مخلصین دین سے اتحاد مگر کیسے
مخلصین دین سے اتحاد – مگر کیسے؟ اکتوبر 2020 میں جماعت نے لاہور میں علما اور مشائخ کا ایک اہم اجتماع منعقد کیا جس میں ہمارے امیر جناب سراج الحق نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام علما اور مشائخ کی سرپرستی میں ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ میلاد شریف کا یہ مبارک اجتماع ہماری تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ مولانا مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد رحمہم اللہ اجمعین اپنی پوری زندگی اتحادِ امت کے لیے کوشاں رہے۔ اس کے باوجود کہ مدت دراز تک علما کے کئی حلقے ہمارے بارے میں شک و شبہ کا اظہار فرماتے رہے (البتہ ہند کے صوفیائے کرام نے عموماً اس سے پرہیز کیا)۔ محترم قاضی حسین احمدؒ نے اپنے دور امارت میں فرمایا تھا ”ہم علما ء کے خادم ہیں جہاں وہ حکم دیں گے ہم حاضر ہو جائیں گے“۔ مخلصین دین میں اتحاد کیوں نہیں؟ شدید خواہش کے باوجود جماعت اتحاد امت کی علامت نہ بن سکی اور ملک میں اتحاد بین المسلمین فروغ نہ پا سکا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس امر کو سمجھے بغیر اتحاد امت کو فروغ دینے کی تزویراتی حکمت عملی مرتب نہیں کی جا سکتی۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے مخلصین دین کو کبھی اپنی جماعت کی mass base تصور نہ کیا اور ہمارا دعوتی اور سیاستی تخاطب ہمیشہ براہ راست عوام سے رہا۔ اس تخاطب میں پاکستانی مخلصین دین کے سماجی اور ثقافتی رجحانات اور روایتی ادارتی صف بندیوں کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا۔ لہٰذا یہ تخاطب مخلصین دین کے لیے ہمیشہ معروضی ) (abstract اور عدم تاریخی (ahistoric) اجنبی رہا۔ وہ اس کی بنیاد پر نہ متحد ہو سکے نہ منظم۔ ملک میں مخلصین دین کی تعداد ڈیڑھ سے دو کروڑ تک ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسلامی روحانیت سے سرشار ہیں اورجو اسلامی طرز حیات اختیار کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی روزمرہ زندگیوں میں شرع مطہرہ کی تنفیذ کا دائرہ کار سکڑتا جا رہا ہے اور یہ لوگ سرمایہ دارانہ معاشرت کی دراندازی برداشت کرنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔ ان کی روزمرہ کی زندگی دہری عقلیت (سیکولر ریشنلٹی) کے تابع ہوتی جا رہی ہے اور ہماری روایتی ادارتی صف بندیاں (مساجد، خانقاہیں، برادریاں، خاندان، بازار) کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ مخلصین دین اس معاشرتی کمزوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے نتیجہ میں فرقہ واریت کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ سیکولرنظام کو اپنا دشمن نہیں گردانتے اور اپنے آپ کو دہری اقتدار کے سامنے بے بس تصور کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے دوسرے مسلکی گروہوں کو اپنا حریف تصور کر لیا ہے اور پورا زور ایک دوسرے کی مخالفت میں صرف کر رہے ہیں۔ ان حالات میں ملت کا پارہ پارہ ہو جانا ناگزیر ہے۔ مخلصین دین محکوم اور مجبور اور بے بس ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ ریاست کے سٹیزن بنا ئے جا رہے ہیں اور جمہوری نظام میں سٹیزن بے کس اور لاچار ہوتا ہے۔ وہ تحکم قانون سرمایہ کی تائید پر مجبور ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کو فطری سمجھنے لگتا ہے۔ مخلصین دین اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ان کا اسلامی سیاسی شعور خوابیدہ تر ہوتا جا رہا ہے اور ان کی سیاسی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام سے سمجھوتہ کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دہریہ جماعت (مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف) میں علما اور پیر شامل ہوتے ہیں اور جمہوری عمل مخلصین دین کو دہریہ client-patronage networks میں جکڑدیتا ہے۔ ہماری مجوزہ تزویراتی حکمت عملی پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مخلصین دین کو اپنی mass base کے طور پر پہچانیں۔ ہمارا تخاطب عوام سے مخلصین دین کے ذریعہ ہو براست نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا تخاطب جذباتی اور تاریخی روایات سے مرتب ہو۔ ہم ذہن کو کم اور قلب کو زیادہ متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ لاہور میں منعقدہ میلاد شریف کی مبارک محفل اس طرح کا پہلا اہم قدم ہے۔
آج بھی الحمدللہ مخلصین دین کی رہنمائی علمائے کرام، صوفیائے عظام اور اساتذہ مدارس فرما رہے ہیں اور ان کے مقامی (محلہ کی سطح پر) نمایندے ائمہ مساجد ہیں۔ ہمیں انہی ائمہ مساجد، علمائے کرام، اساتذہ اور طلبہ مدارس اور صوفیائے عظام کو اپنی دعوت کا ترجمان بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جماعت کا انتظامی ڈھانچہ محلہ کی سطح پر مساجد سے مربوط ہو مساجد ہی ہماری دعوت کے محور اور مرکز کا کام انجام دیں۔ محلہ کی مساجد کو مقامی سطح پر لوکل گورنمنٹ کا متبادل سیاسی اور معاشی سرچشمہ قوت بنانا ہمارا تنظیمی ہدف ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ائمہ مساجد کی قیادت میں روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے ادارتی صف بندی کی جائے۔ ائمہ کی قیادت میں ایسے مزاحمتی ادارے کارفرما کیے جائیں جو 1۔ محلہ سطح پر پانی اور بجلی کی ترسیل پر مخلصین دین کے تحت عوامی قبضہ کو منظم کریں (اس نوعیت کے کامیاب اقدام میں 2000 کی دہائی میں جنوبی افریقہ کی SWETO بستی اور کئی لاطینی امریکی ممالک میں کیے گئے۔ 2۔ محلہ کی سطح پر اسلامی عدالتی نظام (افتا ء اور قضا) کا انعقاد 3۔ محلہ کے مکانوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی کرایہ اور فیسوں کی نگرانی 4۔ حلال کاروبار کے فروغ کے ایک تمویلی نظام کا قیام یہ سب طویل المدت اقدامات ہیں اور ان کی تنفیذ بتدریج ہو گی لیکن جیسے جیسے یہ کام آگے بڑھے گا عوام اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے مخلصین دین کی قیادت میں منظم اور متحرک ہو تے جائیں گے۔ لیکن یہ سب کام کسی سیاسی خلا میں نہیں ایک جمہوری سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے تناظر میں ہی جاری رہے گا۔ انتخابی عمل وہ ذریعہ ہے جس سے اس مقامی سطح پر کی گئی انقلابی ادارتی صف بندی کو محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے اور فروغ بھی دیا جا سکتا ہے۔ 2018 کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو 51 لاکھ ووٹ پڑے تھے۔ مجموعی ووٹوں کے تقریباً دس فیصد۔ کوئی وجہ نہیں کہ 2023 کے انتخابات میں ہمیں ایک کروڑ ووٹ نہ ملیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی اتحاد بالائی سیاسی سطح تک محدود نہ ہو بلکہ اس کی بنیادمقامی علاقائی تحرک اور تنظیم ہو۔ اگر محلہ کی سطح پر ائمہ مساجد کی قیادت میں عوام متحد و منظم ہوتے رہے تو اسلامی جماعت کے لیے دہریہ قوتوں سے سیاسی سمجھوتہ کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔یہی اتحاد اسلامی فطری بنیاد ہے اور اس اتحاد کو مستحکم کیے بغیر بالائی اتحادہمیشہ ان معنوں میں بے اثر ثابت ہوا ہے کہ اس کی کامیابی کے نتیجہ میں تحکم قانون سرمایہ کی نظاماتی گرفت کمزور نہ پڑ سکی۔ اگر ہم نے اپنی mass base کو institutionalize کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی تو ہماری ریاستی نمایندگی کا مقصد اس base کی توسیع کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا کیوں کہ اقامت دین کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ نظاماتی اقتدار مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے۔ لہٰذا سیاسی اسلامی اتحاد کے منشور کا کلیدی ہدف یہی ہو گا کہ مقامی اسلامی ادارتی صف بندی کے تحفظ اور اس کے دائرہ کار کی توسیع کے لیے ریاستی ذرائع فراہم کیے جائیں۔ اسلامی پارلیمانی نمایندے اسی مقصد کو مقدم رکھیں گے اور دہریہ جماعتوں کو جمہوری عمل کے ذریعہ اسلامی مقامی اداروں کے اقتدار میں توسیع کو برداشت کرنے پر مجبور کرتے رہیں گے۔ یوں اسلامی انقلابی جدوجہد کی micro-foundations قائم ہوتی چلی جائیں گی اور تنفیذ شرع مطہرہ کا عمل نیچے سے اوپر کی طرف پھیلتا چلا جائے گا۔