن یورپ سے آتے رہے وہ سب سٹیزن قرار پائے۔ آج نقل مکانی کی رفتار کی تیزی کی بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ جنگیں اور دہشت گردی(شام، لیبیا، فلسطین) اور سامراج اور سامراج نواز حکومتوں کی جمہوری استبدادی لوٹ مار (ہنڈراس، نکاراگوا، گوئٹے مالا، مالی، میانمار)ہے۔ ایگری بزنس کمپنیاں غریب ممالک میں اراضی پر قبضہ کے ذریعہ لاکھوں کروڑوں کاشت کار خاندانوں کو بے دخل کر ہی ہیں اور ان کا یک اجناسی پیداواری نظام غریب ملکوں میں قحط سالی کو جنم دے رہا ہے(میکسیکو، بولیویا، بھارت اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک)۔ امریکا کا لاطینی امریکی ممالک پر سیاسی تغلب اور ان ممالک کے سیاسی اور انتخابی نظام میں منظم دخل اندازی مدتوں سے جاری ہے اور یہی مشرقی وسطیٰ کی طرح لاطینی امریکا سے لاکھوں بے دخل کیے گئے اور بھوکے مرتے ہوئے لوگوں کی نقل مکانی کا اصل سبب ہے۔ سامراجی نظام میں قومی سرحدوں کے پار محنت کشوں کی آمدورفت کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ امریکا، یورپ اور آسٹریلیا میں صرف ان محنت کشوں کو قانونی طور پر قبول کیا جاتا ہے جو باصلاحیت ہوں (ڈاکٹر، انجینئر، اکاؤنٹنٹ، حرام خور) اور یوں غریب ممالک میں تیار ہوتی ہوئی کارآمد افرادی قوت سامراجی مرکز میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ غیر تربیت یافتہ نقل مکانی کرنے والوں میں بڑی تعداد عورتوں کی ہے (2020 میں امریکا میں اکیاون فیصد) یوں غریب ممالک میں (مثلاً فلپائن، تھائی لینڈ، جزائر غرب الہند) میں خاندانی نظام تباہ کیا جاتا ہے اور مغرب کی آزادی نسواں تحریک انہی تارکین وطن عورتوں کو سرمایہ کے چکر میں شمولیت کے لیے آزادی دلواتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک عورتوں کو بازار میں لانا سرمایہ دارانہ معیشت اور معاشرت کو ترقی دینے کا ایک اہم ترین ذریعہ بن گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں عورت بکاؤ مال بنا دی جاتی ہے۔ یہی تحریک نسوانیت کا مقصد ہے۔ سامراجی نظام کی کارفرمائی کا مقصد افرادی قوت اور دولت کو کھینچ کھینچ کر عالمی سرمایہ کے چکر میں شامل کرنا ہے۔ اس عمل کی راہ میں وہ ریاستیں مزاحم ہوتی ہیں جو یا تو سرمایہ دارانہ نظام کو بتدریج رد کرنے پر آمادہ ہوں مثلاً ایران یا وہ جو بڑھوتری سرمایہ کو اپنی قومی معیشت تک محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہوں مثلاً وینزویلا، شمالی کوریا۔ اس بات کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے کہ سیاسی عمل کے ذریعہ کسی ملک میں ایسی حکومت برسراقتدار آ جائے جو بڑھوتری سرمایہ عالمی کی راہ میں رکاوٹ بنے لہٰذا سامراجی ممالک (امریکا، روس، چین، بھارت) کے لیے ناگزیر ہوجاتا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے سیاسی عمل میں تخریب کاری مستقلاً جاری رکھیں۔ اس تخریب کاری کا ہدف نیوکالونی کی فوج بھی ہوتی ہے، سول اشرافیہ بھی اور عوام بھی۔ سامراجی ممالک نیوکالونی کی فوج کے تربیتی نظام میں دخل اندازی کو بہت اہمیت دیتے ہیں (یہی وجہ ہے کہ ایران اور وینزویلا دونوں نے امریکا سے فوجی روابط بالکل منسوخ کر دیے اور عوامی فوج بنانے پر خصوصی توجہ رکھی ہے) سامراجی ممالک نیوکالونیوں میں اپنی ہم نوا سیاسی قوتوں کو عوام عسکری صف بندی میں مدد دیتی ہیں (بولیویا، عراق، شام، لیبیا میں امریکا اور فرانس نے یہ کیا)۔ امریکا میں مدت دراز سے ریاستی ادارے، نجی اور سرکاری یونیورسٹیاں اور تھنک ٹینکس ایسے ہدایت نامے مرتب کر رہی ہیں جو کسی ملک میں حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کے طرائق قدم بہ قدم واضح کرتی ہیں۔یہ ہدایت نامے بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک جمہوری قیادت کی عوامی مقبولیت اور ساکھ کو مجروح کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہدایت نامے یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس طرح حکومت مخالف سیاسی اور عسکری اڈے قائم کیے جا سکتے ہیں اور کس طرح مقامی پولیس اور سکیورٹی نظام پر سامراجی تسلط قائم کیا جا سکتا ہے۔ ان ہدایت ناموں کی روشنی میں 2018 اور 2019 میں برازیل اور بولیویا میں جو روڈ میپ نافذ العمل رہا وہ کچھ یوں تھا:

حصہ ۵

۱۔ پہلے انتخابات کے لیے احتجاجی مہم ۲۔ پھر ان پر جعلی ہونے کا الزام ۳۔ پھر نئے انتخابات جن میں سامراج مخالف قیادت کو حصہ بننے کی اجازت نہیں ۴۔ آخر میں مقامی فوج اور پولیس کی مدد سے سامراج نواز حکومت کا قیام اس سے واضح ہوتا ہے کہ سامراج مخالفت حکومتیں اور سامراج مخالف تحریکیں دائمی طور پر حالت جنگ میں رہتی ہیں (یہ بات اخوان المسلمون اچھی طرح سجھ گئی ہے) اور اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے انقلابی ریاستوں اور انقلابی تحریکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی ماس بیس کو مستقلاً منظم اور متحرک رکھیں۔ سامراج اور اسلامی انقلابی جدوجہد اس تجزیہ میں ہم نے سامراجی نظام کی جو منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے اس میں مرکزی توجہ امریکا پر رکھی ہے۔ اس کی وجہ امریکا کی نظاماتی عسکری برتری اور اس کا عالمی پھیلاؤ ہے ورنہ سامراجی قوتیں تو اور بھی ہیں۔ چین، روس، بھارت اور اسرائیل بھی سامراجی طاقتیں ہیں۔ لیکن امریکا کی طرح یہ سب سامراجی نظام اپنے عزائم فروغ دینے کے لیے جو طرائق اختیار کیے ہوئے ہیں وہ یکساں ہیں۔ ان سب کا انحصار عسکریت، دہشت گردی اور تخریب کاری اور سرمایہ دارانہ تجارت اور سرمایہ کاری پر ہے۔ لہٰذا امریکا کے ضمن میں جو تجزیہ کیا گیاہے وہ تمام سامراجی ممالک کے لیے بھی اصولاً اور عملاً درست ہے۔ لیکن ایک لحاظ سے تجزیہ نامکمل ہے کیونکہ وہ روس، چین اور امریکا میں بڑھتے ہوئے تصادم اور اس کے نتیجہ میں برآمد ہوتے ہوئے امکانات کا احاطہ نہیں کرتا اور بائیڈن کے اقتدار میں آنے سے اس تصادم میں واضح تخفیف کے امکانات پیدا نہیں ہوئے۔سامراجی بڑی قوتوں کے تصادم سے سامراج مخالف ممالک اور سامراج مخالف تحریکیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں جیسے کہ کم از کم 1950 کی دہائی میں غیر جانبدارانہ تحریک اور 1970 کی دہائی میں نیو انٹرینشنل اکنامک آرڈر نے اٹھایا تھا۔ منتخب جغرافیائی علاقوں (جنوبی ایشیا، جنوبی بحرالکاہل او ر مشرقی بحر متوسط) میں متصادم سامراجی قوتیں ایک دوسرے کو محدود کرتی ہیں اور ان علاقوں بالخصوص پاکستان، ایران، انڈونیشیا میں اگر انقلابی سامراج مخالف حکومتیں قائم ہوں تو وہ بڑی حد تک خود مختارقومی پالیسیاں اختیار کر سکتی ہیں (جیسا کہ ایرانی حکومت انقلاب اسلامی کے بعد سے کر رہی ہے)۔ خود مختارانہ پالیسیوں کی تنفیذ کے لیے ضروری ہے کہ: ۔ سامراجی ملکوں سے فوجی روابط کا اختتام ۔ سامراجی ملکوں سے فوجی روابط کا اختتام ۔ سامراجی عالمی سیکورٹی نظام سے انخلا ۔ عوامی عسکری تربیت اور تنظیم کا فروغ ۔ جنوبی ایشیا میں ایران، پاکستان اور ترکی میں سفارتی اور عسکری انضمام ۔ انڈونیشیا اور ملائشیا کی آسیان سے علیحدگی اور آپس میں سفارتی، سیاسی اور عسکری تعاون کا فروغ ۔ بھاری صنعتوں اور خوراکی زراعت کی تیز رفتار ترقی ۔ ملکی مانگ کو مہمیز دینے والی میکرو اکنامک پالیسی کی تنفیذ ۔ بین الاقوامی تجارت (درآمدات و برآمدات) پر انحصار میں تخفیف ۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری پر پابندی ۔ سود اور سٹہ کے کاروبار کی بتدریج تحدید بذریعہ مکمل نیشنلائزیشن ۔ ملک سے باصلاحیت افراد کی منتقلی پر پابندی پاکستان میں اس نوعیت کی پالیسیوں کی تنفیذ کا کوئی امکان نہیں۔ 1947 سے لے کر آج تک پاکستان کی ہر حکومت سامراج کی باجگزار رہی ہے اور ہماری سیاسی، معاشی اور ثقافتی اشرافیہ کے تعلقات سامراجی ممالک (امریکا، یورپ اور چین) سے نہایت گہرے ہیں لیکن اگر اسلامی جماعتیں متحد ہو جائیں تو دہریہ حکومتوں پر سیاسی اور انتخابی عمل کے ذریعہ دباؤ ڈال کر کسی نہ کسی حد تک ان پالیسیوں کو اپنانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اسی قسم کادباؤ دہریہ حکومتوں پر اثر انداز صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب اسلامی جماعتوں کا معاشرتی تحرک وسیع اور مستحکم ہو۔ مثلاً آج ہم کبھی بھی کہیں دہریہ حکومت کو آئی ایم ایف کے حالیہ معاہدہ کی تجدید سے نہیں روک سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس معاہدہ کے خلاف عوامی تحرک منظم کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

حصہ ۶

ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ فی الوقت ہماری سامراج مخالفت کا اظہار ریاستی سطح پر نہیں، معاشرتی سطح پر استوار کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں پیش رفتیں کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی فیصلے پر ایک حلال معیشت کو منظم کرنے کی جدوجہد کریں۔ ملکی کاروبارکا بڑا حصہ نہ سود کے مارکیٹ سے تعلق رکھتا ہے نہ سٹہ کے مارکیٹ سے۔ یہ سب کاروبار حلال ہے۔ اگر اس قسم کے کاروبار کو منظم کر لیا جائے اور اس کے پھیلاؤ کے لیے ایک اسلامی تمویلی نظام کارفرما ہو جائے تو سامراجی سرمایہ دارانہ وسعت پذیری کی راہ میں یہ اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ حلال کاروبار کو دہریہ حکومت کی دست برد سے محفوظ رکھنا بھی اسلامی انقلابیوں کی ذمہ داری ہے۔ دوسرے ہم سامراجی معاشرت کے عوامی پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بھی جدوجہد کر سکتے ہیں۔ اسلامی جذباتیت کو مہمیز دے کر یہ تاثر عام کیا جا سکتا ہے کہ مغربی ثقافت اسلامی تہذیبی نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ دہریہ این جی اوز اور سامراجی ثقافتی ادارے مثلاً یو ایس ایڈ جنسی بے راہ روی پھیلا رہے ہیں اور ہمارے خاندانی نظام کو برباد کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہمیں مصلحین، مدرسین اور انقلابی جماعتوں میں اشتراک عمل کی ضرورت ہے اور اس میں ملک بھر میں پھیلی ہوئی برادریاں ہماری کلیدی حلیف ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سامراج مخالف پروپیگنڈا کو بھی بلند بانگ انداز میں مستقل جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور ملکی نظام میں سامراجی دراندازی اور تخریب کاری کو طشت ازبام کرتے رہنے کے اسلامی جماعتوں کو منظم کوششیں کرنی چاہئیں۔ اس ضمن میں مقتدر اشرافیہ کو بالخصوص ہدف بنایا جائے اور فوج کو بالخصوص یہ احساس دلانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ سامراجی قوتیں ملکی سالمیت کو مستقل کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ جاوید اکبر انصاری