مجوزہ اداریہ
مجوزہ اداریہ انقلابی اور اصلاحی تحرک میں ارتباط اور تضاد نظام کیا ہے؟ انقلابی اور اصلاحی تحرک ہمیشہ ایک مخصوص نظاماتی تناظر میں رونما ہوتا ہے۔ نظام وہ اکائی ہے جو ایک مخصوص تصورِ حق کو بروئے کار لانے کے لیے اپنے دائرہ کار میں انسانی تعلقات کو یوں مرتب کرے کہ ایک مخصوص انفرادیت، معاشرت اور ریاست کا غلبہ قائم ہو۔ مثلاً سرمایہ داری کو ایک نظام اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ایک مخصوص تصورِ حق ہے ۔ یہ فروغ آزادی (یعنی نفس امارہ کی غلامی) ہے۔ سرمایہ داری ایسی انفرادیت، معاشرت اور ریاست کے تغلب کی جستجو کرتی ہے جو حصول آزادی (یعنی نفس امارہ کی غلامی ) کی جستجو کی تقدیم قائم کرے۔ جیسا کہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اسلام بھی ایک نظام ہے۔ اس کا ایک مخصوص تصور ِ حق ہے۔ یہ عبادت یعنی بندگی ہے۔ اسلام انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو یوں ترتیب دیتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں جستجوئے عبادت غالب ہو۔ چونکہ عبادت آزادی کی ضد ہے لہٰذا اسلامی انفرادیت، معاشرت اور ریاست لہٰذا اسلامی نظام سرمایہ دارانہ نظام کی منتشری اور تسخیر سے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ انقلاب، اصلاح اور نظاماتی تغیر انقلابی جدوجہد دو قسم کی ہوتی ہے۔ کچھ انقلابات ایک مخصوص نظام کے کچھ تضادات کو رفع کرنے کے لیے برپا کیے جاتے ہیں۔ مثلاً برطانوی انقلاب، فرانسیسی انقلاب، روسی انقلاب، یہ سب سرمایہ دارانہ انقلاب ہیں۔ کچھ تحکمی سرمایہ دارانہ تضادات کو رفع کرنے کے لیے برپا کیے گئے۔ اس کے برعکس اسلامی انقلاب سرمایہ دارانہ تضادات کو مہمیز دینا چاہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح نہیں، اس کے انہدام کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح اصلاحی عمل بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو حاضر اور موجود نظام سے سمجھوتا نہ کرنے، اس کی کارفرمائی کو اپنے بیانیہ سے جواز فراہم کرتے ہوئے جزوی اصلاح کے ذریعے کچھ نظاماتی تضادات رفع کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً اسلامی دستوریت، اسلامی بینک کاری، بنو قابل، عورتوں کی پبلک لائف، اے آئی کی لہر کے غلبہ سے مصالحت اور اسلام کو محض ایک تصور حیات کے طور پر بیان کرنے کی مہمات ہیں۔ لیکن پاکستان میں بیش تر اصلاحی مہمات اور مغرب میں صوفیائے عظام کی تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی معاشرت میں فروغ عبدیت اور تحدید آزادی کی گنجائش تلاش کرتی ہیں۔ ان اصلاحی تحریکوں کا محور اور مرکز آزادی ہے اور ان کی پاکستان میں نمائندہ عوامی تحریکیں تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی ہیں۔ مخلصین دین کا ایک بڑا حصہ اصلاحی تحریکوں سے وابستہ اور متاثر ہے اور انفرادیت اور معاشرتی سطح پر کچھ اسلامیت کا اظہار انہی اصلاحی تحریکات سے قائم ہے۔ اسلامی انقلابی دور ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح نہیں چاہتے۔ اس کا انہدام چاہتے ہیں۔ انہی معنوں میں ہم جو انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں وہ سرمایہ دارانہ انقلاب نہیں ہے۔ وہ محض سرمایہ دارانہ نظام اجتماعی میں ترتیب کی تبدیلی کی جستجو نہیں کر رہے۔ ہماری رائے میں سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کے تناظر میں ایک اسلامی حکومت کا قیام ایک فعل عبث ہے۔ یہ انقلابی جماعت پر سرمایہ دارانہ ریاست کے قبضہ کے مترادف ہے۔ اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کو ناممکن بنانے کا ایک طریقہ۔ اسی طرح ہم اس تمام اصلاحی کام کی مخالفت کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ تضادات کو رفع کر کے فروغ آزادی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ یعنی وہ تمام دہریہ لادینی اصلاحی مہمات جو دعوت سے مبرا اور سرمایہ دارانہ حقوق اور تحکم قانون سرمایہ کے فروغ کے لیے چلائی جا رہی ہیں۔ اس کے برعکس ان تمام اصلاحی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اور ان کی پشت پناہی کے خواہاں ہیں جو اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے متحرک ہیں۔ اور جو دعوت سے منسلک ہیں ۔ ہمیں احساس ہے کہ ان دعوتی اصلاحی تحریکوں سے رابطہ کرتے میں ہم نے کوتاہی کی ہے۔
خانہ زادوں کی ہو تسخیر معاف جب تک دعوتی عمل اصلاح انقلابی اسلامی جدوجہد کی پشت پناہی پر آمادہ نہ ہوں گے اصلاحی انقلابی جدوجہد مخلصین دین کے سواد اعظم کے لیے اجنبی رہے گی۔ اے بھائی اگر تم ساتھ نہ دو تو ہم سے اکیلے کیا ہو گا ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ اور اسلامی جماعتوں کی خاموشی ٹرمپ کے امن منصوبہ کا اصل مقصد اسرائیل کی عسکری شکست کو سامراج کی فتح میں تبدیل کرنا ہے۔ اپنی فوجی برتری اور امریکا کی بھرپور اعانت کے باوجود 2023 سے جاری جنگ میں اسرائیل نہ اپنے جاسوسوں کو رہا کرا سکا نہ پورے غزہ کو اپنے زیر تسلط لا سکا۔ آج بھی غزہ کے حماس کے قبضہ سے زیادہ علاقہ حماس اور دیگر اسلامی جہادی تنظیموں کے ماتحت ہے۔ چونکہ نہ اسرائیل نہ امریکا یہ قوت رکھتا ہے کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے۔ لہٰذا انہوں نے یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا ہے۔ اگر یہ امن منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو گیا تو نہ صرف حماس ہتھیار ڈال دے گی بلکہ پورے غزہ پر اسرائیلی تحکم مستحکم ہو جائے گا اور سامراج پورے طریقہ سے غزہ کی معاشرت اور معیشت پر اپنا تسلط قائم کر لے گا۔ اس منصوبہ کے اعلامیہ کے باوجود اسرائیل کی غزہ پر فوج کشی جاری ہے اور جنوری 2016 تک مسلمانوں کی تعداد بقول اسرائیلی فوج چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس امن معاہدہ کے بارے میں یہ کہنا درست ہے وہی قتل بھی کریں اور وہی کہیں شراب اٹھا امن معاہدہ کا مقصد غزہ سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو ختم کر دینا ہے۔ امن قائم کرنے کی یہ بنیادی شرط ہے۔ اگر کسی شکل میں بھی خواہ عسکری خواہ جمہوری خواہ مزاحمتی اسرائیل کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا تو اسرائیل دہشت گرد کارروائیوں کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ غزہ کی تعمیراتی بحالی اور ترقی کے لیے جو اسکیمیں متصور کی گئی ہیں وہ سب غزہ پر سامراجی تسلط کی اسکیمیں ہیں۔ بنیادی ترقیاتی تصور یہ ہے کہ غزہ کے علاقہ کو امریکی یورپی اور اسرائیل عیاشیوں کے لیے ایک عشرت کدہ میں تبدیل کر دیا جائے جہاں فحاشی اور عریانی فروغ پائے اور غزہ کی اپنی روایتی اسلامی معاشرت کی دھجیاں بکھیر دی جائیں۔ مسلم دنیا کے کئی سامراج نواز ممالک اس شرم ناک منصوبہ کے شریک کار ہیں جن میں پاکستان، مصر، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔ ان میں وہ مسلم ممالک بھی شامل ہیں جو اسرائیل کے حلیف ہیں یعنی متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش اور وہ بھی جو ابھی تک باضابطہ اسرائیل کے حلیف نہیں بنے۔ مثلاً ترکی، پاکستان، سعودی عرب لیکن اس منصوبہ میں شریک تمام شرکا کو اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا لازم ہے۔ اسرائیل بھی اسی امن معاہدہ کا رکن ہے اور چونکہ معاہدہ کا مقصد اسرائیل کا تحفظ اور پھیلاؤ ہے لہٰذا معاہدہ کے تمام شرکا اسرائیل کی علاقائی بالادستی اور امریکی سامراج کے تسلط کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ اس معاہدہ کے تمام شرکا ابراہیم اکارڈ میں شامل کرنے کی طرف پہلا قدم ہے اور اس ضمن میں سب سے زیادہ دباؤ سعودی عرب ، ترکی اور پاکستان پر ڈالا جائے گا۔ اس منصوبہ کی جو بھرپور عوامی مزاحمت ہونی چاہیے وہ ناپید ہے۔ پاکستان میں ہم جماعت اسلامی سے توقع رکھتے تھے کہ اس سلسلہ میں عوامی مزاحمت منظم کرے گی کیونکہ اس کے امیر نے بار ہا حماس کی ہتھیار ڈالنے کی مخالفت کی تھی اور فلسطین کے حق میں عوامی تحرک پیدا کیا تھا۔ جماعت اسلامی مقامی حکومتوں اور شہری حقوق کے حصول کے لیے عوامی مزاحمت کر رہی ہے۔ تسلسل کے ساتھ لیکن امت مسلمہ کے سب سے بڑے خطرہ یعنی فلسطینی جہاد کی اعانت سے دست کشی ہو رہی ہے۔ جبکہ اس ایشو پر عوام کو متوجہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملہ میں جماعت اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر آ گئی ہے۔ عوامی مزاحمت تو دور کی بات ہے جماعت اسلامی نے اس امن معاہدہ کی زبانی مخالفت بھی نہ کی جیسا کہ جمعیت علما اسلام اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنماؤں نے کی ہے۔ جو مسلم ممالک لبرل جمہوری عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان، ترکی، انڈونیشیا وغیرہ ان میں حماس کے حق میں عوامی تحرک کو بیدار کرتے اور امن معاہدہ میں شمولیت سے دست برداری کا مطالبہ کرنا وہاں کی اسلامی جماعتوں کا اولین فریضہ ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی سے کوتاہی اسلامی جماعتوں کے اسلامی تشخص کو شدید مجروح کر سکتی ہے اور ان پر یہ الزام جائز طور پر لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایسے نازک موقع پر سامراج سے نبرد آزما ہونے سے گریز کر رہی ہیں۔
جاوید اکبر انصاری خط محترم امیر جماعت مجلس وحدت مسلمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ سندھ بھر میں جہاد فلسطین اور ٹرمپ کے معاہدہ کے سلسلہ میں جو نہایت کامیاب مظاہرہ مجلس نے کیے وہ آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو۔ یہ مظاہرے امت کے دل کی آواز ہیں اور شیعہ سنی اتحاد کی بہترین مثال ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جلیلہ کو قبول فرمائے اور مجلس کے ارکان کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ ٹرمپ معاہدہ سے پاکستان کی دست برداری ممکن بنانے کے لیے ہے کہ مجلس اپنی مہم کو ملک گیر سطح پر ۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ مجلس پہلے قدم کے طور پر ٹرمپ منصوبہ کے خلاف ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ تمام سیاسی اور دعوتی جماعتوں کو مدعو کریں۔ اس کانفرنس میں تحریک انصاف جو آپ کی حلیف جماعت ہے، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، شیعہ علما کونسل اور اگر ممکن ہو سکے تو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی پر مشتمل ایک مجلس عاملہ قائم کی جائے۔ مجلس وحدت المسلمین کی صدارت میں جو جہاد فلسطین کے حق میں اور ٹرمپ معاہدہ کی منسوخی کے لیے ملک گیر اجتماعی مہم کو منعقد کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔ آپ نے یہ کام نہیں کیا تو کوئی دوسری جماعت نہیں کرے گی۔ کیونکہ سب پر اسٹیبلشمنٹ کو راضی رکھنے کی جستجو غالب ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی جماعت ہی کی ذمہ داری ہے کہ پاکستانی امت مسلمہ کی قیادت فرمائیں۔ اس احتجاجی ملک گیر مہم کا ایک جزو اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاع بھی ہونا چاہیے جس پر سامراج حملہ آور ہے اور جو جہاد فلسطین کا واحد ساتھی اور پشتیبان ہے۔ والسلام جاوید اکبر انصاری جاوید شیخ بھائی السلام علیکم 1۔ جماعت کے اجتماع عام کے ہمارے مضمونوں کو شمارہ میں نہ شائع کرنے کا علی بھائی نے کیا جواب دیا ہے۔ کیا اپریل میں شائع کریں گے۔ امین بھائی سے پوچھئے۔ 2۔ افغانستان کی مونیٹری پالیسی پر کام کہاں تک پہنچا؟ 3۔ افغانستان پر WGAE کی سہ ماہی رپورٹ جو جنوری میں شائع ہوئی ہے طاہر بھائی کے لیے بھیج دیجیے۔ 4۔ امین بھائی سے کہیے کہ علی بھائی سے پوچھیں افغانستان کے دورے کی رپورٹ افغان حکومت کی اجازت سے شایع کی گئی ہے یا نہیں۔