عوامی خواہشات
جاوید شیخ بھائی، امین اشعر بھائی جب یہ پیپر کمپوز ہو جائے تو مجھے پروف ریڈنگ کے لیے بھیج دیں۔ پھر جب پروف ریڈ ہو جائے گا تو اس کو اسلامی انقلاب اور البرہان دونوں کو ارسال فرما دیجیے۔ DAIMG کی اگلی نشست ان شاء اللہ 8 فروری کو بعد نماز مغرب ہو گی۔ کیا عوامی خواہشات کی تکمیل کی جدوجہد اقامت دین کا ذریعہ بن سکتی ہے وجود اور خواہشات انسانی وجود کی دو جہتیں ہیں۔ حیوانی اور ملکوتی (اس کی تفصیل شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں بیان فرمائی ہے)۔ حیوانی وجود نفس امارہ کے تابع ہوتا ہے اور نفس لوامہ کی حرکیت کو نفس امارہ کے احکامات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز حیات اختیار کرنے والے افراد اپنے نفس امارہ کے ایسے احکامات کی تعمیل مقدم تصور کرتے ہیں جو ریشنلائز کیے جا سکیں یعنی جن کی تکمیل کے لیے آفاقی (universalizable) اصول مرتب کیے جا سکیں۔ ریشنل ازم کسی عالمی ملکوتی وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کو شارع نہیں مانتی۔ سرمایہ دارانہ تصورِ حیات خالص دنیاوی ہے۔ وہ حیات بعدالموت اور اس سے منسلک علمیت کو صریحاً رد کرتی ہے۔ اس کا تصور انسانیت (humanity) ہے اور ہیومن بینگ (جو بقول فوکو سولھویں صدی عیسوی سے پہلے ناپید تھا) خود تخلیقی ان معنوں میں ہے کہ وہ اپنے لیے پیمانہ خیر و شر خود تخلیق کرتا ہے۔ حق وہ ہے جو سرمایہ دار کی ریشنل خواہشات (یعنی ایسی خواہشات جن کی بنیاد پر universalizable اصول اخذ کیے جا سکیں) کی تکمیل کو ممکن بنائے اور باطل وہ ہے جو ریشنل خواہشات کی تکمیل میں مزاحم ہو۔ چونکہ سرمایہ دار خیر و شر کی تخلیق کا واحد جائز مکلف ہے اور چونکہ تخلیق کاری کا یہ عمل ضوابطی (procedural) ہے substantive نہیں ہے لہٰذا کوئی عمل فی نفسہٖ خیر یا شر قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے خیر یا شر ہونے کا دارومدار اس کی ادائیگی پرمنحصر ہے یعنی اس بات پر کہ اس عمل کی انجام دہی کے نتیجہ میں مساوی آزادی / خود مختاری فروغ پاتی ہے یا نہیں ۔ مثلاً جوا کھیلنے کا عمل نہ بذا خود خیر ہے نہ شر بلکہ اس کا خیر یا شر قرار دیا جانا اس بات پر منحصر ہے کہ جس ضابطہ (Procedure) کے تحت جوا کھیلا جا رہا ہے وہ تمام کھلاڑیوں کو اپنی انفرادی مساوی آزادی اور خود مختاری کا یکساں موقع فراہم کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ یعنی سرمایہ داری مساوی آزادی کو خیر مطلق قرار دیتی ہے۔ یعنی اصولاً (عملاً نہیں) بنیادی سرمایہ دارانہ حق حقِ خود ارادیت ہے۔ ہر ہیومن بینگ کا یہ حق اور فرض ہے کہ وہ خیر و شرکا تعین خود کرے اور چونکہ ہیومن بینگ /سرمایہ دار کسی ملکوتی عالم اور کسی آخرت کے وجود کا قائل نہیں لہٰذا وہ اس بات پر مجبور ہے کہ خیر و شر کا جو پیمانہ وہ متعین کرے وہ اس کی دنیاوی انسانی خواہشات کے حصول (دولت و قوت) کے تابع ہو۔ اصولاً ہیومن بینگ خیر و شر کا کوئی تصور بھی اختیار کر سکتا ہے لیکن عملاً اس کا تصور حیات (جو آخرت کے انکار کا متقاضی ہے) اس کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ تمتع فی الارض کے حصول ہی کو خیر و شر کا پیمانہ بنائے۔ اور تمتع فی الارض بڑھوتری سرمایہ (فروغ حرص و حسد) کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہیومن بینگ اصولاً آزاد اور عملاً سرمایہ (نفس امارہ کے احکامات) کی تابع داری پر مجبور ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت ان متضاد علمیاتی اور اخلاقی تصورات کی بنیاد پر مغرب میں سترھویں صدی سے جو معاشرہ تعمیر ہوا ہے وہ نہایت غلیظ، پلید اور ذلیل ہے، جیسا کہ امام محمد مارماڈیوک پکتھال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ”مغربی تہذیب کوئی چیز نہیں۔ عیسائیت کی نیم سچائیوں کو رد کر کے مغرب وحشی ہو گیا ہے۔ جدا ان کے دن رات کی درندگی ہے شراب ان کی گھٹی میں گویا پڑی ہے
تعیش ہے ، نفرت ہے، آوارگی ہے غرض ہر طرح سے ان کی حالت بری ہے اس طرح سے ان پہ گزری ہیں صدیاں کہ چھائی ہوئی نیکیوں پہ ہیں بدیاں مغرب کی معیشت ایک جواخانہ بن گئی ہے۔ جہاں سٹہ بازار معاشی قدر متعین کرتا ہے۔ ان کا جمہوری نظام دھوکہ دہی، بم باری، بد دیانتی اور کرپشن کی آماج گاہ بن گیا ہے۔ ان کی معاشرت اتنی گھناؤنی اور متعفن زدہ ہو گئی ہے کہ زنا معمول اور نکاح معدوم ہو گیا ہے۔ ان کی مذہبیت اتنی مدقوق ہو گئی ہے کہ پوپ فرانسس اغلام بازی کا وکیل بن گیا ہے اور Justin Welby سابق آرک بشپ آف کینٹربری اپنی حرامی ولدیت کی تشہیر کرتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے پوری دنیا میں لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار سولھویں صدی سے آج تک جاری رکھا ہے اور کروڑوں ریڈ انڈین، ابارجنیز ، افریقی، ویت نامی، کمبوڈین، لاؤزین، عراقی، فلسطینی اور صومالی باشندے قتل کیے ہیں اور کیے جا رہے ہیں۔ عمل ان کے جتنے ہیں سب وحشیانہ ہر اک لوٹ مار میں ہے یگانہ فسادوں میں کٹتا ہے ان کا زمانہ نہیں کوئی تہذیب کا تازیانہ یہ ہیں قتل و غارت میں چالاک ایسے درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے یہ سب سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے معاشرتی اور ریاستی تغلب کا نتیجہ ہے۔ پلید سرمایہ دارانہ اخلاقیات کو قبول کر کے انسان ہیومن بینگ بن جاتا ہے۔ وہ سرمایہ کی بندگی قبول کر لیتا ہے اور اس کے لیے نفس مطمئنہ کا حصول و شعور ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا نفس امارہ اس کے نفس لوامہ پر غالب آ جاتا ہے۔ اور اس کی خواہشات نفسانی لامحدود ہوتی رہتی ہں۔ ہیومن بینگ سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ہیومن بینگ کو اس کی خواہشات نفسانی (جو کہ لامتناہی طور پر بڑھتی رہتی ہیں) کے مساوی معاشرتی مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ اصولاً ایک ناقابل حصول ہدف ہے۔ دنیا میں کہیں بھی سرمایہ دارانہ عدل نہ کبھی قائم ہوا ہے نہ کبھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ سرمایہ دارانہ عمل کی ارتکازیت ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دینے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک مقام پر مجتمع ہوتا رہے اور لامحالہ جیسے جیسے ارتکازیت بڑھتی ہے ویسے ویسے تقابلی نامساویت (relative inequality) میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ ارتکاز سرمایہ کے نتیجہ میں حقیقی سطح غربت میں کمی آتی جاتی ہے۔ حقیقی سطح غربت کو absolute poverty کہتے ہیں۔ دورِ حاضرمیں اس کی بہترین مثال چین ہے۔ چین کا 1979ء سے ارتکاز سرمایہ میں نہایت تیز رفتاری سے اضافہ ہوا جس سے حقیقی سطح غربت تیزی سے گری۔ 2020ء تک 800 ملین چینی حقیقی سطح غربت سے اوپر اٹھ گئے لیکن اسی عرصہ میں دولت اور آمدنی کی تقسیمی نامساویت برق رفتاری سے بڑھی اور آج تقابلی نامساویت چین میں تمام یورپی ممالک سے زیادہ ہے۔ آج چینی عوام تیزی سے ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ان میں بے چینی، غضب اور ناآسودگی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان کی تاریخی قومی ثقافت تباہ ہو رہی ہے اور ان کا ریاستی اور معاشرتی نظام تیزی سے سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم ہو رہا ہے۔ یہی عمل جاپان اور کوریا میں ہوا اور آج بھارت میں بھی جاری ہے۔ پاکستان میں سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف جدوجہد جماعت اسلامی پاکستان میں سرمایہ دارانہ ظلم (تقسیمی نامساویت کے فروغ) کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور امیر محترم حافظ نعیم الرحمان کے کئی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کو اس جدوجہد سے یہ توقع ہے کہ غلبہ دین کی راہ ہموار ہو گی۔ اس غلط فہمی کو دور کرنا نہایت ضروری ہے۔ اول تو سرمایہ دارانہ ظلم کو بذریعہ احتجاج ختم کیا نہیں جا سکتا۔ سرمایہ دارانہ ظلم (تقسیمی نامساویت) کا فروغ پاکستان کی سامراجی نظام میں پیوستگی کا نتیجہ ہے جس کا اظہار آئی ایم ایف کے ہر ای ایف ایف معاہدہ کے تسلط سے ہوتا ہے اور جس کی تنسیخ کا مطالبہ امیر محترم نے کبھی نہیں کیا اور نہ کسی اور اسلامی جماعت نے۔ پھر تقسیمی نامساویت کے فروغ کا دوسرا سبب بیرونی سرمایہ کاری پر ہے جس کی حوصلہ شکنی اور بیرونی ترسیل زر پر پابندی عاید کرنے کا ہمارے بیانیہ میں کوئی ذکر نہیں۔ مستقبل قریب میں قائم ہونے والی ہر حکومت (مسلم لیگ، تحریک انصاف، خواہ پیپلز پارٹی کی) سامراج کی باجگزار اور بیرونی سرمایہ کاروں کی تہی دست رہے گی۔
پھر اس سے بہت زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ظلم (نامساویت کے فروغ) کی تخفیف کی وکالت کر کے جماعت اسلامی سرمایہ دارانہ عدل (مساوی آزادی کا فروغ) کی آلہ کار بنتی جا رہی ہے۔ ہم عوامی نفسانیت کے فروغ کے حمایتی بنتے جا رہے ہیں۔ یہ اقامت دین کی طرف مراجعت کا طریقہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ تو سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کی جوازیت فراہم کرنے کا طریقہ ہے۔ ہماری ”حق دو کراچی کو“ اور ”بنو قابل“ کی تحریکیں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں جماعت اسلامی کو سمونے کا طریقہ ہیں۔ اس نظام کے خلاف بغاوت نہیں۔ بالخصوص اس لیے کہ یہ دستوری جکڑبندیوں میں مقید ہیں۔ ریاست جماعت پر حملہ آور ہے اور اس پر ڈیپ اسٹیٹ قبضہ کر رہی ہے۔ ہم عوامی بنتے جا رہے ہیں عوام اسلامی نہیں بن رہے۔ محترم امیر جماعت فرماتے ہیں کہ ہم ابھی نظاماتی تبدیلی لانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ بات درست ہے اور 1978ء سے اب تک اس استعداد میں کمی آئی ہے۔ لیکن استعداد کی اس کمی کو دائمی طور پر قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ یوں ہماری انقلابیت جو ہمارا وجہ الوجود ہے ختم ہوتا چلا جائے گا۔ ہم محض ایک سوشل ڈیموکریٹ پریشر گروپ بنتے چلے جائیں گے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو جماعت اسلامی کو ایک سوشل ڈیموکریٹک پریشر گروپ بنائے جا رہی ہے۔ یہ مفروضہ کہ سرمایہ دارانہ ظلم کے خاتمہ کی جدوجہد غلبہ دین کی راہ ہموار کرے گی ایک اور بنیادی مفروضہ پر قائم کیا گیا ہے جس کو ہم 1948ء سے آج تک متصور کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام نظم اجتماعی میں غلبہ دین کے خواہاں اور حمایتی ہیں اور اگر سرمایہ دارانہ مظالم سے نجات پا جائیں تو نظم اجتماعی کو اسلامی خطوط پر مرتب کرنے کی حمایت کریں گے۔ یہ مفروضہ حقیقت کے خلاف ہے۔ عوام کی دینی وابستگی جذباتی ہے اور اس وابستگی کا اظہار ان کی نجی زندگی تک محدود ہے۔ نجی زندگی میں میں بھی دینی احکام کی پابندی بھی عوام کا ایک قلیل حصہ جسے ہم مخلصین دین کہتے ہیں، کرتا ہے اور مخلصین دین بھی نظم اجتماعی میں غلبہ دین ممکن نہیں سمجھتے۔ بحیثیت عمومی پاکستانی عوام اپنے آپ کو لاچار اور بے کس تصور کرتے ہیں اور ایک ایسے نجات دہندہ کی تلاش میں رہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ عدل (یعنی تقسیمی نامساویت کی کمی کرے عوام کی لاچارگی اور بے بسی میں کمی نہیں) کو فروغ دے۔ جب تک عوام میں ایک ایسا گرو قائم نہیں کیا جا تا جو اپنے آپ کو لاچار اور بے کس نہ سمجھے اس وقت تک ہر احتجاج اور ہر انتخاب سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی لاحاصل جستجو پر منتج ہوتا جائے گا۔ اسلامی انقلابی عمل وہ عمل ہے جو عوام میں سے ایک حوصلہ مند ، بااختیار اور تنظیمی قوت رکھنے والا گروہ منظم کرے اور اس گروہ کی عوامی قیادت کی ادارتی صف بندی ممکن بنائے۔ پاکستان میں یہ گروہ لازماً مخلصین دین پر مشتمل ہو گا کیونکہ یہی لوگ دین سے شعوری وابستگی رکھتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تعداد دو ڈھائی کروڑ ہے۔ ملک کی آبادی کا نو دس فیصد۔ یہ جماعت اسلامی کی بنیادی constituency ہے اور ہمارا عوام سے تخاطب اسی کے ذریعہ ہونا چاہیے براہ راست نہیں۔ یہ بہت بڑی constituency ہے اور اس کو منظم کرنے کا کوئی ادارتی ڈھانچہ لاکھوں مساجد کی شکل میں پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ مری جدوجہد کی بالیقیں بنیاد ہے مسجد خدا آباد رکھے آج بھی آباد ہے مسجد مخلصین دین کو بااقتدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں پائے جانے والے مسلکی گروہوں میں اتحاد پیدا کیا جائے۔ غیر مسلکی اسلام کوئی چیز نہیں اور مسلکی افتراق رحمت ہے لیکن مسلکی تصادم کو سامراج نے فروغ دیا اور اس تصادم کے جاری رہنے کی ایک بڑی وجہ نظم اجتماعی میں مسلکی جماعتوں اپنے اسلامی تشخص کے اظہار سے گریز ہے۔ دورِ حاضر میں نظم اجتماعی کی اسلامی ترتیب کے ضمن میں مسلکی اختلافات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلک کے وابستگان کو اسلامی نظم اجتماعی کی جدوجہد کی فرضیت سے آگاہ کیا جائے اور انہیں فرض کفایہ کی ادائیگی کی ضرورت پر راضی کیا جائے۔ ایک ملک گیر بین المسالک وفاق المساجد قائم ہو جو مخلصین دین کو مقامی سطح پر بااختیار بنانے کا ذریعہ ثابت ہو۔ سرمایہ دارانہ مظالم کے خلاف جدوجہد اسلامی عصبیت کے فروغ کی جدوجہد سے وابستہ ہو۔ حلال رزق کی فراہمی کا انتظام کیا جائے اور ترسیل توانائی (پانی، بجلی اور گیس وغیرہ) کا بھی۔ مخلصین متحد ہو کر ایک ریاست درون ریاست قائم کریں جس کی توسیع سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کو کمزور کرے اور ائمہ مساجد کی قیادت میں ایک معاشرہ کو غیر جمہوری خطوط پر مرتب کرنے کا ذریعہ بنے۔ جماعت اسلامی کے ریاستی اقدام انتخابات اور احتجاجات کا مقصد اس متبادل نظم اجتماعی کے دائرہ کار کی توسیع ہو۔ یوں مخلصین دین بااختیار بنتے چلے جائیں گے اور ان کے معاشرتی اقدار کا فروغ بتدریج عوام میں احساسِ لاچارگی اور بے بسی کو رفع کرتا رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ سرمایہ دارانہ ظلم کے خاتمہ کی جدوجہد سرمایہ دارانہ عدل کے قیام پر منتج نہیں ہوتی۔ یہ بات مشرقی یورپ اور لاطینی امریکی تجربات سے ثابت ہے۔ سرمایہ دارانہ ظلم کے خاتمہ کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل انہدام ضروری ہے۔ جاوید اکبر انصاری