کتب خانہLibrary

پاکستانی عوامی کی محرومی

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

پاکستانی عوام کی معاشی محرومی کیوں دور نہیں ہوتی؟ جاوید اکبر انصاری ستمبر 2020 میں جو پالیسی ایجنڈا متحدہ حزب اختلاف (پی ڈی ایم) نے جاری کیا ہے اس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے کسی شق کا عوام کی روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم ایک دہریہ سرمایہ دارانہ محاذ ہے اور اگر یہ برسر اقتدارآیا تو رائج شدہ معاشی نظام میں کوئی مالیاتی یا ساختی تبدیلی نہ ہو گی۔ سرمایہ داری محض ایک معیشت نہیں۔ ایک مکمل (totalizing)نظام زندگی اور طرزِ حیات ہے۔ اس نظاماتی یا طرزی تناظر میں احساسِ محرومی اور بے گانگی غالب معاشرتی کیفیت ہے اور عوام بالخصوص ہمیشہ اور ہر جگہ احساسِ محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں حرص و ہوس کا غلبہ ہوتا ہے۔ لوگ تسکین قلب صَرف یعنی consumption میں تلاش کرتے ہیں۔ ہر شخص مستقل دنیاوی مسابقت (compition)پر مجبور ہوتا چلا جاتا ہے۔ نفوس حرص اور ہوس کے شیاطین کی آماج گاہ بن جاتے ہیں اور ان شیطانی قوتوں کے تغلب کی کوئی حد نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سکون قلب تو صرف ذکراللہ ہی میں ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے اجنبی ہو جاتی ہے۔ دو جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام خواہشاتِ نفسانی کا سیلاب عوام کے لامتناہی ”جائز“ حقوق کی طلب میں امنڈتا چلا آتا ہے اور ان مفروضہ ”حقوق“ کا حصول ہمیشہ ایک سراب ثابت ہوتا ہے۔ عوام ہمیشہ اپنے آپ کو محروم، مظلوم، بے کس اور مجبور سمجھتے رہتے ہیں۔ احساسِ محرومی کی عومیت کا دوسرا سبب سرمایہ داری کا یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ وہ مساویانہ آزادی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ آزادی کا تاریخی مطلب ہے سرمایہ کی غلامی اور یہ غلامی پاکستان پر سامراج نے جبراً مسلط کی ہے اور یہ تسلط لازماً ایک غیر مساویانہ طرزِ عمل سے قائم رہتا ہے۔ صرف پاکستان میں نہیں دنیا کے ہر ملک میں جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام ترقی کرتا ہے ویسے ویسے آمدن اور دولت کی تقسیم غیر مساویانہ ہوتی جاتی ہے (اس کی تفصیل مولانا مودودی رحمہ اللہ کے رسالہ ”انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل“ میں دیکھی جا سکتی ہے)۔ سرمایہ دارانہ نظام خود اپنا تصورِ عدل بروئےکار نہیں لا سکتا۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹی عمل کا لازمی نتیجہ اجارہ داریوں اور تقسیم دولت و آمدنی کی بڑھتی ہوئی نامساویت کا فروغ ہے۔ جیسے جیسے یہ نامساویت فروغ پاتی ہے ویسے ویسے عوام کے مفروضہ سرمایہ دارانہ حقوق بے معنی اور ناقابلِ حصول ہوتے چلے جاتے ہیں اور نامساویت کے فروغ کے نتیجہ میں عوام میں حسد اور غضب اور نفرت اور بے گانگی کے جذبات میں بھی ترقی ہوتی رہتی ہے۔ پھر مقننہ اور حکومت تو سرمایہ دارانہ ریاستی کارفرمائی جاری رکھنے کا ایک ذریعہ ہی ہے۔ ریاست کے دوسرے ادارے (کارپوریشن، بینک، میڈیا، عدلیہ، انتظامیہ) سرمایہ دارانہ اقتدار کے ستون ہیں۔ ان ریاستی اداروں پر حکومت اور مقننہ کا اختیار نہایت محدود اور پاکستان میں بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی ریاست عالمی، امریکی اور چینی سامراجی دائرہ اثر میں ہے اور ریاستی اشرافیہ (تحریک انصاف، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی) سرمایہ دارانہ عقلیت (جاہلیت خالصہ ) پر ایمان لے آتی ہے۔ ان حالات میں کوئی پاکستانی حکومت سرمایہ دارانہ جکڑبندیوں سے نجات کا تصور تک نہیں کر سکتی اور چاہے تحریک انصاف کی حکومت قائم رہے یا چاہے پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہو عوام کا احساس محرومی اور بےبسی بڑھتا ہی رہے گا۔ ہم کیا کریں ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہمیں سرمایہ درانہ نظاماتی تغلب کے تناظر میں انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد مرتب کرنا ہے۔ ہم زمینی حقائق سے سہو نظر کر کے کوئی تخیلاتی (idealist)رویہ اختیار نہیں کر سکتے۔ نہ ہم ابن الوقتوں (pragmatic)اور موقعہ پرستوں کی طرح سرمایہ دارانہ تحکم سے مصالحت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا میں ایسی تزویراتی حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کروں گاجس میں ہم عوام اور ملک پر سے سرمایہ دارانہ جبر ختم کر سکیں۔

