کتب خانہJAS Library

بائیڈن کی اسلام دشمنی

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

بائیڈن کی اسلام دشمنی ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ سامراجی تغلب کے تناظر میں اقامت دین کے سیاسی پہلو کو مرتب کرنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ سامراجی نظاماتی تغیرات پر نظر رکھیں تاکہ اس ضمن میں ہماری تزویراتی حکمت عملی محض قوم پرستانہ ہو کر نہ رہ جائے۔ ذیل میں بائیڈن کی انتخابی کامیابی کے نتیجہ میں سامراجی نظام میں ممکنہ تغیرات کی نشاندہی کی کوشش کروں گا۔ سرمایہ دارانہ سامراجی نظام میں امریکا کی حیثیت سرمایہ دارانہ سامراجی نظام میں امریکی بالادستی کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ اول، امریکی نظام زر کی عالمی مرکزیت(ڈالروں کے اجراء کی لا محدود صلاحیت FRES)۔ دوم، امریکی عسکری فوقیت کا عالمگیری پھیلاؤ۔ بائیڈن سرکار ان دونوں رجحانات کو مستحکم کرنے کی جستجو کرے گی اور اس ضمن میں اس کے کسی نہ کسی حد تک کامیاب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ کووِڈ کی وبا کا اثر امریکی معیشت پر محدود رہا ہے۔ اس وبا سے تاحال صرف 0.360 فی صد امریکی مرے ہیں اور جو ڈھائی کروڑ مرض میں مبتلا ہوئے ہیں وہ جلد یا بدیر صحت یاب ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی معیشت کسی بحران کا شکار نہیں۔ جولائی تا ستمبر 2020 میں پیداواری شرح نمو میں اضافہ ہوا۔ سود اور سٹہ کے بازار میں ترقی کا رجحان اجاگر ہے۔ بائیڈن سرکار بلاسود ریاستی قرضوں کی بھرمار کے ذریعہ نجی معیشت کو سہارا دے گی۔ بے روزگاری میں کمی کا رجحان قائم رہے گا اور توقع یہی ہے کہ 2022 اور اس کے بعد امریکی معیشت کچھ عرصہ تیزی سے ترقی کرے گی۔ کوئی بھی سامراجی قوت (نہ روس نہ چین نہ بھارت) امریکی زری نظام کی عالمی بالادستی کو چیلنج کرنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ سب سامراجی ممالک ڈالر کے نظاماتی تسلط کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔ چین، روس اور بھارت کے اربوں محفوظات (reserves) امریکی سرکاری تمسکات (TBs) میں موجود ہیں۔ عالمی سرمایہ تجارت اور پیداواری رسدی زنجیروں (supply chains) میں تمام سامراجی معیشتیں پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین لبرل عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی حیثیت کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا وکیل ہے۔ عسکری مخاصمت یقینا موجود ہے اور روس مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا میں اور چین جنوبی بحرالکاہل اور ہمالیہ کے علاقوں میں امریکی عسکری تسلط کا مقابلہ کر رہا ہے۔ پھر کچھ چھوٹے ممالک -ایران، شمالی کوریا، وینزویلا، کیوبا - بھی امریکی دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ مزاحمتیں عالمی نہیں علاقائی ہیں اور چین کے OBOR اقدام کے علاوہ کسی مزاحمت کے فروغ کے نتیجہ میں امریکی عالمی تسلط متاثر نہ ہو گا۔ بائیڈن کی متوقع خارجہ حکمت عملی ان مخاصمتوں سے نبردآزما ہونے کے لیے بائیڈن سرکار نے ابتدائی اندازے دیے ہیں ۔ اس خارجہ حکمت عملی کا پہلا ہد ف یورپ سے ارتباط نو پیدا کرنا ہے اور ان رنجشوں کو دور کرنا ہے جو ٹرمپ کے دور میں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بائیڈن عالمی سامراجی ادارتی نظام (IMF, WTO, FATF) کی جارحیت کو فروغ دینے اور عالمی سامراجی معاہدوں میں فعال کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔ وہ نیٹو کو مضبوط کرے گا۔ بائیڈن کا دعویٰ ہے کہ وہ ”سب سے پہلے امریکا“ (America First) کے نعرہ کو ترک کرے گا کا یہی مطلب ہے۔ وہ کووِڈ کے خلاف عالمی اقدام کو ایک سامراجی ہتھیار بنانے کا خواہاں ہے۔ وہ سامراجی نظام میں ٹرمپ کی پیداکردہ امریکی مفروضہ تنہائی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ عالمی نظام کو منظم کرنے کی ذمہ داری بھی کسی دوسری قوت کو حاصل نہیں کرنے دے گا۔ یورپی ممالک سے تعاون اور مصالحت کا سب سے اہم مقصد روس کو ”سزا دینا“ ہے۔ بائیڈن کے مشیر Jake Sullivon نے کہا ہے کہ یہ سزا مالیاتی مقاطعہ ، اثاثوں پر قبضہ، سائبر تخریب کاری اور کرپشن کے انتظامات کی بھرمار کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہ اوباما کی پالیسیوں کا تسلسل ثابت ہو سکتا ہے۔

