نفسیاتی بحران
سرمایہ داری کا نفسیاتی بحران جاوید اکبر انصاری امریکا میں پاگل پن: امریکی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2018میں امریکا میں تقریباً سات کروڑ افراد (آبادی کا 21.3فیصد) کسی نہ کسی درجہ میں پاگل تھے۔ تین سال (2016 تا 2019) سے تسلسل کے ساتھ امریکا میں اوسط عمر (life expectancy)گر رہی ہے۔ امریکا میں ذہنی بیماریوں (mental health epidemic) کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ اموات میں اضافہ کی وجہ (وبائی کووڈ کے پھیلاؤ سے پہلے) خود کشی، شراب نوشی اور منشیات کا استعمال ہے اور ان سب کی وجہ بڑھتا ہوا ذہنی ہیجان ہے۔ دس سے چونتیس سالہ عمر کے لوگوں کی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ خود کشیاں تھیں۔ پاگل پنے کے پھیلاؤ نے پورے امریکی معاشرہ کی چولیں ہلا دی ہیں۔ ایک عام امریکی کی زندگی پریشانیوں، مایوسیوں، یاسیت، غم و غصہ سے بھری ہوئی ہے۔ وہ ہر لمحہ اپنے آپ کو تنہا اور غیر محفوظ پاتا ہے۔ ایف بی آئی کے سب سے مشہور ڈائریکٹر J. Edgar Hoover نے آج سے ساٹھ سال پہلے کہہ دیا تھا ”امریکی قوم پاگلوں پر مشتمل ہے“۔ بقول معروف نفسیاتی ماہر Dwight Macdonald ”امریکی قوم غریب ترین ممالک کے عوام سے زیادہ مایوس اور ناخوش ہے“۔ یہی رائے مشہور پادری Billy Graham کی بھی ہے۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ امریکی علمی اور معاشرتی اشرافیہ میں اس بات پر اتفاق ہے کہ امریکا کی عظیم اکثریت ذہنی مریض بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کانگریس کا قائم کردہ جوائنٹ کمیٹی آن مینٹل ہیلتھ اینڈ النیس کہتا ہے ”بے شک امریکا کا سب سے بڑا مسئلہ ذہنی امراض کا پھیلاؤ ہے“۔ ایک نفسیاتی سروے کے مطابق صرف 18.3 فیصد امریکی نفسیاتی طور پر صحت یاب ہیں۔ امریکا میں ذہنی امراض کی تین قسمیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں شیزوفرینیا، سائیکوسس اور نیوروسس۔ امرا ءکا طبقہ نیوروسس کا بالخصوص شکار ہے۔ غریبوں اور بالخصوص سیاہ فام امریکیوں میں ڈپریشن عام ہے۔ بچوں میں نفسیاتی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ہر نسل اپنی نفسیاتی بیماریاں تیزی سے نئی نسل کو منتقل کر رہی ہے۔ سرمایہ داری اور پاگل پن کا پھیلاؤ : نفسیاتی صحت مند کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے ”وہ شخص ذہنی طور پر صحت مند ہے جو رائج شدہ معاشرت کے مطالبات سکون سے پورے کر سکتا ہے اور معاشرتی تناظر میں اس کے معیارات کے مطابق کامیاب زندگی گزار سکتا ہے“۔ اس تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ ہر معاشرے کے ”نارمل“ (غیر نفسیاتی مریض) فر د کی پہچان اس معاشرہ کے مخصوص معیارات کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرہ کے معروف معیارات حقیقی (یعنی اسلامی) معیارات خیرو شر سے متصادم ہوں تو ہم سے ایک نفسیاتی مریض معاشرہ قرار دیں گے اور اس کا نارمل فرد بھی ذہنی مریض ہو گا۔ اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت انسانی کا اصل اور حقیقی ادراک اسلامی تعلیمات میں موجود ہے۔ سرمایہ داری کا شعورِ فطرت انسانی ناقص اور علوم جاہلیت پر مبنی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کی کارفرمائی فطرت انسانی کے حقیقی اظہار کو دشوار گزار بناتی ہے۔ فطرتِ انسانی کا اصل تقاضا بندگی رب ہے۔ ”دلوں کا اطمینان تو صرف ذکراللہ میں ہے“۔ سرمایہ داری بندگی رب کو رد کر کے حرص و ہوس کے شیطانوں کی پوجا کراتی ہے۔ معاشی عمل میں بھی، سیاسی عمل میں بھی، سماجی اور ثقافتی عمل میں بھی۔سرمایہ دارانہ معاشرت کا ”نارمل“ فرد نفسیاتی مریض نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ معاشرہ میں نارمل افراد کم سے کم ہوتے جاتے ہیں اور ایک عام آدمی اپنے آپ کو ہر وقت اور ہر جگہ اجنبی (alienated)محسوس کرتا ہے اور اجنبیت کا یہ تاثر دائمی ہوتا ہے۔ نفسیاتی امراض امریکا تک محدود نہیں پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں پھیل رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی بیس فیصد آبادی ذہنی مریض ہے۔ یورپی یونین میں آبادی میں نفسیاتی مریضوں کی شرح 16.5فیصد ہے (یہ 2016کے اعداد و شمار ہیں)۔
نفسیاتی بیماریاں معاشی عمل سے بھی پھیل رہی ہیں اور معاشرتی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کے ذریعہ بھی۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے نتیجہ میں محنت کشوں اور مینجروں میں تشنج، پریشانی اور ڈپریشن عام ہو رہا ہے۔ ٹوٹتے ہوئے معاشرتی ادارے اجنبیت کو فروغ دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ”نارمل“ فرد تسکین تفریحات اور صَرف (کنزمپشن) میں تلاش کرتا ہے لیکن ان کے استفادہ سے مطمئن کبھی نہیں ہوتا۔ حصولِ لذات (pleasure)سکون قلب کبھی فراہم نہیں کر سکتیں۔ زندگی کا تسلسل مقصد حیات نہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرت، سیاست اور معیشت فطرت انسانی کو مسخ کر دیتی ہے۔ بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد فطرت انسانی پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ ایک عام آدمی سرمایہ دارانہ اقدار کو فطری تصور کر کے اپنانے (انٹرنلائز کرنے) کی ناکام کوشش کرتا ہے لیکن یہ اقدار فطری نہیں نہایت غیر فطری اور فطرت انسانی سے متصادم ہیں۔ تحلیل نفسی (psycho anaylsis) سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِزندگی کو معقول اور دائمی تصور کرتی ہے اور نفسیاتی مریضوں کو نارمل بنانے کی جستجو میں ان کا مرض بڑھاتی رہتی ہے۔ تحلیل نفسی کا شکار نفسیاتی مریض اپنی اصل فطرت کے اظہار سے محروم اور مایوس ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر نظام زندگی کی طرح سرمایہ داری بھی اپنی مخصوص نارمل انفرادیت تعمیر کرنے کی جستجو کرتی ہے لیکن یہ کرنے میں وہ ناکام ہوتی چلی جاتی ہے اور اس ناکامی کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ نفسیاتی مریضوں سے دھیرے دھیرے بھرتا چلا جاتا ہے۔ Wilhelm Reichکے مطابق سرمایہ داری فطرت انسانی کو کچل (repress) دیتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ کا خیال تھا کہ سرمایہ دارانہ معاشرتی تفوق کے لیے جنسی اظہار کو محدود کرنا ضروری ہے لیکن ہربرٹ مارکیوزے کے وقت (1960 کی دہائی) سے نفسیاتی ماہرین اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے اور جنسی بے راہ روی ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ لیکن جنسی عمل کی معنویت یعنی اس کا محبت سے تعلق ختم کر دیا گیا ہے۔ جنسی عمل ایک تفریح جو بیچی اور خریدی جاتی ہے، بن گیا ہے اور چونکہ محبت کے جذبہ سے انقطاع جنسی عمل کو مسخ کر دیتا ہے لہٰذا وہ حصولِ سکون کا ذریعہ نہیں بنتا۔ سرمایہ دارانہ نارمل فرد ایک جنسی گوریلا بن گیا ہے اور ظاہر ہے کہ گوریلا بننا فطرت انسانی کے بالکل برعکس/ناممکن ہے۔ جنسی آزادی سرمایہ کی غلامی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔اور جنسی آزادی/آوارگی کے فروغ کا لازمی نتیجہ نیوروسس اور سائیکوسس کا معاشرتی پھیلاؤ ہے۔ جنسی آوارگی کے تحت غیر کو اپنایا نہیں جا سکتا اور غیر کو اپنانا جنسی عمل کا فطری مقصد ہے۔ فطرتِ انسانی کا تقاضا ہے کہ وہ ذات کا اظہار دوسر ے افراد اور کائنات سے محبت اور خدا ترسی کی بنیاد پر کرے۔ سرمایہ داری فرد کو تسخیر کائنات پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی جاہلی علمیت یعنی سائنس کا اصل پیغام ہے یعنی ہر شے اور ہر دوسرے کو اپنی حصولِ لذت کا ذریعہ بنایا جائے۔ لہٰذا تمام انسانی اور کائناتی تعلقات سرمایہ دارانہ معاشرت میں مسخ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ کارکردگی کے ذریعہ فرد اپنی ذات کا حقیقی اظہار نہیں کر پاتا اور اس وجہ سے بے چینی اور المناکی محسوس کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ کارکردگی ایک نارمل شخص کے لیے ایک المناک مجبوری بن جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ کارکن دائمی علیحدگی مستقل محسوس کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ کارکردگی میں افراد کار کو اپنے کام پر اختیار نہیں ہوتا۔ نہ مزدوروں کو نہ مینجروں کو۔ سرمایہ دارانہ عمل بڑھوتری سرمایہ کی ضروریات لازماً پوری کرنے سے مطمئن ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کا تحکم اظہارِ ذات کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ کارکن (human capital)بڑھوتریئ سرمایہ کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی مفروضہ انفرادی آزادی لایعنی ہو جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یکنایت / تنہائی عوام کی غالب نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تفریحات اس احساس اجنبیت اور یکنا یت کو مزید بڑھاتی ہیں۔ کیونکہ تفریحات میں ایک عام آدمی عموماً مشین کے طور پر شامل ہوتاہے اور شرکت کے نتیجہ میں وہ اپنی ذات کا تخلیقی اظہار نہیں کرتا بلکہ کسی ایسے ہیرو کی پرستش کرتا ہے جو وہ خود کبھی نہیں بن سکتا۔
سرمایہ دارانہ عقلیت آزادی کے جبر کو فطرت انسانی پر مسلط کر دیتی ہے۔ فرد کی ہر وہ خواہش جو بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ کسی اور مقصد کے حصول کی تمنا کرتی ہے مثلاً بندگی رب کی خواہش، غیر معقول قرار دی جاتی ہے اور انسان صرف بڑھوتری سرمایہ کی جستجو کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔یہ فطرت انسانی کے خلاف صریح بغاوت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا نارمل فرد سرمایہ کا غلام (یعنی آزاد) ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ انسان ہوتا ہے لہٰذا اس غلامی پر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ ریشنل ازم اور اس سے متعلقہ اقدار پورے سرمایہ دارانہ معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نارمل افرد اپنے تمام معاشرتی روابط اور تعلقات کو ریشنل کسوٹی پر تولنے اورپرکھنے پر مجبور ہوتاہے۔ یعنی یہ سوال کہ ہر تعلق سے مجھے کیا ذاتی فائدہ حاصل ہو گا، ایک نارمل آدمی کو ہر وقت پریشان کرتا رہتا ہے۔ مادی ترقی نفسیاتی دباؤ کی قیمت ادا کر کے مستقلاً خریدی جاتی رہتی ہے۔ سرمایہ داری انفرادیت کو خود غرض، مطلب پرست اور کیلکولیٹر بناتی رہتی ہے۔ یوں انفرادیت مسخ ہوتی رہتی ہے اور نیوروسس عام ہوجاتی ہے۔ بڑھوترئی سرمایہ کی جستجو اور مادہ پرستی کی وجہ سے یورپ اور امریکا میں خاندانی نظام شکست و ریخت کا شکار ہے۔ پوری تاریخ انسانی میں خاندان ہی معاشرت کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ خاندان کو مسمار کر کے سرمایہ داری انسانی معاشرت کو تتر بتر کر رہا ہے۔ سرمایہ داری ایک کلیت ہے۔ سرمایہ کی حاکمیت صرف معیشت پر نہیں وہ سیاست اور معاشرت اور ثقافت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اس نے آج ایک تماش بین ثقافت (spectator culture)تخلیق کی ہے جو ”نارمل“ فرد کو کامل مجہول اور مفعولی بنا رہا ہے اور اس کو لذت پرستی کے سراب میں ڈبو رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ ثقافت تاریخ انسانی کی غلیظ ترین اور گھناؤنی ثقافت ہے۔ امریکا میں کروڑوں اغلام بازوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جرمنی میں کتوں سے ہم بستری عام ہے۔ پورے مغربی یورپ میں ابلیس پرستی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ ایسے میں نفسیاتی امراض کا عود کر آنا ایک لازمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ نفسیاتی امراض کے پھیلاؤ کے آلہ کار:- نفسیاتی امرض کے تدارک کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس سے یہ امراض اور تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اپنی ابتدا کے وقت سے لے کر آج تک سرمایہ دارانہ ریاست نے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی پشت پناہی کی ہے۔ صحتی نظام کے تناظر میں اس اشتراک کی وضاحت کرتا وہ تازہ ترین امریکی قانون ہے جسے اوباماکیئر کہا جاتا ہے۔ اس پروگرام کی تنفیذ کے نتیجہ میں حکومت طبی بیمہ کمپنیوں کو ٹیکس کنندگان کے اربوں ڈالر فراہم کیے جس کے نتیجہ میں بیمہ صحت کو 2017 سے لے کر آج تک کثیر منافع حاصل ہوا۔ امریکا کا صحتی نظام مکمل طور پر مارکیٹی اصولوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ آج غریب ملکوں کے صحتی نظام کو مارکیٹی خطوط پر مرتب کرنے کے لیے ورلڈ بینک اور ڈبلیو ایچ او پورا زور لگا رہے ہیں۔ قومی صحتی نظام کو امیروں کے لیے مختص کرنے اور نج کاری اور نیم نج کاری(public private partnership) کرنے کا یہ طریقہ ہے۔ قومی صحتی نظام کو سرمایہ دارانہ اصولوں پر منظم کر کے اس کو مارکیٹ میں ضم کیا جا رہا ہے۔ ریاست سرمایہ دارانہ منافع خوری کی معاون بن گئی ہے۔ دواؤں کی صنعت پر فارما اجارہ دار کمپنیاں چھائی ہوئی ہیں۔ اس صنعت میں رسد، مانگ سے بہت زیادہ ہے اور کمپنیوں کو مانگ اور بکری بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے غریب ملکوں کو ایسی دواؤں سے بھر رہے ہیں جو منشیات کا حکم رکھتی ہیں اور جن کا استعمال کرنے والا کبھی صحت یاب نہیں ہوتا بلکہ ان منشیات کا دائمی عادی ہو جاتا ہے۔ چونکہ فارما کمپنیاں اجارہ دارانہ ہیں لہٰذا وہ اپنی قیمتیں بڑھانے کی استطاعت رکھتی ہیں اور چونکہ سٹے کے بازار وں میں ان کے حصص پر مستقل سٹہ جاری رہتا ہے لہٰذا قیمتیں بڑھانے کا رجحان روز افزوں ترقی پذیر رہتا ہے۔ فارما کمپنیاں حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں میں ضم ہوتی جا رہی ہیں اور قرضوں کے انبار تلے دبی ہوئی ہیں۔
فارما سیوٹیکل صنعت پر امریکی سامراج چھایا ہوا ہے۔ اس سامراجی غلبہ کا ذریعہ ورلڈ بینک اور ڈبلیو ایچ او بھی ہے اور عالمی خیراتی ادارے بھی بالخصوص بل گیٹس فاؤنڈیشن یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ بینک کا ادارتی شریک کار بن گیا ہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن نے عالمی صحتی پالیسی کو سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔ نفسیاتی بیماریاں سرمایہ دارانہ طرزِ حیات کی پیداوار ہیں۔ سرمایہ دارانہ طرزِ حیات غیر فطری ہے۔ اس طرزِ حیات کو اختیار کرنے والا ہر شخص اپنی فطرت کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ اور جاہلی علم نفسیات اور ادویاتی صنعت لوگوں کو فطرت انسانی کے خلاف بغاوت کو قبول کرنے پر مجبور اور راضی کر نے کی کو شش کرتی ہیں۔ علم نفسیات اور ادویاتی صنعت کی کامیابی اس میں ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں پیدا کی گئی غیر فطری نورملیٹی (normality)پنپنے اور جو نفسیاتی الجھنیں اور وبائیں اس معاشرے میں فروغ پا تی ہیں اس کو ناگزیر سمجھ کر برداشت کرنے پر ہر فردآمادہ ہو۔ اسی کو pathological necessity کہتے ہیں۔ علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہمیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ ہمارا دشمن امریکا ایک وحشی، جنونی درندہ ہے جو اپنے آپ کو اور پوری نوع انسانیت کو چیر پھاڑ رہا ہے۔ امریکا اس حالت تک سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کر کے پہنچا ہے۔ بقول امام خمینیؒ ”ہر امریکی شیطان بزرگ ہے“۔ سرمایہ داری ایک عالمی وبا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات دنیا کی ہر تہذیب کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت اور داؤ ازم کو جذب کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ آج اس حملہ کا مقابلہ صرف اسلام کر سکتا ہے۔ یہ مقابلہ لازماً ہمہ جہتی ہونا چاہیے۔ ہمیں سرمایہ دارانہ عقلیت، معاشرت، معیشت اور سیاست کا توڑ کرناہے۔ یہ اسلامی روحانیت کے احیا کے لیے ناگزیر ہے۔ اسلامی نظاماتی غلبہ کے بغیر اسلامی روحانیت کا فروغ ہمیشہ محدود اور نامکمل رہے گا۔