کتب خانہLibrary

کیاآیئ ایم ایف سے معاہدہ نگزیر ہے

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

کیا آئی ایم ایف کا معاہدہ ناگزیر ہے (۱)معاہدہ کی تفصیل (۲) ۲۰۰۰-۱۹۹۹ء کی مثال (۳)بیرونی سودی ادائیگیوں سے انکار لاطینی ممالک کی مثال و متبادل حکمت عملی آج تمام دہریہ جماعتیں اس بات کا زور شور سے پروپگنڈہ کررہی ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کی پابندی کرنا ملک کے لئے ناگزیر ہے ۔مخلصین دین کا ایک بہت بڑا حصہ اور خود اسلامی جماعتوں کے بہت سے کارکن اس پروپگنڈہ سے متاثر ہوکر کہنے لگے ہیں کہ" آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ کرتے تو کیا کرتے "۔ یہ مضمون اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرے گا اور ثابت کرے گا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے کی نہ کوئی ضرورت تھی اور اس کا فی الفور منسوخ کیا جانا بالکل ممکن ہے ۔ (1)-آئی ایم ایف سے معاہدہ کی تفصیل : اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 39مہینوں میں (جو ۲۰-۲۰۱۹ سے شروع ہوکر ۲۴-۲۰۲۳تک) 6بلین ڈالر اپنے EFFمنصوبہ کے تحت قرض دیگا ۔پر EFFپروگراموں کا اصل مقصد، جن ممالک کو یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے، اس قابل بنانا ہوتا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی سودی اور اصلی قرضہ جاتی ادائیگیاں بروقت ادا کرتے رہیں ۔لیکن اس اصل مقصد کے لئے جو توجیح بیان کی جاتی ہے اس کے مطابق قرضہ حاصل کرنے والے ممالک بیرونی قرضہ جاتی صلاحیت کے حصول کے ساتھ ساتھ اس حکمت عملی کو اپنا کر اپنے ملک کو مستحکم ترقی (stabilized growth ) کی راہ پر گامزن کردیتے ہیں۔ عملاً ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔بیشتر EFFپروگرام ان معنوں میں کامیاب رہے ہیں کہ قرض حاصل کرنے والے ممالک بین الاقوامی سود اور اصل تو پروگرام کے دوران ادا کرتے رہے لیکن ان کے مجموعی بین الاقوامی قرضہ جات اور ادائیگیوں کی ذمہ داریوں میں کمی آئی نہ ان میں مستحکم ترقی (stabilized growth ) رونماہوئی ۔سب سے واضح مثال یونان کی ہے جس کو 2015 میں ایک بہت بڑا پروگرام دیا گیا 2016 تا 2019 تک وہاں کا اوسط شرح نمو ایک عشاریہ پانچ فیصد رہا اور ملک کی بین الاقوامی واجبات جوں کی توں ہیں۔پاکستان بھی متعدد EFF پروگراموں کی ناکامی کا شکار ہوچکا ہے۔ لیکن چونکہ ان پروگراموں کا اصل مقصد مقروضی ممالک کی بین الاقوامی واجبات کی مستقل ادائیگی ہے ۔ جو پورا ہورہاہے اس لئے آئی ایم ایف "مستحکم ترقی" (stabilized growth ) کا جھانسہ دیئے چلاجارہاہے اور اس وقت دنیا کے 37غریب ممالک EFF کے فریب میں پھنسے ہوئے ہیں "مستحکم ترقی" کو یوں مہمیز دینے کے یہ دعوی جس معاشی نظریات کی بنیاد پر قائم ہیں انہیں ووڈو اکنامکس (Voodoo economics) کہتے ہیں، ایک نوبل انعام یافتہ معیشت دان جوزف سٹیگلٹز (joseph stiglitz) کہتا ہے کہ ووڈو اکنامکس پر بہترین یونیورسٹیوں کے بدترین طالب علم ایمان لاتے ہیں اور یہی آئی ایم ایف کا معاملہ ہے- ووڈواکنامکس کا کلیدی مفروضہ یہ ہے کہ معاشی عدم استحکام کا اصل سبب حکومتی بجٹ خسارہ میں اضافہ ہے ۔یہ بات بھی غلط ہے ۲۰۰۸-۲۰۰۹ میں یورپ اور امریکہ میں جو قرضہ جاتی بحران آیا تھا اس سے نبردآزما ہونے کے لئے یورپی اور امریکی حکومتوں نے کئی سال تک اپنے بجٹ خسارہ میں بے تحاشہ اضافہ کیا اور حکومتی شرح سود تقریباً صفر کردی تھی اور اس دوران یہ حکومتیں اپنے دفاعی اخراجات میں ہوشربااضافہ بجٹ خسارہ کو بڑھا کرکرتی رہیں ۔EFFجیسا پروگرام نہ بھارت میں نہ چین میں نہ امریکہ میں نہ برطانیہ میں نہ جرمنی میں نہ جاپان میں اپنا یا نہیں گیا حالانکہ ان سب ممالک کے بین الاقوامی قرضہ جاتی واجبات مستقل بڑھ رہے ہیں عالمی شرح نمو (GDP Growth rate) خود آئی ایم ایف کے حالیہ تخمینوں کے مطابق گررہی ہے اور ۲۰۱۹ میں یورپ اور امریکہ میں ۲فیصد ہونے کی توقع ہے ۔ لیکن پاکستان کے تمام "معاشی ماہرین "خواہ لبرل خواہ اشتراکی ،خواہ سوشل ڈیموکریٹ خواہ اسلام سب کے سب voodoo economicsپرایمان لے آئے ہیں

حصہ ۲

؂ ہم ہوئے تم ہوئے میر ہوئے ان کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے ان مین بیشتر تو سامراج کے مراعت یافتہ پٹھو ہیں جنہوں نے دانستاً اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں لیکن ایک قلیل عقلیت ان کی بھی ہے جو اکنامکس کے جاہلی منہج کو غیر اقداری (Value neutral) کہتے ہیں اور کسی دوسرے(یعنی اسلامی ) منہج علمیت کو خاطرمیں نہیں لاتے ۔جاہلی علمیت کو معقول تصور کرنا اسلامی انقلابی پالیسی سازی کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ آئی ایم ایف کا معاہد پیش رو شرائط کو پورا کرنے پر روبہ عمل آئیگا یہ پیش رو (Precondition) کے مطالبات ۲۰-۲۰۱۹ کے بجٹ میں پورے کردیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے منظور نظر حفیظ شیخ اور باقر رضا کو معاہدہ کی تنفیذ کا ذمہ دار بنادیا گیا ہے ۔اس بجٹ میں حکومتی وہ خسارہ جو سودی اور اصلی ادائیگیوں کے علاوہ ہے ,گھٹا ہے ۔بیرونی اصل اور سود کی ادائیگیاں ۲۰۱۹-۲۰۱۸ میں 1234بلین روپے سے بڑھ کر ۲۰-۲۰۱۹ میں 1455بلین ہونے کی توقع ہے اور روپے کی ڈیولیویشن (devaluation) یقیناً اس سے زیادہ ہوجائیگی ۔بجٹ میں توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کی نوید سنائی گئی ہے اور بجلی کےنرخ ہر تین مہینہ بعد بڑھائے جائیں گے ۔ آئی ایم ایف معاہدہ کے تحت جو محصولات کا شیڈول دیا گیا ہے اس کے مطابق ۲۰-۲۰۱۹ میں 1056بلین کے اضافی ٹیکس لگائے جائینگے ۔اگلے سال 1500 بلین کےاضافی ٹیکس لگائے جائینگے اور 2021- 2022 میں مزید 1500 کے ٹیکس لگائے جایئں گے بلواسطہ indirect)) اضافی ٹیکسوں کا بیشتر بوجھ غریبوں پر پڑیگا اس کی وجہ یہ ہے کہ (indirect) ٹیکسوں میں ۲۰۱۹-۲۰۱۸ کے مقابلہ میں 14 فیصد کا اضافہ ۲۰-۲۰۱۹ کے بجٹ میں کیا گیا ہے جو ۲۰-۲۰۱۹ کی مجموعی FBRمحصولات کا 63فیصد بنتے ہیں ۔بلاواسطہ (direct) ٹیکسوں کا حصہ مجموعی FBR میں ۱۹-۲۰۱۸ کے 40فیصد سے کم کرکے 37فیصد ۲۰-۲۰۱۹ کے تخمینوں میں کردیا گیا ہے ۔کارپوریشنوں اور بینکوں کی آمدنی اور منافع پر ٹیکس کی شرح کم کردی گئی ہے ۔سرمایہ جاتی اثاثہ پر ٹیکس (capital value tax)۱۹-۲۰۱۸ میں مجموعی FBRمحصولات کا 0.08فیصد تھا ۲۰-۲۰۱۹ میں صفر اعشاریہ صفر 7فیصد(0.07)فیصد ہوگا آئی ایم ایف کے پروگرام کے دورانیہ میں پاکستان کو اپنے بیرونی قرضہ دینے والوں کو 37ہزار بلین روپے ادا کرنے ہوں گے اور توقع ہے پروگرام کے دوران پاکستان کے 38ہزار بلین کے مزید قرضہ جات بیرونی ذرائع سے حاصل ہوں گے ۔ظاہر ہے کہ آئی ایم ایف خود تو صرف 942بلین روپے کے لگ بھگ (یعنی 6بلین ڈالر) کے قرضہ دے گا جس میں تقریباً 710 بلین روپے (یعنی 4.5بلین) پاکستان آئی ایم ایف کو پروگرام کے دورانیہ ہی میں واپس کردئے گا اور پاکستان کو حقیقتاً صرف 1.5بلین ڈالرحاصل ہوں گے ۔باقی تمام رقوم کو بین الاقوامی سودی بینکوں سٹہ بازاروں اور ورلڈ بینک اور سرمایہ دارانہ ممالک سے بھیک مانگ کرحاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ پروگرام پاکستان کو اس کی خود مختار حاکمیت (sovereignty)سے محروم کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔۲۰/۲۰۱۹ سے ۲۴/۲۰۲۳ تک کی مالی (financial)اور مالیاتی (monetary) پالیسیاں آئی ایم ایف کے زیر سایہ متعین ہوں گی ۔پروگرام کا اجراء اس بات پر منحصر ہے کہ ہم عالمی دہشت گردفائنینسنگ ادارہ(FATF) کی بالادستی قبول کریں اور سامراجی ممالک کو ناراض نہ کریں ورنہ معاہدہ فوراً منسوخ کردیا جائیگا جیسے اس وقت کہا گیا تھا جب ہم نے 1998 میں نیوکلیئر تجربات کئے تھے ۔ (2) -1999ء میں کیا ہوا: 1997ء میں اپنی حکومت قائم کرنے کے کچھ مروجہ نواز شریف نے آئی ایم ایف سے اس قسم کا ایک تین سالہ EFF معاہدہ کیا تھا جس کا دورانیہ 2001ء تک تھا لیکن جیسے ہی ہم نے 1999 میں ایٹمی دھماکے کئے آئی ایم ایف نے اپنی روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ معاہدہ ختم کردیا ۔ہم پر امریکہ نے sanction لگا دیئے 2000-1999 ہمیں آئی ایم ایف ورلڈ بینک ،اسلامی ترقیاتی بینک اور سامراجی ممالک سے ایک پیسہ بھی نہیں ملا بلکہ ہم نے 6بلین ڈالر واجبات کی شکل میں ان سامراجی اداروں کو ادا کئے ۔اس سال ہماری GDP کی شرح نمو 5فیصد رہی ۔تمام ادائیگیاں سرکاری ملکی بچتوں سے کی گئی اور تورم(Inflation) کا نام ونشان نہیں دیکھا گیا اور روپیہ کی بین الاقوامی قیمت (Exchange rate)میں اضافہ ہوا

