کتب خانہJAS Library

greening capitalism

رسالہاردو۲۶ فروری ۲۰۲۵کتب و مضامین
حصہ ۱

کیا سرمایہ داری کی سبز کاری ممکن ہے؟ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری جاہلی علمیت سائنس کے نتیجہ میں کائناتی ماحولیاتی بحران زور پکڑ رہے ہیں۔ جس جاہلی علمیت سائنس نے چار سو سال قبل دنیا کو جنت بنانے کا خواب دکھلایا تھا وہ اس کو تیزی سے جہنم بنا رہا ہے۔ گرمی ناقابل برداشت حد تک پڑھ رہی ہے۔ ماحولیاتی کثافت عروج پر ہے۔ سمندری تیزابیت پھیل رہی ہے۔ نئے نئے امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں حیاتیاتی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں۔ یہ سب سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت سائنس کی کرشمہ سازی ہے۔ تیز تر ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات آج سرمایہ دارانہ مدبرین کے کئی گروہ نظم اجتماعی میں اصلاح کی وکالت کر رہے ہیں۔ وہ ایسی تزویراتی حکمت عملی وضع کرنے کی جستجو کر رہے ہیں جو سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی، مساوات، خوش حالی) کو محفوظ رکھتے ہوئے ان اہداف کے حصول کی جستجو کو تصرف فی الارض کے عمل سے ہم آہنگ کر دے۔ بڑھوتری (growth) تو جاری رہے لیکن بڑھوتری کا یہ عمل کائناتی geo-bio-chemical توازنات کو درہم برہم نہ کرے۔ انفرادی زندگی پرتعیش رہے لیکن عیش پرستی کے ذرائع اور طریقے وضع کیے جائیں جو ماحولیاتی کثافت کا باعث نہ ہوں۔ فیصلہ سازی کا معاشرتی عمل تو جمہوری رہے وہ کائناتی نظاماتی حد بندیوں اور توازنات (systemic environmental balances) کو ملحوظ خاطر رکھے۔ قدیم قبائلی رسوم و رواج کو سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھالنے کی کوشش بالخصوص لاطینی امریکا میں جاری ہے۔ یہ سرمایہ داری کی سبز کاری (greening) کی جدوجہد ہے جو دو سطح پر جاری ہے۔ ایک طرف تو حکومتی اور سرکاری ادارے سبز سرمایہ داری کے نئے اہداف اور پالیسیاں وضع اور نافذ کر رہے ہیں جو کہ بنیادی طور پر سرمایہ کارانہ عمل کے منفی ماحولیاتی اثر کو کم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز ایجاد اور استعمال کرتی ہیں۔ دوسری جانب سرمایہ دارانہ سبز کاری ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے جس میں متعدد طبقے نوجوان ، سوشل ڈیموکریٹ، اشتراکی، فیمنسٹ اور نسلیت مخالف گروہ شامل ہیں۔ کچھ مزدور تنظیموں اور تھنک ٹینکس نے بھی ماحولیاتی ابتری روکنے کے اہداف اپنے حقوق کے منشوروں میں شامل کیے ہیں۔ اب سبز کاری ایک عالمی کاروبار کی شکل بھی اختیار کر رہی ہے اور بڑی سرمایہ کار کمپنیاں کاربن حدود کی تجارت اور سبز اشیا کی سٹہ بازی اور سرمایہ کاری میں بھی ملوث ہوتی جا رہی ہیں۔ آج ماحولیاتی ابتری لبرل ادارتی سرمایہ دارانہ سیاست کا ایک اہم جزو بن گیا ہے جو بیش تر سرمایہ دارانہ سیاسی ایجنڈوں میں کسی نہ کسی حیثیت میں شامل کر لیا گیا ہے۔ آج سرمایہ دارانہ پالیسی ساز حلقوں میں ماحولیاتی ابتری کو روکنے کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے لیکن ماحولیاتی ابتری کے اسباب اور اس ابتری کو روکنے کے ذرائع کے بارے میں گہرے اختلافات پائے جا تے ہیں۔ ماحولیاتی بحران کا تعلق سرمایہ دارانہ نظاماتی بحرانوں (معاشی، سیاسی، سماجی) سے ہے جو پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں اور جو سب سرمایہ دارانہ نظم اور طرز حیات کے بنیادی مقاصد کے غماز ہیں۔ سرمایہ داری کا یہ بنیادی تضاد تعقلی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظم میں جو طرز زندگی معقول کی جا رہی تھی ماحولیاتی بحران اس طرز زندگی کو ناممکن البقا ثابت کر رہا ہے۔ یہ سرمایہ داری کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ایک ایسا وجودی خطرہ جو سرمایہ دارانہ علمیت (سائنس) نے خود پیدا کیا ہے اور جو بالکل نیا ہے، ان معنوں میں کہ اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ میں سرمایہ دارانہ نظام کو اس قسم کے بحران سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔ سرمایہ دارانہ طرز حیات اور نظم زندگی کی ترتیب نو کے مثالی خاکے (ideal types) وہ گروہ ہیں جن کو بحیثیت مجموعی ایکو اشتراکی کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کی تجاویز اور ڈسکورس کا اثر کسی نہ کسی حد تک ہر ماحولیاتی اصلاحی پالیسی ساز مکتب فکر (لبرل، نیو کنزین، نیولبرل، انارکسٹ، سوشل ڈیموکریٹ، کمیونسٹ وغیرہ) کی فکر میں پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ سوشل ازم سرمایہ دارانہ عدل اجتماعی کی سب سے قدیم اور دیرپا جستجو ہے (یہ اور بات ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل سوشلسٹ قالب میں کبھی ظاہر نہیں ہوتا۔

حصہ ۲

میں اس مضمون میں ایسی ایکو اشتراکی تجاویز کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا جو ماحولیاتی بحران کے وضع کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ طرز حیات میں اصلاح کاری کے لیے مرتب کی گئی ہیں۔ ان تجاویز کی تنفیذ کے امکانات پر غور کروں گا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ اس نوعیت کی اصلاح کاری سرمایہ دارانہ طرز حیات ماحولیاتی بحران سے نبرد آزمائی کا موثر ذریعہ نہیں بن سکتا۔ سرمایہ دارانہ نظم اور ماحولیاتی ابتری: ایکو سوشلسٹوں کی نظر میں ایکو اشتراکیوں کی نظر میں ماحولیاتی بحران کے پیداوار وہ نجی سرمایہ کار ہیں جو مستقل بڑھوتری منافع کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ بالخصوص وہ نجی سرمایہ کار جنہوں نے تیل، گیس کے استعمال کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ پیداواری اور مواصلاتی نظام وضع کیا ۔ سرمایہ دارانہ نظم زندگی کی ہر شکل (نجی، سرکاری، گروہی) کا نظاماتی ہدف آزادی کا حصول اور فروغ ہے اور حصولِ آزادی کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ انسانی ارادہ تمام کائناتی قوتوں (مادی اور غیر مادی) پر اپنا تسلط قائم کرتا چلا جائے۔ سرمایہ آزادی کے حصول کا لازمی وسیلہ ہے لہٰذا ہر سرمایہ دارانہ نظام (نجی، سرکاری، گروہی) بڑھوتری سرمایہ کو بنیادی ہدف ارتقا کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہے۔ یہ آزادی کا جبر ہے۔ ایکو اشتراکیوں کا یہ دعویٰ کہ آزادی کا یہ جبر صرف نجی سرمایہ دارانہ ممالک میں نافذ ہے بالکل خلاف واقعہ اور اصولاً غلط ہے۔ ہر سرکاری سرمایہ دار (سوویت یونین اور چین) اور گروہی (وینزویلا) ریاست نے آزادی کے اس جبر کو ہمیشہ قبول کیا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ ایسا کرنے پر عالمی سرمایہ دارانہ مسابقت کو جاری رکھیں اور اس لیے بھی نہیں کہ ان کے پالیسی سازوں سے کچھ غلطیاں سرزد ہو گئیں بلکہ اس لیے کہ سرکاری اور گروہی سرمایہ دارانہ ممالک کی غالب انفرادیت سرمایہ دارانہ تھی اور بڑھوتری سرمایہ (آزادی) کی اقداری تقدیم سیاسی نظم پر اصرار کرتی ہے۔ نجی سرمایہ کارانہ ممالک کے اشتراکی سرمایہ کارانہ ریاستی ڈھانچہ اختیار کر لینے سے ان کو ماحولیاتی بحران کو جنم دینے کی اصلاحات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سرمایہ دارانہ نظام میں قدرت (نیچر) کو ایک ایسا مادی ذخیرہ تصور کیا جاتا ہے جو خود تخلیقی (self-productive) ہے اور جو سرمایہ دارانہ پیداواری کارروائی کے لیے ہر وقت موجود رہتا ہے۔ یہ تصور قدرت بھی نجی اور اشتراکی سرمایہ داری میں یکساں طور پر موجود ہے اور نجی نظم ملکیت کو اشتراکی نظم ملکیت میں تبدیل کرنے سے یہ تصورِ قدرت متاثر نہیں ہوتا۔ نجی اور اشتراکی سرمایہ درانہ نظموں میں قدرت کا بے دریغ استحصال مستقلاً جاری رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نجی اور اشتراکی (سرکاری اور گروہی) نظم ملکیت کا وجہ الوجود بڑھوتری سرمایہ/ حصول آزادی ہے اور اس مقصد کے حصول کی جستجو اس بات کی متقاضی ہے کہ قدرتی وسائل (خام مال، توانائی اور انسانی محنت) کو کم سے کم قیمت پر حاصل کیا جائے اور اس استحصالی عمل کو جاری رکھنے کے لیے جو نقصانات قدرت پر مسلط کیے جاتے ہیں وہ سرمایہ کار (نجی یا اشتراکی) پر عاید نہ ہوں۔ بلااستثنائے تفریق نظم ملکیت خواہ نجی خواہ اشتراکی سرمایہ داری ماحولیاتی تباہی کو فروغ دینے اور ماحولیاتی فضلہ کے پہاڑ کھڑے کرنے دینے پر مجبور ہے۔ آزادی کا یہ جبر سرمایہ دارانہ نظام کو خود اپنی قبر کھودنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ایکوسوشلسٹ کہتے ہیں کہ سرمایہ کار طبقہ ماحولیاتی استحصال کا ذمہ دار ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خواہ نجی خواہ سرمایہ کار طبقہ سرمایہ کارانہ عمل کا بنیادی فیض یافتہ ہے اور سرمایہ دارانہ ادارتی ڈھانچہ ان کو قدرتی استحصال پر اکساتا بھی ہے اور اس استحصال کو جاری رکھنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ہیئتی تجزیہ ہے لیکن بین السطور جو خیال ظاہر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ سرمایہ داریت کے سب سے زیادہ مکلف نجی سرمایہ کار ہوتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ اشتراکی سرمایہ کار (ریاستی یا گروہی) ۔۔۔۔ حامل ہوں اور ان کا ماحولیاتی تصرف کے ضمن میں نجی سرمایہ کاروں سے مختلف ہو کیونکہ دونوں طبقے سرمایہ دارانہ علمیت (سائنس) اور روحانیت کے پیداوار ہیں۔ کیا نجی سرمایہ کاروں کے تحکمی غلبہ کا خاتمہ ماحولیاتی بحران کے خاتمہ کے لیے کافی ہو گا۔ اس طبقہ کو کیسے قوت سے محروم کیا جائے گا اور تحکم نظام میں ان کی جگہ کون لے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام جبر کی نئی ادارتی صف بندی کیا ہو گی۔ اس قسم کے سوالات کا غیر مبہم جواب ایکو اشتراکی فراہم نہیں کرتے۔ لیکن ایکو اشتراکی تحریروں میں کچھ اشارے ضرور ملتے ہیں۔ اشتراکی تجزیات میں سرمایہ دارانہ ماحولیاتی بحران کو سرمایہ دارانہ معاشی اور معاشرتی بحران کا ایک شاخسانہ تصور کیا جائے۔ اس تصور میں ماحولیاتی بحران معاشرتی بحران کا ایک سبب بھی ہے اور ایک نتیجہ بھی ۔ لہٰذا ماحولیاتی بحران کے خلاف جاری جدوجہد کو معاشرتی، سیاسی اور معاشی جدوجہد سے مربوط ہونا چاہیے۔ ماحولیاتی استحصال (کائناتی وسائل کا لوٹ مار) کا گہرا تعلق سامراجی نظاماتی احاطہ بند ہوں۔ ماحولیاتی بحران سے نمٹنا ہے تو اشتراکیوں کی نظر میں نجی سرمایہ دارانہ نظام کی ہمہ جہت بحران آمیزی سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ ماحولیاتی بحران کو سرمایہ دارانہ نجی بحرانوں سے الگ رہ کر وضع نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ جس فطرت کے استحصال پر انحصار کرتا ہے اس سے اپنی کارفرمائی سے تباہ کرتا رہتا ہے۔