حصہ ۲

یہ گزارشات دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔ پہلے وہ اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر یہ حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ بعد میں وہ عملی تجاویز دی گئی ہیں جو ہمیں آیندہ انتخابات میں پیش کرنا چاہئیں۔ اصول 1۔ ہم عوام کے جائز سرمایہ دارانہ حقوق کے وکیل نہ بنیں۔ یہ چیز ہم پر سوشل ڈیموکریٹ اور قوم پرست شناخت مسلط کرتی ہے۔ 2۔ ہم عوام کی خواہشات کے پیرو اور مطیع نہ بنیں بلکہ ان خواہشات و میلانات کی تبدیلی کی کوشش کریں۔ تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے ہم عام کے پیچھے نہ چلیں انہیں اپنے پیچھے چلانے کی کوشش کریں۔ 3۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی کوشش نہ کریں۔ سرمایہ دارانہ اداروں (واپڈا، کے الیکٹرک ،پاکستان اسٹیل ملز ، پی آئی اے وغیرہ) کی ساختی ترتیب نو اور کارفرمائی کی اصلاح سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔ 4۔ ہم سرمایہ دارانہ مالی (fiscal)اور مالیاتی (monetory)نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کریں ان کی ساختی ترتیب نو اور اصلاح کرنے کی کوشش نہ کریں۔ 5۔ ہم سرمایہ دارانہ سامراجی عالمی نظام سے ملکی معیشت کی علیحدگی کی وکالت کریں۔ 6۔ ہم اس رویہ کی وکالت کریں کہ پالیسی کی توجہ ملک کی اندرونی مانگ اور شخصی کارکردگی (labour productivity)ہی پر مرکوز ہو نہ کہ بیرونی مانگ (درآمدات و برآمدات) اور رسد (بیرونی سرمایہ کاری) 7۔ ملک کے مخلصین دین کو (جن کی تعداد 2 کروڑ کے لگ بھگ ہے) بتدریج منظم کر کے ان کی قیادت میں عوام کو معاشی طور پر متحد اور منظم کرنا۔ یہ ایک طویل المدت ہدف ہے۔ پالیسیاں ان پالیسیوں کی تنفیذ کے دو مقاصد ہیں 1۔ عوام میں یہ احساس پیدا کرنا کہ معاشی جدوجہد کا مقصد حصولِ معاد (آخرت کی کامیابی )ہے اور جب تک معاشی جدوجہد کو حصولِ معاد کی جدوجہد کے تابع نہ کیا جائے گا اس وقت تک سکونِ قلب کا حصول ناممکن ہے۔ یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ وپیوند بتان وہم و گماں لاالہ الا اللہ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشی جدوجہد روحانی ترفع کا ایک حصہ ہو۔ یہ عوامی روحانی ترفع کا کام اسلامی جماعتوں کا اتحاد ہی انجام دے سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست اس کی راہ میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتی۔ 2۔ مخلصین دین اور مستضعفین کو نظاماتی طور پر بااقتدار بنانا ۔ غربت میں کمی اور معاشی پیداواری بڑھوتری اس حد تک قابل قبول تصور کیے جائیں گے جس حد تک وہ عوامی روحانی ترفع اور مخلصین دین کے اقتدار میں فروغ کا ذریعہ بنیں۔ 3۔ قومی فوج کی تشکیل نو۔ اس میں تمام مردوں کی شرکت سے ایک عوامی فوج (people army)کا قیام۔ 4۔ تمام معاشی شعبہ جات کا فوجی پیداواری اور صَرف نظام سے ارتباط(integeration) 5۔ ہتھیاروں کی پیداوار میں ملکی خودکفالت کا حصول 6۔ ملکی منصوبہ بندی میں اشیا کی قدر کا تعین بین الاقوامی قیمتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اندرون ملک خرچ کی بنیاد پر کیا جائے۔ 7۔ بیروزگاری کا خاتمہ، حکومت تمام بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کا انتظام کرے۔ 8۔ حلال معیشت ( وہ کاروبار جو سود اور سٹہ کے مارکیٹوں سے متصل نہیں) کا فروغ۔ حلال کاروبار کی حکومتی مخبری(surveillance) کا خاتمہ، حلال کاروبار پر تمام بلاواسطہ ٹیکسوں کی منسوخی۔ 9۔ حلال معیشت کی تمویلی ضروریات پوری کرنے کے غیر سودی اور غیر غراری عہدوں کا اجرا 10۔ تمام سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں اجارہ دارانہ رجحانات کی روک تھام اور اشیائے صرف(FMCG) مارکیٹوں میں اجارہ دارانہ رجحانات کا مکمل خاتمہ۔ 11۔ فرنچائزنگ اور مالز کا مکمل انہدام 12۔ فحاشی کی صنعتوں (انٹرٹینمنٹ) پر مکمل پابندی 13۔ درآمدات کی تحدید اور ان اشیا کی درآمد پر کنٹرول جو ملک میں بنائی جا سکتی ہیں۔ 14۔ تمام بینکوں اور فنانشل اداروں کی فوری قومیائیت(nationalization)

حصہ ۳

15۔ تنزیل الرحمان کمیشن کی 1979 کی تجاویز کی مکمل اور فوری تنفیذ۔ 16۔ سود ، سٹہ اور کرنسی مارکیٹوں کی کڑی حکومتی نگرانی اور بیرونی ترسیل زر پر پابندی 17۔ اسٹیٹ بینک کی عالمی سود اور سٹہ بازاروں سے روابط کا انقطاع، اس کی ملک کی پاکستان بینکنگ کونسل کی ماتحتی کا قیام 18۔ مارکیٹ کی بنیاد پر زری پالیسی کا خاتمہ اور کریڈٹ پلاننگ کے نظام کا انعقاد 19۔ تمام بیرونی سودی ادائیگیوں کی فی الفور منسوخی۔ 20۔ تمام بین الاقوامی تجارتی معاہدوں کی بنیاد از سر نو آڈٹ کی بنیاد پر re-negotiation اس بنیاد پر کہ ہر سال کی اصل کی ادائیگیاں اسی سال کے حصولِ ترسیلاتِ زر (بذریعہ برآمدات اور بیرون وطن کارکنوں کی ترسیلات) سے منسلک کی جائیں اور ادائیگیاں، حصول، غیرملکی تبادلہ کے 25 فیصد سے تجاوز نہ کریں۔ 21۔ اندرونی سرکاری قرضوں پر سودی ادائیگیوں کی منسوخی اور ان پر منافع مضاربہ اور مشارکہ معاہدوں کی بنیاد پر دیا جائے۔ 22۔ حکومت کے دوران اخراجات کے کے لیے قرضہ لینے کی ممانعت 23۔ ایران اور ترکی کے ساتھ دفاعی اور معاشی ادارتی اشتراک عمل۔ فوجی جوائنٹ کمانڈ کاانعقاد اور ایک علاقائی زری اور مالی یونین کا قیام 24۔ امریکی پابندیوں کے اجرا کے لیے تیاری 25۔ آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او اور ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے انخلا یہ مقبول عام پالیسیاں نہیں۔ نہ اس کا کوئی امکان موجود ہے کہ کوئی پاکستانی حکومت (خواہ تحریک انصاف کی خواہ پی ڈی ایم کی) ان کی تنفیذ کرے گی۔ ان کا مقصد ہماری انقلابی معاشی شناخت کی تشکیل اور تشہیر ہے۔ ابھی تک ہر انتخاب میں ہم سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں پیش کرتے آئے۔ ان سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کی وجہ سے بھی ہمیں کوئی عوامی مقبولیت حاصل نہ ہوئی اور ہماری اسلامی انقلابی شناخت بری طرح متاثر ہوئی۔ اسی راہ پر چلتے رہنا نہایت نادانش مندی ہے۔ ان پالیسیوں کی تنفیذ ہمیں معاشرتی ادارتی صف بندی کے تحت خود کرنے کی تیاری کرنا چاہیے۔ مثلاً محلہ اور بازار کی سطح پر ہم اسلامی قوتوں کے تعاون کے ذریعہ حلال کاروبار کے فروغ غیر سودی امانتوں کے نظام کی ترویج بجلی اور پانی کی ترسیلی سہولیات پر عوامی کنٹرول محلہ کے بازاروں، اسکولوں اور ہسپتالوں میں قیمتوں اور فیسوں کی ائمہ مساجد کے تحت نگرانی مساجد میں قضا اور افتا کا انتظام کے لیے ادارتی صف بندی کر سکتے ہیں یہ کام اگلے انتخابات سے قبل (بشرطیکہ وہ 2023 میں ہوں ، مارچ 2021 سے پہلے نہیں) شروع کیا جا سکتا ہے۔ اور منتخب مقننہ میں ہمارے نمائندے ان عوامی اسلامی مقامی اداروں کے دائرہ کار کی توسیع اور حفاظت کے لیے جواز پیدا کر سکتے ہیں۔ یوں سرمایہ دارانہ اداروں سے اسلامی اداروں تک انتقال اقتدار کا وہ عمل شروع ہو جائے گا جو جمہوری استبداد کی تسخیر کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح آیندہ مقننہ میں ہمارے نمائندے سامراجی معاشی روابط کی تحلیل کی جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل اقدامات کی وکالت کی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے حالیہ ای ایف ایف معاہدہ کی مکمل منسوخی بیرونی ترسیل زر پر مکمل پابندی اور شرح زر مبادلہ میں گراوٹ کو زری پالیسی کے ذریعہ روکنا بیرونی سودی ادائیگیوں کی منسوخی بیرونی اصل قرضہ جات کی آڈٹ اور قرضہ دینے والے بینکوں اور ملکوں سے تخفیف قرضہ جات پر re-negotiation کا انعقاد۔ (یہ مضمون ”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ اور بالخصوص ”انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل“ کی ایک ابتدائی تشریح ہے۔ جاوید اکبر انصاری