کتب خانہLibrary

صوفیا سے اتحاد

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

صوفیائے عظام سے تعاون کی حکمت عملی حال ہی میں ہمارے امیر محترم سراج الحق نے لاہور اور حیدرآباد میں مشائخ اور صوفی بزرگوں سے تعاون کی مہم کا آغاز فرمایا ہے۔یہ ایک نہایت حوصلہ افزا اور خوش آیند پیش رفت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخلصین دین کی ایک بہت بڑی تعداد صوفیا عظام کے زیر اثر ہے اور تصوف کے نور کے پھیلاؤ کے ذریعہ ہی برصغیر میں کروڑوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ آج بھی اپنی ماس بیس(mass base) تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم صوفی حلقوں کی اعانت اور رہنمائی حاصل کریں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اٹھارہویں صدی سے لے کر آج تک تصوف کے شفاف پانی میں وحدت ادیان کی غلاظت شامل ہوتی رہی ہے۔ شرع مطہرہ کے احکامات کی بجاآوری پر زور کم ہوا اور سندھ اور پنجاب کے کئی صوفیا سلاسل سامراجی انتظایہ سے منسلک ہو گئے اور آج بھی سرمایہ دارانہ دہریہ ریاست کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ دہریہ سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی میں کئی صوفی رہنما شریک کار ہیں۔ ان حالات میں صوفی حلقوں کو غلبہ دین کی جدوجہد میں شامل کرنا ایک مشکل اور طویل المدت حکمت عملی کا متقاضی ہے۔ اس مضمون میں میں اس حکمت عملی کے چند نکات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کروں گا۔ تصوف ،غلبہ دین کی نہیں تحفظ دین کی تحریک ہے گو کہ اکابر صوفیا میں کئی انقلابی رہنما (سید بادشاہ، حاجی شریعت اللہ، پیر صبغت اللہ مجددی، مجدد الف ثانی، امام حسن البنا اور امام خمینی وغیرہ رحمہم اللہ) بھی گاہے گاہے وارد ہوتے رہے ہیں۔ تصوف تطہیر نفس و قلوب کے وہ طرائق ہیں جن پر امت کا اجماع ہے اور تطہیر قلوب کے بغیر انقلابی عمل کو جاری نہیں رکھا جا سکتا لہٰذا غلبہ دین کی تحریک اہل تصوف کے کام سے مستفید ہوئے بغیر جاری نہیں رہ سکتی۔ لیکن برصغیر کے حالیہ تصوفی نظام میں جو آلائشیں آ گئی ہیں ان کو انقلابی رفع نہیں کر سکتے۔ یہ ان صوفیا کا کام ہے جو بدعت کے پھیلاؤ کے مخالف اور حضرت حسن بصریؒ اور حضرت جنید بغدادیؒ کے کلاسیکی تصوف کے احیا کے لیے کوشاں ہیں۔ چنانچہ یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اعلیٰ حضرت احمد رضاخان بریلویؒ اور پیر جماعت علی شاہؒ پوری زندگی ردِ بدعات کی کوشش کرتے رہے اور دور حاضر میں محترم خادم حسینؒ رضوی شہید بھی ان ہی اولیا کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ لیکن ہمارا گما ن ہے (اور تحقیق سے اس گمان کی تصدیق نہیں کی گئی) کہ ان جیسے بزرگوں کی تعداد اور اثر صوفی حلقوں میں محدود ہے۔ انقلابیوں کے یہی بزرگ حلیف ہیں اور صوفی حلقوں میں (مخلصین دین میں بالعموم) ان جیسے بزرگوں کے اثر کو بڑھانے کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ ان بزرگوں کا اثر بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ انقلابیوں کی رسائی اور مشاورت صوفیا کی اعلیٰ سطحوں تک محدود نہ رہے۔ اگر یہ واسطہ اور مشاورت اعلیٰ سطح تک محدود رہا تو اس کا نتیجہ علامتی رہے گا۔ بالکل جس طرح متحدہ مجلس عمل میں اتحاد اسلامی جماعتوں کی اوپری قیادت تک محدود رہا۔ اسلامی اتحاد رسمی اور علامتی رہا حقیقی نہ ہو سکا اور بہت جلد پارہ پارہ ہو گیا۔ جماعتوں کے عام کارکن ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہی رہے۔ لہٰذا اگر صوفی حلقوں سے مستحکم اور دیرپا اتحاد کرنا ہے تو مکالمہ کو بالائی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بالائی مکالمہ کو نچلی سطحوں تک رسائی کا راستہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے کئی اقدام ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو صوفی بزرگ مکالمہ میں شریک ہوتےہیں ان کو جماعت کے تربیتی پروگراموں میں دائمی ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ہفتہ وار یا ماہانہ دروس اور محافل ذکر و مراقبہ منعقد فرمائی جائیں جن میں صوفی رہنما جماعت کے کارکنوں کی تربیت کریں۔

