کتب خانہLibrary

سرمایہ دارانہ معاشی بحران

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

سرمایہ دارانہ معاشی بحران(پہلا حصہ) یہ سرمایہ دارانہ نظاماتی زوال کا دور ہے۔ ایک طویل عرصہ تک (غالباً چند صدیوں تک) سرمایہ دارانہ نظام شکست و ریخت کا شکار ہوتا رہے گا اور سرمایہ دارانہ طرزِ حیات کا ہر شعبہ (علمیاتی، نفسیاتی، معاشرتی، سیاسی، معاشی) وقتاً فوقتاًبحرانوں میں مبتلا ہوتا رہے گا۔ اسلامی انقلابیوں کے لیے ان بحرانوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ جو تضادات یہ بحران نمایاں کر رہے ہیں انہی کو مہمیز دے کر سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام عمل میں لا یا جا سکتا ہے۔ یہ تمام بحران ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ مثلاً 2020 کا امریکی بحران سیاسی بھی ہے، نسلی بھی، سماجی اور نفسیاتی بھی اور معاشی بھی اور بحران کی ان مختلف جہتوں کو عملاً ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً بائیڈن جو بھی پالیسیاں اختیار کرے گا ان کا اثر ان تمام جہتوں پر مرتب ہو گا۔ اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ان میں سے ہر بحران دائمی نوعیت کا ہے مثلاً امریکا قانون سازی کے ذریعہ اپنے نسلی بحران پر کبھی قابو نہیں پا سکتا اور 1960 کی سول رائٹس کی تحریک کی ناکامی کا اصل سبق یہی ہے۔ نسلی امتیازات کو فروغ دیے بغیر سرمایہ دارانہ سامراج پنپ نہیں سکتا اور امریکا عالمی سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کا سرخیل ہے۔ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی یورپی تہذیبی تفوق کا ایک اظہار ہے۔ تحریک تنویر کا کلیدی دعویٰ یہ ہے کہ یورپی تمدن اور علمیت آفاقی ہے لہٰذا وہ تمام نسلیں جو اس تمدن اور علمیت سے ناواقف ہیں یا اسے پورے شرح صدر کے ساتھ قبول نہیں کرتیں نابالغ اور پسماندہ ہیں۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ معاشی بحران کا دو طرفہ (Co-directional) تعلق ماحولیاتی اور وبائی بحران سے بھی ہے۔ آج سرمایہ دارانہ تنویری علمیت نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے سبب خشک سالی، موسمی آلودگی، قحط، انواعِ حیات کا انہدام پھیل رہا ہے۔ نئی نئی وبائیں فارما سیوٹیکل کمپنیاں ایجاد کر رہی ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشی عمل نے ان تبدیلیوں کو جنم دینے میں ایک کلیدی کردار ادا بھی کیا ہے اور ان سب رجحانات سے شدید متاثر بھی ہے۔ لہٰذا جب سرمایہ دارانہ معاشی بحران پر گفتگو کی جائے تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ معیشت سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات کا ایک ذیلی شعبہ ہے اور یہ ناممکن ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام کو سرمایہ دارانہ علمیت، معاشرت اور سیاست سے جدا کر دیا جائے۔ یعنی سرمایہ دارانہ نظام کو جزواً رد نہیں کیا جا سکتا اس نظام کی مکمل تسخیر لازم ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشی بحران عالمی ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ پیداواری اور حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں کو سامراجی رسدی زنجیروں (سپلائی چین) میں جکڑ دیا گیا ہے اور ان رسد ی زنجیروں پر سیاسی تسلط اور غلبہ کی رسہ کشی ریاستی دہشت گردی اور پراکسی جنگوں کو فروغ دے رہی ہے۔ قومی سطح پر سرمایہ دارانہ معاشی نظام ایک ایسے سیاسی بحران کو جنم دے رہا ہے جس کے نتیجہ میں عوام جمہوری عمل سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا واضح ترین اظہار 2020 کے امریکی انتخابات سے ہوا جن کو گیلپ تحقیق کے مطابق ساٹھ ملین امریکی عوام جعلی قرار دیتے ہیں اور بائیڈن کو ایک غاصب کہتے ہیں۔ یہ معاشی نیولبرل پالیسیوں کی ناکامی کا ایک اظہار ہے جن کی تنفیذ کے نتیجہ میں کئی دہائیوں سے قومی شرح نمو (GDP) روبہ تنزل اور آمدنی کی تقسیمی نامساویت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آج اکتالیس ملین امریکی خوراکی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ دورِ حاضر میں سرمایہ دارانہ پیداواری نظام دو تضادات کو جنم دے رہا ہے۔ اس نظام کی کارفرمائی کے سبب ایک ایسا ماحولیاتی بحران پیدا ہو رہا ہے جو اس صدی کے آخر تک دنیا کو جہنم بنا دے گا۔ امریکا، جاپان اور یورپ مل کر دنیا کی اوسط حیاتی استعداد (bio capacity) سے چار گنا زیادہ حیاتی استعداد صرف کر رہے ہیں۔ اور چینی کثافتی اخراج اس کے علاوہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اور غلاظت کا یہ پھیلاؤ بالخصوص غریب ممالک کو بہت زیادہ متاثر کر رہی ہے۔

