کتب خانہLibrary

جہاد افغانستان اور احیائے ریاست اسلامی

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

جہادِافغانستان اور احیائے ریاست اسلامی ریاست کیا ہے؟ ریاست اس نظم اطاعت کو کہتے ہیں جو فرد اور معاشرہ پر جبراً نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ نظم اطاعت فطری نہیں ہوتا جیسا کہ خاندانی نظام۔ ریاست فرد یا معاشرتی اداروں کو اس نظم اطاعت سے خروج کی اجازت نہیں دیتی۔ نظاماتی اطاعتی جبر کو تاریخ انسانی میں تین بنیادوں پر جواز فراہم کیا گیا ہے۔ ایک جواز معاشرتی روایات ہیں کہ ایک معاشرہ میں زمانہ قدیم سے جبری اطاعت کا یہ مخصوص طریقہ رائج رہا ہے۔ اس جواز کی بنیاد پر بادشاہی نظم ریاست قائم رہتے ہیں۔ دوسرا جواز عوام کی نفسانی خواہشات کی پیروی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو نظام اطاعت جبراً قائم کیا گیا ہے وہ عوام کی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو ممکن بناتا ہے اور اس طرح یہ جبر عوام خود اپنے اوپر بالواسطہ مسلط کرتے ہیں۔ یہ جمہوریتوں کا تحکیمی جوازی نظریہ ہے۔ تیسرا جواز ان شریعتوں کی پیروی کا دعویٰ ہے جو انبیا علیہ السلام پر وحی کی گئیں۔ یہاں جبری اطاعت کی تنفیذ کا مقصد حصول رضائے الٰہی ہے۔ اس کی تکمیلی شکل (perfect replica)اسلامی ریاست ہے۔انقلاب امریکا (1776ء) ، انقلاب فرانس (1789ء) اور کمیونسٹ انقلا (1917ء) سے قبل عیسائی ریاستوں نے بھی اس جواز کو جزواً پیش کیا تھا۔ نفاذاتی نظاماتی جبر کو کارفرما رکھنے کے دو بنیادی ذرائع ہیں قانون اور انتظامیہ۔ جمہوریتوں میں قانون کی تشکیل و تشریح مقننہ اور عدلیہ اور ایڈمنسٹریشن کی تشریح نوکر شاہی ، فوج اور سول انتظامیہ(پولیس، نظم محصولات وغیرہ) کرتی ہیں۔ غیر جمہوریتوں میں مقننہ کے علاوہ یہ تمام ادارے (عدلیہ، فوج، سول انتظامیہ، محصولاتی نظم وغیرہ) موجود رہے ہیں۔ انسانیت کی معلوم تاریخ (known history)میں ریاست کا وجود دائمی رہا ہے لیکن اس کے دائرہ کار کی وسعت تبدیل ہوتی رہی ہے۔ قرون وسطیٰ میں یورپی ریاستوں کا دائرہ اختیار بہت محدود اور حالیہ کمیونسٹ چین کی ریاست کا دائرہ کار نہایت وسیع ہو رہا ہے لیکن دونوں جگہ نظاماتی جبر ریاستی اداروں (عدلیہ، انتظامیہ، فوج وغیرہ) کے ذریعہ نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ انسانی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے ریاست کا وجود ناگزیر ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ایک نظم قانون، عدلیہ، انتظامیہ اور فوج قائم فرمائی اور مکہ کے دور میں جو مسلمانوں میں اختیاری معاشرتی اطاعتی نظام تھا اس کو شرعی نظم اطاعت سے تبدیل کر دیا۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن خطوط پر ریاستی ادارے (عدلیہ، انتظامیہ، فوج) مرتب فرمائی تھی اسلام کی بارہ سوسالہ تاریخ میں یعنی سامراج کے غلبہ تک انہی اصولوں کے مطابق ریاستی نظام مرتب رہا۔ اس کی روشن مثالیں سلطنت مغلیہ، سلطنت عثمانیہ اور سلطان سولو کی قائم کردہ سلطنت فراہم کرتی ہیں۔ جب ہم اسلامی انقلابی اسلامی ریاست کے احیا کی جدوجہد کرتے ہیں تو ہمارا مقصد تمام ریاستی اداروں (عدلیہ، انتظامیہ، سول ایڈمنسٹریشن، نظم محصولات) اور ان ریاستی اداروں جو سرمایہ دارانہ دور سے مخصوص ہیں یعنی مارکیٹی ادارے (کارپوریشن وغیرہ) اور میڈیا کی ان خطوط پر ترتیب نو کی کوشش کرتے ہیں جو تاریخ اسلامی میں معتبر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نافذ کردہ اصولوں کے مطابق ہو۔ اسلامی حکومت کا قیام محض اس ہمہ گیر ریاستی ادارتی انقلاب کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست آج ہم پر سامراج نے سرمایہ دارانہ ریاست کا جبری تسلط قائم ہے۔ سرمایہ داری ایک ایسا مکمل نظام زندگی اور طرز حیات ہے جس کو سرمایہ دارانہ ریاست غیر سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت پر مسلم ممالک میں مسلط کر رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کا وجہ وجود سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معاشرت کی عمومیت ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اس انفرادیت کو کہتے ہیں جس پر نفس امارہ کے احکامات کی تابع داری نافذ ہو اور جو حرص اور حسد سے مغلوب ہو اور جو دنیا میں جنت بنانے کی سعی لاحاصل میں ہمہ وقت مشغول ہو۔ سرمایہ دارانہ معاشرت اس معاشرت کو کہتے ہیں جہاں جاہلی عقلیت قدر کا پیمانہ بڑھوتری سرمایہ کو قرار دیتی ہے یعنی کسی عمل کی قدر کا تعین اس امر کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ اس سے بڑھوتری سرمایہ میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مارکیٹ کی کارفرمائی کا اصل الاصول ہے۔

حصہ ۲

سرمایہ دارانہ ریاستی ادارے تمام کے تمام اس ہی جاہلی عقلیت کو مرتب کرنے کی غرض سے مستقلاً کارفرما رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ریاستی تحکم (state rite)کا مطلب تحکم قانون سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ تمام ریاستی ادارے (عدلیہ، انتظامیہ، فوج، سول ایڈمنسٹریشن، کارپوریشن، میڈیا) اس ہی تحکم قانون سرمایہ کے لیے کارفرما رہتے ہیں۔ تحکم قانون سرمایہ انفرادیت اور معاشرت پر مسلط کرنے کے لیے روایتی ریاستی اداروں (عدلیہ، مقننہ، فوج، انتظامیہ) کے ساتھ ہر فرد کو سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کا تابع بنایا جاتا ہے۔ حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں کی کارفرمائی حلال رزق کے حصول کو مشکل سے مشکل بنا دیتی ہے۔ میڈیا مستقل حرص و حسد کے فروغ کی ریشنل لازمیت کا درس دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے خلاف اسلامی انقلابی جدوجہد ہم پر سرمایہ دارانہ ریاستی نظام سامراج نے انیسویں صدی میں مسلط کیا۔ بیسویں صدی میں حصول آزادی کے بعد اسلامی دنیا میں بیش تر ریاستیں سرمایہ دارانہ خطوط پر ہی مرتب کی گئیں۔ ہماری مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، سول ایڈمنسٹریشن، پولیس، مارکیٹ اور میڈیا سب کی سب سامراج نے سرمایہ دارانہ خطوط پر مرتب کیں ایران اور چند مفتوحہ علاوہ انہیں سرمایہ دارانہ خطوط پر قائم اور کارفرما رہی ہیں۔ پاکستان میں مخلصین دین کو اسلامی دستوریت کا دھوکہ ضرور دیا گیا اور وہ اس دھوکہ میں رہنے پر آج تک اصرار کرتے ہیں لیکن تمام ریاستی ادارے (مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج، پولیس، میڈیا) سرمایہ دارانہ سامراجی خطوط پر مرتب کیے گئے ہیں اور ہمارے روایتی ریاستی نظام یعنی مغل سلطنت کی روح اور تشکیلی شکل سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ریاستی پالیسی کا مقصد ہمیشہ تحکم قانون سرمایہ ہی رہا ہے۔ پاکستان میں اسلامی انقلابی جدوجہد اس ہی ریاستی تناظر میں مرتب کرنے پر ہم مجبور ہیں اور یہ مجبوری دیگر مسلم ممالک کی اسلامی تحریکات کو بھی درپیش ہے۔ لیکن دو ممالک ایسے ہیں جہاں یہ مجبوری چیلنج کی جا رہی ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے وقوعہ کے بعد ریاستی ادارے کسی نہ کسی حد تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فتاویٰ کی روشنی اور صفوی سلطنت کی روایات کے مطابق مرتب کیے جا رہے ہیں اور جمہوری نظام کو جزوی طور پر شریعت مطہرہ کے تابع کر لیا گیا ہے جس کا سب سے واضح ثبوت حضرت حجۃ الاسلام ابراہیم کی حالیہ کامیابی ہے لیکن ایران پر سامراجی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور سامراج اس بات کی بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ انقلاب اسلامی کو شکست دے دی جائے۔ جہاد افغانستان کی انفرادیت جہاد افغانستان حالیہ تاریخ اسلامی کا انوکھا واقعہ ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی ملک میں افواج اسلامی نے سامراج کو عسکری شکست دی اور پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے پہلے دور حاضر میں ہم یہ کہیں بھی نہ کر سکے نہ چیچنیا میں، نہ صومالیہ، نہ شام میں، نہ عراق میں، نہ لیبیا میں، ہر جگہ ہماری فتوحات وقتی ثابت ہوئیں اور دشمن اور ان کے غدار آلہ کار جلد ہی غالب آ گئے۔ افغانستان میں طالبان عالیشان نے روس اور امریکا کو جامع اور ہمہ گیر (comprehensive) شکست دی ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے امریکا (روس یا چین یا بھارت) افغانستان میں نئی فوج کشی کی جرأت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا طالبان کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ محض اسلامی حکومت کے قیام پر اکتفا نہ کریں بلکہ اسلامی ریاست کے ہمہ گیر احیا کی جدوجہد کریں اور تمام ریاستی ادارے شرع مطہرہ اور اسلامی تاریخی روایات کے اصولوں کے مطابق مرتب اور کارفرما کریں۔ 1996ء تا 2001ء تک طالبان عالیشان اس کا تجربہ کر چکے ہیں اور اس دور میں ان کی ملکی سطح پر قائم کردہ انتظامیہ، عدلیہ، فوج اور نظم ملکیت اصول سیاست اسلامیہ کا مظہر تھا۔ افغانستان میں صرف اسلامی حکومت قائم نہیں تھی وہاں ایک اسلامی ریاست قائم تھی۔ اس ریاست کو امارت اسلامیہ کہتے تھے۔

