کتب خانہLibrary

ٹرمپ کی کامیابی

رسالہاردو۲۰ نومبر ۲۰۲۴کتب و مضامین
حصہ ۱

ٹرمپ کی کامیابی سے اسلامی انقلابی کیا سیکھ سکتے ہیں جن مسلم ممالک میں جمہوری عمل راسخ اور مقبول عام ہے وہاں اسلامی انقلابی جدوجہد جمہوری عمل کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اگر جمہوری علمیت کو نظر انداز کیا گیا تو تحفظ دین اور غلبہ دین کی تحریکات لازماً ریاستی تحکم کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ لہٰذا رائج شدہ جمہوری عمل کا ادراک مرتب کرنا اسلامی انقلابیوں کے لیےضروری ہے۔ ٹرمپ کا 2024ء میں دوبارہ انتخاب اس سال کے اہم ترین جمہوری واقعات میں شامل ہے۔ پہلے اس مضمون میں میں اس واقع کا ایک اسلامی انقلابی نقد مرتب کرنے کی کوشش کروں گا پھر ٹرمپ کی کامیابی کے وجوہ بیان کیے جائیں گے اور آخر میں جمہوری عملیت کے اس اظہار سے جو سبق اسلامی انقلابی حاصل کر سکتے ہیں ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ سرمایہ تحکم اور جمہوری عملیت سرمایہ (حرص و حسد کی تجسیم ) کی اصل قوت اس کی ریاست (نظام تحکم) ہے۔ سرمایہ دارانہ تاریخ میں ہر جگہ پہلے سرمایہ دارانہ ریاست قائم ہوئی پھر سرمایہ دارانہ معاشرت وجود میں آئی۔ ہر جگہ سرمایہ دارانہ ریاست نے حرص و حسد کو نظاماتی غلبہ دلا کر معاشرہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ حرص اور حسد کی پرورش کا اصل مقام نفس انسانی ہے۔ معاشرہ کی سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ اس میں پائے جانے والے افراد حریص اور حاسد ہوتے چلے جائیں۔ جمہوری عمل افراد کو حریص اور حاسد بنانے کا کامیاب ترین طریقہ ہے۔ کلیدی جمہوری اقدار آزادی اور مساوات ہیں۔ آزادی بندگی کا رد ہے اور مساوات ہدایت کا رد ہے۔ ایک آزاد اور مساوی فرد خود مختار ہوتا ہے۔ جمہوری عمل autonomy یعنی خود مختاری کا اظہار ہے۔ افراد کے جسم (محنت) پر قبضہ کیے بغیر حرص و حسد (سرمایہ) دولت پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ لہٰذا جمہوری عمل کا جاری رکھنا ہر سرمایہ دارانہ نظم قوت (ریاست) کا فرض ہے اور یہ فرض تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں ادا کرتی رہتی ہیں۔ لبرل، اشتراکی، قوم پرست، سوشل ڈیموکریٹ، سب سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں۔ ان معنوں میں کہ ان کی اقتدار کی بنیاد عوامی تائید کے تسلسل پر ہی قائم ہوتی ہے۔ جمہوری ریاستوں میں عوام حکومت نہیں کرتے۔ وہ محض حکومت کرنے والوں کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں لیکن جمہوری عمل ان کو یہ دھوکا دیتا رہتا ہے کہ حکومت کرنے والے ان کے مفادات کو فروغ دے رہے ہیں اور کم از کم اصولاً ان کے تابع ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاستی پالیسیاں اختلافی ہوتی ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اشتراکی پالیسیوں سے اور اشتراکی پالیسیاں لبرل پالیسیوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود کہ ان سب کا مقصد معاشرتی سطح پر حرص اور حسد کا فروغ ہوتاہے۔ حرص اور حسد کے سوشل ڈیموکریٹ طریقہ اور عملیت لبرل طریقہ فرد کے حرص اور حسد سے مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت جاہلیت خالصہ ہے اور ہمیشہ سرمایہ (حرص و حسد) کی لامتناہی بڑھوتری کو کوئی واحد صحیح طریقہ متعین نہیں کر پاتی۔ لہٰذا عوام کے لیے دائرہ انتخاب ہمیشہ وسیع رہتا ہے۔ وہ کبھی لبرل پالیسیوں کی تائید کر سکتے ہیں کبھی لبرل پالیسیوں کا۔ کبھی ان پالیسیوں میں ایک قسم کے امتزاج کا ، کبھی دوسرے قسم کے امتزاج کا۔ پھر سرمایہ دارانہ ریاستیں اقتدار ادارتی طور پر منقسم بھی ہوتا ہے۔ اس نظام کے غیر نمایندہ ادارے (عدلیہ، نوکرشاہی، کارپوریشن، میڈیا) عموماً عوامی نمایندہ ادارے (مقننہ) پر غالب رہتے ہیں لیکن تغلب کا یہ رجحان یکساں نہیں رہتا۔ کبھی مقننہ کا نظاماتی غلبہ بڑھ جاتا ہے، کبھی بیوروکریسی کا کبھی فوج کا کبھی کارپوریشنوں کا۔ اس قسم کا ادارتی تفاوتی تسلط کا توازن بھی عوامی تائید کی فراہمی پر منحصر ہوتا ہے۔

حصہ ۲

اب میں اس نظریاتی تناظر میں ٹرمپ کی کامیابی کے عوامل کا تجزیہ مرتب کرنے کی کوشش کروں گا۔ ٹرمپ کی کامیابی کے بنیادی اسباب ٹرمپ ایک نہایت غلیظ اور خبیث شخص ہے۔ عادی زانی اور پشتینی جواری ہے۔ دھوکہ دہی کے 32 الزامات اس پر ثابت کیے جا چکے ہیں۔ جھوٹ بولنا اور الزام تراشی اس کی فطرت ہے۔ کٹر نسل پرست ہے۔ گالیاں بکتا رہتا ہے اور اتنے ہی درجہ کا حاسد ہے۔ غضب اور نفرت اس کے جذبات محرکہ ہیں۔ خود غرضی اس کی فطرت ہے۔ فحش کلامی میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ تمام صفات اس کی عوامی مقبولیت کا سبب ہیں کیونکہ امریکی عوام کی غالب اکثریت انہی صفات کی حامل ہے۔ امریکی عوام میں زنا ، لواطت، دغا بازی، فحش گوئی اور دھوکہ دہی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہیں۔ وحشت اور درندگی ان کی قومی اور معاشرتی ثقافت بن گئی ہے۔ ان کے آباو اجداد نے 8 ملین ریڈ انڈینوں کو قتل کیا اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ سے لے کر 2023 تک دنیا بھر میں کم از کم 17 ملین لوگوں کو قتل کر چکا ہے اور آج بھی ان کی حمایت کے زور پر قتل عام فسلطین، لبنان اور شام میں جاری ہے۔ امریکا کی آبادی کے 73 فیصد افراد شیزوفرینیا کے مریض ہیں اور نفرت اور غضب ان کی وجودی کیفیات ہیں۔ امام خمینی ؒ نے بجا فرمایا ”ہر امریکی شیطان بزرگ ہے“۔ امریکا میں عیسائیت کو سرمایہ دارانہ وحشت میں مکمل طور پر سمو دیا گیا ہے ۔ ریڈ انڈینوں کے قتل عام کی عیسائی توجیہ پادریوں نے مرتب کی اور آج امریکی عالمی دہشت گردی کا قومی جواز امریکا میں مرتب کیا جا رہا ہے۔ اس کی بنیاد عیسائی تعصبات ہی فراہم کرتے ہیں۔ عیسائی ایونجلیکل سامراجیت اور صہیونیت کے فطری حلیف ہیں۔ ٹرمپ امریکی عوام کی غالب اکثریت کا جائز نمایندہ ہے۔ اس کی خباثت اور درندگی عامی وحشت اور درندگی کا درست اظہار ہیں۔ وہ اگر زانی، جواری، دغا باز اور فریب کار ہے تو ایک عام امریکی بھی زانی، فحش نواز، مکار، جھوٹا اور دروغ گو ہے۔ ٹرمپ کو عیسائی امریکی حلقوں کی بھرپور تائید حاصل ہوئی ہے کیونکہ امریکی عیسائیت وحشی دہریت میں مکمل طور پر ضم ہو گئی ہے۔ امریکی جمہوریت دنیا کا کرپٹ ترین، غلیظ ترین اور سب سے گھناؤنا طرزِ حکمرنی ہے۔ اس عمل سے جو نتیجہ 2024ء کے انتخاب میں ظاہر ہوا ہے وہ امریکی معاشرتی غلاظت کی صحیح عکاسی اور ترجمانی کرتا ہے۔ ٹرمپ کی مجوزہ پالیسیاں امریکی عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ ہیں۔ وہ لاکھوں بیرونی آباد کاروں کو امریکا سے نکال دے گا اور سیاہ فام اور لاطینی امریکی باشندوں کی زندگی حرام کر دے گا۔ یہ امریکی اکثریت کی خواہشات کے عین مطابق ہے کیونکہ وہ نفرت اور غضب سے بھرے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی تشویش ہے کہ آیندہ 15 سال میں (2040ء تک) سفید فام امریکی اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ وہ خواہش رکھنے کے باوجود ان غیر سفید فام امریکیوں کا قتل عام تو نہیں کر سکتے جیسا کہ ان کے آبا و اجداد نے ریڈ انڈنیوں کو کیا تھا لیکن ان کا جینا دوبھر تو کر سکتے ہیں اور ٹرمپ یہی کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نوکر شاہی اور عدلیہ کے تحکمی اختیارات میں تخفیف کرے گا۔ یہ بھی عام امریکی کی خواہشات کے مطابق ہے جس کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ ظلم کا شکار ہے اور حقوق اور آزادیاں لبرل دستوری نظام فراہم کرتا ہے وہ غضب اور نفرت سے مغلوب عوام کی نظاماتی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ لہٰذا وہ اس نظم قانونی تحفظ کو توڑ کر اپنی نسلی بالادستی کو برقرار رکھنا اور فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ ایسا فاشسٹ طریقہ کار ہے جو نسلی برتری کو قائم رکھنے کے لیے اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ فسطائیت (فاشسٹ) بھی سرمایہ دارانہ تحکم کو رائج رکھنے ا یک معتبر طریقہ ہے جو سرمایہ دارانہ آبادیوں کو سٹیزن او ران کے علاقوں کو منقسم کر کے سرمایہ دارانہ نظم برقرار رکھتا ہے۔

حصہ ۳

ٹرمپ کی سامراجیت بھی امریکی عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ ایک طرف تو وہ غیر ملکی برآمدات پر بے تحاشا محصول عاید کرنے کا حامی ہے اور ٹیکنالوجی کی بیرون ملک ترسیل پر تزویراتی پابندیاں عاید کرے گا تاکہ معاشی پالیسی ملکی خود غرضیت کو فروغ دے۔ دوسری جانب وہ ناقابل تنسیخ جنگوں میں امریکی مداخلت کم کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے اور کوشش کرے گا کہ امریکی دفاعی بوجھ کو امریکی حلیف ملکوں کی طرف منتقل کر دے۔ وہ امریکا کے نیوکلیئر پروگرام اور اس کی دنیا بھر میں 900 کے قریب قائم شدہ اڈوں میں تخفیف کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور امریکی عوام کی بڑی اکثریت امریکا کی عالمی سامراجی بالادستی قائم رکھنے کی حامی ہے۔ یہ تمام اقدامات لبرل سرمایہ دارانہ نظام کو بتدریج فاشسٹ سرمایہ دارانہ نظام میں ڈھالنے کے مترادف تجاویز ہیں اور اس نظاماتی ترتیب نو کی حمایت امریکا کی عوام کی اکثریت نے کر دی ہے (2024ء کے انتخابات میں)۔ اس تبدیلی کی حمایت سرمایہ دارانہ طبقہ بالخصوص ملٹی نیشنلز نے بھی کر دی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ فاشزم یا نیو فاشزم سرمایہ دارانہ نظامات تحکم کی ترتیب نو کا طریقہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظم تحکم سے مراجعت کا طریقہ نہیں۔ امریکی عوام اور امریکی خواص سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور نظم اقتدار کے تغلب کے حمایتی ہیں۔ اسلامی انقلابیوں کے لیے اسباق کیا ٹرمپ کے ریاستی اقتدار کو ایک سرمایہ دارانہ اندرونی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ اندرونی انقلاب سے مراد ایسے انقلابات ہیں جو تحکمی ادارتی ترتیب نو کرنے کے باوجود سرمایہ دارانہ تعقل کو یکسر معطل نہ کر دیں۔ اس کی سب سے کامیاب مثال وہ انقلابات ہیں جو 1989ء سے 1991ء تک مشرقی یورپ میں آتے رہے اور جن کے نتیجہ میں اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام تحکم لبرل نظام تحکم میں تبدیل ہو گیا۔ ان انقلابات کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے نظاماتی تغلبی عمل میں رائج ریاستی تغلبی اداروں کا سہارا لیا۔ اس کے برعکس اکیسویں صدی جو اندرونی سرمایہ دارانہ انقلابات لاطینی امریکا میں (لبرل نظام کو سوشل ڈیموکریٹک نظام میں تبدیل کرنے کے لیے) اور بھارت میں (لبرل نظام کو نیو فاشسٹ نظام میں تبدیل کرنے کے لیے) لانے کی کوشش کی گئی وہ لبرل اقتداری اداروں کے توسط سے ہی برپا کیے گئے اور اب تک کے بھارت، وینزویلا، بولیویا وغیرہ کے تجربات سے یہ انقلابات کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ لبرل اقتداری نظام کی تحلیل میں کامیاب ہو جائے گا یا لبرل ریاستی اور معاشرتی قوتیں اس کے اقدام کو ناکام بنا دیں گی۔ اس سوال کا کوئی حتمی جواب اصولاً مرتب نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح نہیں اس کے انہدام کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس جدوجہد کی کامیابی اس پر منحصر ہے کہ فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں سطحوں پر حرص اور حسد کو بحیثیت غالب قوت محرکہ کے رد کیا جائے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ جب تک حرص اور حسد (سرمایہ) ریاستی غلبہ قائم ہے، انفرادی اور معاشرتی اقداری تبدل کا عمل لازماً محدود رہے گا۔ لہٰذا ہمارا سیاسی عمل ان حدود کو پیچھے دھکیلتے رہنا ہے جو حرص اور ہوس کی عمل داری نے قائم کر رکھی ہیں۔ ہم جمہوری عمل کو معاشرتی اور ریاستی جمہوری نظام کی تسخیر کے لیے استعمال کریں گے۔ ایک طرف تو ہم معاشرتی سطح پر ایسی ادارتی صف بندی کریں گے جو مخلصین دین کو بااقتدار بنا دے۔ یہ ریاست درون ریاست بنانے کی حکمت عملی ہے۔ جو غیر ریاستی ادارے معاشرتی سطح پر قائم کریں گے ان میں مخلصین دین علمائے کرام اور ائمہ مساجد کی قیادت میں حرص او رحسد کی تعقلی علمیت کو رد کریں گے۔ یہ غیر جمہوری ادارے ہوں گے جہاں فیصلہ سازی کا عمل عوام کی رائے کے تابع نہ ہو گا بلکہ تمام فیصلے شرع مطہرہ اور علوم اسلامی کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ یوں مخلصین دین کی معاشرتی بالادستی قائم کی جائے گی اور معاشرہ کو بتدریج de-domesticated غیر جمہوری خطوط پر منظم کیا جائے گا۔