حصہ ۲

اس با ت کی کوشش کی جائے کہ اہل تصوف کے متوصلین جماعت میں بحیثیت کارکن شامل ہوں اور جماعت کے کارکن بھی جماعت سے آزاد صوفی سلسلوں میں مریدوں کے طور پر شامل ہوں۔ جو صوفی بزرگ ہماری مشاورت میں شامل ہوں ان کو مقامی ، ضلعی ،ملکی، شہری، صوبائی اور وفاقی مجالس شوریٰ میں مستقل مندوب کے طور پر شامل کیا جائے تاکہ گاہے گاہے یہ زعماء انقلابی عمل کی ہمہ جہت نوعیت سے واقف ہوں۔ اقتدار اسلامی کے قیام کو ضروریات دین اور اقامت دین کے لیے ضروری سمجھیں اور دانستہ طور پرتطہیر قلوب کی جدوجہد کو غلبہ دین کی جدوجہد سے پیوست کرنے کی سعی کریں۔ صوفی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحکم ادارتی روابط استوار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ یہ تحریک انتظامیہ (بالخصوص فوج) کے گھیراؤ میں مقید ہوتی جا رہی ہے اور جاگیردار اور پیشہ ور مخدوموں اور گدی نشینوں کی پیہم مخالفت اس کو متاثر کر رہی ہے لیکن یہ ایک عوامی تحریک ہے اور مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سے صوفی حلقوں کو جدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اپنے پہلے انتخابی معرکہ میں اس کو پچیس لاکھ ووٹ ملے۔ اگر ہم 2023کے انتخابات ایک ایسے اسلامی اتحاد کے ساتھ لڑیں جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام اور تحریک لبیک کا اشتراک ہو تو ہمیں ایک کروڑ ووٹ مل سکتے ہیں۔ یہ تمام تجاویز خام ہیں اور ان کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے پیچھے کوئی تحقیق نہیں۔ صوفیا کا طبقہ اثر دیہی علاقوں پر مرکوز ہے اور ہم نے دیہی معاشرتی اور معاشی صف بندی کی نوعیت پر کبھی تحقیقی کام نہیں کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے تحقیقی ادارے (ادارہ معارف اسلامی کراچی اور لاہور اور آئی پی ایس) سندھ، پنجاب اور پختونخواہ کی زرعی سفارشات پر جامع ایتھنوگرافک تحقیقی سروے کریں جس سے ان علاقوں میں پائی جانے والی معاشرتی، معاشی، سیاسی اور مذہبی صف بندیوں کی نشان دہی کی جا سکے اور ہم یہ اندازہ لگا سکیں کہ اس معاشرت اور معیشت میں صوفیا کرام کی حیثیت کیا ہے اور ان کے اقتداری اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے کیا حکمت عملی موزوں ہو سکتی ہے۔ یہ ایتھنوگرافک سروے سرٹیفائیڈ سیمپلنگ کی بنیاد پر کیے جا سکتے ہیں اور اس ضمن میں اسلام آباد کا گیلپ جیلانی ادارے کا تعاون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ الحمدللہ سندھ میں اس کام کی ابتدا جناب پروفیسر یونس قادری (جو جماعت اسلامی کے محقق ہیں) نے کر دی ہے اور اب تھر کے علاقہ کی دیہی معیشت پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پرانے ساتھی مولانا موسیٰ بھٹو کی سندھ نیشنل اکیڈمی بھی ہماری مدد کر سکتی ہے۔ مولانا موسیٰ بھٹو خود ایک جید عالم اور صوفی بزرگ ہیں اور آپ کا اثر سندھ کے صوفی حلقوں میں وسیع ہے۔ جاوید اکبر انصاری