کتب خانہLibrary

ائی ایم ایف سے مقابلہ کیسے کیا جائے

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

آئی ایم ایف سے مقابلہ کیسے کیا جائے تمام دہریہ جماعتوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا شروع کردیا لیکن کوئی جماعت –نہ مسلم لیگ ،نہ پیپلزپارٹی –آئی ایم ایف سے مجوزہ معاہدہ کو رد کرنے کا اعلان کررہی ہے چونکہ اپنے دور اقتدار میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے اس قسم کے معاہدوں پر آئی ایم ایف کی ماتحتی قبول کی تھی ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت پر تنقید تو کی جاسکتی ہے لیکن کوئی دہریہ جماعت آئی ایم ایف کے معاہدہ سے روگردانی نہیں کرسکتی کیونکہ تمام دہریہ جماعتیں سامراج کی کارفرما جماعتیں ہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ مزاحمتیں ناکام ہونگی کیونکہ اولاً ان کی پشت پر مقتدرہ کا ہاتھ نہیں اور دوئم کسی دہریہ جماعت میں street power مطلوبہ حدتک متحرک کرنے کی سکت نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام میں سرمایہ دار ظلم برداشت کرنے کی بہت صلاحیت ہے اور فی الحال انہیں عمران خان کا مدمقابل نجات دہندہ کوئی نظر نہیں آتا ۔ دہریہ جماعتوں کی طرح ہمارے پاس بھی فی الحال street powerموجود نہیں اور یہ بات مولانا فضل الرحمٰن کے ملین مارچز سے ثابت ہوگئی ہے ۔نتیجتاً آئی ایم ایف مخالف ہماری مہم بھی بے اثر اور علامتی ثابت ہوگی ۔اس کے باوجود ہمیں یہ مہم ضرور چلانی چاہیے اس کے مثبت نتائج برآمد کرنے کے لئے تزویراتی حکمت عملی مرتب کرنا چاہیے ۔ ہماری street power کی عدم موجودگی کا سبب یہ ہے کہ ہم اپنی ماس بیس سے کٹے ہوئے ہیں یہ ماس بیس ان کروڑوں مخلصین دین پر مشتمل ہے جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، ہمیں اس ماس بیس (mass base)کو یہ احساس دلانا ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام بتدریج معاشرہ کی اسلامی شناخت کو کھوکھلا کررہاہے اور تحریک انصاف کی حالیہ معاشی پالیسی اس ہی مذموم حکمت عملی کو بروئے کار لارہی ہے ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت سود اور سٹہ کے کاروبار کا وہ غیر معمولی فروغ ہے جو تحریک انصاف کی پالیسیوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۲۰۱۸/۱۹میں حکومتی قرضوں کا حجم تقریباً ۲۵ارب رہا ۲۰۱۹/۲۰ کے تخمینہ کے مطابق یہ بڑھ کر ۲۸.۶ارب ہوجائیگا۔ ۲۰۱۸/۱۹ میں تقریباً ۸۰۶ارب کے قرضہ لئے گئے تھے ۲۰۱۹/۲۰ میں بڑھ کر یہ ۱۰۰۵ارب ہوجائینگے ۲۰۱۹/۲۰ میں مرکزی سرکار کم از کم ۳ارب روپے کے بیرونی قرضہ لینے کی خواہاں ہے ،جومجموعی سرکاری قرضہ جات کا ۶۷ فیصد بنتا ہے ۔۲۰۱۹/۲۰ کے بجٹ کا ۳۵ فی صد قرضہ سودی ادائیگیوں میں خرچ ہوگا اور اسٹیٹ بینک کی حالیہ زری پالیسی کے تحت شرح سود میں مستقل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ضیاء الحق مرحوم کے دور میں رد سود کے خلاف ایک بھرپور عوامی مہم چلی تھی جس کے نتیجہ میں کچھ علامتی (حقیقی نہیں) تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں آج اس مہم کو دوبارہ زندہ اور فعال کرنے کی ضرورت ہے ۔دہریہ جماعتیں سودی نظام کے تردید کی کبھی بات نہیں کرتیں کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ہی کی پیدوار ہیں اور ان کے رہنما سود خور اور سٹہ باز ہیں۔ہماری مزاحمتی مہم کا محور(Focus)تردید سود ہونا چاہئے ۔ رد سود کی ملک گیر مہم ایک دستخطی اور انگوٹھا چھاپ تحریک کے طور پر چلائی جائے- کروڑوں افراد سے کئی ماہ تک دستخط لیے جایئں اور رد سود کے یہ عوامی مطالبات میونسپلٹیوں ، صوبائی و قومی اسمبلیوں میں پیش کیے جاتے رہیں ۔سودی نظام کی تباہ کاریوں کی وسیع پیمانہ پر تشہیر کی جائے ۔اسلامی بینکاری کے فراڈ کو واضح کیاجائے اور غیر سودی سرکاری اور نجی شعبے کی عملی کار فرمائی کے خدوخال واضح کئے جائیں ۔کوشش اس بات کی ہو کہ مخلصین دین کی صفوں میں یہ تصور عام ہوجائے کہ سودی معیشت کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں حلال رزق کمانا مشکل سے مشکل ہوتا جارہاہے اور سودی نظام کا پھیلاؤ تمام معاشی ظلم(بالخصوص قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کی بنیاد ی وجہ ہے )

حصہ ۲

سودی نظام کا سرخیل اسٹیٹ بینک ہے ۔یہ پاکستانی حکومت کا حصہ کم اور آئی ایم ایف کا ذیلی دفتر زیادہ بن گیا ہے ۔اس نے جو مالی پالیسی اختیار کررکھی ہے اسے market based monetary policy کہتے ہیں اور یہی پالیسی پورے معاشی نظام کو سود اور سٹہ کے بازاروں کے ماتحت کررہی ہے ۔اس کا موجودہ گورنر رضاباقر سامراج کا کھلم کھلا آلہ کار ہے ،رضا باقر کی فی الفور برطرفی ہماری دستخطی مہم کا ایک کلیدی عنصر ہونا چاہئے اور اس شخص کی برطرفی کے لئے ہمیں ایڑی چوٹی کا زور لگادینا چاہئے MBMP کی نظاماتی معطلی اور قرضہ جاتی منصوبہ بندی (credit planning)کی ترتیب نو کا مطالبہ ہماری جدوجہد کا حصہ ہونا چاہیے ۔قرضہ جاتی منصوبہ بندی (credit planning) کا یہ نظام ملک میں 1975 سے 1989 تک رائج رہا اور اس کے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ ملک کو سود اور سٹہ کی غلاظت میں ایک ایسی جماعت ڈبورہی ہے جو ریاست مدینہ قائم کرنے کی دعوے دار ہےاور جس میں ہزاروں اسلام سے محبت کرنے والے شامل ہیں اور ان کے صدر عارف علوی کی طرح وہ بھی ہیں جو راسخ العقیدہ اسلامی جماعتوں کو خیر باد کہہ کے اس جماعت سے امیدیں وابستہ کر بیٹھےہیں، آج ہمیں تحریک انصاف کے ہر اسلام پسند کارکن کی گردن پکڑ کر اس سے پوچھنا چاہئے کہ یہی تمہاری ریاست مدینہ ہے جہاں مرکزی سود کی شرح 14.5% کردی گئی جہاں سٹہ کے کاروبار پر سے ہر قسم کی پابندی ہٹا ئی جارہی ہے ۔یہی تمہارا رہنما ہے جو پوری دنیا میں بھیک مانگتا پھررہا ہے اور آئی ایم ایف کے اشارہ پر اپنے قریب ترین ساتھیوں کو معطل کرکے سامراج کے پٹھوؤں کے ہاتھ میں ملک کی حکمرانی سونپ رہاہے تمہاری اسلامی غیرت اور حمیت کو کیا ہوگیا ہے کہ اس جیسی منافقانہ جماعت اور قیادت سے اب تک چمٹے ہوئے ہو۔ تحریک انصاف کے اندر اسلامی بغاوت کو پیدا کرنا ہماری جدوجہد کا ایک مقصد ہونا چاہئے اس کے ایک ایک اسلام دوست کارکن سے جواب طلبی ۔اس کے ہرسطح کے دفاتر اور نمائندوں کا گھیراؤ ،اس کے مکروہ منافقانہ چہرہ کی بے نقابی ،اس کی سامراج پرستی کی تشہیر اس مہم کا لازمی جزو ہونا چاہئے ۔ہم تحریک انصاف کی عوامی بیس(base) کو منتشر کرنے کے لئے اس کے گھناؤنے جال کی مکمل پردہ کشی کردینگے ۔آج نہیں تو کل تحریک انصاف کو اپنی منافقت کی قیمت ادا کرنی پڑیگی اور اس کے اسلام پسند کارکن اس سے علیحدہ ہوکر اپنے اصل گھر (یعنی راسخ العقیدہ اسلامی جماعتوں میں ) واپس آجائیں گے ۔ ردسود کی اس مہم سے ہم اس نظام کو متزلزل کرنے کی امید نہیں رکھتے اپنی ماس بیس کو معاشی بنیادوں پر متحرک کرنا ایک مشکل کا م ہے لیکن mass mobilization کی یہ ایک گنجائش فراہم کرتی ہے یہ درست ہے کہ مخلصین دین کا ایک بہت بڑا حصہ سود اور سٹہ سے کچھ واسطہ نہیں رکھتا اور باضابطہ (formal) معیشت سے ان کا تعلق بھی واجبی سا ہے لیکن دھیرے دھیرے سود اور سٹہ کے پھیلاؤ کے ذریعہ باضابطہ (formal) معیشت تمام حلال کاروبار کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے ۔رد سود کی مہم کے تناظر میں جو بیداری مخلصین دین کی صفوں میں پیدا ہوا س کو بنیاد بنا کر ہم سود اور سٹہ سے پاک حلال کاروبار کے فروغ کا ایک تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرسکتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ کام اسلامی بینک نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تو مسلمانوں کی دولت کو مستقل سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں سموتے رہتے ہیں۔ حلال کاروبار کے فروغ دینے والے تنظیمی نظام کے خدوخال حسب ذیل بیان کئے گئے ہیں۔ کوئی اسلامی جماعت مساجد کی سطح پر مسلمانوں کی بچتوں کو جمع کرنے کی ذمہ داری لے- یہ رقوم اپنے منافع بخش کاروبار میں لگائی جائیں جو اس ہی جماعت کے معتبر کارکن اور ارکان چلارہے ہوں

حصہ ۳

مشارکت اور مضاربت کی بنیاد پر جماعت حاصل شدہ منافع تقسیم بھی کرے اور شرکاء کی رضامندی پر اس منافع کا کچھ دوسرے کامیاب کاروبار میں لگائے (تفصیل اس اجمال کی جناب یونس قادری کی ایم فل مقالہ "اسلامی بینکاری کا متبادل "جوکراچی یونیورسٹی نے منظور کی ،میں دیکھی جاسکتی ہے) کئی اسلامی ممالک اور مفتوحہ علاقوں کے تجربہ کے مطابق چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والا یہ کام بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور اس سے مخلصین دین کی معاشرتی اورر یاستی قوت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ۔اسلامی جماعتوں کے ماس بیس منظم اور متحرک کرنے کا یہ ایک کارآمد طریقہ ہے ۔ ہماری ر دسود کی تحریک مدافعانہ ہوگی لیکن اگر اس کی بنیاد پر ایک اسلامی نظام تمویل کی جدوجہد (graft) کی جاسکے تو یہ اقدامی بھی بنائی جاسکتی ہے اور آئندہ سالوں میں انشاء اللہ ہمارے street power کے احیاء میں ایک اہم کردار ادا کریگی ۔ جاوید اکبر انصاری