کتب خانہLibrary

افغان طالبان کی پیش رفت سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

تحریک طالبان کی پیش رفت سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں قارئین جسارت کو مبارک ہو۔ امارت اسلامیہ کا احیا ہو گیا اور یہ فی زمانہ عالمی تحریک اسلامی کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ ہم سب پر واجب ہے کہ اس تاریخ ساز واقعہ کی نوعیت کو سمجھیں اور ان اسباق کی روشنی میں جو اس کے مطالعہ سے عیاں ہوتے ہیں اپنی معاشرتی اور ریاستی حکمت عملی کی ترتیب نو کریں۔ تحریک طالبان عالیشان کی حکمت عملی تحریک طالبان کی ابتدا 1990ء کی دہائی کے وسط سے شروع ہوتی ہے جب ملا عمر رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں افغان مدارس کے اساتذہ اور طلبہ ملک میں غلبہ دین کے لیے کارروائی شروع کرتے ہیں۔ اس زمانہ میں ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اور منظم مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں صرف شمالی اتحاد تھا۔ شروع ہی سے تحریک طالبان عالیشان کے گہرے روابط افغان قبائلی نظام کے ساتھ تھے اور اسی قبائلی حمایت کی بنیاد پر جلد ہی 1996ء میں امارت اسلامیہ قائم کر دی گئی۔ اس کشمکش کے دوران سامراج لاتعلق رہا۔ امارت اسلامیہ کے پہلے دورانیہ میں طالبان عالیشان کے قبائلی روابط مستحکم ہوتے چلے گئے۔ اس پورے دور میں طالبان عالیشان نے عوام کی اسلامی عصبیت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔ سامراج کے مطالبات کو حقارت سے رد کر دیا۔ ایک مثالی شرعی عدالتی نظام ملک گیر سطح پر نافذ کیا اور ریاستی تحکیم سازی کے وہ طرائق اپنائے جو قبائلی روایات سے ہم آہنگ تھے۔ اس پورے دورمیں طالبان عالیشان کو اندازہ تھا کہ جلد یا بدیر ان کا سامراج سے مقابلہ یقیناً ہو گا۔ اس مقابلہ کی تیاری پہلے دن ہی سے جاری تھی۔ چنانچہ جب 2001ء میں سامراج حملہ آور ہوا تو پورے ملک میں ایسے کئی بیس کیمپ موجود تھے جہاں طالبان دوبارہ منظم ہو سکتے تے۔ طالبان عالیشان کی یہ وقتی پسپائی اس لیے ضروری تھی کہ انہیں خوب اندازہ تھا کہ شہری عوام دشمن کے لیے تر نوالہ ثابت ہوں گے اور مزاحمت کو ابتداءً ان علاقاوں تک محدود رکھنا لازم ہو گا جن پر سامراج اور اس کی پٹھو انتظامیہ کی گرفت ہمیشہ واجبی رہی ہے۔ 2001ء سے آج تک جاری رہنے والی جہادی مہم کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں: 1۔ نہایت نامساعد حالات اور کئی بڑی پسپائیوں کے باوجود طالبان کی قیادت کبھی نصرت الٰہی سے مایوس نہیں ہوئی اور ہمیشہ عزیمت کے ساتھ اپنی عسکری اور معاشرتی حکمت عملی کی ترتیب نو کی جاتی رہی۔ 2۔ پورا انحصار افغانیوں کی اسلامی عصبیت کو ابھارنے پر کیا گیا۔ قیادت نے کبھی کوئی قوم پرستانہ، اشتراکی یا سوشل ڈیموکریٹ دعوے نہ کیے۔ 3۔ ہر مجاہد کے دل میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی گئی کہ جہاد کا مقصد حصول شہادت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ دونوں امراء، ملا عمر مجاہد اور ملا اختر منصور رحمہم اللہ شہید ہوئے اور جب حضرت امیر المؤمنین ملا ہیبت اللہ سے ان کا تاثر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”اللہ کا فضل ہے لیکن مجھے اس کا افسوس ہے کہ میں شہید نہ ہوا“۔ 4۔ اس پورے دور میں افغان قبائلی نظام کے ساتھ تحریک طالبان کی انتظامی پیوستگی کو فروغ دیا گیا۔ قبائلی رسوم و رواج شرعی احکامات کے تناظر میں پرو دیے گئے اور سامراج اور اس کے پٹھوؤں کی معاشرتی اجنبیت کو اجاگر کیا گیا۔ 5۔ عسکری حکمت عملی عدیم المثال رہی۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس نے ایک واضع منصوبہ کے تحت ”وار آف پوزیشن“ کو ”وار آف مینوور“ میں بدلنے کی بتدریج کامیاب کوشش کی۔ اپنی نسبتاً قلیل عسکری قوت کے باوجود دشمن کے حساس علاقوں کے خلاف منظم کارروائی کی گئی۔ یاد رہے کہ غدار فوج کی نفری دو لاکھ سے زیادہ تھی اور آخری وقت اس کی فضائی برتری کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا۔ مجاہدین کی تعداد تقریباً ۷۲ ہزار تھی اور انہیں کوئی فضائی دفاع میسر نہ تھا۔

حصہ ۲

6۔ طالبان نے غدار فوج میں اپنا پروپیگنڈا جاری رکھا اور دخول کی اس حکمت عملی کے نتیجہ میں کئی امریکی اور غدار افغان افسران مارے جاتے رہے اور غدار فوج میں اس کا اعتماد مجروح ہوتا رہا۔ 7۔ دشمن سے ”کچھ دو اور کچھ لو“ کی بنیاد پر مطالبہ کو سختی سے رد کر دیا گیا۔ مذاکرات محض ایک عسکری حربہ ثابت ہوئے۔ حملے مستقل جاری رہے۔ امریکی سفارت کاروں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ 8۔ دیگر اسلامی گروپوں کو جہادی عمل سے تعاون کرنے کی بھرپور کوشش جاری رہی۔ پورے دورمیں طالبان نے کئی دوسرے اسلامی گروہ کے افراد کو دشمن کے حوالے نہیں کیا۔ کبھی کسی دوسرے اسلامی گروہ پر حملہ آور نہ ہوئے۔ جب غدار حکومت کی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کیا گیا تو اپنے اور دیگر اسلامی گروہوں کے قیدیوں میں تمیز نہ کی گئی۔ 9۔ آج بھی تمام مخلصین دین کے گروہوں سے سیاسی مشاورت جاری ہے اور ایک وسیع البنیاد اسلامی انقلابی حکومت کے قیام کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ واضح رہے کہ 1996ء تا 2001ء کے دور کی طرح آج بھی طالبان عالیشان کی کوشش ہو گی کہ امارت اسلامیہ کی انتظامیہ زیادہ سے زیادہ علما کرام اور مخلصین دین کے گروہوں پر مشتمل ہو۔ مشکلات تحریک طالبان کی کامیابی کے نتیجہ میں عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ لیکن یہ دراڑ نہایت خفیف ہے۔ افغانستان کی آبادی محض چالیس ملین ہے اور اس کی قومی پیداوار سالانہ طور پر ورلڈ بینک کے تخمینوں کے مطابق بیس بلین ڈالر اور حقیقتاً اس سے دوگنی ہے۔ یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی آبادی اور مجموعی سالانہ پیداوار کا عشر عشیر بھی نہیں۔ سامراج کے افغانستان سے دستبردار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نظاماتی تناظر میں افغان معیشت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ افغانستان کے سرمایہ دارانہ نظام سے انخلا سے جو خطرہ سامراج کو پیدا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ دیگر علاقائی ممالک بھی اس قسم کے انخلا کے امکانات پر غور کریں گے۔ آج عالمی سرمایہ دارانہ نظام کئی عمیق بحرانوں کا شکار ہے۔ یہ بحران بنیادی طوپر اعتقادی اور علمیاتی ہیں۔ جاہلی علمیت سائنس کی لغویاتی مابعدالطبیعیات نے انسان اور کائنات کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیاں نئے نئے جراثیم کی افزائش نسل وباؤ کے عالمی پھیلاؤ کو دائمی بنا رہی ہیں۔ سرمایہ دارانہ معیشت کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں ایک ایسا ماحولیاتی بحران پیدا ہو گیا ہے جو انسان کے لیے دنیا کو ناقابل رہائش بنا رہا ہے۔ آئی ٹی کے ذریعہ پھیلنے والی مواصلاتی کثافت نے حقیقت شناسی ناممکن بنا دی ہے۔ مغرب میں نفسیاتی امراض اور ذہنی بیماریاں عود کر آئی ہیں۔ مغربی تہذیب کے کلیدی اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) لایعنی ثابت کر دیے گئے ہیں۔ جمہوری نظام شکست و ریخت کا شکار ہے۔ خود امریکا کے 2020ء کے انتخابات کے نتائج پر وہاں کے 44 فیصد رائے دہندگان دھاندلی کا نتیجہ تصور کرتے ہیں۔ روس، چین اور امریکا میں سامراجی بالادستی کے لیے رسہ کشی اپنے عروج پر ہے۔ ان حالات میں کسی ایک علاقہ سے سامراجی تسلط کی بے دخلی عالمی سامراجی نظام کی تسخیر کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے اور اس قسم کی بے دخلی کو امریکا برداشت نہیں کرے گا۔ وہ افغانستان میں تخریب کاری کے عمل کو جاری رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اس تخریب کاری کے افغان آلہ کار دو ہوں گے: قوم پرست۔ لبرل اور اشتراکی دہریہ قوم پرستوں کا زور غیر پختون علاقوں میں ہے اور ان کی نمایندہ دہشت گرد تنظیم مسعود دہشت گرد ہیں وہ کوشش کریں گے کہ علاقائی خود مختاری کے سمجھوتے کی بنیاد پر تحکیم شرع کی بالادستی کو شمالی علاقہ جات میں محدود کیا جائے۔ سامراج کے علاوہ ان دہشت گردوں کو مرکزی ایشیائی جمہوریتوں (تاجکستان، ازبکستان وغیرہ) کی حکومتوں سے تعاون بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کو عسکری طور پر منتشر کرنا نہایت ضروری ہے اور اس کا ذریعہ تاجک، ازبک اور ترکمان اسلامی قیادت ہی ہو سکتی ہے۔ مسعودی دہشت گردوں کو اقتداری انتظامیہ میں شرکت سے محروم رکھا جائے اور شمالی علاقوں کی سرکاری انتظامی صف بندی مقامی علما کرام اور صوفیائے عظام پر مشتمل ہونی چاہیے۔مسعودی دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائی طویل المدت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس مہم میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنی جلدی غیر پختون علاقوں میں مقامی اسلامی قیادت کی تحکیم کو قائم اور مستحکم کیا جائے۔

حصہ ۳

جہاں تک لبرلوں اور اشتراکیوں کا تعلق ہے وہ تعداد میں محدود ہیں لیکن غدار حکومت نے انتظامی ، اقتداری ذمہ داریاں انہی کے سپرد کی تھیں۔ پنٹاگون کے تخمینہ کے مطابق 2020ء میں اسّی ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک افغانی غدارامریکا کے براہ راست ملازم تھے جو کہ آبادی کا صفر اعشاریہ تین فیصد سے بھی کم ہے اگر بالواسطہ سامراجی متاثرین کی تعداد اس سے دس گنا بھی تصور کر لی جائے تو اس کا تناسب افغان آبادی میں تین فیصد بنتا ہے۔ یہ ایک قلیل تعداد ہے لیکن اس کے حاملین کا معاشرتی اثر و نفوذ کہیں زیادہ ہے۔ ان دہریہ طبقوں کی اب یہ کوشش ہو گی کہ اپنی انتظامی گرفت کو قائم رکھتے ہوئے عوام میں مایوسی اور احساس محرومی پھیلائیں۔ یہ شرعی احکام کی تنفیذ کی درپردہ مخالفت کریں گے۔ ہیومن رائٹس کے سامراجی بیانیہ کی تشہیر کریں گے۔ عالمی نظام سے جڑے رہنے کے قومی فوائد گنواتے رہتے ہیں گے۔ فواحش کو برداشت کرنے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔ یہ سامراجی گھس بیٹھیوں کا کردار ادا کریں گے۔ ان دہریوں کے شر کو زائل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ 1۔ ان کے نمایندوں کو کلیدی سرکاری اداروں سے معطل کر کے ملک بدر کیا جائے۔ 2۔ ان کلیدی عہدوں پر علمائے کرام، مخلصین دین اور طالبان کو مقرر کیا جائے جو پورے سرکاری عملہ کی نگرانی کریں۔ 3۔ میڈیا کو ایک سرکاری صنعت قرار دیا جائے۔ نجی میڈیا کمپنیوں کو قومیا لیا جائے ۔ تمام غیر ملکی صحافیوں کو ملک بدر کیا جائے۔ 4۔ نظام تعلیم کی ترتیب نو کے ذریعہ مغربی دہریہ نظریاتی آدرشوں بالخصوص ہیومن رائٹس اور جمہوریت کی تعلیم کے خلاف مستقل مباحث مرتب کیے جائیں۔انگریزی کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ 5۔ اسلامی روحانیت کے عمومی فروغ کو ریاستی ذمہ داری کے طور پر فروغ دینے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔ جہاد افغانستان ختم نہیں ہوا۔ یہ عالمی جہاد ہے۔ اب طالبان اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرت کے قیام اور استحکام کا جہاد لڑ رہے ہیں۔ یہ نہایت کٹھن اور پرخطر راستہ ہے۔ آج تک کوئی بھی انقلابی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظاماتی گرفت سے آزاد نہ ہو سکی۔ طالبان جو کام کرنے اٹھے ہیں وہ کسی سے نہ ہو سکا۔ فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی اللہ سے ہماری دعا ہے کہ طالبان عالیشان اس کٹھن مرحلہ سے کامیاب اور سرخرو ہو کر نکلیں جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں اب میں اس بات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کروں گا کہ پاکستان کی اسلامی تحریکات طالبان کی جدوجہد سے کیا سبق حاصل کر سکتی ہیں۔ پاکستان سرمایہ دارانہ دنیا کا کوئی سرحدی علاقہ نہیں (جیسا کہ افغانستان تھا)۔ یہاں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام نہایت مستحکم ہے جو اس علاقہ میں پچھلے دو سو سال سے قائم ہے۔ شہری اور دیہی آبادی دونوں جگہ سرمایہ دارانہ معاشرت پھیل گئی ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت اس ریاستی نظام سے وابستہ اور اس معاشرت سے منتشر ہے۔ ایسے میں تحریک طالبان کے تجربات سے استفادہ کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس لیے بھی کہ پاکستان پر سرمایہ دارانہ سامراجی غلبہ کبھی بالواسطہ نہ رہا۔ لیکن افغان جہاد کی کامیابی ہماری چند اہم کمزوریوں کی نشان دہی کرتی ہے۔ پہلی کمزوری یہ ہے کہ ہم پاکستانی ریاست و معاشرت کی سرمایہ دارانہ ہیئت کو مسخر کرنے کی کوئی حکمت عملی مرتب نہ کر سکے۔ ہمارا تخاطب عوام الناس کے لیے اجنبی اور ناقابل فہم رہا۔ تحریکات اسلامی منتشر اور غیر مربوط ہیں۔ انقلابی اور اصلاحی تحریکات میں تعاون کبھی قائم نہ ہو سکا۔ ہم عوامی رسوم و روایات کو حقارت کی نظر سے دیکھتے رہے اور ہم نے اسلامی عوامی صف بندیوں (قبائل، برادریوں، صوفی سلاسل) کو ریاستی جدوجہد میں پرونے کی کوئی کوشش نہ کی۔ یہ عوامی ادارتی سطح کی صف بندی کو کبھی فروغ نہ دے سکے۔ نہ معاشرتی سطح پر نہ ریاستی سطح پر۔

