کتب خانہJAS Library

شام میں تبدیلی

رسالہاردو۲۰ دسمبر ۲۰۲۴کتب و مضامین
حصہ ۱

شام میں تبدیلی سے متعلق چند سوالات پس منظر پچھلی کئی دہائیوں سے شام میں بعث پارٹی کی آمریت قائم تھی۔ 2011 میں اس آمریت کے خلاف جو مزاحمت ابھری اس میں کئی نظریاتی رجحانات اور قوتیں شامل تھیں۔ لبرل ، علاقائی، قوم پرست (کرد)، سرمایہ کار، اسلامی۔ بالعموم ان باغی قوتوں کا ساتھ امریکا اور فرانس نے دیا اور ان کی مخالفت ایران، روس اور حزب اللہ نے کی۔ 2013 تک بغاوتی جدوجہد عسکری مزاحمت کی شکل اختیار کر گئی۔ لبرل قوتیں پس پشت چلی گئیں۔ سرمایہ کاروں نے بعث پارٹی سے سمجھوتا کر لیا۔ عسکری جدوجہد کردوں اور اسلامی مجاہدین نے جاری رکھی۔ کردوں کو امریکا کی حمایت حاصل ہے۔ جہادی قوتوں کو ترکی کی حمایت حاصل رہی۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ امریکا نے جہادی قوتوں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کیا۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ جہادی قوتوں کے بارے میں اخوان (جو بڑے پیمانے پر شام میں موجود ہیں اور جنہوں نے ماضی میں امام العسار کے تحت شام میں حکومت بھی کی ہے) کا کیا رویہ ہے۔ آج کی صورت حال جہادی قوتیں عسکری جدوجہد میں کامیاب ہو گئیں اور عسکریوں کو بھی اپنے علاوے میں جزوی فتح حاصل ہو گئی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ بعثی فوج آناً فاناً پسپائی کا سبب کیا بنا۔ یعنی فوج کی پسپائی کا بہت بڑا فائدہ اسرائیل کو ہوا جس نے گولان کے شامی علاقے پر قبضہ کر لیا اور شامی جنگ جو تنصیبات تباہ کر رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا جہاد فلسطین کی علاقائی توسیع کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ بعثی فوج کی پسپائی میں امریکا نے کیا کردار ادا کیا اور اس کی جہادی قوتوں کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ کیا مجاہدین کو امریکی مواصلاتی نظام (communication System)نے جنگی اطلاعات فراہم کیں۔ حزب اللہ اور اسلامی جمہوریہ ایران 2011 سے بعثی حکومت کے حمایتی اور حلیف رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ یہ حمایت مسلکیت کی بنیاد پر نہیں کیونکہ بعثی حکومت کوئی شیعہ حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک قوم پرست سے نیولبرل حکومت رہی جس کا غالب دھڑا علوی ہے ۔ علوی حضرت علی کو خدا کا اوتار مانتے ہیں اور ایران کے اثنا عشری علما علویوں کو برملا کافر گمراہ کہتے ہیں۔ علویوں کی تعداد شامی ملکی آبادی کا ایک فیصد سےبھی کم ہے۔ بعث کی حمایت جوایران اور حزب اللہ کرتے رہے ہیں اس کی وجہ ان جماعتوں کی سامراج مخالفت ہے۔ سامراج مخالفت کی بنیاد پر ایران اور حزب اللہ سنی فلسطینیوں کے سب سے دو موثر حلیف رہے ہیں جبکہ مفروضہ سنی ریاستوں (سعودی عرب، عرب امارات، مراکش، ترکی) نے فلسطینیوں کی عسکری امداد نہ کی بلکہ ترکی کے علاوہ ہر ملک حماس کو عموماً دہشت گرد قرار دیتا ہے اور فلسطین میں دو ریاستی مصالحت کے قائل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنی /شیعہ اختلافات مسلم ممالک کی باہمی کشمکش میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ یہ محض سامراجی پروپیگنڈا ہے۔ آج عالمی قوتیں شام میں اپنے مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا اور یورپی یونین وہاں ایک دستوری جمہوری حکومت کے قیامت کے خواہاں ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ روس اپنے قائم شدہ فوجی اڈوں کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایران اور حزب اللہ نے HTS کی قیادت سے مصالحت کر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ حزب اللہ نے HTS سے کہا کہ وہ جہاد فلسطین سے سبک دوشی اختیار کرے۔ چین عرب خطے میں خاموش ہے اور امریکی پیش رفت کو برداشت کر رہا ہے۔ وہ صرف بحرالکاہل میں امریکی جارحیت کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ مستقبل دو سوال اہم ہیں۔ ا۔ شام میں پہلا سوال یہ ہے کہ شام میں کیسی حکومت قائم ہو گی۔ اگر جمہوری دستوری حکومت قائم ہوئی تو اس کا امکان غالب ہے کہ مغربی سامراجی قوتیں غالب آ جائیں گی اور اسرائیل سے مصالحت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ شام، سعودی عرب، بحرین اور امارات اور مراکش کے کیمپ میں داخل ہوجائے گا) لیکن یہ ضروری نہیں۔ ایران میں بھی انقلاب اسلامی کے قیام کے بعد ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی تھی جس میں لبرل اور قوم پرست بھی شامل تھے۔ لیکن جمہوری، دستوری ساختی ڈھانچہ کو محفوظ رکھتے ہوئے علمائے اسلام غالب آ گئے اور سامراج مخالفت جاری رہی ہے۔ کیا HTS کے پاس امام خمینی جیسا کوئی موجود ہے۔ کیا علما اور شرع مطہرہ کے تغلب کی ضرورت کا احساس شامی جہادی قوتوں کے پاس موجود ہے۔ کیا وہ اس نوعیت کو جاری رکھنے کی استعداد رکھتی ہیں جو علمائے ایران نے 1979 سے 1983 کے درمیان جاری رہتی تھی۔ انہیں فوج سے مصالحت کی ضرورت نہیں جیسے کہ 2012 میں امام مرسی کو تھی لیکن کیا وہ دہریہ سامراجی قوتوں کو بے دخل کر سکیں گے ہم نہیں جانتے۔

