طالبان کی کامیابی پر مسلم دنیا کا ردعمل18082021_
طالبان کی جدوجہد پر مسلم دنیا کا ردعمل طالبان کی حالیہ جدوجہد تقریباً اکیس سال سے جاری ہے اور ایسا لگتا ہے کہ دورحاضر میں یہ پہلا موقع ہے جب جہادی قوتیں سامراج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہوجائیں گی ان شاء اللہ۔ انیسویں صدی سے لے کر آج تک دیگر تمام جہادی تحاریک پسپا ہو گئیں (ناکام نہیں ہوئیں اور اپنا وجود برقرار رکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک کامیاب رہی ہیں)۔ لیکن طالبان امت مسلمہ کا وہ پہلا گروہ ہے جس نے نہ صرف مقبوضہ افغانستان سے سامراج کو بے دخل کیا بلکہ مفتوحہ علاقوں پر سامراج اور اس کے پٹھوؤں کے قبضہ کو ناممکن بنا دیا۔ یہ عالمی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ کیوں؟ اس سے پہلے بھی سامراجی قوتوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے۔ سوویت یونین (1917)، چین (1949)، ویت نام (1975)، مشرقی یورپ (1999) وغیرہ لیکن یہ بے دخلیاں تضاداتی نوعیت کی نہ تھیں۔ یہ تمام مزاحمتیں قومی آزادی کی جنگیں تھیں اور جن ممالک نے سامراجی تسلط سے پیچھا چھڑایا وہ فوراً ہی قوم پرست یا اشتراکی بن گئے اور اشتراکیت اور قوم پرستی سرمایہ دارانہ نظریات ہیں لہٰذا ان مبینہ آزاد ممالک کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنا کچھ مشکل ثابت نہیں ہوا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ طالبان کوئی قومی آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جو ریاست 1996ء تا 2001ء قائم کی تھی اس کا عالمی سرمایہ دارانہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی تعلق بہت بڑی حد تک منقسم ہو گیا تھا۔ آج بھی وہ اسی جہادی ریاست کے احیا کے لیے کوشاں ہیں۔ سامراج کی پسپائی اس بات کا اظہار ہے کہ طالبان نے سامراج کو ایک غیر سرمایہ دارانہ جہادی ریاست کے وجود کو برداشت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ طالبان کی اس عدیم المثال کامیابی کا کچھ احساس بھی مسلم دنیا میں نہیں پایا جاتا۔ پورے اکیس سال تک طالبان نے یہ جنگ تنہا لڑی ہے اور آج بھی وہ مسلم دنیا میں تنہا کھڑے ہیں۔ انہیں نہ کسی مسلم حکومت کی حمایت حاصل ہے نہ کسی اسلامی جماعت کی نہ مسلم عوام میں ان کی جدوجہد کی نوعیت کو سمجھا جاتا ہے۔ مسلم دنیا کی جہادی عمل سے اس لاتعلقی کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ رویہ مسلم عوام و خواص کے نظاماتی رجحانات اور احساسات کا غماز ہے۔ اس مضمون میں مسلم حکومتوں، عوام اور اسلامی جماعتوں کی جہادی عمل سے لاتعلقی کی وجوہات بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ مسلم حکومتوں کا رویہ ایران کے علاوہ پوری مسلم دنیا میں دہریہ حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تمام حکومتیں عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے پیوست ہیں اور قولاً و عملاً سامراج کی حلیف ہیں۔ ان میں بہت سوں نے شروع ہی سے افغانستان پر سامراجی تسلط کی حمایت کی۔ سب نے غدار انتظامیہ کو تسلیم کیا اور کچھ (بوسنیا، کوسوہ) نے قابض نیٹو فوجوں میں شمولیت اختیار کی۔ چونکہ یہ سب سرمایہ دارانہ حکومتیں ہیں لہٰذا یہ افغان جہاد اپنے سرمایہ دارانہ قومی مفاد کے تناظر سے دیکھتی ہیں۔ تارکین وطن کی روک تھام، تجارت اور مواصلات کا فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع کی فراہمی وغیرہ ان سب کی خواہش ہے کہ جہادی ریاست قائم نہ ہو۔ پاکستان امریکی مشاورتی عمل کا آلہ کار ہے اور طالبان کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ ریاستی تناظر میں غدار حکومت سے شرکت اقتدار پر آمادہ ہو جائیں۔ ترکی تو کھلم کھلا غدار حکومت کا حلیف ہے اور اس نے اشرف غنی کے ساتھ ہوائی اڈوں کی حفاظت کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ حکومتیں کسی غیر سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کی وقوع پذیری کا تصور تک نہیں کر سکتیں۔ ایران کا رویہ اس کی خلیج کی جنگ کے تجربات سے مرتب ہوا ہے۔ اس جنگ میں ایران انقلاب اسلامی کو علاقائی سطح پر وسعت دینے میں ناکام رہا اور اس تجربہ سے اس نے یہ سبق لیا کہ اسلامی انقلابی عمل کا استحکام ملکی سالمیت سے وابستہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حضرت حجۃ الاسلام ابراہیم رئیسی کے دور میں ایران کو اس بات کا احساس ہو گا کہ جہاد افغانستان ایران کے اسلامی انقلاب کا تسلسل ہے اور طالبان کی عالمی تنہائی کو توڑنے میں ایران ایک اہم کردار ادا کرے گا۔
مسلم عوام کا رویہ اسلامی دنیا میں عوام کی عظیم اکثریت اسلامی شعور اور وابستگی رکھتی ہے لیکن سرمایہ دارانہ عقلیت کے تغلب نے اس شعور کو انفرادی اور زیادہ سے زیادہ ثقافتی سطح تک محدود کر دیا ہے۔ تحریک خلافت کے وقت تک کم از کم برصغیر میں اسلامی اجتماعی شعور اس قدر مجروح نہ تھا لیکن انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلم دنیا میں مسلم اور نسلی قوم پرستی کی وبا پھیلی اور اسلامی اجتماعی شعور نہایت کمزور ہو گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عوام کا وہ اقلیتی طبقہ جو مخلصین دین پر مشتمل ہے اس میں شاذ و نادر ہی اجتماعی شعوری بیداری پائی جاتی ہے۔ اہانت رسول ﷺ کے مسئلہ پر اسلامی اجتماعی بیداری پیدا کی جا سکتی ہے لیکن سامراجی غلبہ کے معاشی یا سیاسی اظہار کو عوام ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے پر تیار ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال مصر، اردن، یو اے ای، دبئی، بحرین، مراکش اور سوڈان کے اسرائیل سے بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی روابط ہیں جن کے خلاف کوئی عوامی مزاحمت نہیں ہوئی۔ اشرافیہ کی طرح مسلم عوام بھی سرمایہ دارانہ عقلیت (ریشنلٹی) پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی نظروں میں بھی ایک غیر سرمایہ دارانہ اقتدار اور مواصلاتی نظام کا قیام ناممکن الوقوع ہے۔ یہ بات افغان عوام کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ اگر افغانستان میں انتخابات منعقد کیے جائیں تو طالبان کی کامیابی یقیناً ناممکن ہے۔ عوام کے بہت سے طبقے تنفیذ احکامات شرع کی بھی مخالفت کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہریہ ریاست نے دہریہ معاشرت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی ہے اور ایک طویل عرصہ اس دہریہ معاشرت کو منہدم کرنے کے لیے اسلامی ریاست کے لیے جبر کا استعمال ناگزیر ہے اور اگر طالبان افغانستان میں کسی جمہوری بندوبست کو قبول کر لیں تو یہ سامراج کو اسلامی نظام کی تنفیذ کی بیخ کنی کے مواقع فراہم کرے گا۔ اسلامی جماعتوں کا رویہ پاکستان کی کسی اسلامی جماعت خواہ سیاسی، خواہ اصلاحی نے کھل کر طالبان کی حمایت نہیں کی ہے۔ اور اس ضمن میں مدارس اور خانقاہیں بھی خاموش ہیں۔ یہ بھی نہیں کہ ہم اخوان کی طرح خاموش رہنے پر مجبور ہیں۔ اس خاموشی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلامی حلقوں میں دہریہ ریاست کا دہشت گردانہ بیانیہ مقبول عام ہے۔ تمام اسلامی گروہ اس بات سے خائف ہیں کہ ان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ان کو ریاستی دہشت گردی کا شکار نہ بنا دیا جائے۔ یہ دہشت گردانہ بیانیہ اتنا کامیاب ہے کہ سب نے (فوج، حکومت، دہریہ سیاسی جماعتیں، اسلامی جماعتیں) مجاہدین مقبوضہ کشمیر تک کی عملی اعانت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ تمام اسلامی گروہ (سیاسی اور اصلاحی) پاکستان کی دہریہ ریاست کو ایک اسلامی ریاست تسلیم کرتے ہیں۔ وہ یہاں کی ریاستی اقتداری ادارتی تنظیم (فوج، انتظامیہ، عدلیہ، کارپوریشن، میڈیا) کو فطری اور جائز تصور کرتی ہیں۔ نظاماتی انقلاب کا کوئی عملی تصور ان کے پاس موجود نہیں۔ وہ اپنی سیاسی اور اصلاحی جدوجہد میں دستور اور دہریہ قانون کا سہارا لیتی ہیں اور انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ریاستی دہشت گردی کے ذریعہ دستور کو کھوکھلا کر کے دستوری جمہوریت کو استبدادی جمہوریت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ وہ تحکم سرمایہ کو اصولاً اور عملاً قبول کرتی ہیں اور اقتداری ادارتی نظام کے تضادات کو مہمیز دینے کا کوئی تصور ان کے پاس موجود نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کو یہ احساس ہے کہ طالبان نے جو حکمت عملی اپنائی ہے وہ پاکستان میں ناقابل عمل ہے اور یہ ایک راست احساس ہے۔ عسکری مزاحمت کی یہ حکمت عملی اگر افغانستان میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے تو چیچنیا ، شام، عراق، مصر میں ناکام بھی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عسکری مزاحمت صرف ان علاقوں میں نتیجہ خیز ہوتی ہے جہاں سرمایہ کی معاشی ، معاشرتی اور ریاستی گرفت غیرمستحکم ہو۔ عسکری جدوجہد انہی علاقوں تک محدود رہتی ہے۔
اس کی تازہ ترین مثال وسطی افریقہ ہے جہاں عسکری جدوجہد نائجیریا، نائیجیر، مالی، برکینا،فاسو اور وسطی افریقی جمہوریت کے دور دراز علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اور فرانسیسی سامراج کے لیے اس قسم کا چیلنج پیش نہیں کر سکیں جیسا طالبان نے امریکی سامراج کو پیش کیا تھا۔ یہ بات صرف اسلامی گروہوں کے بارے میں درست نہیں بھارت میں نکسلائٹ اور کولمبیا میں FARC کے تجربات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کا ریاستی نظام سامراج نے اٹھارھویں صدی میں وضع کیا ہے اورجہاں تحکم قانون سرمایہ کو عمومی جواز حاصل ہے عسکری جدوجہد کے ذریعہ نظاماتی تبدیلی کی توقع دیوانے کا خواب ہے۔ پاکستان میں عسکری مزاحمت خود کشی کے مترادف ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں طالبان کی جدوجہد سے لاتعلق رہنا چاہیے۔ ہمیں طالبان کی جدوجہد کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے اور حکومت اور عوام کو باور کرانا چاہیے کہ افغانستان میں امن کا قیام غدار فوج کی جلد از جلد پسپائی اور احیائے امارت اسلامیہ پر منحصر ہے۔ اس طرح پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہو سکتی ہیں اور علاقائی امن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ بات ایران کو ترکی کی اے ڈی پی جماعت کے عام کارکنوں کو سمجھانے کی بھی ضرورت ہے۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ انقلابی عمل کو جاری رکھنے کا کوئی ایک ایسا طریقہ نہیں جو ہر مقام پر اور ہر زمانہ میں درست ہو۔ مثلاً ایران میں 1979ء میں جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس طریقہ سے مختلف ہے جو آج افغانستان میں اپنایا جا رہا ہے۔ انقلابی طرائق اجتہادی عمل سے وضع ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی انقلابی حکمت عملی اپنے مخصوص تاریخی تناظر اور معاشرتی اور ریاستی حالات کو ملحوظ خاطر رکھ کر مرتب کرنا ہو گی۔ جاوید اکبر انصاری