حصہ ۴

ہم نے اپنی دعوت میں اپنے فطری انتخابی حلقوں کو بالکل نظرانداز کر دیا۔ یہ انتخابی حلقے ملک کی تقریباً پانچ فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور اس کی تعداد دو کروڑ ہے۔ ہمیں اس کا کچھ احساس نہیں کہ مخلصین دین کے اس انتخابی حلقہ کو بااقتدار بنائے بغیر اس موالیاتی نظام کو منتشر نہیں کیا جا سکتا جس میں عوام پیوست ہیں۔ ہم مسجد اور مدرسہ کی ادارتی صف بندی کے تحت عوام کو منظم نہ کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عملاً ہم نے دہریت کے خلاف ہتھیار ڈال دیے اور پاکستانی مذہبیت کا دائرہ انفرادی قیادت تک محدود رکھنے پر قانع ہو گئے۔ پھر ہم سرمایہ دارانہ نظام کے قیادت کے انہدام کے لیے نہیں اس میں اصلاح کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ ہم نے اشتراکیت کو تو 1970ء کی دہائی میں علامتی شکست دے دی لیکن اس سے بہت قبل مسلم قوم پرستی اور سوشل ڈیموکریسی کے شکار ہو گئے۔ کون سی وہ اسلامی جماعت ہے جو ہیومن رائٹس کے فاسد فلسفہ کی وکیل نہیں۔ کون سی وہ اسلامی جماعت ہے جو قومی مفاد کی دہائی نہیں دیتی۔ کون سی وہ اسلامی جماعت ہے جس کا منشور سوشل ڈیموکریٹ دعووں اور وعدوں سے بھرا پڑا نہ ہو۔ ہر اسلامی جماعت سرمایہ داری کی مخلص ترین خادم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور ہمارے وزیر، مشیر، کونسلر، عہدہ دار سب اپنے سرمایہ دارانہ اخلاص کا ثبوت بار بار پیش کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ طالبان نے عسکری جدوجہد کا جو طریقہ اختیار کیا وہ پاکستان جیسے ممالک میں خود کشی کرنا ہے۔ جہاد کا یہ طریقہ صرف ان ممالک میں کامیاب ہو سکتا ہے جہاں ریاستی اور معاشرتی نظام سرمایہ دارانہ مراکز سے غیر وابستہ ہے اور جہاں سامراجی تحکم کو قائم رکھنے والی قوت بیرونی سامراجی ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں ہم سرمایہ دارانہ تغلب کو دائمی طور پر قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ ہر ملک میں انقلابی اسلامی عمل کو جاری رکھنے کا طریقہ وہاں کے حالات کو پیش نظر رکھ کر مرتب کرنا چاہیے۔ مثلاً ایران میں علما نے جو انقلاب برپا فرمایا وہ طالبان کے انقلابی طریقہ سے مختلف تھا۔ پاکستان میں جو انقلابی عمل کا طریقہ وضع کیا جائے گا وہ ایران اور افغانستان دونوں سے مختلف ہو گا۔ مثلاً ہم جمہوری عمل میں شرکت پر مجبور ہیں۔ ایسا نہ ایران میں 1979ء سے پہلے تھا نہ افغانستان میں۔ برصغیر میں انتخابی عمل بیسویں صدی کی ابتدا سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اس عمل کو رد کرنے کا کوئی موقع یہاں موجود نہیں۔ ہمیں ایک ایسا تزویراتی طریقہ ایجاد کرنا ہے جس کے ذریعے اس موالیاتی نظام کو منتشر کیا جا سکے جس کا سہارا لے کر سرمایہ دارانہ تغلب قائم کیا جاتا ہے۔ یہ کام مخلصین دین کی معاشرتی ادارتی قیادت کو فروغ دیے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انتخابی جدوجہد کا انقلابی طریقہ ہے۔ جاوید اکبر انصاری