حصہ ۳

ٹیکنولوجیکل ارتقا کے ہر دور میں ایسی نئی اشیا دریافت ہوتی رہتی ہیں جو سرمایہ کارانہ منافع خوری کو بلند سے بلند سطح پر پہنچانے کے لیے لازمی قرار دی جاتی ہیں۔ مثلاً اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں شکر، چاندی، بیسویں صدی میں پیٹروکیمیکل اشیا اور کھادی اور دور حاضر میں لیدر، ریئر ارتھ میٹلز، جی ایم او بیج، ٹیکنالوجیکل ارتقائی عمل ان اشیا کے خزانوں کو تیزی سے خالی کرتا رہتا ہے اور یوں ماحولیاتی توازنات میں بگاڑ پیدا ہوتا رہتا ہے اور معاشی عمل ماحولیاتی بحران کو مہمیز دینے کا سبب بنتا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ارتقائی عمل (نجی، ریاستی، گروہی) ماحولیاتی بحران کو ختم نہیں کرتا بلکہ اس کے سورس کو منتقل کرتا رہتا ہے۔ مثلاً تیل کے ذخائر ختم ہونے کا خطرہ ہے تو ٹیکنالوجیکل ارتقائی عمل کسی ایسے نئے توانائی سورس (ہوا، سورج کی شعاعیں کو فروغ دیتی ہے ، اس توقع کے ساتھ کہ یہ نئی توانائی کے سورس کے کائناتی ذخائر لامحدود ہیں اور ان کے استعمال کے ذریعہ لامحدود بڑھوتری سرمایہ کا عمل (جو کہ ہر نظم سرمایہ داری کا وجہ الوجود ہے) ابداً جاری رہ سکتا ہے۔ جب یہ مفروضہ غلط ثابت ہوتا ہے تو کسی نئے ذخیرہ کی تلاش ٹیکنالوجیکل ارتقائی عمل کا مقصد بن جاتا ہے۔ پرانی سے نئی ٹیکنالوجیز تک مراجعت ایک نہایت پرخطر اور مہنگا عمل ہے اور رفتار سرمایہ کاری کو مہمیز دینے کی جستجو میں ہر سرمایہ دارانہ نظام نجی سرکاری گروہی کا ہدف ہوتا ہے۔ سرمایہ کار مستقلاً اسی قیمت کو معاشرہ کے غیر سرمایہ کارانہ طبقوں کی طرف کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ماحولیاتی استحصال کا یہ عمل عالمی پیمانہ پر جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی آئی سی سی کمیشن کے سائنس دان موجودہ بائیو فزیکل کیمیل دور کو اینتھروپوسین کہتے ہیں یعنی ایک ایسا دور جس میں کائناتی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسانی عمل کائناتی توازنات پر غالب آ گیا ہے اور ان توازنات کو تیزی سے برباد کر رہا ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اینتھروپوسین کے دور کا خاصہ ہے اور رہے گا۔ اشتراکی سرمایہ کار یہ نہیں بتا سکتے کہ سرمایہ داری کی سبزکاری کی یہ مہم کب تک کامیاب ہوتی رہے گی۔ لبرل اور اشتراکی سرمایہ دارانہ ملکوں میں سبزکاری کی مہم بنیادی طور پر ایک ٹیکنولوجیکل جدوجہد اختیار کر گئی ہے یعنی ایک ایسی جدوجہد جس کے ذریعہ ختم ہوتے ہوئے توانائی کے ذخائر کی جگہ ایسی توانائی کے ذخائر دریافت کیے جا رہے ہیں جن کو لامحدود مفروض کیا جا رہا ہے۔ اشتراکی سبزکار ٹیکنالوجیکل منہج کو تبدیل کرنے کی کوئی نئی تجویز پیش نہیں کرتے مثلاً چین کی سبزکاری کے تمام منصوبے اسی ٹیکنالوجیکل منہج کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ اشتراکی سرمایہ دار سبزکار ماحولیاتی بحران رفع کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام پر زور دیتے ہیں: 1۔ قبائلیوں اور قدیم ساکنان (indigenous people) کی زمینوں پر کارپوریشنوں کے قبضہ کو ختم کیا جا رہا ہے اور قبائلی اور قدیمی باشندوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کو تسلیم کرکے ان کی سیاسی قوت میں اضافہ کیا جائے۔ 2۔ سامراجی استحصالی کا خاتمہ 3۔ عورتوں کی خاندانی ذمہ داریوں اور بوجھ کا خاتمہ 4۔ عورتوں میں سرمایہ دارانہ ملازمتوں کا فروغ 5۔ عورتوں کے سرمایہ دارانہ سماجی حقوق کی ریاستی فراہمی 6۔ نسلی امتیازات کا خاتمہ یعنی اشتراکی سبزکاروں کا مقصد ایسی تحریکات منظم کرنا ہے جو ماحولیاتی کثافت کے خاتمہ کی جدوجہد سماجی اور معاشی ناانصافیوں کے حالات سے منسلک کرنے کی مہمات ہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان میں سے کوئی پالیسی بھی سرمایہ کاری کے وجہ الوجود کے انہدام کی تجویز نہیں بلکہ سب کو اس ہدف سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ردِ ارتقائیت کی تجویز کے بارے میں بھی درست ہے کیونکہ وہ بھی رفتار بڑھوتری سرمایہ کی تحدید کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی سطح زندگی میں اضافہ کا ذریعہ گردانتی ہے۔ ڈی گروتھ نظریہ انسانی ضرورتوں کو سرمایہ کی بڑھوتری کی جگہ سرمایہ دارانہ عمل کامحرک گردانتا ہے اور اس بات سے سہو نظر کرنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی ضرورتوں کی بڑھوتری کی کوئی حد نہیں ہو سکتی اور انسانی ضرورتوں کی بڑھوتری، بڑھوتری سرمایہ کا محرک بنتا چلا جاتا ہے۔ آزادی /سرمایہ انسانی ضرورتوں کی لامتناہی بڑھوتری کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

