کتب خانہLibrary

کمیونزم کا مستقبل

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

کمیونزم کا مستقبل اشتراکی سرمایہ داری دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے کمیونزم اور سوشل ڈیموکریسی۔ کمیونزم کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ یہ دنیا میں ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ کیا یہ تصور درست ہے؟ اس مضمون میں ہم کمیونزم کے تین اہم تجربات کا تجزیہ کر کے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ کمیونزم چین میں کمیونزم کا جدید تصور کارل مارکس نے پیش کیا اور اسے سائنٹفک سوشل ازم کا نام دیا۔ مارکس کے مطابق جب پیداواری ارتقا رونما ہوتا ہے توسرمایہ دارانہ انفرادی ملکیت کی جگہ سرمایہ دارانہ اجتماعی ملکیت لینے لگتی ہے۔ پہلے یہ اجتماعیت ریاستی ملکیت کی شکل اختیار کرتی ہے اور لبرل جمہوری نظام کی جگہ محنت کشوں کی آمریت (Dictatorship of prolitariate)لے لیتی ہے۔ پرولتاری آمریت (Dictatorship of prolitariate)کے اس دورانیہ کو مارکس سوشل ازم کہتا ہے۔ اس دورانیہ میں ریاست بتدریج تحلیل (wither away)ہوتی رہتی ہے اور آخر کار کمیونزم کا دور آ جاتا ہے جہاں سرمایہ دارانہ ملکیت عمومی ہو جاتی ہے۔ کمیونسٹ سوسائٹی کا ہر فرد وہاں پائی جانے والی ہر شے کا مالک ہوتا ہے۔ پیداوار مانگ سے کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے اور آزادی اور مساوات کی فراہمی کا عمل فطری ہو جاتا ہے۔ چین نے اصولی طور پر قبول کیا ہوا ہے اور کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کا دعویٰ ہے کہ چینی معاشرت اور معیشت اسی منزل کی طرف سفر کر رہی ہے لیکن اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ سفر نہایت طویل المدت ہے اور فی الحال وہ چینی خصوصیاتی سوشل ازم (socialism with chinees characterstics)کے دور میں ہے اور مدت تک رہے گی۔ چینی خصوصیاتی سوشل ازم کے دور میں محنت کشوں کی آمریت عملاً سی سی پی کی سیاسی (معاشی نہیں) اجارہ داری کی شکل اختیار کیے رکھے گی۔سی سی پی کے سیاسی اجارہ داری کے دور میں کمیونزم کی طرف مراجعت کا اصل وسیلہ بڑھوتریئ سرمایہ اور پیداوار کو تصور کیا گیا ہے۔ لیکن نہ مارکس نہ کسی مدبر نے یہ کہا کہ بڑھوتری سرمایہ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ ملکیت عمومی خود بخود کیسے ظہور پذیر ہو گی۔ چین میں 1949 سے لے کر آج تک سرمایہ دارانہ ملکیت کی ساخت میں تبدیلی کے کئی تجربات کیے ہیں۔ انقلاب کے ابتدائی دور سے آج تک ریاستی ملکیت قائم ہے۔ یہاں ریاستی اور سی سی پی کی نوکرشاہی غالب ہے اور اب بھی بڑی حد تک ان کی کارفرمائی قومی منصوبہ بندی کے تابع ہے۔ ماؤ کے دور میں یہ پوری معیشت پر چھائی ہوئی تھیں اور ابھی تک بھاری صنعتوں اور حرام خور شعبہ (فنانشل سیکٹر) میں ان کا حجم خاصا ہے لیکن 1979کے ”اصلاحات“ کے بعد سے نجکاری کا عمل جاری ہے اور سی سی پی کے عہدہ داران اور چینی ارب پتی ان کو خرید رہے ہیں۔ چین میں سٹہ بازی بھی عام ہے اور سٹہ مارکیٹ پر سی سی پی کی گرفت قدرے ڈھیلی ہے۔ 1979 کے ”اصلاحات“ کے بعد سے چین میں نجی سرمایہ دارانہ ملکیت بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ریاستی تحویل میں آنے کے باوجود حرام خور (فنانشل) شعبہ تیزی سے ارتکازی (commercialise)ہوتا جا رہا ہے۔ کئی امریکی، یورپی، جاپانی، تائیوانی اور کورین کمپنیاں مدت دراز سے چین میں موجود ہیں اور ہر سال چینی برآمدات کا بڑا حصہ یہی بیرون ملکی ملٹی نیشنل تیار کرتی اور بیچتی ہیں۔ چینی نجی اور سرکاری کارپوریشنوں نے بڑے پیمانہ پر یورپ، امریکا، جاپان، تائیوان وغیرہ میں سرمایہ کاری کی ہے اور ٹیکنولوجیکل ترسیل کے ضمن میں چینی اور بیرونی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے روابط مستحکم ہیں اور امریکا کوشش کے باوجود ان کو توڑنے میں ناکام ہے۔ چین بین الاقوامی سرمایہ دارانہ حرام خور (فنانشل) اور تجارتی مارکیٹوں میں ضم ہونے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ چینی شہروں میں کثیر تعداد میں چھوٹے نجی کاروبار بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک غیر رسمی شعبہ بھی موجود ہے۔ ٹیکس چوری black marketing,اور دیوالیہ بھی عام ہے۔ ہانگ کانگ اور مکاؤکی معیشت تقریباً مکمل طور پر نجی سرمایہ داروں کی گرفت میں ہے۔ ماؤ کے وقت سے لے کر آج تک چین میں اجتماعی ملکیت (collective property)کے بھی کئی تجربات کیے گئے۔ اس اجتماعی ملکیت کی ایک شکل کمیون بھی ہے جو زیادہ تر دیہاتوں میں پائی جاتی ہے لیکن ایک کمیون ایک مضافاتی شہری بستی Zhouzhuang میں بھی مدت سے قائم ہے۔ کمیونز میں زمین، تجارت اور سماجی خدمتوں کی مینجمنٹ کا انتظام مقامی آبادی منصوبہ بندی کی بنیاد پر کرتی ہے۔

حصہ ۲

ثقافتی انقلاب کے دور (1966 تا 1976) میں چینی دیہی شعبہ میں بڑے پیمانے پر کمیون بنائے گئے تھے لیکن 1982 میں تقریباً تمام کمیون ختم کر دیے گئے لیکن ان کمیونز میں عموماً تقسیم آمدنی مساویانہ ہے نہ پیداواری کارکردگی کے ضمن میں دوسری نوعیت کی ملکیتوں سے ممیز ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ کمیون کے ماتحت آبادیوں کی پیداوار ان کی مانگ سے زیادہ اور ہر شخص وہ حاصل کر سکے جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جب 1982میں کمیونز کے نظام کو معطل کیا گیا تو ان کی ناقص پیداواری سکت ہی کو اس کی وجہ بتائی گئی۔ چینی تجربہ سے ثابت ہے کہ کمیونز معاشرہ میں پھیلتے نہیں سکڑ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ کمیونز میں ادارتی درجہ بندی قائم رہتی ہے اور وہ سی سی پی کے تحکم کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ کمیونز میں سودی کاروبار جاری رہتا ہے اور وہ حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں سے روابط قائم کرتے رہتے ہیں۔ 1982کے بعد پورے چین میں کمیونز کی جگہ ”خاندانی ذمہ دارانہ نظام“ (HRS) نے لے لی۔ HRS کے تحت خاندانی سرمایہ دارانہ ملکیت عام کر دی گئی۔ HRS کے تحت چین کے 600,000 دیہاتوں میں 200,000,000 گھرانوں کی ذاتی اراضی او زرعی مشینری کئی سالوں کے لیے لیز کر دی گئی۔ (چین کی تمام زمین ریاست کی سرمایہ دارانہ ملکیت ہے)۔ HRS کا اجرا سی سی پی کی نہایت مقبول عام پالیسی تھی اور اس سے زرعی پیداوار بہت تیزی سے بڑھی۔ HRS کی مقبولیت اور کامیابی سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سی سی پی کی آمرانہ جمہوریت کے نتیجہ میں عوام کی ذہنیت پست رہی اور ایک عام چینی باشندہ انفرادی سرمایہ دارانہ مفاد کے حصول کو اجتماعی سرمایہ دارانہ مفاد کے حصول پر ہنوز ترجیح دیتا ہے۔ ماؤ کے وقت سے لے کر آج تک سی سی پی نے کوشش کی ہے کہ ہمیشہ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جن کو عوامی تائید حاصل ہو۔ اس رویہ کو following the mass line کہتے ہیں اور اسی وجہ سے چینی جمہوریت مستحکم اور مقبول عام ہے۔ آج چینی عوام اپنے انفرادی سرمایہ دارانہ مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ لہٰذا سی سی پی اجتماعی ملکیتی تنظیم کو بتدریج رد کر رہی ہے۔ ریاستی ملکیت کا دائرہ کار اور اس کا نظام کارفرمائی بھی اسی ماس لائن کی پیروی کے تابع ہے۔ کمیون کی ادارتی تنظیم بھی ایک عام سرمایہ دارانہ کوآپریٹو سے مشابہ ہے۔ Zhouzhuang کو 1984 کے بعد سے کوآپریٹو ہی کہا جاتا ہے۔ کمیونز کے قیام کا اہم ترین مقصد بھی بڑھوتری سرمایہ اور پیداوار ہی ہوتا ہے۔ کمیون میں پیداواری جتھے(پروڈکشن ٹیم) کو ایک مرکزی انتظامیہ پیداواری ہدف دیتی ہے اور ان پیداواری جتھوں کی آمدنی اس ہدف کے حصول پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر ہدف سے زیادہ پیداوار حاصل کر لی گئی تو جتھے کی آمدنی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا پیداواری جتھوں اور ان کے کارکنوں میں تقسیم آمدنی کی نامساویت قائم رہتی ہے۔ 1979 کی اصلاحات کے نتیجہ میں چینی معیشت میں تقسیم آمدنی مارکیٹی عمل کے ماتحت ہو گئی ہے اور منصوبہ بندی قومی، بلدیاتی اور لوکل سطح پر غیر موثر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں کمیون کی سطح پر منصوبہ بندی نہایت مشکل ہوتی جا رہی ہے کیونکہ کمیون کو اپنی پیداوار لامحالہ کھلے مارکیٹ کے متعین شدہ داموں پر فروخت کرنا پڑتی ہے اور وہاں کے سود کی شرح بھی عموماً باہر کے حرام خور (فنانشل) مارکیٹ ہی متعین کرتے ہیں۔ اب چین میں صرف ایک کمیون باقی رہ گئی ہے Zhouzhuang۔ اور اس کا حکومتی نظام سی سی پی کی طرح درجہ بند ہے۔ معاشی اور سیاسی اقتدار یکجا ہے۔ پارٹی مرکز Zhouzhuang میں موجود ہے اور کمیون کی قیادت شاذ و نادر ہی تبدیل ہوتی ہے۔ سی سی پی کی طرح اس کمیون کی قیادت میں ماس لائن کی تابع دار ہے۔ دعویٰ کے باوجود Zhouzhuang خود کفیل نہیں۔ وہاں کرپشن بھی عام ہے۔ مرکزی قیادت میں بھی اور نچلی سطح میں بھی۔ کمیون کے ممبروں کے پرتعیش اخراجات پر بھی کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ کمیون کے ممبروں کو اپنا نجی سرمایہ دارانہ بزنس چلانے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔

حصہ ۳

ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ چین میں اجتماعی ملکیت کا تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔ یہ ناکامی ثقافتی انقلاب کے دور سے عیاں ہے جب تقریباً دس سال تک پورے چین میں لاکھوں کمیون کام کرتے رہے اور آج ان میں سے صرف ایک باقی ہے جس کے صرف چودہ سو ممبر ہیں(یعنی چینی آبادیوں کا تقریباً اعشاریہ صفر صفر ایک فی صد)۔ اجتماعی ملکیت(collective property) کی کارفرمائی کے نتیجہ میں انفرادی نفسیات اور شخصیت میں ویسی تبدیلی رونما نہیں ہوتی جیسی اشتراکی سرمایہ داری کو مطلوب ہے۔ اجتماعی ملکیت کا کارکن اپنے اجتماعی (قومی یا گروہی) سرمایہ دارانہ مفاد کو اپنے ذاتی سرمایہ دارانہ مفاد پر مقدم تصور نہیں کرتا۔ اشتراکی اور لبرل سرمایہ دارانہ انفرادیت میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کا بھی کوئی اشارہ نہیں کہ چین میں ریاست تحلیل ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس سی سی پی کی جمہوری آمریت نہایت مستحکم اور طاقت ور ہے۔ اور چینی سرمایہ دارانہ ترقی کے وہی تمام اثرات رونما ہو رہے ہیں جو لبرل سرمایہ دارانہ ارتقائی عمل میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مظہر چین میں بڑھتی ہوئی دولت اور آمدنی کی تقسیم میں نامساویت ہے۔ چین ایک اشتراکی جمہوریت ضرور ہے لیکن اس کے بہتر سالہ تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتراکیت کمیونزم کا پیش خیمہ صرف سرمایہ داری کی نئی ادارتی صف بند ی ہے۔ سوویت یونین کی کمیونزم چین میں سرمایہ دارانہ اشتراکیت کی کامیابی نے کمیونزم کو ناقابل حصول ثابت کر دیا لیکن سوویت یونین میں یہی نتیجہ اشتراکی سرمایہ داری کی ناکامی سے برآمد ہوا۔ سوویت اشتراکی سرمایہ دارانہ ناکامی کا سبب عموماً مرکزی منصوبہ بندی نظام کی ناقص کارکردگی کو بتایا جاتا ہے۔ اسٹالن کے دور میں منصوبہ بندی مقدار اہداف کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ بعد میں زری بنیاد پر کی جانے لگی۔ لبرل معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ صرف مارکیٹ ہی درست قیمتیں متعین کر سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کے مطابق ایفی شنٹ قیمتیں وہ ہیں جن کی بنیاد پر کاروبار کے ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار اپنے منتہا کو پہنچائی جا سکتی ہے (یعنی Maximize کی جا سکتی ہے)۔ Ludwig von Mises نے ثابت کیا کہ منصوبہ بندی کے تحت ایفی شنٹ قیمتیں متعین نہیں کی جا سکتیں۔ سوویت یونین کے تجربہ سے یہ رائے غلط ثابت ہو گئی ہے۔ 1930 سے 1970 کی دہائیوں میں سوویت یونین کی شرح نمو (GDP Groth Rate)بہت سے سرمایہ دارانہ ممالک سے زیادہ رہی اور وہاں بڑھوتری سرمایہ کی رفتار بھی بہت تیز تھی کیونکہ منصوہ بندی کی وجہ سے سرمایہ کاری کے خطرات (Risk) کم ہو گئے تھے۔ منصوبہ بندی کے ذریعہ سوویت یونین میں معاشی استحکام دیر تک قائم رہا۔ اس کے باوجود کہ 1920 سے 1980کے تقریباً وسط تک مغربی ممالک نے ٹیکنولوجیکل اور حرامخورانہ مارکیٹوں میں پابندیاں نافذ کیے رکھیں۔1980کی دہائی سے سوویت یونین کے منصوبہ بندی کے نظام میں بڑے پیمانے پر کمپیوٹر ٹیکنولوجیکل ماڈلز کا استعمال عام ہو گیا اور اس استعمال کے نتیجہ میں مختلف طرائق پیداوار سے متعلق خرچ کا اندازہ لگانا ممکن ہو گیا۔ ان تخمینوں کی بنیاد پر ایسی قیمتوں کا تعین ممکن ہو گیا جو اشیا کے کاروبار کے ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری کی انتہا کو ممکن بنا دیں۔ 1975 کے بعد سوویت یونین کی پیداواری شرح نمو گرنے لگی۔ اس کی وجہ منصوبہ بندی کے نظام کی ناقص کارکردگی نہیں تھی۔ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین اور امریکا کی صنعتی شرح نمو یکساں یعنی 2.5فیصد سالانہ اوسطاً تھی۔ امریکا کی شرح نمو کئی دہائیوں سے اتنی ہی رہی تھی اور وہاں اس کی وجہ سے کوئی بحران نہیں آیا تھا۔ اس کے باوجود کہ امریکا میں محنت کشوں کی اجرتیں 1970 سے منجمد ہو گئی تھیں۔ جبکہ 1980 کی دہائی میں شرح نمو میں تخفیف کے باوجود سوویت یونین میں محنت کشوں کی اجرت میں مستقل اضافہ ہوتا رہا۔

حصہ ۴

امریکا میں 1980 کی دہائی میں آبادی کے بالائی دس فیصد طبقہ کی آمدنی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ سوویت یونین میں شرح نمو کی گراوٹ سے وہاں کا متوسط طبقہ بالخصوص پروفیشنلز اور دانشور بہت متاثر ہوئے۔ سوویت یونین کا معاشرتی اور ریاستی اشرافیہ طبقہ امریکی اور یورپی طرز زندگی اپنانے کا خواہاں تھا اور شکایت کرتاتھا کہ اس کو وہ تعیشات میسر نہیں جو لبرل سرمایہ دارانہ اشرافیہ کو حاصل ہیں۔ مغربی طرز زندگی کو اپنانے کے خواہاں طبقات سوویت معاشرت اور ریاست بالخصوص کمیونسٹ پارٹی پر چھائے ہوئے تھے اپنی قلیل تعداد کے باوجود۔ سیاسی اور سماجی اقتدار کی باگ ڈور انہی ٹیکنیکل ماہرین اور بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے قائدین عموماً انہی ٹیکنیکل ماہرین اور انتظامی پیشہ وروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ 1920 سے کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے لینن اور اسٹالن نے بیس سال پرانے انقلابیوں کو پارٹی سے خارج کرنے کی مہم چلائی۔ وہ پرانے انقلابی جو 1905 سے 1920 تک انقلاب کے لیے جانی اور مالی قربانیاں دیتے دیتے قتل کر دیے گئے، جلاوطن کر دیے گئے اور قید کر دیے گئے۔ پارٹی پر نوکرشاہی کا تسلط مستحکم ہو گیا۔ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے کمیونسٹ پارٹی کی عوامی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں کہنے کو تو وہ محنت کشوں کی پارٹی تھی لیکن Leonid Brezhnev کے دور تک اس کی قیادت میں محنت کشوں کی نمایندگی اور اثر و رسوخ تقریباً بالکل ختم ہو گیا تھا۔ اسٹالن کے دور (1927تا 1953) میں کمیونسٹ پارٹی کی استبدادی جمہوریت مستحکم تھی۔ دوسری جنگ عظیم سوویت عسکری فتوحات نے عوام میں قوم پرستی کے عروج کے ذریعہ کمیونسٹ پارٹی کی ساکھ قائم رکھی۔ خروشیف کے دور میں قوم پرستی کا نشہ زائل ہونا شروع ہوا اور اس وقت تک سوویت عوام کا مارکس از پر ایمان بالکل ختم ہو چکا تھا کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ سوویت یونین کمیونزم کی طرف مراجعت کر رہی ہے اور ریاست تحلیل ہو رہی ہے۔ سوویت استبدادی جمہوری نظام اس حد تک کمزور ہو چکا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے قائدین تک مارکس ازم کو ایک فرسودہ نظریہ تصور کرنے لگے تھے۔ گورباچوف کے دور (1985تا 1991) میں لبرل اصلاحات کی تنفیذ شروع ہوئی۔ کارپوریٹ ٹیکسوں میں کمی کی گئی۔ شراب کی بلیک مارکیٹ قائم ہو گئی (گورباچوف نے 1985 میں شراب پر پابندی لگائی تھی) اور اس بلیک مارکیٹ کے کاروبار کا منافع ایک طاقت ور جرائم پیشہ کے ہاتھوں میں جمع ہو گیا اور یہ طبقہ سوویت یونین میں پھیلتی ہوئی مارکیٹ اکانومی پر چھاتا چلا گیا۔ تورم (انفلیشن) تیزی سے بڑھا اور سوویت زر کی بین الاقوامی قدر تیزی سے گرنے لگی۔ حکومتی محصولیاتی آمدنی بہت کم رہ گئی۔ سرکاری قرضہ جات تیزی سے بڑھے۔ کرپشن عام ہو گئی اور عوام کا اعتماد ملکی معاشی نظام پر تقریباً ختم ہو گیا۔ کوآپریٹو ملکیتی نظام کرپشن کے پھیلاؤ کا کلیدی ذریعہ بن گیا۔ سوویت حکومت نے بڑے پیمانے پر عالمی حرام خور مارکیٹ (فنانشل مارکیٹ) سے روابط قائم کیے۔ حکومتی سودی بین الاقوامی قرضوں کے انبار لگ گئے اور امریکا اور جرمنی کے لیے سوویت یونین میں تخریب کاری اور دخول کے وافر مواقع فراہم کیے جانے لگے۔ 1991 میں سوویت یونین کالعدم قرار دے دیا گیا۔ لینن نے اپنی 1916 میں لکھی گئی کتاب State and Revolution میں کمیونزم کے قیام کو ممکن قرار دیا تھا لیکن 1920 میں سوویت خانہ جنگی کے خاتمہ کے بعد اس نے اقرار کر لیا تھا کہ سوویت یونین میں کمیونز م کی طرف مراجعت ناممکن ہے۔ NEP کے دور (1920تا 1924) میں جو نظام لینن نے قائم کیا اس کو وہ خود ”ریاستی سرمایہ داری“ کہتا تھا اور 1920سے 1991 تک یہی ریاستی سرمایہ داری سوویت یونین میں قائم رہی۔ ریاستی سرمایہ داری کی کارفرمائی کے نتیجہ میں عموماً ایک عام سوویت شہری کا معیار زندگی 1987 تک بڑھتا رہا۔سرمایہ دارانہ نظم ملکیت (ریاستی اور نجی) فروغ پاتی رہی۔ منصوبہ بندی کا دائرہ اثر محدود اور مارکیٹ کا دائرہ عمل وسعت پذیر ہوتا رہا۔ استبدادی جمہوریت تیس چالیس سال تک مضبوط رہی لیکن برژنیف کے دور سے کمزور ہونا شروع ہو گئی۔ کوئی نئی اجتماعی انفرادیت (soviet man)کا ظہور نہ ہو سکا۔ عوام اور خواص کا مارکس ازم پر سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔ کمیونزم کے وقوع کے امکانات معدوم ہو گئے اور آخرکار اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام بھی قوم پرستانہ لبرل ازم میں تحلیل ہو گیا۔

حصہ ۵

مشرقی جرمنی کی کمیونزم مشرقی جرمنی کا قیام 1946/47 میں عمل میں آیا۔ جب اس علاقہ پر سوویت فوج کے قبضہ کے نتیجہ میں کمیونسٹ پارٹی برسراقتدار آئی تو EDRکو سوویت یونین کی اعانت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور جنگی تاوان (Reparation payment)سوویت یونین کو دیے گئے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اپنا اقتدار قائم کرتے ہی نازی اہل کاروں، ریاستی بیوروکریسی اور ثقافتی اداروں سے خارج کر دیا۔ یہ عمل معیشت کے ہر شعبہ میں پھیلا دیا گیا اور اس کے نتیجہ میں GDR سے بڑے پیمانہ پر سائنس دان، ٹیکنیکل اور انتظامی ماہرین قتل اور مبحوس بھی کیے گئے اور نقل مکانی بھی کر گئے۔ مغربی جرمنی کے مقابلہ میں EDRایک پسماندہ اور غریب معیشت تھی جہاں صنعت کاری کا عمل محدود تھا۔ کسی بھی بڑی جرمن کارپوریشن (LG, Farfan, Krapp, Danleies, Detusche Bank, BASF and Buyer)کا مرکز GDRیہاں نہیں تھا۔ اس کی معیشت بنیادی طور پر زرعی تھی۔ اس معاشی غربت کے باوجود کمیونسٹ پارٹی نے EDRمحنت کشوں کے معیار زندگی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی۔ محنت کشوں کے درمیان آمدنی کی تقسیمی نامساویت کم کی گئی۔ تمام شہریوں کو صحت اور تعلیم کی سہولت مفت فراہم کی گئی۔ کارخانوں اور دفتروں میں دن کا کھانا مفت دیا جاتا تھا۔ تمام شہریوں کو رہائشی سہولیات نہایت سستے داموں فراہم کی گئیں۔ خواتین کے سرمایہ دارانہ حقوق کی ضمانت دی گئی۔ ان میں ملازمت کرنے کے رجحان کو فروغ دیا گیا اور بچوں کے نگہداشت کے مراکز پورے ملک میں قائم کر دیے گئے۔ وسائل کی قلت کے باوجود GDR کی پوری آبادی کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کیں۔ یہاں جرمن سفارتی اداروں موسیقی، اوپیرا، تھیٹر اور رقص پورے ملک میں عام کیا گیا۔ EDR میں دوسرے ملکوں سے مفرور کمیونسٹوں کو خوش آمدید کہاگیا۔ EDR , عالمی لبرل تحدیدات کا شروع ہی سے شکار رہا۔ اس کے علاوہ FRG اور امریکا نے EDR معاشرت کی بیخ کنی کرنے کے لیے بڑے پیمانہ پر ایک پروپیگنڈا جنگ مسلسل چار دہائیوں تک جاری رکھی۔ EDR کے شہریوں کو ان تعیشات کے حصول کی طرف راغب کیا گیا اس کے باوجود ان کے ملک میں نہیں ملتی تھیں لیکن FDR میں وافر تھیں۔ مشرقی جرمنی میں تیزی سے لالچ،حرص و حسد نے فروغ پایا اور جو سہولیات انہیں میسر تھیں ان پر وہ قانع نہ رہے۔ اس پروپیگنڈا کی جنگ میں ریڈیو فری یورپ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے جو مستقل مغربی جرمنی کے لبرل جمہوری نظام کو ”صارفین کی جنت“ کے طور پر پیش کرتا رہا۔ 1980 کی دہائی تک مشرقی جرمنی میں یہ خیال عام ہو گیا کہ ہر امریکی ایک پرتعیش امیرانہ زندگی بسر کرتا ہے۔ EDR کا سیاسی اور انتظامی نظام سوویت یونین کا چربہ تھا۔ EDR کی کمیونسٹ پارٹی (جسے Socialist Unit party کہا جاتا ہے)ایک استبدادی جمہوری نظام قائم کیے ہوئے تھی جس میں لبرل حقوق اور آزادیوں کی فراہمی نہایت محدود تھی۔ وہ ثقافتی اور علمی تجربیت کو شک کی نگہ سے دیکھتی تھی۔ پارٹی کی قیادت کا عوام میں فاصلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ کارکنوں کو فیکٹری کی سطح پر تو پالیسیوں کی تنقید کی اجازت تھی لیکن مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور اس قسم کی تنقید کرنے والے سزا کے مستحق قرار دیے جاتے تھے۔ جمہوری استبداد کو برقرار رکھنے کے لیے EDR کی کمیونسٹ پارٹی کا اصل ہتھیار وہاں کی خفیہ پولیس تھی جو مستقل عوام اور خواص کی نگرانی اور مخبری کرتی رہتی تھی۔ مشرقی جرمن کمیونسٹ پارٹی سوویت یونین کی باجگزار تھی۔ چیکوسلواکیہ اور ہنگری کی کمیونسٹ پارٹیوں کی طرح۔ جب ہنگری میں 1956 میں عوام کمیونسٹ پارٹی کے خلاف اٹھے اور جب 1968 میں چیکوسلواکیہ میں یہی ہوا تو سوویت فوجی انخلا نے کمیونسٹ راج کو بچا لیا۔ 1990 میں سوویت فوج مشرقی جرمنی میں مداخلت کرنے کے قابل نہ رہی تھی۔ لہٰذا وہاں کے عوام کو کمیونسٹ راج کا تخت الٹنے کا موقعہ مل گیا۔

حصہ ۶

اپنے چالیس سالہ دور اقتدار میں کمیونسٹ پارٹی نے مشرقی جرمنی کے عوام کو زندگی کی تمام بنیادی ضرورتیں، خوراک، رہائش، صحت، تعلیم یہاں تک کہ تفریحات فراہم کیں لیکن وہ اشتراکی سرمایہ دارانہ انفرادیت (ایسی انفرادیت جو اجتماعی سرمایہ دارانہ مفادات کو شخصی سرمایہ دارانہ مفادات پر ترجیح دے) نہ قائم کر سکے۔ مشرقی جرمن عوام حرص و ہوس کے اسیر رہے۔ وہ مغربی جرمنی اور امریکا میں پائے جانے والی عیاشیوں کے حریص رہے اور موقع ملتے ہی انہوں نے استبدادی جمہوری نظام کو تباہ کر دیا۔ اشتراکیت کا یہ دعویٰ کہ ”محنت کشوں کی آمریت“ ایک ایسے معاشرہ کے قیام کی طرف پہلا قدم ہے جہاں ہر شخص اپنی ہر خواہش پوری کر سکے گا، یعنی کمیونزممشرقی جرمنی میں سوویت روس کی طرح جھوٹا ثابت ہو گیا۔ اختتامیہ کمیونزم مارکس کی خیالی جنت (Utopia)ہے جو نہ کبھی قائم ہوئی نہ کبھی قائم ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشتراکی تصور انفرادیت تضاداتی ہے۔ اجتماعی سطح پر وہ حرص کو جذبہ انسانیت کے متحرکہ کے طور پر تسلیم کرتی ہے لیکن پرولتاریہ کی آمریت کے دور میں منصوبہ بندی کے ذریعہ انفرادی حرص کے اظہار پر پابندیاں لگانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اجتماعی حصول لذات کی جستجو انفرادی سطح پر حرص و ہوس کو مہمیز دیتی رہتی ہے۔ چین، روس اور مشرقی جرمنی کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتراکی اور لبرل سرمایہ دارانہ شخصیت میں کوئی نوعی فرق موجود نہیں۔ اشتراکیت لبرل ازم سرمایہ داری ایک نظریہ ہے جو ریاستی اور نیم ریاستی ملکیت سرمایہ کی بڑھوتری کا ذریعہ بناتی ہے۔ آج چین ایک کامیاب اشتراکی سرمایہ دار نہ رہا۔ کل سوویت یونین اور مشرقی جرمنی بھی ایسی اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستیں تھیں جو ناکام ہو گئیں۔ جاوید اکبر انصاری