حصہ ۲

امریکا روس کی نیوکلیئر صلاحیت کی تحدید کی کوشش کرے گا۔ اس سلسلہ کا پہلا قدم عالمی نیٹو کا معاہدہ START میں امریکا کا دوبارہ داخلہ ہو گا۔ بائیڈن کوشش کرے گا کہ اس معاہدہ میں دوسرے نیوکلیئر ممالک مثلاً پاکستان، بھارت بھی شامل ہوں اور اس کی معاشی وسعت کو بڑھا کر اس میں تمام ممالک کے کچھ غیر نیوکلیئر ہتھیار بھی شامل کیے جائیں۔ بائیڈن سرکار روس کی معاشی مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گی اور روس اور چین میں عداوت کو فروغ دے گی۔ چین چین کے ضمن میں بائیڈن ٹرمپ کی پالیسیوں کو جاری رکھے گا۔ وہ چین کی ٹیکنالوجیکل اور مواصلاتی صلاحیتوں کے فروغ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا رہے گا اور ہانگ کانگ تائیوان کے ذریعہ چین میں تخریب کاری کا عمل تیز کرنے کی جدوجہد کرے گا۔ وہ چین کے خلاف ”حقوق انسانی“ کا سامراجی ہتھیار بے دریغ استعمال کرے گا اور مشرقی ترکستان پر مگرمچھ کے آنسو بہاتا رہے گا۔ امریکی میڈیا اور امریکا کے چین میں مقیم صحافی گھس بیٹھیے ہیومن رائٹس جنگ کے کرائے کے قاتلوں کا کام دیتے رہیں گے۔ امریکا کی بھارت اور اسرائیل نوازی میں کمی نہ آئے گی اور بھارت اور اسرائیل میں ہیومن رائٹس کی پامالی کو امریکا نظرانداز کرتا رہے گا۔ کیوبا، وینزویلا اور شمالی کوریا کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ ان ممالک کی افواج اور جمہوری نظام میں تخریب کاری زیادہ موثر انداز میں کی جائے گی۔ ایران بائیڈن ایران کا پرانا دشمن ہے۔ 2010 کے موسم گرما میں اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر ایک سائبر حملہ کرنے کی مہم کی سربراہی کی تھی جس کی ناکامی پر وہ نہایت غمزدہ ہوا تھا۔ اس ہی مہم کی ناکامی کے بعد اوباما ایران سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا تھا۔ اپنے دور نائب صدارت 2004 تا 2012 میں بائیڈن اپنی ایران دشمنی کے لیے مشہور تھا۔ امریکی ایک کم حوصلہ بزدل قوم ہے۔ وہ ایران پر عسکری حملہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی لہٰذا وہ تخریب کاری کے ذریعہ اسلامی حکومت کا تخت الٹنے کی جستجو کرتے رہیں گے۔ اس تخریب کاری کا پہلا قدم نیوکلیئر تحدیدی معاہدہ کا احیا ہے۔ معاہدہ کی آڑ میں بائیڈن سرکار ایران کی ہتھیار سازی کی صنعت کو تباہ کرنے کی جدوجہد کرے گی اور کوشش کرے گی کہ sanctions کے خاتمہ یا کمی کے عوض ایران سامراجی معاہدوں میں جکڑ دیا جائے۔ ایران کے خلاف خلیجی عرب ممالک (سعودی عرب، امارات اور بحرین) کی جارحیت فروغ پائے۔ عراق میں امریکی سامراجی تسلط برقرار رہے اوربحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کا قبضہ مستحکم ہو۔ افغانستان بائیڈن طالبان عالیشان کا پرانا دشمن ہے۔ 2009 میں بائیڈن نے وہاں امریکی مستقل فوجی اڈے کے قیام کی وکالت کی تھی۔ بقول ٹرمپ ،بائیڈن مستقل جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ بائیڈن سرکار طالبان سے کیے گئے امریکی انخلا کے معاہدہ پر عمل کرنے سے گریز کرے گی اور انخلا کی ایسی نئی شرائط منوانے کی کوشش کرے گی جس کے نتیجہ میں افغانستان ایک سامراج باجگزار اور سرمایہ دارانہ جمہوریت بن جائے اور امریکی فوجی اڈہ قائم رکھنے پر آمادہ ہو جائے۔ انشاءاللہ طالبان عالیشان ان شرائط کو قبول نہیں کریں گے اور ان پر بمباری کے ذریعہ دباؤڈالا جائے گا۔ امریکی افواج افغانستان میں عملاً محصور ہیں۔ یہ بزدل صرف اپنے پٹھو افغان فوجیوں کو مروا رہے ہیں اور ان کا ایک اکیلا فعال ہتھیار ان کی فضایہ ہے جس کو وہ طالبان عالیشان پر دباؤ بڑھانے کے لیے بے دریغ استعمال کرتے رہیں گے۔ پاکستان بائیڈن اوباما کا جانشین ہے۔ اوباما کے دور میں امریکا نے ہم پر ڈرون حملوں کی بہتات کر دی تھی۔ افغانستان میں ”دہشت گردی کی جنگ“ میں پیہم ناکامی ہوتی رہی تو بائیڈن سرکار اس جنگ کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دے گا۔ پاکستان پر ڈرون حملے شروع ہو جائیں گے اور ہماری نیوکلیئر پروگرام کی منسوخی کی راہ ہموار کی جائے گی۔پاکستان میں بری،بحری اور فضائی امریکی تنصیبات کے قیام کی جستجو کی جائے گی۔ ریاست کا مخبری اور تعذیب کا نظام وسعت پذیر ہو گا اور اسلامی جماعتیں اور گروہ سامراج کے نشانہ پر ہوں گے۔ پاکستان ایک سیکورٹی سٹیٹ بنتا چلا جائے گا۔

