انتخابات کی تیاری
انتخابات2023 کی تیاری۔۔۔"اسلام خطرے میں ہے" ہم کہاں کھڑے ہیں: جمعیت علماء اسلام کا دھرنا اور احتجاج پسپا ہوگیا ۔اس پسپائی کی وجوہات کا اندازہ لگا کر تحریکات اسلامی پاکستان کی ان کمزوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس کی وجہ ان کی انتخابی کارکردگی غیر تسلی بخش رہتی ہے اس تجربہ سے ہماری آئندہ کی انتخابی حکمت عملی کے کچھ پہلو بھی واضح ہوسکتے ہیں۔ پسپائی کی تین بنیادی وجوہات: اسلامی اتحاد کی عدم موجودگی: کسی بھی مؤثر اسلامی جماعت نے احتجاج اور دھرنے میں شرکت نہ کی ملی یکجہتی کونسل میں شامل جماعتوں کا رویہ غیر جانبدارانہ (neutral) رہا ۔بریلوی علماء اور مشائخ کے کئی گروہ عمران خان کی حمایتی بن گئے اور انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن پررقیق الزامات لگائے اور تواتر سے لگائے جارہے ہیں ۔جمعیت علماء اسلام نے تحریک لبیک کو احتجاج میں شرکت کی دعوت نہ دی جبکہ حضرت خادم حسین رضوی نے دعوت ملنے پر دھرنے میں شریک ہونے کا عندیہ دیا تھا ۔ دہریہ جماعتوں سے اشتراک عمل : ہمارا گمان ہے جمعیت علماء اسلام کے دہریہ جماعتوں سے اشتراک عمل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مساجد اور مدارس اور اسلامی نظام تدریس پر جو سامراجی حملہ تحریک انصاف کررہی ہے ان کو مسلم لیگ او رپیپلزپارٹی کے تعاون سے روکا جاسکتا ہے ۔ظاہر ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی بھی تحریک انصاف کی طرح سامراجی باج گزار جماعتیں ہیں اور ان کو اسلامی نظام معاشرت اور تدریس پر حملہ آور ہونے سے صرف اس صورت میں باز رکھا جاسکتا ہے کہ ان پر اسلامی قوتوں کا رعب طاری کیا جائے ۔ جمعیت علماء اسلام نے ایسا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی دھرنے میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی شرکت علامتی اور نہ ہونے کے برابر رہی اور مسلم لیگ نے نواز شریف کے فرار کوممکن بنانے کے لئے (establishment)سے ساز باز کرکے دھرنے کو قصداً ناکام بنایا ۔دھرنے کے اعلان اور اس کی تیاری کے دوران ملکی سیاست پر اسلامی قیادت کا جو رعب طاری ہوا تھا وہ رہبر کمیٹی کی کارفرمائی نے بالکل زائل کردیا ۔ان حالات میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی کسی آئندہ حکومت سے خیر کی کوئی توقع رکھنا غیردانشمندی ہے ۔ اختتامی تنظیم کا فقدان: دھرنا اور احتجاج رہبر کمیٹی کے مطالبہ پر بغیر کسی ادارتی صف بندی کے بیک جنبش قلم ختم کردیا گیا ۔احتجاج کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ دھرنے کے اختتام پر شرکاء کو مستقل بنیادوں پر منظم کیا جاتا کہ احتجاج محلہ،بازار اور مسجد کی سطح پر اثرانداز ہوسکے ،محلہ بازار اور مسجد کی سطح پر عوامی ادارتی صف بندی کے بغیر کوئی بھی احتجاج دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا جیسا کہ حالیہ ہانگ کانگ ،عراق ،لبنان اور چلی کے تجربات سے واضح ہے ۔ انتخابی تیاری : آئندہ انتخابات غالباً2023 میں ہی منعقد ہوں گے اگر ان انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو کامیابی حاصل کرنا ہے تو مندرجہ ذیل اقدام پر غور کرنا ضروری ہے ۔ اتحاد اسلامی کا فروغ : 2018کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو تقریباً 55لاکھ ووٹ ملے تھے جو کہ مجموعی ووٹوں کا تقریباً 10فیصد تھے ۔ان ووٹوں کودگنا کرنا (یعنی تقریباً ایک کروڑ ووٹ حاصل کرنا ) 2023 کا اسلامی جماعتوں کا ہدف ہونا چاہئے ۔یہ ایک ممکن الحصول ہدف ہے اگر۔۔۔۔ جمعیت علماء اسلام ،تحریک لبیک اور جماعت اسلامی میں گہرا معاشرتی اور سیاسی اتحاد قائم کرلیا جائے ۔اس اتحاد کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کی کلیدی ذمہ داری جماعت اسلامی کی ہے کیونکہ وہ ملک کی واحد بین المسلکی جماعت ہے اور حالات کا تقاضہ ہے کہ وہ تمام اسلامی جماعتوں میں رابطہ کی جماعت کا کردار ادا کرے ۔اس فریضہ کو انجام دینے کے لئے ہمارے پاس دوپلیٹ فارم موجود ہیں ،جمعیت اتحاد علماء اور جمعیت طلبہ عربیہ ۔
اس اتحاد کا انتخابی منشور خالصتاً اسلامی ہو ۔اس منشور میں عوام کی روز مرہ کی زندگی کے مسائل کے ایسے حل پیش کئے جائیں جو عوام میں دینی وابستگی کو فروغ دے سکیں (اپنے منشور کی ایک مثال ہماری کتاب "اصلاح انقلاب اور معاصرانہ تحریکات اسلامی کی جدوجہد " میں دی گئی ہے ) منشور میں قوم پرست ،سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل مطالبات کا شائبہ تک نہ ہو۔ انتخابی منصوبہ بندی کے تحت ایسے حلقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں اتحاد کو غالب کامیابی کی توقع ہو تاکہ قومی اسمبلی کی تقریباً 25فیصد نشستوں پر ہمارے امیدوار کامیاب ہوں۔ انتخابات سے کافی عرصہ قبل ایک ملک گیرتحفظ ناموس رسالت ؐ اور شعائر اسلامی مہم جاری رہے تاکہ انتخابات نہایت جذباتی اور ہیجانی ماحول میں لڑے جائیں اور غیر سیاسی اسلامی حلقوں (مثلاً دعو ت اسلامی ،تبلیغی جماعت وغیرہ) کے لئے غیر جانبدار رہنا ناممکن ہوجائے اور اس عوامی احساس کوفروغ ہے کہ کے دہریہ جماعتوں کے تسلط کے نتیجہ میں اسلام شدید خطرہ میں ہے ۔ دہریہ جماعتوں سے علیحدگی :ایم ایم اے کو ختم کرکے نئے اسلامی اتحاد کو قائم کیا جائے ۔جمعیت علماء رہبر کمیٹی کی رکنیت سے دستبردار ہوجائے اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ سے کسی خیر کی توقع کو ترک کردے ۔دہریہ جماعتوں پر رعب قائم کرنے اور ان کو اسلام پر حملہ آور ہونے سے باز رکھنے کے لئے ان کی سیاسی پشت پناہی ضروری نہیں ۔ایک طاقتور اسلامی اتحاد جس کے پاس ایک کروڑ ووٹ اور قومی اسمبلی میں 25فیصد سے زیادہ نمائندگی ہو کہیں زیادہ مؤثر انداز سے دہریوں کو اسلامی شعار کو برداشت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے ۔ انتخابی ادارتی صف بندی : جتنا جلد ممکن ہوسکے محلہ کی سطح پر بین المسالک اوقاف المساجد کا قیام جہاں مخلصین دین کو آئمہ مساجد کی قیادت میں منظم کیا جائے اور ان کی روزمرہ کی زندگی کے مسائل کو اسلامی خطوط پر حل کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ان بین المساجد تنظیموں کا عملی دائرہ کار حلال رزق کے فروغ ،محلہ کے بازاروں،اسکولوں اور اسپتالوں میں قیمتوں پر کنٹرول ،پولیس کی کارفرمائی کی نگرانی اور پانی ،بجلی اور گیس فراہم کرنے والی کارپوریشنوں کی زیادتیوں کے خلاف عوامی شکایات کی نمائندگی اور متبادل ترسیل توانائی کے ذریعہ کی تلاش ہونا چاہئے ، اس ضمن میں ہم لاطینی امریکہ اور جنوبی افریقہ (Soveto) کے جاری حالیہ احتجاجوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔یہ بین المسالک تنظیمیں محلہ کی سطح پراسلامی معاشرت اور اسلامی رسوم و رواج کے فروغ اور رد فواحش و رد منکرات میں بھی مسلسل ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ہم ملک کی سب سے بڑی عوامی قوت ہیں کیونکہ مخلصین دین کی تعداد ملک میں ڈیڑھ سے دوکروڑ کے لگ بھگ ہے ۔لیکن یہ دوکروڑ مخلصین دین نہ متحد ہیں نہ منظم ،انتخابات کو انقلابی نہج پر لڑنا ان مخلصین دین کو متحد ،متحرک اور منظم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے ۔اس نوعیت کے عوامی اتحاد کو فروغ دینا ابھی ایک خواب نظرآتا ہے لیکن مرد حر سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی تصویر اور جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار اسے کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر