بھارتی سرمایہ داری اور ہندو توا کا غلبہ
بھارتی سرمایہ داری اور ہندوتوا کا غلبہ جب تک یہ مضمون شائع ہو گا اس وقت تک بھارت کے 2024ء کے انتخابات کے نتائج آ چکے ہوں گے۔ اور توقع یہی ہے کہ ان انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہو جائے گی۔کامیابی کی شرح کیا ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیوں کہ رائے دہندگان کی اکثریت نے کبھی بھی بی جے پی کوووٹ نہیں دیے۔ 2010ء میں بی جے پی کو 31 فیصد اور 2001ء میں 37 فیصد رائے دہندگان کے مجموعی ووٹوں کا حصہ ملا تھا۔ آج بی جے پی کا اس سطح حمایت سے تجاوز کرنا مشکل نظر آتا ہے اور امکان یہی ہے کہ 400 سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا مودی کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ووٹ دینے والوں کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔ مئی میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ انتخابات کے پہلے دو مرحلوں میں ووٹ ٹرن آؤٹ کی شرح 2019ء کے مقابلہ میں 35 فیصد کم رہی اور یہ بھی ان صوبوں میں نمایاں ہے جہاں بی جے پی کا اثر زیادہ ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے سابق بی جے پی کے حمایتیوں کو مایوس کر دیا ہے۔اور تمام تر عدالتی دھاندلیوں اور گرفتاریوں کے باوجود حزب اختلاف کا اتحاد مضبوط ہے۔ بیش تر طاقت ور علاقائی جماعتیں حزب اختلاف کے اس اتحاد کا حصہ ہیں اور ان کی حمایت میں اضافہ کی توقع ہے۔ اس سب کے باوجود سنگھ پریوار جس کا سیاسی اظہار بی جے پی ہے کی معاشرتی گرفت مضبوط ہے۔ گو کہ 2024ء میں رام مندر کی تعمیر سے متوقع عوامی تحرک پیدا نہ ہوا۔ 2019ء کے برخلاف آج انتخابی مہم میں کوئی ”مودی لہر“ نظر نہیں آتی لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں سنگھ پریوار کی ماس بیس کو منتشر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ بی جے پی اسی ماس کو متحرک کرنے کر کے اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ بھارت ایک غیر جمہوری معاشرہ میں پیوست ایک ایسی جمہوری ریاست ہے جو مدت دراز سے لبرل ازم سے استبدادیت کی طرف مراجعت کر رہی ہے۔ مراجعت کی یہ رفتار 2009ء سے بہت تیز رفتار ہو گئی ہے اور آج سویڈن کا تحقیقی ادارہ بھارت کو ایک انتخابی نوآبادیت کہتا ہے۔ پوری دنیا میں لبرل جمہوریتوں کے استبدادی قالب میں ڈھل جانے کا عمل ترقی پذیر ہے۔ بھارتی سیاسی معیشت میں جاری یہ عمل اس کو سامراجی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک علاقائی سامراجی محور کے طور پر ضم کر رہا ہے۔ بھارت میں سرمایہ دارانہ نظم اور ارتقا 1947ء میں انگلستان نے تحکماتی اقتدار نئے سرمایہ داروں کو سونپ دیا (یاد رہے کہ سرمایہ داروں سے صرف سرمایہ کار مراد نہیں بلکہ اس گروہ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سرمایہ دارانہ علمیت اور سرمایہ دارانہ معاشرتی اقدار کے لیے ریاست اور معاشرہ کو منظم کر رہے ہیں۔ بھارت کے سرمایہ دار حکمرانوں کا سب سے بڑا ہدف اس وقت سے لے کر آج تک بھارت کی مادی معاشی ترقی رہا ہے۔ اور اس ہدف کے حصول میں ان کو بڑی کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ بھارت میں فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ صحتی اور مواصلاتی سہولتیں تیزی سے فروغ پا رہی ہیں۔ نجی سرمایہ کار نہایت حوصلہ مند ہیں۔ ٹیکنالوجیکل ترقی برق رفتاری سے فروغ پا رہی ہے۔ 1991ء کے بعد کے 35 سال کو بھارتی سرمایہ داری کا سنہرا دور کہنا غلط نہ ہو گا۔ آج بھارت دنیا کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی سرمایہ دارانہ معیشت ہے۔ لیکن ترقی کی یہ رفتار جاری رکھنا دشوار نظر آتا ہے۔ اس کی وجوہات ہیں۔ بھارت کا معاشی بین الساختی نظام یعنی سڑکیں، توانائی، نظام ترسیل آب، ہوائی اڈے، مواصلات وغیرہ چین کے مقابلے میں کمزور ہے اور اس میں سرمایہ کاری کی رفتار بہت سست ہے۔ قومی اور صوبائی بجٹ خسارے بڑھ رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر میں سرکاری سرمایہ کاری کے لیے وسائل محدود ہیں۔ انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور ایسے منصوبوں میں نجی اور سرکاری شراکت داری عام ہے لیکن یہ کرپشن کا شکار ہیں اور ان کا انحصار بینک قرضوں پر ہے اور ناقابل ادائیگی قرضوں کی بڑھوتری حرام خور (فنانشل) نظام کے استحکام کو بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔ پھر تنظیمی نظام بھی شکستہ حال ہے۔ غربا کے بچوں کی اکثریت ثانوی تعلیم حاصل نہیں کر رہی۔ تکنیکی تعلیم کا معیار گر رہا ہے اور نوجوانوں میں بیروزگاری کے بڑھنے کے باوجود بہت سے ٹیکنیکل منصوبوں میں تربیت یافتہ ٹیکنیکل کارکنوں کی قلت ہے۔ سرکاری صحتی نظام بھی شکستہ حال ہے اور یہ بات 2020-2021ء کے کووڈ وبائی بحران سے عیاں ہو گئی جب ایک کروڑ کے قریب بھارتی اس وبا سے متاثر ہوئے۔ عام بیت الخلا کی تعمیر کی مہمات ناکام ثابت ہو رہی ہیں اور ماحولیاتی پراگندگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ بھارت ہوائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا کے غلیظ ترین ممالک میں شامل ہے اور ہوائی آلودگی کے نتیجہ میں سترہ لاکھ اموات واقع ہوئی ہیں۔ دنیا کے بیس غلیظ ترین شہروں میں 15 بھارتی شہر شامل ہیں۔ آبی قلت کا بحران بڑھتا جا رہا ہے اور کئی شہروں میں پانی کی راشننگ کی جا رہی ہے۔ جنگلات تباہ ہو رہے ہیں اور خشک سالی کے نتیجہ میں ہیضہ پھیل رہا ہے۔ گو کہ متبادل توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے لیکن اب بھی ستر فیصد مجموعی توانائی کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ریاستی استطاعت سرمایہ دارانہ ریاست میں ہمیشہ سے ریاست کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔ ریاست سرمایہ کی پشتیبان ہوتی ہے اور پشتیبانی کا یہ فریضہ ادا کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ریاست وہ اشیا مہیا کرے جو نجی سرمایہ دار انہ مارکیٹ مطلوبہ مقدار میں فراہم نہیں کرتی (انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، ماحولیاتی خدمتیں وغیرہ)۔ ان اشیا اور خدمتوں کو پبلک گڈز کہتے ہیں اور بھارتی ریاست کی پبلک گڈز کی فراہمی کی استطاعت سے محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتی ریاست کا تنظیمی ڈھانچہ غیر معاشی خدمات (انتخابات کی تنظیم، رائے شماری، مذہبی اجتماعات) کی فراہمی اور تنظیم میں تو مہارت رکھتی ہے لیکن پانی، بجلی اور صحتی سہولتوں کی فراہمی میں ناکام ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی سیاسی تنظیم سرمایہ دارانہ معاشی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ سیاسی اشرافیہ انتظامی نوکر شاہی پر حاوی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کی نظاماتی تنفیذ محدود ہے اور سیاسی اشرافیہ کے مختلف گروہوں کے خصوصی مقاصد بڑھوتری سرمایہ مجموعی کے تعقلی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ نوکر شاہی سیاسی اشرافیہ پر حاوی نہیں اس کی زیر دست ہے اور نوکرشاہی کی زیردستی کا یہ رجحان بی جے پی کے دور اقتدار میں تیزی سے بڑھا ہے۔ سرمایہ دارانہ کرپشن میں نوکر شاہی اور مرکزی اور صوبائی سیاسی اشرافیہ شریک کار ہیں۔ سرمایہ دارانہ کرپشن سے مراد ایسے افعال ہیں جو گروہی مفاد کو سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے تقاضوں پر ترجیح دیں۔ بی جے پی سرکار نے سرکاری نوکرشاہی کو استعمال کرنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کیے ہیں اور یوں اس دور میں بھارت میں سرمایہ دارانہ کرپشن میں بے اندازہ اضافہ ہوا ہے۔ نوکرشاہی کے لیے سرمایہ دارانہ کرپشن سے فائدہ اٹھانا سرکاری سیاسی پشت پناہی اور تعاون کے بغیر ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ کرپشن کے فروغ اور تنظیم میں عدلیہ کا کردار نہایت اہم ہے اور اس کے ذریعہ سیاسی عمل کی بڑھوتی ہوئی juridification ہے۔ اس juridificationکے ذریعے ریاستی معاشرتی تخریب کاری فروغ پا رہی ہے اور بی جے پی کے سیاسی مخالفین قانونی نرغے میں پھنساتے جا رہے ہیں۔ معاشرتی عمل کی ریاستی digitalization ریاستی معاشرتی تخریب کاری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ریاست کا معاشی ظلم نسبتاً کم ہے۔ محصولات عموماً سال میں جی ڈی پی کا 20 فیصد بھی نہیں ہوتے اور اس میں اضافہ کا کوئی رجحان نہیں۔ نوکرشاہی مجموعی آبادی کا نہایت قلیل حصہ ہے۔ مجموعی محنت کشوں کا صرف دو فیصد سرکاری شعبہ میں ملازم ہے۔ سرکاری شعبہ کی کارکردگی مایوس کن ہے کیوں کہ بڑی تعداد میں سرکاری اسامیاں خالی رہتی ہیں۔ عوام جو شکایتیں سیاسی رہنماؤں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان سے خصوصی گروہی مراعات حاصل کرتے ہیں ۔ یہ سرمایہ دارانہ کرپشن میں اضافہ کرنے والا عمل ہے۔ سرکاری قرضہ جات کا حجم بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ ہے۔ لیکن ہر سال اوسطاً 70 فیصد لیے گئے قرضے حکومت کے رواں اخراجات (تنخواہیں، سود کی ادائیگیوں اور دفاعی اخراجات) پورا کرنے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ بھارت میں ایک بہت بڑا غیر دستاویزی شعبہ ہے جس میں غیر رسمی محنت کشوں کے تین چوتھائی سے زیادہ افراد شامل ہیں۔ یہ شعبہ بلاواسطہ محصولات ادا نہیں کرتا۔ ٹیکس کا پورا نظام رجعتی ہے۔ محصولات میں بلاواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ مودی حکومت نے ٹیکس نظام کو ملک میں نامساویت پھیلانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ سرمایہ کاروں اور دیگر امیروں کو جو ٹیکس چھوٹ اور مراعات دی گئی ہیں وہ 2019ء میں مجموعی قومی آمدنی کا آٹھ فیصد ہیں۔ زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اس شعبہ میں فراہم کی گئی توانائی اور کھاد پر دی جانے والی مراعات بھی بہت زیادہ ہیں۔ دولت اور حرام خور منافع پر بھی کوئی ٹیکس نہیں۔ 2020ء میں بی جے پی نے کمپنیوں کی ٹیکس شرح میں نمایاں کمی کر دی۔