حصہ ۴

آزادی کو مقصد حیات کے طور پر تسلیم کرنے والی انفرادیت سرمایہ دارانہ انفرادیت ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرت کی غالب انفرادیت ہے اور اس کا اظہار جمہوری عمل سے ہوتا ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعے سرمایہ کا بندہ نہیں ربوبیت کا دعویٰ کرتا ہے یعنی اس دعویٰ کا اظہار کہ عبد سرمایہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ارادہ کے تحت تخلیق حیات اور کائنات کا عمل جاری رکھے۔ تخلیق کائنات و حیات کا عمل جاری رکھنا عبد سرمایہ کی بنیادی ضرورت ہے اور اس بنیادی ضرورت کی تشریح کے لیے اس کی ذیلی ضرورتوں کی لامتناہی بڑھوتری لازمی ہے۔ لہٰذا ہر جمہوری معاشرت (سول سوسائٹی) اپنے اندر پائی جانے والی ضرورتوں کی ترتیب تو ان کی مجموعی بڑھوتری سے ہم آہنگ کرتے رہنے پر مجبور ہے۔ یہی ترقی ہے اور ترقی کا مطلب ہی خواہشات نفسانی کی لامتناہی بڑھوتری جاری رکھتا ہے۔ اشتراکی سرمایہ کار لبرل اور قوم پرست سبزکار سرمایہ کاروں کی طرح آزادی اور ربوبیت انسان بحیثیت نظاماتی اہداف قبول کرتے ہیں۔ لہٰذا دونوں میں سے کسی کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ سرمایہ /ضرورتوں کی لامتناہی بڑھوتری کو بحیثیت معاشرتی ہدف رد کر دے۔ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی تناظر میں دونوں نظریہ ضرورتوں کی ترتیب تو اس کے بڑھتے ہوئے عمومی رجحان سے ہم آہنگ کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں۔ یہ ماحولیاتی بحران کو موخر کرنے کا طریقہ ہے اس کو ختم کرنے کا طریقہ نہیں۔ ماحولیاتی بحران مستقل طور پر نجات پانے کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کا معاشرتی غلبہ منہدم ہو یعنی معاشرہ میں غلبہ ایسے افراد کا ہو جو قولاً اور عملاً اس باطل دعویٰ کو رد کریں کہ انسان خالق کائنات اور آزاد ہے اور ایسا معاشرہ اور ریاست بنائیں جس میں ضرورتوں کی مستقل بڑھوتری انفرادی اور انسانی عمل کا ہدف نہ ہوں۔ اسلامی تاریخ میں سامراجی تغلب سے پہلے ایسی ریاست اور معاشرہ بارہ سو سال تک کارفرما رہے۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں اور اسی سنہری دور کے احیا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی علاج اس کا وہی اس کا نشاط انگیز ساقی