سرمایہ دارانہ نظریہ ضرورت
سرمایہ دارانہ نظریہ ضرورت سرمایہ دارانہ تصورِ عدل کی ایک بنیاد اس کا نظریہ ضرورت ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ لبرل اور اشتراکی سرمایہ دار اس تصورِ عدل پر متفق ہیں۔ ان مکاتب فکرمیں نزاع اس طریقہ کار سے متعلق ہے جس کے ذریعہ سرمایہ دارانہ عدل کی جستجو جاری رکھی جا سکتی ہے۔ لبرل سرمایہ داروں کی رائے میں سرمایہ دارانہ عدل کی جستجو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ 1۔ ایک ایسی ریاست وجود میں آئے جو ہیومن رائٹس معاشرتی سطح پر فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتی ہو۔ 2۔ اور جو ایک مسابقتی مارکیٹ کی آزادانہ کارفرمائی کی پشتیبان بنی رہے۔ اشتراکی سرمایہ دار ہیومن رائٹس کی فراہمی کی لازمیت کو اصولاً رد نہیں کرتے لیکن وہ اس ریاستی عمل کو اور مسابقتی مارکیٹ کی کارفرمائی کو سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کے لیے کافی نہیں سمجھتے کیونکہ 1۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی دولت اور آمدن کی مساویانہ /منصفانہ تقسیم کی ضمانت نہیں دیتی۔ 2۔ اور خود کار مارکیٹی عمل کی قوت متحرکہ بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری سرمایہ ہے اور بڑھوتری سرمایہ لازماً جمہور کی حقیقی ضرورتوں سے متعلق نہیں ہوتی۔ حقیقی ضرورتیں کیا ہیں؟ انسان کی اصلی اور ابدی حقیقی ضرورت یہ ہے کہ اس کو موت اس حالت میں آئے کہ و ہ اللہ کا مطیع ہو۔ لیکن یہ ہیومن بینگ کی اصلی ضرورت نہیں کیوں کہ ہیومن بینگ لاالہ الاانسان کے کلمہ خبیثہ پر ایمان لے آیا ہے ۔ وہ خود ارادیت اور خود تخلیقیت کا دعوے دار ہے اور اخروی حقائق کا منکر۔ ہیومن بینگ کی حقیقی ضرورت دنیاوی زندگی میں منتہائے صرف اور مسرت کا حصول ہے۔ مسرت کا جو تصور لبرل اور اشتراکی سرمایہ داروں میں عام ہے وہ بنیادی طور پر مادہ پرستانہ ہے اور مسرت کو ماپنے کا مقبول عام طریقہ جمہور کے صرف (consumption) ہی میں اضافہ ہے۔ اکنامکس میں اس چیز کو welfare maximization کہتے ہیں۔ اشتراکی سرمایہ داروں کا تصورِ ہستی مادی ہے۔ ہیومن بینگ کی ہستی ایک مادی ہستی ہے اور اس کی بقا کا انحصار ان مادی اشیا کے حصول پر منحصر ہے جو اس سے جدا کائنات میں پائی جاتی ہیں۔ ہیومن بینگ کا اظہار ذات عمل پیداوار اور تصرف میں ہوتا ہے۔ انسان اور کائنات دونوں مادی وجود ہیں اور تصرف فی الارض کے ذریعہ ہی ہیومن بینگ مادی کائنات سے وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ جیسے جیسے تصرف فی الارض کا عمل ترقی کرتا ہے ویسے ویسے ابدی حقائق واشگاف ہوتے جاتے ہیں۔ یہی سائنٹفک منہج کا بنیادی دعویٰ ہے۔ لبرل اشتراکی سرمایہ دارانہ تصور ضرورت کی مادیت کے دو کلیدی ماخذات ہیں۔ قدیم یونانی فلسفی ایپی کیورس اور ڈارون یہ دونوں ہیومن بینگ کو اصلاً ایک حیوانی وجود تصور کرتے تھے۔ یہ دونوں ہیومن بینگ میں حیوانی جبلتوں کی عملی تقدیم پر اصرار کرتے ہیں یعنی ہیومن بینگ اصلاً اور فطرتاً ایک جانور ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز حیات ہیومن بینگ کے تصور ضروریات کو متاثر کرتا ہے۔ اشتراکی سرمایہ دار شکایت کرتے ہیں کہ انیسویں صدی کے ابتدائی دور کی صنعتی ترقی نے مزدوروں کے تصورِ ضرورت کو متاثر کیا ۔ تکریم، احساس فعالیت ان کی محسوس ضرورت نہ رہی ۔ نہ وہ حصول تعلیم و تحفظ صحت کو اپنے لیے ضروری گردانتے تھے۔ چنانچہ اشتراکی سرمایہ دار کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں حقیقی ضرورتوں کی فراہمی سے کمیونسٹ کم مصنوعی ضرورتوں پر زیادہ مرکوز ہوتی ہے۔ امریکی نفسیاتی ماہر ماسلو نے دور حاضر کے سرمایہ دارانہ طرز حیات میں ہیومن بینگ کی حقیقی ضرورتوں کی درجہ بندی کی ہے ۔ اس کی درجہ بندی لبرل اور اشتراکی سرمایہ دار حلقوں میں مقبول عام ہے۔ ماسلو سے ایک صدی قبل مارکس بھی انہی حقیقی ضرورتوں کی درجہ بندی کر چکا تھا۔ ماسلو اور مارکس کے مطابق بنیادی حقیقی ضرورتیں بدنی ہیں۔ پانی ، ہوا، غذا، رہائش، صحت، تعلیم ۔ اس کے علاوہ معاشرہ میں انفرادی احساس تکریم، احساس فعالیت اور حصول تفریحی لذات کو بھی حقیقی ضرورتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ آج ماحولیاتی تحفظ کو بھی حقیقی ضرورتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ضرورت اور طلب ضرورتوں کی یہ مادی تعریف ان معنوں میں مبہم ہے کہ اس کا تعین نہیں کرتی کہ کتنی خوراک، کتنی اور کیسی طبی اور تعلیمی سہولتیں کسی رہائش وغیرہ ہیومن بینگ کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ معاشرتی تکریم، احساس فعالیت اور حصول لذات کے کیا معیارات ہیں۔ یہ تمام سطح زندگی کے اجزا تہذیبی طور پر متعین ہوتےہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادی ضرورتیں (غذا، رہائش، صحت کی سہولیات) دور حاضر کے ہیومن بینگ کی متصور بنیادی ضرورتوں سے بہت کم تھیں اور قرون اولیٰ کا تصور معاشرتی تکریم ماڈرن دور کے تصور معاشرتی تکریم سے بہت مختلف تھا۔ سرمایہ دارانہ طرز حیات معیار زندگی (یعنی تصور ِبنیادی ضرورت) میں مستقل اضافہ کا متقاضی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی کے نتیجہ میں مستقلاً حقیقی افلاس میں کمی اور تقابلی افلاس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ حقیقی افلاس میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ جو مادی وسائل (غذا، تعلیم، رہائش ، اسباب تعیش) ایک عام ہیومن بینگ کو میسر آتے ہیں ان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ارتکاز سرمایہ کے نتیجہ میں غریب اور امیر ہیومن بینگ کے معیار زندگی میں فرق بھی تیزی سے بڑھتا ہے۔ یہ تقابلی افلاس ہے۔ غریب ہیومن بینگ کے حقیقی معیار زندگی میں کتنا اضافہ بھی ہو اس کی سطح زندگی امیر ہیومن بینگ کے مقابلہ میں کم ہی رہتی ہے اور غریب ہیومن بینگ کا احساس محرومی اس کو اپنی بنیادی ضرورتوں میں مستقل اضافہ پر اکساتی رہتی ہیں۔ طلب ضرورت میں مستقل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ سرمایہ کار اشرافیہ طلب زدہ ضرورت کو فروغ دینے پر مجبور ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو جمہوری عمل کا تقاضا ہے کہ عوامی خواہشات پالیسی سازی کا محور بنایا جائے۔ اسی طریقہ سے تحکیم سرمایہ کی جوازیت فروغ پا سکتی ہے۔ دوسرے طلب میں مستقل اضافہ کے بغیر بڑھوتری سرمایہ کا مارکیٹ جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا ہر سرمایہ دارانہ معاشرہ میں ہیومن بنگ کی بنیادی مادی ضرورتیں ہمیشہ بڑھتی رہتی ہیں۔ بنیادی ضرورتوں میں مستقل اضافہ کی جدوجہد دنیا میں جنت بنانے کی ایک لاحاصل کوشش ہے۔ بنیادی ضرورتوں کا تصور تاریخی/تہذیبی ہے فطری نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل طلب کو ضرورت میں مستقل تبدیل کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک ایسے ماس کلچر کو تعمیر کرتا ہے جہاں انفرادیت کی شناخت عمل تصرف سے پہچانی جاتی ہے۔ تصرف اظہار ذات کا محکم وسیلہ بن جاتا ہے۔ اشتراکی سرمایہ دار کہتے ہیں کہ لبرل معاشرہ میں مصنوعی ضرورتوں کا انبار لگ جاتا ہے۔ لیکن حقیقی اور مصنوعی ضرورتوں میں تفریق ناممکن ہے کیوں کہ دو اقسام کا بنیادی تحرک خواہش ہے اور خواہش ایک معاشرتی تعمیر ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل کا ایک منفی نتیجہ خواہشات کی تخریب ہے اور سرمایہ دارانہ معاشرہ میں کوئی ضرورت بھی مصنوعی نہیں ہوتی کیوں کہ ہر ضروررت کا اظہار سرمایہ کی معاشرتی تحکیم کو ممکن بنانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اشتراکی سرمایہ دارانہ ممالک چین اور سوویت یونین میں فیشن کی صنعت کا فروغ اسی رجحان کی عکاسی ہے۔ ضرورتوں کی فطری بنیاد اس میں شک نہیں کہ انسان ایک مادی وجود بھی رکھتا ہے اور اس کائناتی قوتوں کا بھی ایک مادی اظہار موجود ہے اور اس کی ضرورتوں کی ایک مادی بنیاد بھی ہے۔ مثلاً ہر انسان کو بھوک لگتی ہے لیکن بھوک مٹھی بھر کھجوروں سے بھی رفع کی جا سکتی ہے (جیسا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا) اور عالی شان لنچ اور ڈنر سے بھی۔ مادی ضرورتوں کو کم کرنے کی تلقین تمام مذاہب عالم کا طریقہ رہا ہے اور ہمارے صوفیا نے حیوانی جبلتوں کی تسخیر کو روحانی ترفع کے حصول کا ایک بنیادی درجہ بیان کیا ہے۔ ہر فطری ضرورت کا اظہار لازماً تاریخی اور معاشرتی تناظر میں ہوتا ہے اور فطری ضرورتوں کی معاشرتی تعمیر ہی غالب رہتی ہے۔ ان معنوں میں سرمایہ دارانہ عمل نے فطری ضرورتوں پر قبضہ جما لیا ہے۔
فطری ضرورتوں پر سرمایہ دارانہ قبضہ سرمایہ کا معاشرتی تحکم ہیومن ضرورتوں پر تسلط کے ذریعہ میں قائم رکھا جا سکتا ہے اور پس جدیدی سرمایہ دارانہ نظام میں تعقل سرمایہ کا خواہشات پر قبضہ (اشتہارات اور میڈیا کی کارفرمائی کے ذریعے) نہایت مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ آج جس نوعیت کی فطری ضرورتوں کی تشریح رائج ہے وہ سرمایہ دارانہ تحکم کو مستحکم کرتی ہے اور اس تشریح کا ایک مقصد انسان کی فطری روحانی ضرورتوں کو مسخ کرنا، کھیل، موسیقی اور فحاشی کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔ عوام میں ضرورتوں کو احساس میں بدلنا ایک تغیراتی عمل ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی مخصوص ضرورتوں کو عملاً کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان ضرورتوں میں اضافہ اور تغیر میں بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنے کو تکمیل ضروریات کا ذریعہ بنا یا جا سکتا ہے ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں بڑھوتری سرمایہ کا عمل بڑھوتری ضروریات پر لازماً منحصر ہے اور جب تک سرمایہ کی بڑھوتری کا عمل جاری رہے گا ضروریات بڑھتی اور متغیر رہتی ہیں ۔ ہیومن بینگ کبھی مطمئن نہیں ہو گا اور بڑھوتری سرمایہ اور ضروریات کا اضافہ اور تنوع ایک دوسرے کا ذریعہ بنتی رہیں گی۔ نفس مطمئنہ کا وجود ہیومن بینگ (سرمایہ دارانہ فرد) کے غلبہ میں بالکل ناممکن ہے۔ ضرورت اور خوش حالی سرمایہ دارانہ جدیدیت میں ارسطو کے تصور خوش حالی کی جو تشریح رائج ہے اس کو دولت مندی کہا گیا ہے۔ مارکس نے دولت مندی (affluence) کی جو تشریح کی ہے اس کے مطابق دولت مندی اس معاشرتی حالت کو کہتے ہیں جہاں ہر ہیومن بینگ اپنی تمام خواہشات اور ضرورتوں کو بلا رکاوٹ پورا کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کلاسیکی لبرل فکر میں خود ارادیت کا فروغ دولت مندی پر منحصر ہے۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی اور تحکم قانون سرمایہ کا فروغ دولت مندی میں اضافہ کا نتیجہ تصور کیا گیا ہے ۔ لیکن سرمایہ کی دولت پر قبضہ کے نتیجہ میں مادی نامساویت لازماً بڑھتی ہیں اور ہیومن رائٹس کی فراہمی عملاً بے معنی ہو جاتی ہے۔ لیکن ماڈرن ازم کی اشتراکی تعبیر دولت مندی کو بحیثیت نظاماتی ہدف نہیں کرتی بلکہ اس کا دعویٰ ہے کہ اگر سرمایہ کو قومی/عالمی سطح پر مجتمع کیا جائے اور اس کی تقسیم اور استعمال منصوبہ بندی کے ذریعہ منظم کی جائے تو وہ ایسی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے جس میں سرمایہ دارانہ انفرادیت خود انحصاری ہو جائے۔ منصوبہ بند اجتماعی سرمایہ کاری تمام مادی ضرورتوں اور خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یوں ہیومن بینگ فطرت پر اپنا ارادہ مسلط کر سکتا ہے اور ایسی دنیا تخلیق کر سکتا ہے جس کا خالق وہ خود ہے۔ ماڈرنٹی کا وجہ الوجود خوش حالی کے حصول کی جستجو ہے۔ خوش حالی کی یہ جستجو خود تخلیقیت کا اظہار ہے۔ خوش حالی کی ماڈرنسٹ جستجو کا پہلا اظہار (جو سولھویں صدی سے ظاہر ہوا اور آج تک کارفرما ہے) سامراج ہے۔ خوش حالی کی جستجو اس وقت آج تک یورپ اور امریکا اور روس اور چین اور بھارت اور اسرائیل تقریباً ایک ارب انسان قتل کر چکا ہے اور پوری دنیا میں لوٹ مار کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ سامراجی حکمت عملی کا بنیادی محرک حصول خوش حالی کی جدوجہد ہی ہے۔ خوش حالی کی جدوجہد کا دوسرا اظہار ماحولیاتی اور وبائی بحران کی شکل میں نمایاں ہو رہا ہے۔ خوش حالی کے حصول کی جدوجہد دنیا کو جنت نہیں جہنم بنا رہی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ کائناتی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سمندری تیزابیت بڑھ رہی ہے۔ جنگلات اور ان میں پائی جانے والی حیاتی اقسام معدوم ہو رہی ہیں۔ 2021ء میں کووڈ نے تقریباً کروڑ انسان مارے اور نئی وبا پھوٹنے کا خطرہ مستقل بڑھتا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ایک صدی کے اندر اندر دنیا انسانیت کے لیے ناقابل رہائش ہو جائے گی۔
یہ سب بھی خوش حالی کی جدوجہد جاری رکھنے کا نتیجہ ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خوش حالی کی جدوجہد نامعقول ہے۔ یہ جدوجہد انسانی محرومیوں اور یاسیت کو فروغ دیتی ہے۔ اور فطرت سے ایسی جنگ جاری رکھتی ہے جس کا لازمی نتیجہ شکست کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ دولت مندی کا عالمی حصول ممکن نہیں کیونکہ جب فرد اپنے نفس کو صرف اور ہوس اور حسد اور غضب کے شیاطین کے سپرد کر دیتا ہے تو اس کی مادی خواہشات اور ضروریات کے بڑھنے کی کوئی انتہانہیں رہتی ۔ وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا کیونکہ اپنے وجود کی روحانیت کا انکار کر دیتا ہے اور اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ اطمینان قلب تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ناممکن ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظاماتی اہداف آزادی، مساوات، خوش حالی نامعقول ہیں۔ انسان فطرتاً ہیومن بینگ نہیں۔ وہ نہ خود تخلیقی ہے نہ کائنات پر اپنا ارادہ مسلط کر سکتا ہے۔ وہ ہدایت الٰہی کا محتاج ہے اور زندگی گزارنے کے صحیح اہداف و اقدار خود متعین کرنے سے قاصر ہے۔ خواہشات اور اجنبیت انسانی وجود مادی ضرور ہے لیکن صرف مادی نہیں۔ انسانی وجود کی نوعیت ملکوتی بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز حیات میں روحانی جبلتوں کے اظہار کو مسخ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سرمایہ دار امیر غریب، دولت مند اور مفلس، مینجر اور محنت کش ، سرکاری اہل کار اور نجی سرمایہ کار، سب بے مقصدیت اور اجنبیت کا مستقل شکار رہتے ہیں۔ سب کے لیے زندگی لایعنی ہو گئی ہے اور آزادی اور خود تخلیقیت کے معاشرتی دعووں کے باوجود سب کے لیے زندگی لاچارگی اور بے چارگی کا مظہر بن گئی ہے۔ انفرادیت سرمایہ دارانہ معاشی عمل میں محصور ہے اور چونکہ بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری سرمایہ کایہ عمل لایعنی ہے۔ لہٰذا اس کی منطق کی اسیر انفرادیت عدم معنویت کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لامعنویت کی تحدید کرنے سے لبرل جمہوری عمل قاصر ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹی عمل میں سرمایہ دارانہ معاشرتی نظام کو جنم دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظم میں گرفتار انفرادیت اصولاً کوئی بھی طرز زندگی اختیار کرنے کا حق ہے لیکن عملاً وہ ہمیشہ اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ طرز حیات قبول کرنے پر مجبور پاتی ہے۔ اس تناظر میں خود ارادیت اور خود انحصاریت کے ماڈرنسٹ دعوے ناقابل عمل ثابت ہوتے ہیں اور سرمایہ دارانہ تعقل کی اسیر انفرادیت نظاماتی دعویٰ آزادی اور خود مختاری اور نظاماتی عمل کے جبر کے مابین معلق ہوتی چلی جاتی ہے۔ ماڈرنٹی کی غیر اقداریت اور خود ارادیت کے دعوے ناقابل حصول ثابت ہوتے ہیں۔ معاشرہ میں سرمایہ دارانہ تعقل کا تسلط خود اختیاریت کی جستجو کو ناممکن بناتا رہتا ہے۔ تکمیل خواہشات کی جدوجہد جب بڑھوتری سرمایہ کی جستجو میں ضم ہو جاتی ہے تو حیاتی لامعنویت کا عام ہونا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں فرد اپنی ضروریات و خواہشات کی قبول کرنے پر مجبور ہے جو بڑھوتری سرمایہ کا عمل وضع کرتا ہے۔ سرمایہ اپنی تکنیکی اختراعات کے ذریعے وقت پر قابض ہو جاتا ہے۔ خود اختیاریت لایعنی ہو جاتی ہے اور فرد ہمہ وقتی طور پر سرمایہ کی غلامی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ سرمایہ کی وقت پر اجارہ داری ریاست جمہوری عمل کے ذریعہ مسلط کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت لازماً غیر محفوظ، دائمی خطرات کا شکار اور تضاداتی ہوتی ہے۔ اس کے اردگرد اشیا کا انبار لگا رہتا ہے اور اس کی مادی ضروریات لامحدود ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ملکوتی/روحانی ضروریات کا احساس فنا نہیں ہوتا مسخ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ تفریح اور تعیش کے ذریعے روحانی تسکین حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہتا ہے۔ سرمایہ کی غلامی دائمی پریشانی کو جنم دیتی ہے۔ مذہب تک کھیل تماشا بن جاتا ہے اور سکون قلب کے حصول کے لیے فرد اولیاءاللہ سے نہیں سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرتے ہیں۔ یہ سب ضروریات کی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ جو معاشرہ بھی سرمایہ دارانہ تعقل کو قبول کر لے گا وہاں فرد ریاست کو اپنے طرز حیات کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گا کیوں کہ یہ سرمایہ دارانہ تعقل کا منطقی تقاضا ہے جس کا اظہار ضروریات میں لامحدود اضافہ اور ان کے حصول کے ذریعہ دائمی ناآسودگی سے ہوتا ہے۔
یاسیت کا خاتمہ وقت کو سرمایہ کی گرفت سے آزاد کرنے پر منحصر ہے۔ اس عمل کو de-commodification of time کہتے ہیں۔ وقت کو سرمایہ کی گرفت سے آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وقت مادی اشیا کی پیداوار تبدل اور تصور میں کم سے کم کھپا یا جائے یعنی مادی خواہشات میں تخفیف۔ یاسیت/اجنبیت مادی دنیا میں پیوستگی سے نجات نہیں پائی جا سکتی۔ وقت کی de-commodification ایک سیاسی عمل بھی ہے۔ دور حاضر مٰں ریاست غیر سرمایہ دارانہ انفرادیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ ریاست ہی وہ قوت ہے جو تحکم قانون سرمایہ کو معاشرتی سطح پر معطل کر سکتی ہے اور وقت کے غیر سرمایہ دارانہ استعمال اور تنطیم کی قدر متعین کر سکتی ہے۔ ریاست ہی وہ قوت ہے جو خود انحصاریت کے فراڈ کو طشت ازبام کر سکتی ہے۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ریاستی عمل عوام کی محسوس ضروریات میں تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ ایک غیر سرمایہ دارانہ اسلامی ریاست کی کارفرمائی ضروریات کی تحدید کے لیے لازمی ہے۔ ریاست غالب معاشرتی تعقل کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کی تخریب کاری ریاستی عمل کے بغیر ناممکن ہے۔ تحریکات اسلامی اور نظریہ ضرورت دور حاضر کی اکثر تحریکات اسلامی (مجاہدین اسلام کے علاوہ) سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں غلبہ دین اور تحفظ دین کی جدوجہد جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر ہی اپنی جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار کر سکتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ تضادات کا اظہار اس کے نظریہ اور عمل میں فرق سے ظاہر ہوتا ہے۔ سرمایہ دارفروغ خود اختیاریت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ عمل فرد کے اختیار کو سلب کر کے اس کو سرمایہ کا غلام بنا دیتا ہے۔ اس بنیادی نظاماتی تضاد کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ عدل کی طرف مراجعت کرنے والی تمام تحریکیں ناکامی کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ ان ناکام تحریکوں میں دور حاضر کی بیش تر اسلامی تحریکیں بھی شامل ہیں۔ دور حاضر کی بیش تر اسلامی تحریکیں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کو اقامت دین کا وسیلہ بھی سمجھتی ہیں۔ ان کی ناکامی کے دو مظاہر ہیں۔ ایک تو یہ ان کی جدوجہد سیکولر جماعتوں کی طرح نہایت محدود نتائج کے حصول کا ذریعہ بن رہی ہے۔ دوسری اور اہم ترین ناکامی یہ ہے کہ اس قسم کی جدوجہد کے نتیجہ میں یہ جماعتیں اپنی اسلامی شناخت کھوتی جا رہی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کے مخلص اور دیانت دار خدام کا روپ اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ بحیثیت اسلامی انقلابی ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ سرمایہ دارانہ ظلم کی وقوع پذیری سہو نظر کریں اور اپنی مزاحمت کو نظریاتی سطح تک محدود کر لیں۔ مثلاً ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ہم ملکی معیشت پر سامراجی غلبہ یا بے روزگاری کے پھیلاؤ یا پانی کی قلت کی سیاسی اور تمدنی مزاحمت نہ کریں۔لیکن ہماری اور دہریہ جماعتوں کی اس قسم کی مزاحمت میں ایک فرق ہونا چاہیے۔ دہریہ جماعتوں کی مزاحمتی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام ساختی تغیرات کے ذریعہ مخصوص سرمایہ دارانہ ناانصافیوں کا دفع کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی انقلابی مزاحمت کا مقصد اس حقیقت کو آشکار کرنا ہوتا ہے کہ کسی مخصوص سرمایہ دارانہ ظلم کی موجودگی اس کے کل نظاماتی جبر اور نامعقولیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اسلامی انقلابی مزاحمتی جدوجہد کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہونا چاہئیں۔ 1۔ مزاحمت یک جہتی نہ ہو بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہمہ گیر جہدوجہد میں پیوست ہو۔ 2۔ مزاحمت کا ایک اہم مقصد سرمایہ دارانہ تحکم اور ساختی کارفرمائی کو کمزور کرنا ہو۔ مثلاً بے روزگاری کے پھیلاؤ کے خلاف جدوجہد محض احتجاج اور مطالبات پر اکتفا نہ کرے بلکہ حلال رزق کی فراہمی کو بھی منظم کرے۔ بازار کی سطح پر غیر سودی اور غیر غراری شمولیت کو بھی فروغ دے۔ پانی کی قلت کے خلاف جدوجہد چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور محلہ تک آب رسانی کے ذرائع کے فروغ کا بھی انتظام کرے۔
3۔ مزاحمت کا فقدان افراد کے ہاتھوں میں نظاماتی اقتدار کا بتدریج اجتماع ہو جو اسلامی اقدار اور اطوار کے حامل ہوں۔ مزاحمتی مہمات کا بنیادی انقلابی مرکز محلہ کی مساجد ہوں اور مساجد کا ایک ایسا ملک گیر نیٹ ورک قائم کیا جائے جو لوکل گورنمنٹ کو غیر فعال بنا دے۔ 4۔ اس امر کا خصوصی انتظام کیا جائے جو مخلصین دین نظاماتی سطح پر بااقتدار بنائے جائیں ان میں اور ان کے ذریعہ عوام اسلامی اطوار اور اخلاقیات فروغ پائیں۔ 5۔ مزاحمتی تحریک عوام کی بڑھتی مادی طلب اور خواہشات کی تصدیق نہ کرے بلکہ مخلصین دین کے ذریعہ عوامی سطح پر قناعت ، ایثار، توکل اور انفاق کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ اس با ت کا خصوصی خیال کیا جائے کہ اسلامی جدوجہد سوشل ڈیموکریٹک قالب میں نہ ڈھل جائے اور اسلامی انقلابی عوام کی نظروں میں سرمایہ دارانہ نظام کے مخلص خادم کا روپ نہ دھار لیں۔ اسلامی دعوت ضرورتوں میں اضافہ کی جوازیت مرتب کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے بلکہ اس کا واحد مقصد مخلصین دین کے نیم ریاستی مقام اقتدار کو فروغ دینا ہو۔ اسلامی ریاست سرمایہ دارانہ ریاست نہیں ہوتی۔ وہ عوام کو یہ دھوکا نہیں دیتی کہ دنیا میں جنت بنائی جا سکتی ہے اور سرمایہ دارانہ عدل ممکن ہے۔ ہمارے کسی امام نے بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو اسلامی ریاست کے فرائض میں شمار نہیں کیا۔ یہ سرمایہ دارانہ ریاست ہی ہے جو ضرورتوں میں مستقل اضافہ کرتے رہنے کا وعدہ کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں سماجی کفالت کو منظم کرنے والے فطری ادارے خاندان، برادریاں ، مذہبی اجتماعیتیں، اوقاف معدوم ہوتے جاتے ہیں اور فرد اپنی معاشرتی شناخت کھو کر اجنبیت اور تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلامی ریاست فلاحی ریاست نہیں جہادی ریاست ہوتی ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان اور اسلامی جمہوریہ ایران دونوں جہادی ریاستیں ہیں۔ انقلابی جہدوجہد کے دوران اور اسلامی ریاست کے قیام کے بعد بھی ان دونوں ریاستوں کے انقلابیوں نے عوامی خواہشات کے فروغ کے دعوے نہیں بلکہ عوام کی اسلامی عصبیت کو ان کے جذباتی ایثار کی پرورش کی اور ان کو اپنی آخرت سنوارنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کو نہایت نامساعد حالات اور کڑی آزمائشوں کے باوجود ایرانی اور افغان عوام کی غالب اکثریت اسلامی انقلابی حکومت کی حمایت کرتی رہی ہے اور اس کو تکمیل ضروریات کی بنیاد پر ورغلانے کی بیش تر سامراجی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ جاوید اکبر انصاری