کتب خانہLibrary

جماعت اسلامی فلسطینی حمایت (two more articel)

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

جماعت اسلامی کا 4 ستمبر کو کراچی میں فلسطینی جہاد کی حمایت میں عظیم الشان مظاہرہ 4 ستمبر کو جماعت اسلامی نے کراچی میں فلسطینی جہاد کے حق میں ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ ہمارے امیر نے کھلے الفاظ میں ٹرمپ کے مجوزہ منصوبہ کی مخالفت کی۔ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور فلسطینی انقلابی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ جلسہ کا رنگ خالصتاً اسلامی تھا اور مظاہرہ کے ذریعے عوام کی اسلامی عصبیت ابھارنے کی کوشش کی گئی۔ مظاہرہ کے مطالبات میں سوشل ڈیموکریٹ عنصر قطعاً ناپید تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری قیادت اور جماعت کے عام کارکن اب بھی اسلامی انقلابی جذبہ سے محروم نہیں اور وہ وقت دور نہیں جب جماعت پاکستانی سیاست میں اپنی انقلابی اسلامی جدوجہد والی شناخت بحال کرے گی۔ اسلامی عصبیت کو ابھارنا جماعت اسلامی کی درخشاں تاریخ کا روشن پہلو ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ جماعت اسلامی جلد یا بدیر اپنے ماضی کی طرف لوٹے گی۔ یہ جماعت اسلامی کو چھوڑنے کا نہیں اس کو پکڑنے کا وقت ہے۔ جماعت سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ مولانا مودودیؒ کی فکر کی امین ہے اور جب تک مولانا مودودیؒ کی فکر جماعت کے بیانیہ میں منعکس ہوتی رہی اسلامی انقلابی جدوجہد کی طرف جماعت کو راغب کرتی رہے گی۔ ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ انقلابی فکر یہ شعلہ بھڑک اٹھے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ہمیں جماعت سے اپنی وابستگیوں کو مضبوط تر کرنا ہو گا کیونکہ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں جماعت اسلامی، اسلامی انقلابی شناخت اختیار کر سکتی ہے جہاد فلسطین کی حمایت وہ موقع فراہم کرتی ہے جو جماعت کی انقلابی شناخت کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے پہلے ضرورت ہے کہ یہ کامیاب مظاہرہ ہمہ گیر قومی تحریک میں تبدیل کر دیا جائے۔ مظاہروں کے شرکا کو انقلابی ادارتی صف بندی کی ذمہ داری قبول کرنا چاہیے۔ امریکی درآمدات، سرمایہ کاری اور امداد کی عوامی بائیکاٹ کی مہمات منظم کی جائیں اور خطبات جمعہ کے توسط سے حماس کی حمایت کی ضرورت کو عوام میں مشتہر کیا جائے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ مخلصین دین کی جماعتوں کو اس ملک گیر مہم میں شریک کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مجلس وحدت المسلمین سے تعاون کو فوراً قائم کیا جائے کیونکہ وہ بھی جہاد کی پرزور حمایتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام (جو ہماری پرانی حلیف جماعت ہے) اور تحریک لبیک سے بھی تعاون کی درخواست کرنا چاہیے اور تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کو بھی ان کی جہادی ذمہ داریاں باور کرانے کی کوشش کی جائے۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ علما تحریک جہاد فلسطین کی قیادت میں شامل ہوں۔ جاوید اکبر انصاری امین اشعر اسلامی انقلابیوں کا مقصد اسلامی انقلابیوں اور مخلصین دین (بالخصوص علما کرام) کی صفوں میں عدم اتحاد کی سب سے بڑی وجہ نظریاتی ہے۔ انقلاب تاریخ اسلامی کے لیے ایک اجنبی تصور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے لے کر خلافت عثمانیہ کے دور تک یعنی بارہ سو سال کی طویل مدت میں اسلامی ریاست قائم رہی۔ شرع نافذ رہی۔ اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کے تناظر میں کیے جاتے رہے۔ علما اور صوفیا دربار سے لاتعلق رہتے تھے اور نظم اجتماعی کی ذمہ داریاں سلطان ظل اللہ کو سونپ دی گئی تھیں جو وہ عموماً بخوبی ادا کرتا رہتا تھا۔ اس تناظر میں انقلابی عمل کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ سامراجی غلبہ نے حالات بالکل تبدیل کر دیے۔ سلطان ظل اللہ کا وجود باقی نہیں رہا اور نظم اجتماعی پر کفار قابض ہو گئے۔ سامراج نے علما اور صوفیا کے معاشرتی تفوق کو چیلنج تو کیا لیکن اس کو مکمل معطل نہیں کیا۔ سامراج نے علما اور صوفیا کو اپنا روایتی معاشرتی کام تعلیم تبلیغ اور تطہیر نفوس جاری رکھنے کی اجازت دے دی بشرطیکہ علما اور صوفیا عمل جہاد سے لاتعلقی اختیار کریں۔ چنانچہ راسخ العقیدہ مکاتب فکر کے سرچشموں بریلی، دیوبند اور اہل حدیث نے کسی بھی جہادی انقلابی تحریک نہیں اپنایا۔ نہ صادق پوری سیدوں کی تحریک کو، نہ حاجی شریعت اللہ کی فرائضی تحریک کو، نہ جاہد 1857 کو، نہ تحریک ریشمی رومال کو، نہ تحریک خلافت، نہ تحریک احرار کو۔

