کتب خانہLibrary

قوم پرستی امریکی و دیگر

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

قوم پرستی قوم پرستی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے۔ ہر سامراجی نظام کی طرح سرمایہ داری کو اپنے تحکم کو قائم رکھنے کے لیے ایک اجتماعیت تخلیق کرنا پڑتی ہے۔ اپنی تاریخ میں سرمایہ داری نے دو اجتماعیتیں تخلیق کی ہیں۔ قوم پرستی اور اشتراکیت۔ سرمایہ دارانہ نظام کا تغلب جس اجتماعیت کو تباہ کر کے قائم ہوا وہ عیسائیت ہے۔ قرون وسطیٰ میں یورپ Christondom کہلاتا تھا اور سیاسی اقتدار پوپ اور ہولی رومن ایمپرر کے درمیان منقسم تھا۔ سرمایہ داری کے عروج نے عیسائی سیاسی نظام کو تباہ کر دیا اور پورے یورپ میں قومی ریاستیں قائم کر دیں۔ قوم پرستی کی ابتدا: پہلی قوم پرست ریاست پندرھویں صدی عیسویں میں انگلستان میں قائم ہوئی۔ یہ انگریز بادشاہوں کے آئرلینڈ پر قبضہ کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی۔ قوم پرستانہ نظریات کو فروغ دے کر آئر لینڈ کی سرمایہ دارانہ لوٹ مار کو بھی ممکن بنایا گیا اور انگلستان سے کیتھولک ازم کوبھی دیس نکالا دے دیا۔ انگلستان نے آئرلینڈ کو اپنی کالونی بنا لیا۔ آئرلینڈ کے رائج شدہ سیاسی نظام کو معطل کر دیا گیا۔ آئرش زبان کا استعمال معطل کر دیا گیا اور آئرلینڈ کی بہترین اراضی پر انگریز نوآبادکاروں بسایا گیا۔ کسی کیتھولک کو کوئی سرکاری عہدہ دینا محال قرار دیا گیا۔ انگریز آبادکاروں کے نسلی تفوق کا نظریہ اسی سرمایہ دارانہ لوٹ مار کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ امریکی قوم پرستی: سولھویں صدی میں انگریزوں نے شمالی امریکا پر ایک قومی ریاست کی بنیاد ڈالی۔ آئرلینڈ کی طرح امریکی قوم پرستی کی مذہبی بنیادیں تھیں۔ دونوں علاقوں میں نوآبادکاروں نے دعویٰ کیا کہ خدا کے حکم کے تحت انہوں نے کالونیوں پر قبضہ کیا ہے۔ یہی دعویٰ آج اسرائیل کر رہا ہے۔ لیکن آئرلینڈ پر برخلاف امریکا میں انگریزوں نے نسل کشی اور مقامی آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی اختیار کی۔ مقامی آبادی کی اراضی اور دولت پر قبضہ کرنے کے بعد لاکھوں نوآبادکار کئی صدیوں تک منتقل ہوتے رہے اور اس سفید فام آبادی ہی نے امریکا میں ایک سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست قائم کی۔ اس سفید فام آبادی کی بھرپور حمایت کی بنیاد پر ریڈ انڈینز کا قتل عام اور ان کی دولت کی لوٹ مار انیسویں صدی کے آخر تک جاری رہی۔ سترھویں صدی کی ابتدا ہی سے امریکی سرمایہ دار بڑے پیمانے پر افریقی غلام درآمد کر رہےتھے۔ ان غلاموں کو ان زمینوں پر کام کرنے پر مجبور کیا گیا جو ریڈ انڈین مقامیوں سے چھینی جاتی تھیں۔ اپنی ابتدا ہی سے ریاست ہائے متحدہ امریکا ایک سفید فام جمہوریت قرار پائی۔ اس جمہوری ریات کے قیام کا اولین مقصد سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ اور اس کا فروغ قرار پایا۔ 1880ء تک امریکا نے شمالی میکسیکو کو فتح کر لیا تھا اور ریڈ انڈین آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا تھا۔ انیسویں صدی کے اختتام تک امریکا نے ریڈ انڈینوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہوئے اپنی سرحدوں کو بحر اوقیانوس سے بحرالکاہل تک پھیلا دیا تھا۔ یوں شمالی امریکا کے براعظم پر امریکی ریاست چھا گئی تو ہسپانیہ کی جنگ کے بعد (جو 1890ء کی دہائی میں شروع ہوئی تھی) امریکی سامراج عالمی ہو گیا اور امریکی جمہوری سلطنت میں کیوبا، ہیٹی، فلپائن اور لاؤس اور بحرالکاہل کے جزائر شامل ہو گئے۔ قومی ریاستوں کی خصوصیات: قوم کوئی فطرتی وجود نہیں رکھتی۔ قومیں تخلیق کی جاتی ہیں۔ برصغیر میں انیسویں صدی میں مسلمانوں کو امت سے قوم بنا دیا گیا۔ قوموں کی تخلیق کا عمل سرمایہ دارانہ ہوتا ہے۔ اس عمل کے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ان کا اجتماعی مفاد یعنی قومی مفاد بڑھوتری سرمایہ میں ہے۔ قوم پرست تحریکیں قوم کے انفرادی اور اجتماعی سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کرتی ہیں۔ قوم پرستی کا جذبہ محرکہ حرص اور حسد ہوتے ہیں۔

حصہ ۲

اجتماعی سرمایہ دارانہ حقوق اور بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ قوم کا ایک دشمن تخلیق کیا جائے۔ یہ مفروضہ دشمن ریاست کے اندر بھی پایا جاتا ہے اور ریاست کے باہر بھی۔ مثلاً امریکی قوم کا روایتی دشمن وہاں صدیوں سے بسنے والے غیر سفید باشندے ہیں۔ ان میں سے اہم افریقی ہیں جو 1960ء کی دہائی میں سول لبرٹیز کی تحریک کی کامیابی تک بیش تر شہری حقوق سے محروم تھے۔ قوم پرست جمہوری ریاست کے جائز شہری ایک خاص نسل کے ہوتے ہیں۔ مثلاً امریکا سفید فاموں ی جمہوریت ہے اور 1960ء کے بعد افریقیوں کو جو حقوق دیے گئے اس سے آج بھی ان کی معاشرتی زیردستی میں خاطرخواہ فرق نہیں پڑا۔ 2017ء میں ۔ افریقی امریکیوں کی اوسط سالانہ آمدنی سفید فام امریکیوں سے اکتالیس فیصد کم تھی۔ ۔ افریقی گھرانوں کی دولت سفید فاموں سے اکیانوے فیصد کم تھی۔ ۔ افریقی مرد وں کی یومیہ اجرت سفید فاموں سے تیس فیصد کم تھی۔ ۔ غربت کی شرح سفید فام امریکیوں کے مقابلہ میں دوگنی سے بھی زیادہ تھی۔ ۔ افریقیوں کی بے روزگاری کی شرح سفید فاموں کی شرح بے روزگاری سے دگنی تھی۔ ۔ افریقیوں کی گھروں کی ملکیت سفید فاموں سے اکتالیس فیصد کم تھی۔ ۔ افریقیوں کا زندگی کا دورانیہ سفید فاموں سے چار سال کم تھا۔ ۔ سفید فام امریکی مجموعی قیدیوں کا 37.7 فیصد تے جبکہ مجموعی امریکی آبادی کا وہ 12.7 فیصد تھے۔ اس میں شک نہیں کہ افریقی امریکیوں ہی سے ایک متوسط طبقہ برآمد ہوا ہے اور باراک اوباما صدر بھی منتخب ہوا۔ لیکن وہ "گورے کالے" ہیں جنہوں نے اپنی تہذیبی شناخت ترک کر دی ہے۔ اور ایسے گورے کالے نہایت قلیل مقدار میں ہیں۔ قوم پرستی نسل پرستی ہی کی ایک شکل ہے۔ ایک قوم پرست اپنی نسلی برتری کا زعم رکھتا ہے اور اس وجہ سے بھی قوم پرست ممالک عموماً سامراج نوازی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ (یہ اور بات ہے کہ چھوٹی قوم پرستانہ ریاستیں سامراجی فتوحات کی اہل نہیں ہوتیں)۔ یہ بات بھی امریکن تاریخ سے ثابت ہوتی ہے۔ امریکی قوم کی تخلیق ہی سامراجی جدوجہد کے ذریعہ ہوئی اور 1776ء سے لے کر آج تک امریکا سامراجی پیش رفت جاری ہے۔ امریکی قوم نے اپنی حکومت کی ہر سامراجی مہم اور جنگ (میکسیکو، اسپین، پہلی اور دوسری جنگ عظیم، کوریا، ویت نام، افغانستان، عراق اور تمام غیر ملکی تخریب کاری کے اقدام کی پورے شرح صدر کے ساتھ حمایت) سامراجی اقدام اور قومی مفاد کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور قومی مفاد صرف بڑھوتری سرمایہ میں اضافہ کو تصور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا امریکی عوام کا ہر طبقہ یہاں تک کہ وہاں کے محنت کشوں کی تحاریک اور ٹریڈ یونینز جو بین الاقوامیت کا دعویٰ کرتی ہیں امریکی سامراجی پالیسی کے تسلسل کی پرجوش حمایتی ہیں۔ آج امریکی پالیسی ساز کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی جمہوری نظام کو خطرے میں ڈال کر امریکی قوم کو جو افتراق کا شکار بنا دیا ہے اس کا حل یہی ہے کہ امریکا ایران یا وینزویلا یا روس پر حملہ کر دے۔ اگر بائیڈین سرکار ایسا کرے تو توقع یہی ہے کہ امریکی قوم پھر سے متحد ہو جائے گی کیونکہ اسلحہ کے کاروبار کے چمکنے سے تمام طبقات مستفید ہوں گے اور قومی مفاد (بڑھوتری سرمایہ) سب کا مفاد ہے۔ بائیڈن کو جس دائیں بازو کی یونینوں سے خطرہ ہے اس کی جڑیں امریکی تاریخ میں نہایت مضبوط ہیں۔ یہ ایک ایسی ردعملی تحریک ہے جو امریکا کو ایک سفید فام جمہوریت رکھنا چاہتی ہے اور جو مطالبہ کرتی ہے کہ امریکی حکومت ایسی پالیسیاں اختیار کرے جن کی تنفیذ کے نتیجہ میں امریکی حاکمیت کو قبول کرنے پر پوری دنیا مجبور ہو جائے۔ ظاہر ہے قوم پرستانہ ریاستوں کی خصوصیات امریکا تک محدود نہیں۔ بھارت، چین ، روس، اسرائیل یہ سب قوم پرست جمہوریتیں ہیں۔ یہ نسلی تفوق کو فروغ دے رہی ہیں اور اپنی نسلی اقلیتوں کا ستحصال کر رہی ہیں۔ ان سب کے سامراجی عزائم ہیں اور ان سب کا تصور قومی مفاد بڑھوتری سرمایہ ہے۔

حصہ ۳

مغرب کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ تحکم قومی ریاستوں کے ذریعہ ہی کارفرما ہوتا ہے۔ جیسا کہ دورِ حاضر کے تمام کلیدی مغربی فلسفی رالز، ہابرماس، ڈلتھی، رارٹی وغیرہ تسلیم کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام عالمی نہیں ہو سکتا اور سرمایہ دارانہ ملکیت قومی جمہوری ریاستوں کے سہارے ہی پرورش پاتی ہے ۔ لہٰذا ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں قومی سرمایہ دارانہ ریاستیں سامراجی دہشت گردی جاری رکھیں گی۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہماری جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جدوجہد ہے۔ لہٰذا لازماً ہم قوم پرستی اور قوم پرستی کے تصور قومی مفاد کو رد کرتے ہیں۔ ہم دہری (سیکولر) اور مسلم قوم پرستی میں فرق نہیں کرتے۔ مسلمانوں کا اجتماعی مفاد بڑھوتری سرمایہ نہیں حصولِ رضائے الٰہی میں ہے۔ قوم پرستی خواہ دہری خواہ مسلم، مذہبی انفرادیت کو سرمایہ دارانہ انفرادیت میں ضم کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی غارت گر کاشانہ دین نبوی ہے بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے جاوید اکبر انصاری