حصہ ۳

آئی ایم ایف سے معاہدہ کی کوئی ضرورت نہیں اس معاہدہ کے تحت ہمیں آئندہ تین سال تین مہینوں میں 6بلین نہیں صرف ڈیڑھ بلین اضافی ڈالرملیں گے یعنی 285بلین روپیہ اور وہ بھی اس شرط پر کہ ہر تین مہینہ بعد آئی ایم ایف سے ہماری معاشی پالیسیوں کی جانچ پڑتال کے بعد تصدیق کرے کہ پاکستان مستعدی سے آئی ایم ایف اور سامراج کی غلامی کررہاہے ۔۲۰-۲۰۱۹ میں پاکستان میں مجموعی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 6000بلین کا تھا اور اس سال اس کی رفتار نمو تقریبا 3فیصد رہی ۲۰۱۹-۲۰۰۰ کے دورانیہ میں مجموعی سرمایہ کاری کی رفتار نمو سالانہ اوسطاً 15.6فیصد رہی ۔اگر آئندہ تین سالوں میں سرمایہ کاری کی رفتار نمو اوسطاً تین فیصد رہی تو اس دوران مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 18،915 بلین ہوجائیگا ۔اگر آئندہ تین سالوں میں مجموعی سرمایہ کاری کی سالانہ اوسطً رفتار نمو 15.6 فیصد رہی تو تین سالہ دورانیہ میں پاکستان میں عمومی سرمایہ کاری کا حجم 24،203بلین روپے ہوگا ۔ یاد رہے کہ اس دورانیہ میں آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ صرف 285 بلین روپے ہے جو اگر سرمایہ کاری کی اس دوران رفتار نمو 3فیصد رہی تو مجموعی سرمایہ کاری کا صفر اعشاریہ صفر ایک پانچ فیصد بنتا ہے اگر رفتار نمو 15.6فیصد رہی تو آئی ایم ایف سے حاصل شدہ رقوم اس دورانیہ کی سرمایہ کاری کا صرف صفر اعشاریہ صفر ایک فیصد بنتا ہے ۔اس صفر اعشاریہ صفرایک فیصد کے عوض ہم نے ملکی خود مختاری کو سامراج کے ہاتھ فروخت کردیا ہے ۔ ؂ قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند پھر یہ 285 بلین سارے کے سارے سامراجی سود خوروں کے پیٹ بھرنے کے لئے استعمال کئے جائینگے اور ان میں سے ایک پیسہ بھی ملکی معیشت کی "مستحکم ترقی"(stabilized growth ) کو فروغ دینے کے لئے خرچ نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک خود کفیل معیشت ہیں اور ہمیں بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہے نہ سامراجی سود اور سٹہ کے بازاروں سے قرضہ لینے کی نہ سامراجیوں سے بھیک مانگنے کی ۔بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2019-2000 کے دورانیہ میں سالانہ اوسطاً 190بلین رہاہے جو اوسطاً مجموعی سرمایہ کاری کا 3فیصد بنتا ہے 97فیصد سرمایہ کاری ہرسال ملک میں اندرونی ذرائع سے کی جاتی ہے ۔پاکستان میں تیار کئے ہوئے مال میں سے ایک سال میں اوسطاً صرف 8فیصد مال بنتا ہے جو برآمدکیا جاتا ہے 92فیصد مال ملکی استعمال میں آتا ہے ۔درآمدات مستقل گررہی ہے اور اس کا مثبت اثرملکی معیشت پرپڑرہاہے کیونکہ درآمدات کی جگہ ملکی پیدوار لینے کی سکت رکھتا ہے 19-2018 میں ہمیں مجموعی طورپر سامراج سے جو قرضہ جات اور بھیک ملی اس کا حجم 6بلین ڈالر(یعنی 1403 بلین روپے تھا) ، اس کے برعکس 19-2018 میں ہم نے سامراج کو 2673بلین سود اور اصل کے شکل میں واپس کئے ۔یعنی (1403-2673) 1203بلین روپیہ سامراج نے ہم سے کمائے ۔کیا پھر بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ سامراجی بھیک اور قرضہ جات ہمارے لئے مفید ہے؟ (3)-اسلامی انقلابی متبادل : سامراج کے کاسہ لیس اور ان کے معصوم حاشیہ بردار یہی کہے جارہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سامراج کے یہ لے پالک دھڑا دھڑ پیسہ عالمی سود اور سٹہ کے بازاروں میں منتقل کئے جارہے ہیں ۔آئی ایم ایف سے معاہدہ کی حمایت کرکے ملک کی تمام دہریہ جماعت ثابت کررہی ہیں کہ وہ پاکستانی قوم کی غدار ہیں اور اس کو تباہ کرنے پر تلی بیٹھی ہیں۔ہم ان کی چال سازی سے بخوبی واقف ہیں اور آئی ایم ایف سے اس معاہدہ اور اس مروجہ معاشی حکمت عملی کو نفرت اور حقارت سے رد کرتے ہیں۔ بے حمیت دہریے ہم سے پوچھتے ہیں کہ سامراج کی اس پوجا کا متبادل کیا ہے ۔آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ اگر اس وقت پاکستان میں ایک اسلامی انقلابی حکومت قائم ہوتی تو وہ کیا کرتی ۔

حصہ ۴

ہم پاکستان کے تقریباً 80 $بلین بیرونی واجبات کی ادائیگیوں پر فی الفور پابندی (moratorium ) لگا دیتے اور سامراجی اداروں حکومتوں اور بینکوں میں وسیع پیمانہ پر مذاکرات کا آغاز کردیتے جیسا کہ حال میں کئی لاطینی امریکی ممالک (اکیوڈور ،بولیویا ،وینزویلا ، پیرواور یوروگوؤائے) اور ماضی میں مصر و تیونس نے کیا ، ان مذاکرات کے ذریعہ ان ممالک کے بین الاقوامی ادائیگیوں میں تمام تخفیف کی گئی ہے ادائیگیوں کا توسیع شہد دورانیہ مقرر کیا گیا ہے ادائیگیوں کو مقروض ملک کی برآمدات سے حاصل شدہ رقوم سے وابستہ کیا گیا ہے ۔ اور ایسے تمام معاہدہ آئی ایم ایف کی سرپرستی سے محروم ہیں یہ معاہدہ اس بات کے باوجود ہوئے کہ بلویا اور اکیوڈور میں سامراج مخالف حکومتیں برسراقتدار ہیں (وینزویلا نے یکطرفہ کاروائی کی ہے)کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھی سامراج کو اس قسم کا ایک معاہدہ کرنے پر مجبور کردیں جو واجب سود کی ادائیگی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردے واجب اصل کی ادائیگی کو ہماری برآمدات کی آمدنی سے منسلک کردے اور واجبات کی ادائیگیوں کا ایک لچکدار طویل المدت دورانیہ ( schedule) مقرر کیا جائے ۔ سامراج کے لئے اس قسم کا معاہدہ کرنا مشکل نہیں کیونکہ پاکستان میں اس کی لگائی ہوئی رقوم عالمی سرمایہ کاری کا صفر اعشاریہ صفر،صفر،صفر ۲فیصد ہے اور ہماری ادائیگیوں سے محرومی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کوکسی خطرہ سےدوچار نہیں کرئے گی، جن لاطینی امریکی ممالک سے اس قسم کے معاہد ہ کئے گئے ان کے بین الاقوامی عمومی واجبات پاکستان سے 7گنا زیادہ ہیں لیکن فرض کیجئے سامراج اس قسم کے کسی معاہدہ پر تیار نہیں ہوتا تو کیا ہوگا کیا اس کی وجہ سے امریکہ ہم پر حملہ کرکے چین کے ساتھ تیسری جنگ عظیم چھیڑدیگا ۔سرمایہ داری کی چھ سوسالہ تاریخ میں کبھی بھی مقروض ممالک سےواجبات کے حصول کے لئے جنگ لڑی گئی اور اس حماقت کے وقوع پزیر ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔زیادہ سے زیادہ ہم پر Sanction عائدکردی جائینگی جیسا کہ 2000-1999 میں جب ہم نے نیوکلیئر دھماکہ کیا تھا تو ہم پر نافذ کئے گئے تھے اوپر ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس عمل سے ہمیں فائدہ ہی پہنچا ایک اس سال مجموعی آمدنی کی شرح نمو 5فیصد رہی حال ہی میں برادر ملک اسلامی جمہوریہ ایران پر سخت ترین Sanctionلگائے گئے ہیں اور اس کے باوجود پچھلے5سال سے اس کی معیشت 6فیصد اوسطاً کے رفتار سے ترقی کررہی ہے ہم نے اوپر یہ بھی دیکھا کہ ملک میں93فیصد سرمایہ کاری اندرونی ذرائع سے ہوتی ہے اور پیداوار کا 90فیصد سے زیادہ حصہ یہیں فروخت کیا جاتا ہے نہ ہماری معیشت بین الاقوامی تجارت پر منحصرہے نہ بین الاقوامی سودی اور سٹہ کے بازاروں پر - اگر ہم پر Sanctionعائد کئے گئے تو ہم 2020-2019 میں وہ 1400بلین روپے جو بیرونی سود اور اصل کی ادائیگیوں کے لئے وقف کئے گئے ہیں ادا کرنے سے انکار کردیتے اور یہ پیسہ بھی ملک میں زراعت ،صنعت،تعلیم اور صحت کے فروغ کے لئے استعمال کیاجاتا۔ ہماری حکومت documentation او ر چھوٹے اور اوسط درجہ کے کاروبار پر نگرانی اور تعدیب کی مہمات کو فی الفور منسوخ کردیتی documentation کے ذریعہ سامراجی پٹھو پوری معیشت کو سود اور سٹہ کے بازاروں میں جکڑ دینا چاہتے ہیں اور حلال رزق کی فراہمی کو مشکل سے مشکل بنادینا چاہتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ اسلام دشمن ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے روایتی بازار اور کاروباری حلقہ اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ ثابت ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہم تمام بینکوں اور مالی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیتے او رزر (M1,M2, M3) کے نظام اجرا اور تخفیف میں بنیادی تبدیلی لا کر اسٹیٹ بینک مارکیٹ بیسڈ مانیٹری پالیسی (Market based monitory policy) ختم کر کےCredit planningکے اس نظام کو دوبارہ قائم کرنے پر مجبور کرتے جو 1975سے 1989 تک ملک میں نہایت کامیابی سے چلتا رہا۔اسٹیٹ بینک کے تمام ماتحتانہ تعلقات آئی ایم ایف اور دیگر سامراجی فائنینشل اداروں سے منقطع کردیتے ۔