حصہ ۲

دوسرا سوال شام کی فوجی استعداد کا ہے۔ اسرائیل اس پر آج براہ راست حملہ آور ہے اور ایک جہادی اسلامی حکومت کے قیام کی صورت میں یہ حملہ شدید ہونے کا امکان ہے۔ HTS کے قائد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں فرمایا ہے ”طویل مزاحمت کے درمیان ہم بے حال ہو گئے ہیں اور کشمکش کو جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے“۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ HTS کی قیادت جہاد فلسطین کی حمایت کرنے سے اپنے آپ کو معذور پاتی ہے۔ کیا ایسا ہے؟ ہم نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اس معذوری کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ HTS رکھتی ہے یا نہیں۔ کیا وہ اسرائیلی امریکی تغلب کو قبول کرنا ایک وقتی ضرورت سمجھتی تھی یا اس کو دائمی تصور کرتی ہے؟ اسن سوالات کے جو جوابات مرتب ہوں گے اس سے شامی اقدام کا فلسطینی جہاد میں کیا کردار مرتب ہو گا یہ بات طے ہو گی۔ ہمارا روایہ دو باتیں اہم ہیں۔ ایک ہمیں کسی اسلامی گروہ کی نیت پر شبہ کر کے سامراجی پروپیگنڈا کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم تمام اسلامی گروہوں کو مخلص سمجھتے ہیں۔ ایران کو بھی، حزب اللہ کو بھی، HTS کو بھی اور اس کے معاونین کو بھی، اخوان المسلمون کو بھی۔ ہم عرب دنیا میں جاری کشمکش کو شیعہ سنی تنازعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسلام اور سامراج کی کشمکش تصور کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم حقیقت پسند ہیں۔ تصوراتی نہیں ہیں۔ ہم مثالیاتی خاکہ مرتب نہیں کرتے۔ ہم تمام اسلامی گروہوں کی زمانی /مقامی مجبوریوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر اسلامی ریاست تو دور حاضر میں قائم ہو گی۔ سامراج سے گھری ہوئی ایک غیر معمولی ریاست ہو گی جس کے عمل کو مثالیاتی پیمانوں پر جانچنا حقیقت کے خلاف ہے۔ آرزو تو یہ ہے کہ شام میں افغانستان کی طرح ایک جہادی یا ایران کی طرح ایک اسلامی جمہوری ریاست قائم ہو۔ لیکن کیا شام کے زمینی اور امکانی حالات اس کی اجازت دیتے ہیں یا کیا شام میں ایک دہریہ یا غیر دہریہ ریاست کا قیام ناگزیر ہے جس میں تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد جاری رکھنے کے امکانات بہرصورت بعث پارٹی کی آمریت کے مقابلہ میں زیادہ ہوں۔ ہم نہیں جانتے لہٰذا حکم نہیں لگاتے اور تمام اسلامی حلقوں کے لیے دعا گو ہیں۔ سرکل کا اسٹیٹمنٹ