حصہ ۴

1990ء کی دہائی میں اسپین اور یونان میں اکیسویں صدی میں وینزویلا میں بھی معاشرتی سطح پر عوامی اقتداری ادارے قائم کیے گئے تھے۔ لیکن یہ جمہوری ادارے اور ان کا مقصد عوام کے سرمایہ دارانہ حقوق کا فروغ تھا لہٰذا یہ ادارے سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں ضم ہوتے چلے گئے۔ جو ادارے اسلامی انقلابی قائم کریں گے وہ غیر جمہوری ادارے ہوں گے اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں ان اداروں کے انضمام کو دانستاً رد کیا جائے گا۔ دوسری جانب ہم انتخابات کے ذریعے ریاستی جمہوری عمل میں شرکت جاری رکھیں گے لیکن اس شرکت کا مقصد سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں شمولیت نہ ہو گا بلکہ شمولیت کے دو مقاصد ہوں گے۔ ایک جمہوری دستوری عمل کو اسلامی معاشرتی تحکیمی اداروں کے دائرہ اختیار کی توسیع اور حفاظت، دوسرے سامراج مخالفت۔ ہم بین الاقوامی اداروں اور مارکیٹوں میں مسلم ملکوں کی شراکت کی مخالفت کریں گے اور IMF, WTO, FATF, WIPO وغیرہ کے لیے معاہدات کی منسوخی کی وکالت کریں گے اور ہماری عوامی مزاحمت امریکا سے تمام تعلقات سفارتی، تجارتی، دفاعی منقطع کرنے پر مرکوز ہو سکے۔ امریکا کرہ ارض پر اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس وقت وہ عرب دنیا میں اسلام کو کچلنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس علاقے میں امن قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ٹرمپ کی اسرائیل نوازی مشہور ہے۔ وہ کوشش کرے گا کہ صلح اس بنیاد پر ہو کہ اسرائیل مکمل طور پر کامیاب ہو جائے اور حماس اور حزب اللہ کے مجاہدین ہتھیار ڈال کر اپنی تحلیل پر راضی ہو جائیں۔ اس سلسلہ میں وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور اردن کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ نومبر 2024ء میں جو عرب لیگ اور او آئی سی کے اجلاس نے جو اعلامیہ جاری کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے علاوہ افغانستان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، کوئی بھی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف عملی اقدام کرنے کا حمایتی نہیں۔ لہٰذا یہ غالب گمان ہے کہ سعودی عرب، عرب امارات، قطر اور ترکی وغیرہ امریکا کی ایما پر حزب اللہ اور حماس کو پسپائی قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حماس اور حزب اللہ یہ جنگ جیت رہے ہیں۔ ایک سال کی دہشت گردی کے باوجود اسرائیل نہ حماس کو غزہ سے بے دخل کرسکا نہ حزب اللہ کو جنوبی لبنان سے۔ لبنان اور شام پر اسرائیل مستقل جاری رہنے والے فضائی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ان علاقوں میں مستحکم زمینی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکا۔ مقبوضہ مغربی ساحلی خطہ اور تل ابیب تک میں مجاہدین اسلام فدائی حملے کر رہے ہیں اور ان کی مزاحمت ایک طویل المدت گرویلا جنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں سفید فام نسل پرستوں کو شکست دینے میں تقریباً سو سال لگے تھے۔ جہاد فلسطین بھی کئی دہائیوں تک جاری رہے گا اور فتح ان شاء اللہ حماس اور حزب اللہ کے مجاہدین کو آخر کار حاصل ہو گی اور صہیونیت کی نحوست سے ان شاء اللہ ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ امریکا ذلیل ہو کر مشرق وسطیٰ سے پٹے ہوئے کتے کی طرح فرار ہونے پر مجبور ہو جائے گا جیسے 2021ء میں افغانستان سے فرار ہوا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹرمپ کی متوقع مصالحت کو ناکام بنایا جائے اور عرب ممالک کو اس مصالحت میں شرکت سے باز رکھ کر حماس اور حزب اللہ کے جہاد کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔جاوید اکبر انصاری