حصہ ۲

دوسرا تضاد سرمایہ دارانہ پیداواری طریقہ کار سے برآمد ہوتا ہے۔ آٹومیشن، آرٹی فیشل انٹیلی جنس اور روبوٹ کاری کے پھیلاؤ کی وجہ سے غریب ممالک میں بے روزگاری اور ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں مخفی بے روزگاری عام ہوتی جا رہی ہے۔ 2020 کے وسط میں امریکا میں بے روزگار افراد قومی افرادی قوت کا تقریباً سولہ فی صد ہو گئے تھے۔ آج بھی گیارہ ملین امریکی بے روزگار ہیں اور یورپ میں اس سے کہیں زیادہ۔ اس کے نتیجہ میں آمدنی اور دولت کی تقسیمی نامساویت میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا میں پچھلے تقریباً پچاس برسوں سے اوسط اجرتیں منجمد ہیں جس کے نتیجہ میں 2020 میں ہڑتالوں کی ایک لہر آئی ہوئی تھی۔ بے روزگاری اور نیم بے روزگاری کے بڑھنے کی وجہ سے ریاست کے رفاہی اخراجات میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے 2020 میں تین ہزا ارب ڈالر خرچ کیے اور بائیڈن سرکار 2021 میں اس سے بھی زیادہ خرچ کرنے کا تخمینہ لگا رہی ہے۔ یہ اخراجات سب کے سب ریاستی قرضوں سے پورے کیے جائیں گے۔ امریکی ریاست بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ادارہ ہے۔ دورِ حاضر کی معاشی تنظیم کی ایک خصوصیت بڑھتی ہوئی ریاستی اور کارپوریٹ مخبری اور تخریب کاری ہے۔ ہر سرمایہ دارانہ کارکن کی مستقل نگرانی کی جاتی رہتی ہے اور نگرانی کا دائرہ کار پورے معاشرہ (فیکٹری، دفتر، مارکیٹ، گھر، تفریح گاہ)پر محیط ہے۔ اس کی وجہ سے عدم تحفظ اور محرومی کا احساس بڑھتا ہے اور ذہنی بیماریاں عوام اور خواص میں ایک وبا کی طرح پھیلتی ہیں۔ 2020 کے حکومتی تخمینہ کے مطابق تقریباً 23 فی صد امریکی کسی نہ کسی درجہ میں ذہنی مریض ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ استحصال زندگی کی بنیادی ضرورتیں (پانی، خوراک، غیر آلودہ ہوا، صحت مند اراضی) پوری دنیا میں قلت پیدا کر رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کو غیظ و غضب لگائے جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا ہر باشندہ (citizen)مستقل عالمِ طیش میں رہتا ہے اور اس طیش کا اظہار اس کے معاشرتی عمل سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت دنیا کی پہلی اور واحد معیشت ہے جس میں زر مرکزی کردارا ادا کرتا ہے۔ ہر معاشی عامل کی شناخت (کارپوریشن، ریاست، گھرانہ) اپنے متعلق ترسیل زر کی بنیاد پر متعین کرتی ہے۔ پوری سرمایہ دارانہ معیشت کی حیثیت ترسیل زر کی نظاماتی کارفرمائی سے متعین ہوتی ہے۔ اور ہر شے اور ہر عمل کی قدر کے اظہار کاذریعہ بھی ہوتا ہے اور ہر شے اور عمل کی قدر بھی متعین کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ زر فنانس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ فنانس وہ زر ہے جو اپنی سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں اپنی بڑھوتری کی تلاش میں مستقل گردش کرتا رہتا ہے۔ حرام خور مارکیٹ (سود اور سٹہ کے مارکیٹ) ہمیشہ غیر متوازن رہتے ہیں کیونکہ سود کی کوئی حقیقی پیداواری لاگت نہیں اور سٹہ بازی ہمیشہ مستقبل کے بارے میں لگائی ہوئی اور مستقلاً غلط ثابت ہوتے ہوئے امکانات پر مبنی ہوتی ہے۔ حرام خور مارکیٹوں کے اس عدم استحکام کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ معیشت میں سب معاشی عاملوں(ریاستوں، کارپوریشنوں، گھرانوں) کے قرض مستقلاً بڑھتے رہتے ہیں۔ حرام خور مارکیٹوں میں بحران آنے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے کیونکہ کبھی بھی مطالبات (claims) اور ادائیگیاں (payments)کبھی برابر نہیں ہوتیں۔ اور جب بھی قرضہ لینے والے ادائیگیوں کے مطالبات پورے نہیں کر پاتے تو حرام خور مارکیٹوں سے اعتبار اٹھا جاتا ہے اور ایک وسیع تر نظاماتی بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور سٹہ کے مارکیت ایک دوسرے سے نتھی بھی ہوتے جا رہے ہیں اور اپنے زیر نگیں اشیا کے مارکیٹوں کو سکیوریٹائزیشن کے ذریعہ بدلتے بھی جاتے ہیں۔ ہزاروں قسم کے derivatives بیچے اور خریدے جاتے رہتے ہیں اور واجبات اور ادائیگیوں کا دائرہ گنجلک سے گنجلک ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قرضوں کا یہ لامتناہی انبار ایک سکڑتی ہوئی پیداواری اور خدمتی بنیاد پر ہر لمحہ لرزتا رہتا ہے اور ہر وقت اس کے زمین بوس ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

حصہ ۳

حرام خور بازاروں کے اسی لرزتے بوجھ کو سرمایہ دارانہ ریاست سہارا دیتی رہتی ہے۔ یہ سہارا زر کے رسد M2کے بے اندازہ بڑھوتری کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔ حکومتی تمسکات کا کاروبار نجی کارپوریشنوں اور عوام کو دیوالیہ ہون سے بچا لیتا ہے۔ مثلاً 2020 کے معاشی بحران سے نبٹنے کے لیے ٹرمپ نے تین ٹریلین ڈالر کا سرکاری خرچہ کیا اور توقع ہے کہ بائیڈن اس سے زیادہ خرچ کرے گا۔ 2006 تا 2010 کے بحران میں کارپوریشنوں اور بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے امریکا، جاپان، یورپی یونین اور چین نے نقد 6.5ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔ سرمایہ دارانہ فنانشل نظام کا لرزتا ہوا استحکام سرمایہ دارانہ زر پر عوامی اعتبار کی بنیاد پر قائم رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ زر کی قدر کسی شے (سونا، چاندی) سے متعلق نہیں ہوتی۔ مرکزی بینک جتنا بنیادی زر (reserve money)M2 چاہیں تخلیق کر دیں۔ جب تک ا س بنیاد پر قائم کردہ مجموعی زر M2,M3 پر عوامی اعتبار قائم رہے گا حکومتی قرضہ بڑھا کر کارپوریشنوں اور بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچاتا رہے گا اور عوام کا معیار زندگی بڑھانے کے عمل کو جاری رکھا جا سکے گا۔ امریکی سرمایہ دارانہ استحکام اس وقت تک قائم رہے گا جب تک ڈالر پر عالمی اعتبار قائم ہے۔ لیکن حکومتوں کے لیے اس بحران میں تدارکی (crisis management)کردار ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے دور میں سرمایہ داری پر حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں کا تحکم نافذ ہے۔ زیادہ سے زیادہ اثاثے حرام خور مارکیٹوں کی دسترس میں آتے جا رہے ہیں۔ دولت کھنچ کھنچ کر حرام خور اداروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے اور حرام خور مارکیٹوں کا دائرہ کار عالمی ہو گیا ہے اور وہ اپنی مقبوضہ دولت کو جلد از جلد بڑھوتریٔ سرمایہ کو تیز سے تیز تر کرنے میں لگانے کی پیہم جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ اشیا کا روبار اور عمل کے قدر کا تعین حرام خور مارکیٹوں کے حصص کے اتار چڑھاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔ نجی بچتیں گرتی جاتی ہیں اور نجی قرضہ مستقل بڑھتا رہتا ہے۔ ان حالات میں بحران کے وقوع کا خطرہ مستقل بڑھتا رہتا ہے اور حرام خور مارکیٹوں کے حجم کی رفتارِ بڑھوتری پر قابو پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ یہ بڑھوتری عالمی ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست قومی جمہوری احاطہ میں مقید ہوتی ہے۔ آج کے دور میں سرمایہ دارانہ معاشی بحران سرمایہ دارانہ نظام کی فنانشلائزیشن کے پیداکردہ ہیں۔ فنانشل مارکیٹوں کی بڑھوتری کو سرمایہ دارانہ ریاست محدود نہیں کر سکتی کیونکہ فنانس حرص و ہوس کی تجسیم ہے اور حرص اور ہوس کا لامتناہی اضافہ سرمایہ دارانہ ریاست کا وجہ وجود (Raison Dietre) اور وظیفہ ہے۔ وہ صرف اس لامتناہی بڑھوتری کو سہارا دے سکتی ہے اور جب تک اس کے تخلیق کیے ہوئے زر M0 پر عوامی اعتبار قائم رہتا ہے وہ ہر معاشی بحران سے سرمایہ دارانہ نظام کو نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اس اعتبار کے پیچھے ریاست کی سامراجی قوت ہے۔ آج امریکی ڈالر اسی لیے سرمایہ دارانہ نظام کا معتبر ترین زر ہے کیونکہ امریکا کے دو سو سے زائد فوجی اڈے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور امریکا کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والا کوئی حریف موجود نہیں۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ فی الحال سرمایہ دارانہ معاشی بحران کو مہمیز دینے کی استطاعت نہیں رکھتے لیکن ان بحرانوں سے محفوظ رہنے کے لیے دو اقدامات کیے جا سکتے ہیں: ۱۔ ملک بھر میں حلال کاروبار۔ ایسا کاروبار جس کا حرام خور مارکیٹوں سے تعلق نہ ہو، کی تنظیم اور فروغ۔ ۲۔ اگر انتخابات میں کامیابی ہو تو حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ : ۔ سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کے دائرہ کا ر کو محدود کرے

حصہ ۴

۔ عالمی سرمایہ دارانہ معیشت سے روابط میں کمی کرے ۔ آئی ایم ایف کی ہدایت پر عمل کرنا بند کرے۔ بیرونی ترسیلِ زر پر تحدید نافذ کرے۔ روپے کا شرح تبدل منجمد کرے۔ نج کاری کا عمل ترک کرے۔ حلال کاروبار کے فروغ کی راہ میں مزاحم نہ ہو۔ بیرونی سرمایہ کاری اور حصولِ سرکاری اور غیر سرکاری قرضہ جات کا خاتمہ بند کرے۔ جاوید اکبر انصاری