حصہ ۳

پاکستان پر امریکی سامراجی حملہ سیاسی اور ثقافتی بھی ہو گا۔ تمام دہریہ سیاسی جماعتیں (مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف) ہیومن رائٹس کے مقدمہ کو ریاستی بیانیہ بنا کر پاکستان کو ایک دہریہ (سیکولر) ریاست بنانے کی جدوجہد کریں گی۔ میڈیا پر سامراجی تسلط بہت بڑھ جائے گا۔ سامراج کی پروردہ این جی اوز عوام میں خود غرضی، فحاشی اور مطلب پرستی پھیلاتی رہیں گی اور ان تمام کارروائیوں کے پیچھے امریکی سامراجی اداروں بالخصوص یو ایس ایڈ کا ہاتھ ہو گا۔ بائیڈن کا دور امریکا کی ذلیل، وحشیانہ، خونچکاں تاریخ کا تسلسل ہے۔ اس دور میں اسلامی انقلابیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی نظاماتی تسلط کے خلاف بند باندھیں۔ یہ کام عوام کو مخلصین دین کی قیادت کے تحت منظم اور متحد کرکے کیا جا سکتا ہے تاکہ ریاستی نظام سیکولرائز نہ ہو اور معاشرہ میں اسلامی علمیت اور روحانیت کا غلبہ مستحکم ہوتا چلا جائے۔ جاوید اکبر انصاری