افغان جہاد اور علاقائی حکومتوں کا رویہ
افغان جہاد اور علاقائی حکومتوں کا رویہ علاقہ کی تین مسلم ممالک کی حکومتیں (ایران، ترکی اور پاکستان) اس جہاد میں مدت سے امریکی سامراج کے حلیفوں کا کردار ادا کرتی چلی آئی ہیں۔ ایران نے کبھی کھل کر امریکا کا ساتھ نہ دیا لیکن جہاد سے لاتعلقی عملاً امریکی ہاتھوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنی۔ ترکی نے باقاعدہ فوجی مداخلت کی اور آج بھی اردگان وعدہ کرتا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد اس کی فوج کابل کے حامد کرزئی ہوائی اڈہ کے دفاع کے لیے اس پر قابض رہے گی۔ پاکستان 2001ء سے لے کر آج تک امریکا کی وار آن ٹیرر میں شامل رہا ہے۔ مشرف کے دور میں اس نے پکڑ پکڑ کر مجاہدین اسلام کو امریکی دہشت گردوں کے حوالے کیا۔ آج بھی عمران خان امریکی سامراج کا حلیف بنا ہوا ہے اور طالبان کو سامراجی سرمایہ دارانہ نظم ریاست میں ضم کروانےکی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تینوں حکومتیں اس جہاد کو قوم پرستانہ نقطہ نظر سے دیکھتی ہیں۔ تینوں حکومتوں کا مفروضہ یہ ہے کہ اگر افغانستان میں ایک سرمایہ دارانہ جمہوری ریاستی نظام قائم ہو جائے جو بے شک علامتی طور پر اسلامی ہی ہو تو یہ ان کے قومی مفاد میں ہے۔ ان کے خیال میں اگر ایسا نہ ہوا تو طویل عرصہ تک افغانستان میں خانہ جنگی جاری رہے گی جس کے نتیجہ میں تارکین وطن ایک سیلاب کی شکل میں ان کے ممالک میں گھس آئیں گے۔ مرکزی ایشیائی ممالک (ازبکستان، تاجکستان وغیرہ) سے تجارتی اور سرمایہ کارانہ روابط منظم کرنا ناممکن ہو جائے گا اور خود افغانستان کی معیشت کی سامراجی لوٹ مار میں شرکت بھی مشکل ہو جائے گی۔ یہ مفروضہ کہ اگر طالبان سامراجی ریاست میں ضم ہونے پر راضی نہ ہوئے تو افغانستان میں طویل عرصہ تک خانہ جنگی جاری رہے گی ایک نیم سچائی ہے۔ خانہ جنگی صرف اس وقت جاری رہے گی جب تک سامراجی قوتیں (امریکا، بھارت، ترکی) غدار حکومت کو اصلاح فراہم کرتے رہیں گے۔ خانہ جنگی فوراً رک سکتی ہے اگر سامراجی قوتیں اسلحہ کی یہ فراہمی روک دیں۔ سامراجی قوتوں کو ویت نام اور کمبوڈیا میں اس حکمت عملی کی ناکامی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ فضائی دہشت گردی کے ذریعہ ارضی تسلط کبھی دیر پا ثابت نہیں ہو سکتا۔ غدار فوجیوں کو مروانے کی مذموم سامراجی مہم یقیناً ناکام ہو گی۔ طالبان کو اس بات کا خوب اندازہ ہے۔ اگر غدار فوج ہتھیار ڈال دے اور امارت اسلامیہ کا احیا ہو جائے تو افغانستان میں امن فی الفور قائم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان، ترکی اور ایران کو اشرف غنی اور اس کے غدار ٹولے کو ہتھیار ڈال کر ملک سے فرار ہونے پر راضی کرنا چاہیے۔ یہی پاکستان، ایران اور ترکی کے قومی مفاد میں ہے۔ آج افغانستان کے تقریباً اسی فیصد علاقہ پر امارت اسلامیہ کو غلبہ حاصل ہے۔ الحمدللہ۔ ان علاقوں میں مکمل امن قائم ہے اور ایک مضبوط عدالتی اور انتظامی ریاستی ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ مفتوحہ علاقوں میں اسلامی ریاستی نظام بالکل محفوظ ہے۔ وہاں کوئی گروہ اسلامی یا دہریہ، عسکری مزاحمت نہیں کررہا اور علما اور شیوخ کی اعانت سے تمام اسلامی گروہوں میں مفاہمت کا عمل جاری ہے۔ 1996ء تا 2001ء بھی ایسا ہی تھا۔ ملک گیر اقتدار حاصل کرنے کے بعد بہت جلد طالبان نے علماء کی سربراہی میں مکمل امن اور مثالی عدل قائم کر دیا تھا۔ شمالی اتحاد کی غدار فوج اور علاقائی لٹیرے سامراج کی مدد سے حرکت میں آئے اور آج مفتوحہ علاقوں میں ان کی کوئی سیاسی اور عسکری حیثیت نہیں ہے۔ اپنے بیس سالہ دور تسلط میں سامراج نے افغانستان کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس نے ریاستی نظام میں اتنے بڑے پیمانے پر تخریب کاری کی ہے کہ غدر حکومت کو آزاد کہنا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اشرف غنی ورلڈ بینک کا ایک پرانا نوکر ہے۔ غدار حکومت کی وزارتیں عملاً امریکی کنسلٹنٹس چلا رہے ہیں۔ پورے انتظامی نظام میں این جی اوز کی مداخلت اپنے عروج کو پہنچی ہوئی ہے۔ سامراجی تنظیم یو ایس ایڈ اور امریکی ملٹی نیشنلز معیشت پر چھائی ہوئی ہیں۔ تعلیمی نظام کی تسخیر سے ایک ایسی کھیپ برآمد کی گئی ہے جو سامراجی غلامی کے حصول پر فخر کرتی ہے۔ یہ سب افغان مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی روایات کو برباد کر رہی ہے۔ منشیات کا کاروبار عروج پر ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔ ان حالات کا جب اس پاک صاف اور مذہبیت سے سرشار معاشرے سے مقابلہ کیا جاتا ہے جو طالبان نے مفتوحہ علاقوؐں میں قائم کیا ہے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
غدار حکومت اور اس کے سامراجی آقاؤں کی خواہش ہے کہ جمہوری عمل کے پھیلاؤ کے ذریعہ امن قائم کیا جائے۔ منصفانہ جمہوری عمل دنیا میں کہیں بھی ممکن نہیں کیونکہ جمہوری عمل کے ذریعہ عوام کی رذیل ترین اخلاقیات حرص و حسد کو فروغ دیا جاتا ہے۔ غیر جانبدارانہ انتخابات تو امریکا تک میں منعقد نہ کیے جا سکے جہاں 2020 کے انتخابی نتائج 42 فیصد رائے دہندگان قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ بائیڈن اسٹیبلشمنٹ کی دھاندلیوں کے نتیجہ میں صدر بن بیٹھا ہے۔ افغانستان میں غیر جانبدارانہ انتخابات کا وقوع ایک دیوانے کے خواب کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آج پاکستان، ایران اور ترکی کی حکومتیں افغان عوام کی مرضی کے مطابق حکومت کے قیام کی دہائی دے رہی ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتیں کہ حکم صرف اللہ کے لیے ہے ان الحکم الا للہ۔ افغان عوام کچھ بھی چاہیں وہاں حکومت الٰہیہ ہی قائم ہونا چاہیے اور امارت اسلامیہ کا احیا حکومت الٰہیہ کے قیام کی واحد ممکن شکل ہے۔ افغانستان میں انتخابی عمل کا انعقاد اس ملک پر استعماری گرفت کو مضبوط کرنے کے ایک ذریعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں کیونکہ یہ انتخابی عمل لامحالہ موجودہ سرمایہ دارانہ سامراجی انتظامیہ ہی منظم کرے گی اور اس عمل کی تخریب کاری کے وافر مواقع اسلام دشمن قوتوں کو فراہم کرے گی۔ انتخابی عمل پورے ملک میں خانہ جنگی کے بیج بونے کا ذریعہ ثابت ہوں گے کیونکہ سامراج کی انتخابی دھاندلیاں اسلامی قوتیں ہرگز برداشت کرنے پر تیار نہ کی جا سکیں گی۔ طالبان سے دہریہ حکومت سے شرکت اقتدار پر راضی ہونے کی امید رکھنا ایک مضحکہ خیز مطالبہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ایسے دہریہ نظم ریاست میں ضم ہو جائیں جہاں ان کا کوئی مستقبل نہیں یعنی خود کشی کر لیں۔ طالبان کولمبیا کے فارک یا نیپال کے ماوسٹ نہیں۔ انہوں نے عدیم المثال قربانیاں دے کر تین دہائیوں سےدنیا کمانے کے لیے نہیں دیں۔ انہوں نے فضائے بدر پیدا کی ہے اور فرشتے ان کی نصرت کو قطار اندر قطار اترتے ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام میں چاکری قبول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ طالبان کی کامیاب یلغار دور حاضر کی عالمی تاریخ کا ایک انوکھا واقع ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جیوش اسلامی نے سامراج کو ہمہ گیر اور ہمہ جہت شکست سے ہمکنار کیا ہے۔ اب سامراج کو اپنی اس جامع شکست کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ یہ سامراجی ریاستی نظام میں پہلی دراڑ ہے اور اس کی تسخیر اور انتشار کی طرف پہلا قدم۔ جہان نو ہو رہا ہے پیدا یہ عالم پیر مر رہا ہے جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ اس مرتے ہوئے نظام کی باج گزاری کسی کو زیب نہیں دیتی۔ پاکستان کی حکومت اور فوج کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ افغانستان میں امارت اسلامیہ کا احیا اس کی سالمیت ہے۔ اس کی سلامتی کا تقاضا ہے کہ طالبان سے قریبی راہ و رسم مستحکم کیے جائیں اور غدار حکومت کو جلد از جلد ہتھیار ڈال کر ملک سے فرار ہونے پر آمادہ کیا جائے۔ ایران کا مفاد بھی اس میں ہے اور اگر یہ دونوں ملک یہ حکمت عملی اختیار کریں تو علاقائی سامراجی گرفت بھی ڈھیلی کی جا سکتی ہے اور افغانستان میں پائیدار امن کے جلد قیام کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے۔ جاوید اکبر انصاری