بھارتی ریاستی استعداد تین گروہوں میں محدود ہے۔ بڑے زمین دار، بڑے سرمایہ کار اور حرا م خور اور اعلیٰ نوکر شاہی کا وہ طبقہ جو پبلک او رپرائیویٹ شعبہ کی کارفرمائی کی وضع اور تنفیذ کا ذریعہ ہے۔ ان تینوں گروہوں میں مسابقتی رسہ کشی ہوتی رہتی ہے اور یہ تینوں گروہ اپنے مخصوص گروہی مفاد کو سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بھارتی ریاست کی سرمایہ دارانہ ارتقا کو فروغ دینے کی استطاعت متاثر ہوتی ہے۔ ریاستی استعداد کی تحدید کی ساختی وجوہات بھی موجود ہیں۔ بھارتی ریاست سامراج کی تشکیل کردہ ساخت رکھتی ہے اور روایتی جاتی اور مذہبی نظم مقامی تحکیم سے اس کی پیوستگی محدود ہے۔ بی جے پی سرکار اس محدودیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہے۔ دوسری وجہ مرکز اور صوبوں میں تقسیم اختیارات کی کش مکش ہے۔ دستور کے مطابق صوبے کی حکومتیں مرکز سے محصولیاتی وسائل کے حصول کے لیے مجبور ہیں۔ وہ مرکز کی اجازت کے بغیر سرکاری قرضہ بھی نہیں لے سکتیں۔ 2019ء کے بعد سے مودی سرکار نے صوبوں کے اختیارات کم کرنے کی مہم چلائی ہے۔ سنگھ پریوار نظریاتی طور پر ایک قوم پرست جتھا ہے۔ وہ مسلمانوں کے علاوہ تمام ہندوستانیوں کو ایک قوم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے مرکزیت اور کسی ایک مقبول عام قائد جو قومی اتحاد کا نشان ہو کی پیروی اس کے لیے بہت ضروری ہے۔ لہٰذا انتخابی عمل کے دوران تو وہ مختلف علاقوں اور جاتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتی ہے لیکن انتخابی عمل کے بعد اس کا پورا زور مرکزیت کو فروغ دینے پر ہی ہوتا ہے۔ مرکزیت کو فروغ دینے کے لیے جو اقدام بالخصوص 2019ء کے بعد مودی سرکار نے کیے ہیں ان کے نتیجہ میں مرکز اور صوبوں میں (بالخصوص ان صوبوں میں جہاں بی جے پی بااختیار نہیں) بڑھا ہے۔ لیکن صوبائی سرکاروں میں نہیں۔ کیرالہ کے علاوہ سب میں قوم پرستی فروغ پا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے حکومتی اختیارات کی 2019ء کی تنسیخ کی کسی صوبائی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور ریاستی انتظامی ڈھانچہ بھی مرکزیت کو فروغ دینے والے دوسرے اقدام کی بھی کہیں مزاحمت نظر نہیں آتی۔ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کی طرف انتقال اقتدار کی بالعموم مخالف ہیں۔ بھارتی معاشی ساختی تبدیلی بھارت نے پچھلی دہائیوں میں جن شعبوں میں ترقی کی ہے وہ جدید ٹیکنالوجی اور ان سے متعلق مہارت پر انحصار کرتے ہیں (گاڑیاں، ادویات، سوفٹ ویئر، حرام خور اور بزنس خدمتیں) لیکن بیش تر ملازمین کا ان شعبوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ وہ زراعت اور غیر دستاویزی شعبوں میں پائے جاتے ہیں۔ مجموعی معیشت میں مینوفیکچرنگ کا حجم جی ڈی پی میں پچھلے چند سالوں سے گر رہا ہے۔ بیروزگاری کی شرح نمو کر بڑھ رہی ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ کا رجحان جرم اور تشدد کے واقعات کو جنم دے رہا ہے۔ ملازمتوں کے مواقع جنوب اور مغربی صوبوں میں بڑھ رہے ہیں لیکن پسماندہ صوبے (اڑیسہ، جھارکھنڈ، اترپردیش، بہار) میں بے روزگاری عام ہے۔ ٹریڈ یونینوں کی مسابقتی قوت مستقل کمزور ہو رہی ہے اور صنعتی اور خدمتی شعبہ میں ایک تہائی سے زیادہ مزدور روزانہ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ محنت کش مزاحمت دبی ہوئی ہے اور محنتی پیداواری سکت گر رہی ہے۔ بھارتی سرمایہ دارانہ تنظیم کی سب سے نمایاں خصوصیت بڑھتی آمدنی اور دولت کی نامساویت ہے۔ بھارت میں امیر ترین ایک فیصد آبادی قومی دولت کے 35 فیصد پر قابض ہے جب کہ پچاس فی صد آبادی کامجموعی دولت میں حصہ صرف 6 فیصد ہے۔ بھارتی ترقی صرف ایک محدود اشرافیہ کو فائدہ دیتی ہے جب کہ تقریباً 93 فیصد بھارتی معاشی تقابلی پسماندگی کا شکار رہتے ہیں۔ ایسی معیشت کو enclave معیشت کہتے ہیں۔ Enclave معیشتیں لاطینی امریکا کے بڑے ممالک (برازیل، ارجنٹینا) میں عام ہیں۔ عوام کا بڑا حصہ سرمایہ دارانہ ترقی کے عمل سے قاصر رہتا ہے اور سرمایہ دارانہ محرومین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
بھارتی کی 20 سب سے بڑی کمپنیاں عمومی قومی منافع کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کرتی ہیں اور اس کی وجہ ان کی تکنیکی اختراعات یا پیداواری سکت میں اضافہ نہیں بلکہ ا ن کی اجارہ دارانہ طاقت ہے۔ بڑے سرمایہ کار مودی سرکار کے قریب ترین حلیف ہیں اور حکومتی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے ان کے روابط بھی نہایت گہرے اور مستحکم ہیں۔ بڑے کاروباروں کے قرضہ جات آسمان سےباتیں کر رہے ہیں اور صنعتی شعبہ حرام خور شعبہ کی ماتحتی اختیار کر چکا ہے۔ بھارتی سرمایہ داری کو اقرباپروری سرمایہ داری کہا گیا ہے۔ بیش تر صنعتی شعبوں (ٹیلی کام، ہوا بازی، اسٹیل، سیمنٹ، المونیم، گاڑیاِں، الیکٹرانکس وغیرہ ) میں اجارہ داریاں قائم ہیں اور ان کے مفادات کے فروغ اور تحفظ کی ذمہ دار مودی سرکار کی رعایتیں اور عنایتیں ہیں۔ یہ اجارہ داریاں اپنے شعبہ کے تحکمی ضوابطی نظام کی تنفیذ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ مودی کی سرپرستی کے نتیجہ میں بھارتی اجارہ دار دنیا کے امیر ترین افراد بن گئے ہیں۔ چین کی طرح بھارت میں بھی نجی اور سرکاری شعبہ کی تخصیص مشکل ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ بڑے نجی اجارہ دار حکومتی سرپرستی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس انحصار کے نتیجہ میں بھارتی مسابقتی قوت عالمی سرمایہ دار مارکیٹوں میں کمزور ہو رہی ہے۔ بھارتی حرام خور شعبہ میں سرکاری بینک کارفرما ہیں لیکن ان پر بھی صنعتی اجارہ داریاں مسلط ہیں۔ 2014-2010 کے دوران ان اجارہ داریوں نے 8 کھرب کے قرضہ جات سرکاری بینکوں سے معاف کروائے۔ ان قرضوں کی معاشی اور دیگر مراعات کے حصول کے لیے نجی اجارہ دار ہر سال اربوں روپے بی جے پی کو الیکشن فنڈ کی شکل میں دیتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ چونکہ یہ اجارہ داریاں میڈیا کمپنی کی مالک ہوتی ہیں لہٰذا بی جے پی کے پروپیگنڈا کو مشتہر کرنے کا ذریعہ بھی انجام دیتی ہیں۔ ہندوتوا کی سرمایہ دارانہ بنیادی ہندو توائیت مسلم قوم پرستی کی طرح ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظم ریاست اور معاشرت کو فروغ دینے کے لیے ہندو مذہبی تعلیمات ااور روایات کو مسخ کرتی ہے۔ وہ ایک مذہبی توجیہ کو عام کر کے عوام کو سرمایہ دارانہ ظلم برداشت کرنے کی استطاعت پیدا کرتی ہے۔ لہٰذا گو کہ اس کے حمایتیوں میں سرمایہ دارانہ مترفین شامل ہیں لیکن اس کا بنیادی تخاطب سرمایہ دارانہ محرومین سے ہی ہے۔ اس کی ماس بیس وہ ایک کروڑ سے زیادہ سیوک ہیں جنہیں ملک بھر میں سنگھ پریوار منظم کیے ہوئے اور جن کی جسمانی، روحانی اور جذباتی مذہبیت کا ایک ہمہ گیر پروگرام گاہے گاہے جاری ہے۔ ان سیوکوں کی بہت بڑی اکثریت سرمایہ دارانہ محرومین ہی کی ہے اور یہ ہندومت کی ایک سیکولر تعبیر یعنی ہندوتوا پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور ان مذہبی دہریوں میں صرف براہمن نہیں، شودر، نچلی ذات والے اور یہاں تک کہ دلت بھی تیزی سے شامل ہو رہے ہیں۔ پھر ہر استبدادی جمہوریت کی طرح بھارت کی بی جے پی سرکار بھی ویلفیئر اسکیموں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ کئی ویلفیئر سکیمیں کامیابی سے نافذ کی گئیں اور ان کے نتیجہ میں غربا کی آمدنی اور آسائشوں میں اضافہ کیا گیا جو نامساویت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو قبول اور برداشت کرنے کا ذریعہ بنا۔ عوام بی جے پی اور صنعتی اجارہ داروں کے سیاسی گٹھ جوڑ کے شاکی نہیں۔ لیکن ویلفیئر سکیموں کی محدود کامیابیوں کے باوجود بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اشیا خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ان مسائل پر قابو پانا بی جے پی کی اپنائی ہوئی حکمت عملی کے لیے ممکن نہیں۔ اس ضمن میں سنگھ پریوار کا کردار فیصلہ کن ہے۔ سنگھ پریوار کی کامیابی کے دو پہلو ہیں۔ ان دونوں پہلوؤں کا تعلق ہندوستان کی تاریخ کی قوم پرستانہ تشریح سے ہے۔ تاریخی طور پر ہندو معاشرت ہزاروں جاتیوں اور سیکڑوں ذیلی جاتیوں میں منقسم تھی۔ ہندو توائیت جاتی کے تصور کو رد نہیں کرتی بلکہ اس کا سہارا لے کر اور اس کی مذہبی تشریحات کو از سرنو واضح کر کے قومی شعار کو جاتی اور زیر جاتی معاشرت کے لیے قابل قبول بنانے پر کامیاب ہو گئی اور یوں ہندومت اپنی معاشرتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظریاتی اور نظاماتی قالب میں ڈھل گیا۔
دوسری جانب ہندوتوا نے سرمایہ دارانہ روحانیت کے فروغ کے لیے جن جذبات کا سہارا لیا وہ نفرت اور حسد تھے۔ قوم پرست تحریک ہمیشہ انہی جذبات کی بنیاد پر اپنے مخاطبین کو متحرک اور منظم کرتی ہے۔ یہ مخالف گروہ تحریکیں ہوتی ہیں اور اپنا ایک دشمن تخلیق کرتی ہیں۔ سنگھ پریوار نے ہندو تاریخ کی جو تشریح مرتب کی اس میں مسلمانوں کو اجنبی اور دشمن کے روپ میں پیش کیا گیا اور مسلمان اور اسلام دشمنی نے ہندو جاتیوں اور زیر جاتیوں کے قومی اتحاد کی بنیاد فراہم کی۔ قوم پرستی کے اس عروج نے ہندوستانی لبرل ازم اور ڈیموکریٹک سوشل ازم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایک موثر سیاسی قوت کا روپ اختیار کر لیا لیکن اس قوم پرستی کی لبرل ازم سے براءت مکمل نہیں۔ یہ لبرل دستور اور لبرل اداروں کا سہارا لینے پر کم از کم اب تک مجبور نظر آتی ہے۔ لیکن کیا بھارتی سرمایہ داری کی یہ بنیادیں مستحکم ہیں۔ میری رائے میں نہیں گو کہ ان کی تسخیر میں ایک طویل مدت لگ سکتی ہے۔ ہندو قوم پرستی ہندومت کے لیے اتنی ہی اجنبی ہے جتنی مسلم قوم پرستی اسلام کے لیے۔ ہندو معاشرت کثرتیت کا اظہار ہے۔ عام ہندو کی انفرادی شناخت قوم پرستانہ نہیں۔ ایک عام ہندو مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتا۔ ایک ہزار سال تک ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہمدردی اور برادرانہ تعلقات قائم رہے ہیں۔ او رآج بھی سنگھ پریوار کے مجنونوں کے گروہوں کے علاوہ یہ تعلقاتی نظام ہندوستان کے طول و عرض میں پھل پھول رہا ہے۔ 35 سے 40 فیصد ہندو برصغیر میں مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں سے نفرت کرنا ہندو تاریخ کے لیے بالکل ایک اجنبی تصور ہے۔ بھارتی قوم پرستی کی سرمایہ دارانہ جڑوں کی شکستگی کی دوسری وجہ اس کی عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں پیوستگی ہے۔ یہ پیوستگی تضاداتی ہے۔ ایک طرف تو مودی سرکار امریکی دفاعی نظام میں ماتحتانہ پیوستگی قبول کر چکی ہے (بالخصوص جنوبی بحرالکاہل اور بحرہند میں)۔ دوسری طرف اپنی معاشی پالیسی میں خود انحصاریت پر زور دے رہی ہے اور اپنی قومی اجارہ داریوں کے تحفظ کے لیے ریاستی حصار قائم کر رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور یورپی کمپنیوں کی بھارتی کمپنیوں کے حصص اور تمسکات کی خرید میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور بھارتی حرام خور مارکیٹیں عالمی حرام خور نظام میں پیوست ہوتا جا رہا ہے اور عالمی سرمایہ کی گرفت بھارتی معیشت اور سیاست پر مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتی خارجہ پالیسی میں تضاد ہے۔ وہ اپنی خود اختیاریت کو عالمی سامراجی نظام کے تسلط میں فروغ دینے کی جستجو کی عکاس ہے۔ وہ امریکا کا تزویراتی حلیف بھی ہے اور بحر الکاہل اور بحر ہند میں امریکا کی چین مخالف سرگرمیوں میں حصہ دار ہے لیکن اس کے اپنے سامراجی علاقائی عزائم بھی ہیں جو امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف سے ہم آہنگ نہیں (اکھنڈ بھارت پروجیکٹ سنگھ پریوار کو بہت عزیز ہے اور بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور افغانستان کو اپنی باج گزار کالونیاں بنانے کی خواہش رکھتا ہے)۔ اس ہی نوعیت کا تضاد بھارتی معاشی خارجہ پالیسی بھی ہے جو ایک طرف تو خود انحصاریت کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے لیکن عالمی سرمایہ کے سایہ میں رہتے ہوئے۔ خارجہ پالیسی کے یہ تضادات سامراج بالخصوص امریکا کو بھارتی سیاسی معیشت میں دخیل ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اپنے باجگزار حلیفوں میں قوم پرستانہ خود اختیاریت کا فروغ سامراج کے لیے عموماً مفید نہیں ہوتا گو کہ وہ اسے برداشت کرنے پر راضی کیے جا سکتے ہیں لیکن اس برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور وہ قوم پرست قوتوں کو کمزور کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں۔ جب تک قوم پرستانہ جدوجہد لبرل دستوری نظام میں مقید رہتی ہے سامراجی تخریب کاری کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ امریکی سامراج کب تک اور کس حد تک بھارت میں قوم پرستانہ خود اختیاریت کے فروغ کو برداشت کرنے پر مجبور رہے گی۔
سنگھ پریوار اور بی جے پی کی کامیابی سے پاکستانی اسلامی انقلابی کیا سیکھ سکتے ہیں 1947ء سے لے کر آ ج تک بھارت میں جو سیاسی نظام قائم ہے وہ لبرل دستوریت پر مبنی ہے۔ اس ہی نظاماتی تناظر میں سنگھ پریوار اور بی جے پی نے لبرل ازم کو شکست دی۔ پاکستان میں بھی لبرل دستوریت کا تناظری غلبہ ہے۔ کیا ہم اسلامی انقلابی سنگھ پریوار اور بی جے پی کے اس تجربہ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ لبرل ازم کی یہ شکست سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کا ذریعہ نہیں۔ مذہبی قوم پرستی لبرل ازم کی طرح ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے۔ مذہبی قوم پرستی کے فروغ کے نتیجہ میں بھارت میں سرمایہ دارانہ نظام کمزور نہیں طاقت ور ہو رہا ہے۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں اور سرمایہ داری کے انہدام کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کسی ایک سرمایہ دارانہ نظام (لبرل ازم) کو کسی دوسرے سرمایہ دارانہ نظریہ (مذہبی قوم پرستی) سے تبدیل کر کے سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام ممکن نہیں ہوتا لہٰذا ہم لبرل ازم کے خلاف اسلامی جدوجہد میں مسلم قوم پرستی کا سہارا نہیں لے سکتے۔ لیکن بی جے پی اور سنگھ پریوار کی طرح پاکستان کی اسلامی جماعتیں بھی لبرل دستوری تناظر میں اپنی جدوجہد مرتب کرنے پر مجبور ہیں۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار نے ثابت کر دیا کہ اس نظاماتی تسلط کو قبول کرنے کے باوجود لبرل تحکم کو چیلنج اور لبرل اقدار کو غیر اعتباری ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں بی جے پی اور سنگھ پریوار نے جو حکمت عملی اختیار کی وہ ہمارے لیے نہایت سبق آموز ہے۔ اس حکمت عملی کی پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے سو سالہ طویل المدت جدوجہد بھارت میں پائی جانے والی ہزاروں جاتیوں اور زیر جاتیوں کو ہندو قومیت کے مرکزی دھارے میں بڑی حد تک سمو دیا ہے۔ ان کو ایک ایسی قوم بنا دیا جس کا انفرادی تشخص معاشی نہیں مذہبی ہو گیا۔ یہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کا فی الواقع ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ اس اتحاد کی بنیاد ثقافتی اور معاشرتی ہے۔ سنگھ پریوار نے ہندو مذہبی روایات، رسوم و رواج کے احیا کی بنیاد پر ایک ایسا ہمہ گیر تربیتی نظام کی تنفیذ کا انتظام کیا جس کے نتیجہ میں ہندو مذہبی انفرادیت فروغ پائی۔ ان رسوم کا سہارا لے کر ہی بی جے پی اور سنگھ پریوار نے معاشرتی سطح پر جمہوری عمل کو معطل کر کے ہندو قوم پرستی کی پرورش کی اور بی جے پی کو ایک مقبول عام سیاسی قوت بنایا۔ پاکستان میں اسلامی جماعتیں سیاسی طور پر مارجنلائز ہوتی جا رہی ہیں اور مذہبی انفرادیت (جو پھیل رہی ہے) کا سیاسی اظہار معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم معاشرتی عمل کو ڈی ڈیموکریٹائز نہ کر سکے۔ اتحادِ امت فروغ نہ پا سکا۔ عوامی سیاسی تحرک کی بنیاد پر اسلامی روایات اور رسوم و رواج کے احیا سے مربوط نہ ہو سکی اور اسلامی جماعتوں کا سیاسی ترتیب کے معاشرتی اظہار کی بنیاد پر مرتب نہ کیا جا سکا۔ ہم لبرل دستوریت کے نظاماتی تسلط کو اس وقت تک کمزور نہ کر سکیں گے جب تک ہمارے سیاسی عمل کی یہ کمزوریاں واضح نہ ہوں گی۔ اسلامی انقلابی سیاسی ظہور کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسی طویل المدت معاشرتی حکمت عملی وضع کرنے کے نتیجہ میں عوامی اسلامی اتحاد فروغ پائے اور اس اتحاد کے نتیجہ میں اسلامی مذہبی انفرادیت کا سیاسی اظہار ممکن ہو۔ اسلامی انقلابی سیاسی شعور کو بیدار کرنے کے لیے اسلامی مذہبی روایات اور رسوم و رواج کا فروغ لازمی ہے۔ جاوید اکبر انصاری