حصہ ۳

ریاست اسلامیہ کا مطلب ہے سرمایہ دارانہ ریاستی نظام ، اس کی مقننہ، انتظامیہ، فوج، مارکیٹوں، عدلیہ اور میڈیا کا انہدام۔ یہ غداروں کی پٹھو حکومت سے کسی مصالحت کے ذریعہ ناممکن ہے۔ یہ جہاد اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک سامراج کا وضع کردہ سرمایہ دارانہ نظام ریاست کلیتاً منتشر نہ ہو جائے۔ غداروں کی فوج ہتھیار نہ ڈال دے اور امارت اسلامیہ پورے ملک میں اپنا اقتدار نہ قائم کر لے۔ پاکستان سامراج کے آلہ کار کی حیثیت سے طالبان پر زور ڈال رہا ہے کہ وہ غدار حکومت سے مصالحت کر لیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان خود ایک سرمایہ دارانہ ریاست ہے اور اپنے پڑوس میں سرمایہ دارانہ ریاست کے انہدام کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ عمران خان کی تکرار ہے کہ افغانستان میں جمہوری نظام کا تسلسل قائم رہے اور فیصلہ عوام کی رائے پر منحصر ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے بیس سال میں افغان حکومت نے سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہے۔ حرام خوری، فحاشی، سرمایہ دارانہ حقوق کی طلب، لہو و لعب کو فروغ دیا ہے۔ عوام کی اخلاقی اور روحانی حالت نہایت دگرگوں ہے۔ ایسے میں ان کی اکثریت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ شرعی نظام اطاعت کو قبول کر لیں گے ایک دیوانے کا خواب ہے۔ انہیں ایک مدت دراز تک شرعی احکامات کو قبول کرنے پر مجبور کیے جانے کی ضرورت ہے۔ پھر منصفانہ انتخابات کا انعقاد افغانستان میں کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ منصفانہ انتخابات تو اب امریکا تک میں نہیں ہوتے جہاں کے رائے دہندگان کا 42 فیصد حصہ یہ سمجھ رہا ہے کہ 2020ء میں بائیڈن انتخابی دھاندلیوں کے سبب صدر بن بیٹھا ہے۔ افغانستان میں انتخابی عمل سامراجی تخریب کاری کو فروغ دینے کے وسیلہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ بات برادر بزرگ محترم مجاہد رہنما گلبدین حکمت یار کو سمجھانے کی اشد ضرورت ہے۔ جو قوتیں غدار حکومت سے مصالحت پر زور دیتی ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ طالبان عالیشان نے جو جنگ میدان کارزار میں جیتی ہے وہ اس کو مصالحت کے ذریعہ ہارنے پر راضی ہو جائیں۔ لہٰذا اسلامی انقلابیوں کو افغانستان میں جاری جہادی عمل کے تسلسل کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔ ہم حضرت حجۃ الاسلام ابراہیم رنیسی سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس نازک موقعہ پر اپنے افغان بھائیوں کو اکیلا نہ چھوڑیں اور تسلسل جہاد کی اہمیت اور ضرورت کا احساس کریں۔ مصالحت کے جھانسے میں نہ پھنسیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی اسلامی ریاست کی پشت پناہی کے لیے افغانستان امارت اسلامیہ کا قیام و استحکام نہایت ضروری ہے۔ ورنہ ایک جمہوری دہریہ افغانستان بہت جلد ایک ایسے سامراجی بیس کیمپ میں تبدیل ہو جائے گا جو ایران پر حملہ آور ہونے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