حصہ ۲

گِلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے کسی بُت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ’ہَری ہَری‘ علما نے اپنے فتاویٰ جاری کیے جس میں جہاد کے لیے ایسی کڑی شرطیں لکھی گئیں کہ عملی جہاد اصولاً ہمیشہ کے لیے معطل قرار دیا گیا اور نظم اجتماعی میں شمولیت کی جو راہ منتخب کی گئی وہ سامراجی نظام کے وضع کردہ دستوری تقاضوں کے مطابق تھی یعنی تحریکات جہاد کو تو رد کیا لیکن قوم پرستانہ تحریکوں تحریک استخلاص وطن اور تحریک پاکستان میں اکابر علما نے بھرپور شرکت کی۔ لبرل سرمایہ دارانہ نظریہ قوم پرستی کو اسلامی جواز فراہم کیا گیا اور علما دہریہ قوم پرست مسلم ریاستوں کے خوشہ چین بن گئے اور یہ نظریاتی کام کیا گیا کہ ریاستی نظم میں مکمل تبدیلی کی کوشش کرنا (یعنی اسلامی انقلابی عمل) دین اور اس کی قدیم روایات اور تعلیمات سے انحراف ہے۔ یہ نظریہ اس بیانیے سے منسلک ہے جو انیسویں صدی میں تردید جہاد کے ضمن میں لکھا گیا اور اس دیرپا سمجھوتا کا آئینہ دار ہے جو علما نے سامراج اور نیم سامراجی ریاستوں کے درمیان کیا ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ علما اور صوفیا کو اس سامراجی سرمایہ دارانہ سمجھوتے کو ترک کرنے پر راضی کیا جائے کیونکہ اسلامی انقلاب کا ایک اہم ہدف علما اور صوفیا کا معاشرتی اور ریاستی اقتدار بحال کرنا ہے۔ جب اسلامی ریاست قائم ہوتی ہے تو اقتدار علما ہی کو سونپا جاتا ہے۔ ایران اور افغانستان دونوں اسلامی ریاستوں میں علما ہی برسر اقتدار ہیں۔ علما کا اقتدار قائم نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ سامراج اور اس کی باجگزار ریاست کے معاہد بنے رہیں۔ جاوید اکبر انصاری ہیومن بینگ کون ہے زمانہ قدیم سے بنی نوع انسان کو مخلوق تصور کیا جاتا تھا۔ بحیثیت مخلوق انسانیت خدائی احکام کی تابع داری کی مکلف تھی۔ مشرکین خدائی اختیارات میں دیوتاؤں، فرشتوں، روح القدس اور منتخب انسانوں کو شریک تصور کرتے تھے۔ عیسائیت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا الوہیت میں شرکت کا عقیدہ تثلیث کی شکل میں چوتھی صدی عیسوی میں اپنایا۔ لیکن اس قسم کا شرک خدا کے وجود سے انکار اور اس سے مکمل بغاوت کا اعلان نہ تھا۔ عیسائی اخلاقیات زیادہ تر انجیل مقدس سے ماخوذ تھیں۔ عیسائی اخلاقیات کے خلاف بغاوت سولھویں صدی میں لوتھر نے کیا جس کا موقف یہ تھا کہ کلیسا کو انجیل مقدس کی مستند تشریح کرنے کی اجارہ داری نہیں سونپی جا سکتی۔ ہر عیسائی حق رکھتا ہے کہ وہ انجیل مقدس کی جو تشریح چاہے کرے۔ اس وقت تک یورپی عوام میں اخلاقی بے راہ روی ایک وبا کی طرح پھیل چکی تھی۔ کلیسا میں مالی کرپشن، جنسی بے راہ روی اور سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں شرکت عام تھی۔ تحریک رینے ساں اور تحریک رومانویت نے اخلاقی اور فکری گمراہی کو نئی نئی راہیں دیں اور مطلق العنان بادشاہوں نے ریاست پر قبضہ جمانا شروع کر دیا اور دہریہ قانون سازی کی تنفیذ ملک گیر سطح پر جاری تھی۔ یہ سرمایہ داری کی نشاۃ ثانیہ کا دور تھا اور اس دور میں سرمایہ دارانہ اخلاقیات پوری عوامی میں خوب پھل پھول رہے تھے۔ اس دور میں خدا سے بغاوت کا رجحان عام تھا۔ عوام اپنی ذاتی زندگی میں عیسائی اخلاقیات کو رد کر رہے تھے۔ اس عملی بے راہ روی کو فکری جواز ڈیکارٹ نے دیا۔ اس نے ثنویت کا نظریہ پیش کیا جس کے مطابق خدا کائنات کو تخلیق کرنے کے بعد اس سے لاتعلق ہو گیا ہے اور کائنات قوانین فطرت کی عمل داری نافذ ہے۔ اس دور میں سائنس نے دعویٰ کیا کہ ان قوانین فطرت کو انسانی اداروں کے تابع کیا جا سکتا ہے اور یوں انسانی ارادہ کائنات کی تخلیق اپنی مرضی کے مطابق کر سکتا ہے۔ یہ انسان پرستی کا کلیدی عقیدہ ہے۔ اس کی نشاۃ ثانیہ بھی سولھویں صدی میں یورپ میں ہوئی اور ہیومن بینگ کا بنیادی آلہ کار ہے۔ جیسا کہ فوکو نے کہ ہیومن بینگ اور ہیومنٹی سولھویں صدی کی پیداور ہیں۔ اس سے قبل کبھی انسان کو ہیومن بینگ تصور نہیں کیا گیا تھا۔ اس تصور کو سولھویں صدی کی تحریک تنویر نے تقویت بخشی۔

حصہ ۳

تحریک تنویر کا کلیدی مفکر کانٹ تھا۔ کانٹ نے کہا کہ ہیومن بینگ کا ذہن صحیح تصورات مرتب کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ حق و باطل میں امتیاز ہیومن بینگ کے ذہن کی کارفرمائی سے برآمد ہوتا ہے۔ حق اور باطل خدا کی دی ہوئی توتعلیمات کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ انسانی دماغ کی پیداوار اور اس کا تعین اس اصول کے اطلاق پر منحصر ہے کہ صرف ایسے اعمال ہیں جو تمام ہیومنٹی کے لیے قابل قبول ہوں۔ اس اصول کو اصول آفاقیت کہا جاتا ہے۔ اور یہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سرمایہ داری کے بنیادی اخلاقیات تین ہیں: 1۔ آزادی یعنی ہیومن بینگ کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ خیر و شر کی تخلیق اپنی خواہش کے مطابق اور اصول آفاقیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر سکتا ہے۔ 2۔ مساوات یعنی ہر ہیومن بینگ کو آزادی سے مکلف ہونے کا ایک حق حاصل ہے۔ 3۔ ترقی۔ اس آزادی کے حق کے لیے ہر ہیومن بینگ کو فطرت کے قوانین پر اپنے ارادہ کو مسلط کرنے کی مستقل جدوجہد کرنی چاہیے۔ ہیومن بینگ کی خصوصیات 1۔ وہ خدا کے وجود کی فعالیت کا منکر اور عملاً خدا کا باغی ہے۔ 2۔ وہ خود تخلیقیت اور خود ارادیت کا دعوے دار ہوتا ہے۔ 3۔ وہ سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) کے حصول کی جدوجہد رکھنے کے لیے سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست تعمیر کرتا ہے۔ یہ معاشرہ اور ریاست جمہوری ہوتے ہیں جن میں ہیومن بینگ کو خود ارادیت کے مواقع راہم کیے جاتے ہیں۔ 4۔ وہ سرمایہ دارانہ حقوق کو عالمگیری اطلاق کو ممکن بنانے کے لیے غیر ہیومن بینگ انسانوں پر ظلم جاری رکھنے کو جائز سمجھتا ہے اور یوں سامراجی نظام کا آلہ کار بنتا ہے۔ 5۔ سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق جو ہر سرمایہ دارانہ ریاست فراہم کرتی ہے انہیں ہی ہیومن رائٹس کہا جاتا ہے۔ 6۔ حقِ حیات۔ یعنی اپنی جان اور محنت کو بڑھوتری سرمایہ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ 7۔ حق ملکیت یعنی اپنے مال کو سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ 8۔ حق رائے دہی یعنی اپنی فکر اور رائے دہی کو سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جو شخص اپنی جان، محنت، ملکیت اور رائے کو فروغِ آزادی یعنی بڑھوتریِ سرمایہ نہیں کرتا وہ ہیومن نہیں ہے اور اس کو قتل کرنا، اس کا مال لوٹنا، اس سے جبراً محنت کرانا اور اس کی زبان بندی کرنا ہیومنٹی کا فرض ہے۔ اس فرض کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کی گئی۔ سب سے پہلے امریکا نے اس فرض کی ادائیگی کے لیے دو کروڑ ریڈ انڈینوں کو قتل کیا اور ایک پورے کا پورا براعظم لوٹ لیا گیا جس کا جواز لاک نے یوں پیش کیا کہ ریڈ انڈین بھینسوں کی طرح امریکی قدرتی وسائل کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔ اسی کے بعد آج تک ساری دنیا میں سامراجی قوتیں یہ قتل عام اور لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہیومن رائٹس کے فروغ کے لیے کروڑوں ویت نامی، عراقی، افغانی، فلسطینی قتل کیے جا تے رہتے ہیں۔ 2004ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے تحت سامراج کا یہ حق تسلیم کیا گیا کہ وہ ہر اس ملک میں فوج کشی کرے جہاں اس کے خیال میں ہیومن رائٹس کی تنفیذ نہیں کی جا رہی۔ دور حاضر کے سب سے اہم فلسفی یورگن ہیبرماس نے اس اعلامیہ کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ ہیومن رائٹس کی عالمی تقدیس قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر حکومت کا دستور ایک ایسے عالمی دستور کی تنفیذ کی ضرورت ہے جو ہر حکومت کی خود اختیاریت کو سلب کرنے اور اس کو سامراجی نظام کے تسلط کو نافذ کروانے کی تجویز ہے۔ ہیومن ازم کی اجتماعی تعبیر ہیومن ازم کی دوتعبیرات ہیں۔ انفرادی ہیومن ازم اور اجتماعی ہیومن ازم۔ لبرل ازم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر فرد اپنی فطرت میں خود غرض، مطلب پرست ہے اور ہر ہیومن بینگ حرص و ہوس، شہوت اور غضب کا پیامبر ہے۔ معاشرہ خود غرضانہ ارتباط عمل سے وجود میں آتا ہے اور ریاست اسی خود غرضانہ معاشرتی ارتباط کو تحکم کے لیے منظم کرتی ہے۔ اشتراکی اور قوم پرست سرمایہ دار ہیومن بینگ کو ایک نوعی وجود تسلیم کرتے ہیں۔ مارکس نے نوعی وجود کو سپیشیز بینگ کہا تھا۔ سپیشیز بینگ اپنے ذاتی سرمایہ دارانہ مفادات کو گروہ یا قوم یا کمیونٹی کے سرمایہ دارانہ مفادات سے متصل کرتا ہے۔ سپیشیز بینگ خود آزادی اور مساوات کا طالب نہیں ہوتا بلکہ ان اہداف کا حصول اپنے منتخب گروہ یا طبقہ یا کمیونٹی کے فروغ کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ وہ گروہی سرمایہ دارانہ مفادات کے فروغ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے پر آمادہ کرتا رہتا ہے۔ وہ جو ریاست قائم کرتا ہے وہ معاشرہ پر مسلط ہوتی ہے کیونکہ اس کی خیالی ریاست نوعی ہوتی ہے۔ عموماً سول سوسائٹی میں سپیشیز بنگ ایک جماعت یا طبقہ تک محدود رہتی ہے اور اس محدود جماعت یا طبقہ کی ریاستی اقتدار پر اجارہ داری تسلیم کرنا سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے۔

حصہ ۴

انفرادی اور اجتماعی تصور ہیومنٹی میں بنیادی اعتقادات و تصورات یکساں ہیں۔ دونوں انسانی الوہیت، خود تخلیقیت، خود ارادیت کا دعویٰ کرتی ہیں۔ دونوں فرد کو حرص اور ہوس کا لازماً اور مستقل اسیر گردانتی ہیں۔ دونوں سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کے وجود کا جواز بیان کرتے ہیں اور سرمایہ دارانہ عمل کو آزادی کا وسیلہ فراہم کرتی ہیں۔ دونوں تصورات سامراجی نظام کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر ہم انسان ہیں ہیومن بینگ نہیں ہیں۔ کیونکہ ہیومن بینگ خدا کا باغی ہے۔ انسان رحمت رب پر انحصار کرتا ہے ہیومن بینگ خود انحصاری ہے۔ انسان اخلاق حسنہ کے فروغ کا داعی ہے۔ ہیومن بینگ اخلاقِ رذیلہ کے فروغ کا داعی ہے۔ انسانی تصورِ معاشرت اور ریاست کے لیے سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی ضروری نہیں ہے جبکہ ہیومن بینگ سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار ہے۔ انسان عالمی عدل کا علم بردار ہے اور ہیومن بینگ سرمایہ داری کے پھیلاؤ کے درپے ہے۔ ہمیں ہیومن بینگ، ہیومن رائٹس اور ہیومن ازم کے تصورات کو قولاً اور عملاً رد کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ جاوید اکبر انصاری