کتب خانہLibrary

طالبان کو مزاحمت جاری رکھنا کیوں ضروری ہے

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

طالبان کو مزاحمت جاری رکھنا کیوں ضروری ہے؟ مخلصین دین میں یہ رائے عام ہے کہ افغانستان میں اب صلح ہو جانی چاہیے اور طالبان کو مفاہمت کی راہ اختیار کر لینی چاہیے۔ یہی سامراج اور اس کی پٹھو عمران خان کی حکومت کا بھی موقف ہے۔ طالبان اپنی مکمل فتح اور امارت اسلامیہ کے پورے افغانستان میں احیا تک جہاد جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں اس موقف کی تائیدی دلیل مرتب کرنے کی کوشش کروں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ شرع مطہرہ کے مطابق طالبان کی جدوجہد جہاد ہے خروج نہیں ہے۔ 1996ء تا 2001ء افغانستان میں ایک اسلامی امارت قائم تھی۔ اس ریاست پر کفار حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے اقتدار اسلامی کا تختہ الٹ کر اپنے مقامی مسلمان حمایتیوں کو مقتدر بنا دیا۔ یہ مسلمان حمایتی امارت اسلامی کے غدار اور حربی کفار کے معاہد ہیں۔ ان کے اقتدار کو تسلیم کر لینے کا مطلب سامراجی نظاماتی تسلط اور اسلامی نظاماتی تعطل کو قبول کرنا ہے۔ حربی کفار نے مقبوضہ افغانستان میں خالصتاً ایک دہریہ ریاست قائم کی ہوئی ہے۔ اس ریاستی نظام کے اصول کارفرمائی سب کے سب دہریہ لبرل خطوط پر منظم کیے گئے ہیں۔ اس کا دستور عوامی حاکمیت کے عقیدہ فاسدہ کا اظہار کرتا ہے۔ ریاست کے تمام ادارے (فوج، عدلیہ، انتظامیہ، نظم ملکیت، میڈیا وغیرہ ) تمام کے تمام خالص دہریہ سرمایہ دارانہ خطوط پر حربی کفار نے وضع کیے ہیں اور ان کے پٹھو مقامی کاسہ لیس حکمرانوں کا مطمح نظر (mind set) خالصتاً لبرل اور دہریانہ ہے اور مقبوضہ افغانستان کی نام نہاد آزاد ریاست مکمل طور پر سامراج کی باجگزار ہے اور سامراجی بھیک کے سہارے ہی چل رہی ہے۔ مقبوضہ افغانستان میں ہر دہریہ ریاست کی طرح تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) نافذ ہے کیونکہ یہی جمہوری نظم اقتدار کی عملی شکل ہے۔ پھر حربی کفار اور ان کے مقامی حکمران حلیفوں نے محض ریاستی نظام کو دہریانہ خطوط پر مرتب کرنے پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ سودی کاروبار کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔اور حرام خور ی عام کرنے کی کوشش کی گئی۔ خواتین کو گھروں سے نکال کر بازاروں میں لانے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ مقبوضہ افغانستان میں فحاشی کا ایک سیلاب آ گیا۔ سرمایہ دارانہ حقوق نسواں کی دہائی دی جانے لگی۔ اغلام بازی کو برداشت کیا جانے لگا۔ قدیم افغانی قبائلی روایات کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ معاشرتی پلیدگی کے اس پھیلاؤ کے نتیجہ میں افغان شہری عوام کا ایک بڑا حصہ سرمایہ دارانہ اقدار کو قبول کر چکا ہے۔ ان میں خود غرضی، حرص اور ہوس اور مطلب پرستی عام ہو گئی ہے۔ ان حالات میں جمہوری عمل کے ذریعہ احیائے امارت اسلامی تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ افغان عوام میں اسلامی نظاماتی پابندیوں کو مقبول عام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک مدت تک وہ ان پابندیوں کو قبول کرنے پر مجبور کیے جاتے رہیں۔ شرع مطہرہ میں عوام کی رائے کے مطابق اقتداری تنظیم کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ حکومت کرنا اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے وارثین یعنی اہل الرائے علما کا حق ہے۔ عوام کچھ بھی چاہیں انہیں اطاعت احکام شریعت پر مجبور کرنا امارت اسلامیہ کا فرض ہے۔ چونکہ امارت اسلامیہ حکومت الٰہیہ ہے لہٰذا وہ کبھی بھی عوام کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور اقدار کی تائید کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ سامراجی پٹھو حکومت سے مصالحت کا مطلب یہ ہے کہ طالبان عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا اقتداری تسلط قبول کر لیں اور دہریہ گوریلوں(ہندوستان کے ماؤسٹوں، کولمبیا کے PARC وغیرہ) کی طرح سرمایہ دارانہ اقتداری نظام میں شریک کار بننے پر راضی ہو جائیں۔ ریاستی ادارتی نظام (عدلیہ، فوج، انتظامیہ، نظام ملکیت، میڈیا) سرمایہ دارانہ خطوط پر ہی مرتب رہے اور عوامی تائید سے تحکم قانون سرمایہ نافذ العمل رہے یہ شرعاً ناجائز ہے۔

حصہ ۲

لہٰذا طالبان عالیشان شرعاً اس بات کے پابند ہیں کہ بشرط استطاعت وہ اس وقت تک جہاد جاری رکھیں جب تک پورے افغانستان میں امارت اسلامیہ کا احیا نہ ہو جائے۔ انہوں نے حربی کفار کو اپنی عساکر کو افغانستان سے واپس بلانے پر مجبور کر کے ایک عظیم الشان فتح کی داغ بیل ڈالی ہے۔ یہ واضح اور مکمل اسی وقت ہو سکتی ہے جب حربی کفار کا قائم کردہ دہریہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام پورے کا پورا منہدم نہ کر دیا جائے۔ طالبان کی افغانستان میں یہ عظیم الشان فتح دور حاضر کی اسلامی تاریخ کا نادر اور انوکھا واقعہ ہے جو عالمی غلبہ دین کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اور بھی اسلامی حکومتیں قائم ہوئیں۔ ایران میں، چیچنیا میں، وسطی افریقا میں، سوڈان میں، شام اور عراق کے علاقوں میں لیکن وہ سرمایہ دارانہ سامراجی تغلب سے اپنا تعلق منقطع نہ کر سکیں۔ 1996ء میں قائم ہونے والی امارت اسلامیہ نے ثابت کر دیا کہ دور حاضر میں سرمایہ دارانہ نظاماتی فتح ممکن ہے اور آج جب حربی کفار پٹے ہوئے کتوں کی طرح افغانستان سے فرار ہو رہے ہیں تو اس تجربہ کو دہرانا ممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جہاد اس وقت تک جاری رہے جب تک غاصب مقامی افواج ہتھیار نہ ڈال دیں اور بلاکسی شرط اور معاہدہ کے احیائے امارت اسلامی کی ماتحتی قبول نہ کرلیں۔ طالبان غاصب حکومتی اقتدار سے مصالحت اس لیے رد کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس مصالحت کے نتیجہ میں دہریہ ریاستی نظاماتی تسلسل اور اس کے ذریعہ جاری سامراجی تخریب کاری کی راہیں کھلی رہیں گی۔ طالبان کا جہاد کوئی پیپلز لبریشن وار نہیں جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ وہ اس بات کا عز م رکھتے ہیں کہ عوام چاہیں یا نہ چاہیں افغانستان میں حکومت الٰہیہ قائم کر کے رہیں گے۔