حصہ ۵

ہم روپے کا غیر ملکی کرنسی میں شرح تبادل (Exchange rate)محدود کردیتے ہم اندرونی بیرونی زر (Foreign currency market) کو ختم کردیتے اور Foreign currency کے اجرا کی ذمہ داری سرکار کو سونپ دی جاتی جیساکہ 1978 سے 1947 تھا۔ ہم بیرونی ترسیل زر پر سخت ترین پابندیاں عائد کرتے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے کہ پاکستان سے دولت غیرممالک منتقل کئے جانے کے تمام دروازہ یکسر بندکردیے جائیں ۔ہم تمام بیرونی قرضہ جات اور بھیک کی وصولیابی پر پابندی لگادیتے ۔ ہم پیداواری شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری اس سطح پر لیجاتےجو وہ 1980-1975 کے دورانیہ میں تھی ۔19-2018 میں سر مایہ کاری قومی مجموعی سرمایہ کاری کا 6 فی صد تھی اور صنعتی اور زرعی شعبہ میں سرکاری سرمایہ کاری کو کوئی وجود نہیں تھا ۔سرکاری سرمایہ کاری کے عدم وجود کے نتیجہ میں پاکستان کی بھاری صنعتیں روبہ زوال ہیں اور ہم ٹیکنولوجیکل ایجادات سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔پاکستانی معیشت کی اصل کمزوری حکومتی خسارہ (public deficit ) میں اضافہ نہیں بلکہ وہ ساختی انجماد (Structural state) ہے جس کی وجہ سے پاکستانی محنت کشوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہوسکتا ہے ۔پیداواری سکت میں اضافہ کے لئے بھاری اور Technology initiativesصنعتوں کا بڑھاؤ ضروری ہے اور یہ صرف سرکاری سرمایہ کاری کے ذریعہ ہی ممکن ہوتا ہے ۔بھاری صنعتوں (مشینری ،الیکٹرانکس،ہارڈویئر ،کیمیکل اور پیٹرولیم صنعتوں میں فروغ کے ذریعہ محنت کشوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ اسلامی انقلابی حکومت کے معاشی ایجنڈہ کا ایک اہم جزو ہوگا۔ پاکستان میں ایک اسلامی انقلابی حکومت کے قیام کا کوئی فی الفور امکان موجود نہیں ۔لیکن اس انقلاب کی راہ ہموار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی جماعتیں مخلصیں دین کے ذریعے عوام کو باور کرائیں کہ اسلامی جماعتوں نےسامراجی عزائم کو پسپا کرنے کے لئے ایک مربوط اور قابل عمل حکمت عملی مرتب کررکھی ہے اور اگر اس حکمت عملی کی تنفیذ کا موقع فراہم کیا گیا تو ہم پاکستان کو سامراجی گرفت سے نجات دلاسکتے ہیں پاکستان کا مستقبل اسلام کی نشاط ثانیہ سے وابستہ ہے جتنی جلدی ہم مخلصین دین کے ذریعہ پاکستان کو اس با ت پر یقین دلاسکیں گے کہ دنیا اور آخرت میں سرخرو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلنے ہی سے حاصل ہوسکتی ہے اتنی جلدیہاں اسلامی انقلاب برپا ہوگا مسلمانوں اللہ کا تم سے وعدہ ہے ؂ کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں