سامراج پاکستان اور ہماری ذمہ داریان
سامراج، پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں بائیڈن کی فتح کے نتیجہ میں سامراجی نظام کے مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ امریکا اور یورپ میں اختلافات کم ہو جائیں گے۔ امریکا بین الاقوامی اداروں میں مزید فعال کردار ادا کرے گا جس کے نتیجہ میں نیٹو کی جارحیت بڑھ جائے گی۔ شاید افغانستان اور عراق سے امریکی فوجی انخلا کی رفتار سست پڑ جائے۔ ان حالات میں پاکستانی اسلامی انقلابیوں کو کیا حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے؟ یہ مضمون اس سوال کو اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔ سامراج کیا ہے؟ سامراج سرمایہ دارانہ نظاماتی توسیع ہے۔ یعنی سرمایہ دارانہ علمیت، سرمایہ دارانہ معیشت اور سرمایہ دارانہ ریاست کا عالمی پھیلاؤ۔ سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) نفس امارہ کے لیے احکامات کے اطلاق کا ذریعہ ہے جو آفاقی کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سائنس اور سوشل سائنس کے منہاج میں مضمر ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت سرمایہ دارانہ ملکیت کی آفاقیت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کا مالک سرمایہ ہوتا ہے کوئی فرد یا گروہ نہیں ہوتا۔ سب سرمایہ کے غلام ہوتے ہیں اور بڑھوتری سرمایہ معاشی عمل کا واحد پیمانہ قدر متعین ہوتا ہے سرمایہ دارانہ ملکیت کارپوریشنوں اور سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کی شکل اختیار کرتی ہے اور تمام معاشی عمل سرمایہ کی گردش میں مقید ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست حرص و ہوس کی حکمرانی کا نظام ہے۔ یہ ایک ریپبلک ہوتی ہے جہاں ایک ایسا دستور نافذ ہوتا ہے جو نفس امارہ کے احکامات کی نظاماتی بالادستی کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ سامراج ریپبلک کو آفاقی بنانے کی ایک کوشش ہے۔ بحیثیت اسلامی انقلابی ہم سرمایہ دارانہ علمیت، سرمایہ دارانہ معیشت اور سرمایہ دارانہ ریاست کو بتدریج مسخر کرنے کی کوشش کرنے کے پابند ہیں۔ پاکستان پر سامراجی گرفت جو علاقہ آج پاکستان ہے وہاں پر سامراجی گرفت اٹھارھویں صدی سے قائم ہوا شروع ہوئی۔ یہ گرفت مکمل نہیں۔ اسلامی علمیت اور روحانیت بڑی حد تک محفوظ ہے۔ معیشت میں حلال کاروبار کو فروغ دینے کے مواقع موجود ہیں۔ ریاستی نظام پر سامراجی گرفت نہایت مضبوط ہے اور تمام ریاستی ادارے (انتظامیہ، فوج اور پولیس، عدلیہ، کارپوریشن، سود اور سٹہ کے مارکیٹ، میڈیا اور صنعت) سامراج کے وضع کردہ اور سرمایہ دارانہ عمل کے آلہ کار ہیں۔ لیکن سیاسی عمل میں مداخلت کی گنجائش موجود ہے۔ کیونکہ کروڑوں مخلصین دین اتباع شرع مطہرہ کے خواہشمند ہیں۔ پھر پاکستان کے جغرافیائی وقوع نے یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ پاکستانی عالمی سرمایہ دارانہ سامراجی نظام سے بتدریج لاتعلقی (relative autonomy) اختیار کر لے۔ بائیڈن کی متوقع کامیابی کے نتیجہ میں امریکی چینی مخاصمت میں صرف علامتی کمی واقع ہو گی لیکن امریکااپنی چین کے گھیراﺅ کی پالیسی ہرگز ترک نہیں کرے گا اور توقع یہی ہے کہ جنوبی بحر ہند میں یہ کشمکش بڑھے گی۔ حالیہ بھارتی امریکی فوجی معاہدہ بھی بحرہند میں بڑھتے ہوئے تصادم کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان حالات میں چینی سامراج کو پاکستان کو حلیف بنائے رکھنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر اس کی توجہ جنوب بحرہند کی عسکری کارروائیوں سے ہٹانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے ہمالیہ کے علاقہ میں محاذ کھول دیا ہے اور پاکستان کو ایک نسبتاً (relative) خودمختار طاقت ور ریاست بننے کی راہ میں چینی سامراج غالباً مداخلت نہ کرے گا۔ یہی رویہ اس نے ایران کے ضمن میں بھی اختیار کیا ہے۔ افغانستان سے ذلت آمیز انخلا کے بعد امریکی مداخلت پاکستان میں کم ہونے کی توقعات ہیں لیکن کوئی پاکستانی حکومت امریکی مداخلت کے کم ہونے کو پسند نہ کرے گی اور بھرپور کوشش کرے گی کہ یہ مداخلت جاری رہے۔ اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ ہمارے دہریہ حکمران (تحریک انصاف، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی) ان سب کی اولاد اور ان سب کی دولت امریکن ہے۔ یہ امریکی سامراج کے باجگزار پٹھو ہیں اور اگر امریکا نے خود ہی ان کو اپنی نوکری سے برخواست کر دیا تو یہ کوشش کریں گے کہ چینی سامراج ان کو لے پالک کے طور پر قبول کر لے۔ کوئی پاکستانی حکومت آزاد خود مختار پالیسی سازی کا تصور نہیں کر سکتی۔
ہماری حکمت عملی اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں فی الحال کسی اسلامی حکومت کے قیام کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ہمیں سامراج مخالف پالیسی ایک ایسے تناظر میں مرتب کرنی ہے جب ہم ریاستی اقتدار سے قدرے محروم ہیں۔ میری رائے میں اس حکمت عملی کے تین اجزا ہونے چاہئیں۔ پہلا کام جو بالکل ابتدائی مراحل میں ہے سرمایہ دارانہ علوم بالخصوص تنویری فلسفہ، معاشیات، عمرانیات، اصولِ قانون اور نفسیات کا اسلامی نقد مرتب کرنا ہے۔ یہ کام حضرت مولانا قیام الدین عبدالباری فرنگی محلی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”سائنس اور علم کلام“ لکھ کر بیسویں صدی کے اوائل میں شروع کیا تھا لیکن جاری نہ رہ سکا۔ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ یہ باطل علوم جاہلیت خالصہ ہیں۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ سرمایہ دارانہ اقدار و اہداف (آزادی، مساوات اور ترقی) نہ صر ف یہ کہ نامعقول بلکہ ناقابل حصول ہیں اور ان نامعقول سرابوں کی جستجو میں جو معاشرت اور ریاست کارفرما ہوتی ہے وہ ظلم، معاصی، فحاشی اور ریاکاری کو فروغ دیتی ہے۔ ہمیں سرمایہ دارانہ علمیت کو غیر معتبر اور غیر جوازی ثابت کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اور علوم اسلامی کے دائرہ کار کو وسعت دے کر دورِ حاضر کے تمام مسائل کا احاطہ کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔ ثانیاً ہمیں عام آدمی کی روزمرہ زندگی میں ایسی مداخلت کرنا چاہیے کہ وہ الٰہی ہدایت کو قبول کرنے پر آمادہ ہوتے چلے جائیں۔ اسلامی ادارتی صف بندی خاندان، برادری، محلہ، مسجد، خانقاہ، بازار مستحکم ہوں اور فروغ پائیں۔ سرمایہ دارانہ ثقافتی یلغار کی روک تھام ہو۔ اسلامی عوامی رسوم و رواج عام ہوں۔بالخصوص حلال کاروبار کے فروغ کی طرف توجہ دینے کی بڑی ضرورت ہے۔ اس کی mass base ملک میں موجود اور مستحکم ہے۔ جاری کاروبار کی عظیم اکثریت سرمایہ دارانہ چکر سے بالواسطہ متعلق نہیں۔ صرف پندرہ فیصد عوام کے بینکوں میں کھاتے ہیں۔ بینکوں سے عوام کو قرضے بالکل نہیں ملتے۔ سٹہ بازار سے عوامی وابستگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرمایہ دارانہ کارخانوں کی ملازمتوں کی تعداد مجموعی محنت کشوں کی صرف بارہ فیصد ہے اور گھٹتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں ایک موثر تمویلی نظام کو فروغ دے کر سرمایہ کے گردشی چکر کی مزید تحدید کرنا اور حلال کاروبار کو فروغ دین نسبتاً آسان ہے۔ بلاشبہ اس نوعیت کے اقدامات کی راہ میں ریاست مزاہم ہو گی کیونکہ پاکستانی ریاست پر دہریہ سامراجی گھس بیٹھیوں کا قبضہ ہے۔ اس مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک موثر اسلامی انتخابی اتحاد کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا اتحاد جس کی جڑ یں ایک مستحکم مخلصین دین پر مشتمل ماس بیس میں پیوست ہوں۔ اگر ایسا انتخابی اتحاد قائم ہو تو اس کو 2023کے انتخابات میں مجموعی رائے دہندگان کے بیس فیصد ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں اور وفاق اور ملک کے تین صوبوں میں ایک طاقتور سامراج مخالف اسلامی گروہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی پارلیمانی گروہ مسلکی سیاسی نظام میں دینی دباؤ بڑھانے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ سامراج نواز دہریہ حکومت پر مستقل دباﺅ کے ذریعہ اس کو مندرجہ ذیل اقدامات کو برداشت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے ۱۔ مخلصین دین کی قیادت میں عوامی ادارتی صف بندی کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور اس کے دائرہ کار کے پھیلاؤ میں مزاحم نہ ہونا۔ ۲۔ حلال کاروبار کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالنا، دستاویزیت کی مہم کو منسوخ کرنا جو عملامعطل ہو چکی ہے۔ ۳۔ فواحش اور منکرات کی روک تھام اور اسلامی شعائر کا تحفظ ۴۔ آئی ایم ایف کے حالیہ ای ایف ایف معاہدہ کے تسلسل کی منسوخی ۵۔ بین الاقوامی تجارت، قرضہ جات، امداد اور سرمایہ کاری پر انحصار میں کمی اور قومی معیشت کے استحکام پر توجہ
۶۔ سامراجی ثقافتی اداروں (این جی اوز) کے دائرہ کارمیں تخفیف ۷۔ چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور ثقافتی دباؤ کی تحدید اور ملکی حاکمیت کا تحفظ۔ ۸۔ اس بات کا احساس دلانا کہ بھارتی سامراج سے مقابلہ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں عام لام بندی (conscription) کے ذریعہ ایک عوامی فوج منظم کی جائے۔ ۹۔ ایران اور ترکی سے فوجی اشتراک عمل کی ضرورت۔ ان میں سے کوئی ہدف بھی بحیثیت مجموعی حاصل نہ ہو گا لیکن اس نوعیت کی سامراج جدوجہد کئی ممالک (وینزویلا، کیوبا، ایران)میں نسبتاً کامیاب رہی ہے۔ اس کے اپنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں عوام میں سامراج مخالفت کی ضرورت کا احساس بیدار ہو جائے گا۔ ہمیں اس بات کا احساس کرنا ہے کہ سامراج کے خلاف ہماری جدوجہد لازماً طویل المدت ہو گی جس میں کامیابیاں اور ناکامیاں مستقل آتی رہیں گی۔ یہ کشمکش بنیادی طور پر معاشرہ کو اسلامی خطوط پر مرتب کرنے اور سرمایہ دارانہ طرز زندگی کو معطل کرنے کی جدوجہد ریاستی سطح پر سامراج مخالف جدوجہد اس ہمہ گیر معاشرتی تغیر کو تحفظ پہنچانے اور جاری رکھنے کا ذریعہ ہوگی۔ جاوید اکبر انصاری