عمرانی ریاست مدینہ کا سودی کاروبار
عمرانی ریاست مدینہ کا سودی کاروبار کیا آپ کو معلوم ہے ملک کا سب سے بڑا سود خور کون ہے؟ جی ہاں یہ عمران خان کی ریاست مدینہ ہے ۔ نئے مالی سال ۲۰۱۹ اور ۲۰۲۰ کے وفاقی بجٹوں کے سودی کاروبار کا جائزہ لیں ۔جون۲۰۱۸ کو عمرانی ریاست مدینہ کے مجموعی سودی قرضوں کا حجم تقریباً ۲۵ہزار بلین تھا ۔جون ۲۰۱۹ تک یہ بڑھ کر ۲۸ہزار۶۰۰بلین ہوگیا یعنی ۱۹-۲۰۱۸ میں عمرانی ریاست مدینہ نے ۳ہزار ۶۰۰بلین روپیہ کے مزید سودی قرض لئے ۔اندرونی سودی قرضوں کا حجم اس دورانیہ میں 12بلین سے بڑھ کر ۱۸ہزار ملین ہوگیا اور بیرونی قرضوں کا حجم ۸ہزار بلین روپوں سے بڑھ کر ۱۰ہزاربلین روپیہ ہوگیا ۔۲۰-۲۰۱۹ کے بجٹ تخمینوں کے مطابق عمرانی ریاست مدینہ مزید ۴ہزاربلین کے سودی قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ ۱۹-۲۰۱۸ میں عمرانی ریاست مدینہ نے اپنے سودی کاروبار سے تقریباً 103بلین روپیہ کا سود کمایا- ۱۹-۲۰۲۰ کے بجٹ تخمینوں کے مطابق یہ سودی کمی تقریباً ۱۳۳ فی صد بڑھ کے ۴۴۳ بلین روپیہ ہوجائیگی جو عمرانی ریاست مدینہ کے مجموعی محصولات کا تقریباً12 فی صد ہوگی ۔ ۱۹-۲۰۱۸ کے بجٹ کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق ریاست ۱۱۲ بلین رویپہ بیرونی قرضہ جات اور بھیک کی شکل میں حاصل کرنے کی توقع رکھتی تھے ۔۱۹-۲۰۱۸ کے آخر تک حاصل شدہ بھیک اور بیرونی قرضہ جات کا حجم۱۴۰ بلین روپیہ ہوگیا جو ابتدائی تخمیوں سے ۲۸فیصد زیادہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ عمرانی ریاست مدینہ ایک ماہر عالمی بھکاری اور قرض خواہ ہے ۔ ۱۹-۲۰۱۸ میں عمران کی ریاست مدینہ نے بینکوں سے ایک ہزار تین سو پچاسی بلین کے سودی قرضے لئے جو ۱۹-۲۰۱۸کے ابتدائی بجٹ تخمینوں کے ۳۴ فیصد زیادہ تھے ۔ عمرانی ریاست مدینہ نے ۱۹-۲۰۱۸ میں اپنےتمسکات پر ۲۰۵ بلین روپیہ کا سود ادا کیا جو ۱۹-۲۰۱۸ کے ابتدائی تخمینوں سے ۱۶فیصد کم تھا۔ ۲۰-۲۰۱۹ کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق عمرانی ریاست تین ہزار تیس ملین روپیہ کی بیرونی بھیک اور قرضہ جات وصو ل کرنے کی توقع رکھتی ہے جو مجموعی متوقع محصولات کا ۳۹ فیصداور پچھلے سال کی حاصل شدہ بھیک اور قرضہ جات سے ۱۱۶فیصد زیادہ ہوں گے ۔ اگر پچھلے سال کے تناسب کے حساب سے حاصل شدہ بھیک اور قرضہ جات میں اضافہ ہوا تو ۲۰-۲۰۱۹ میں عمرانی ریاست مدینہ کی حاصل شدہ بیرونی بھیک اور قرضہ جات کی رقم تین ہزار آٹھ سو اسی بلین روپیہ ہوجائیگی ۔ ۲۰-۲۰۱۹ میں عمرانی ریاست مدینہ کی سودی آمدنی تقریباً ۸۳۴بلین ہونے کی توقع ہے جو پچھلے سال کی سودی آمدنی سے تقریباً ۲۰فیصد زیادہ ہوگی ،اس کے علاوہ عمرانی ریاست مدینہ ۳۴۰ بلین روپے کے بینکوں سے سودی قرضہ لینے کا ارادہ بھی رکھتی ہے ۔۲۰-۲۰۱۹ کے تخمینوں کے مطابق عمران کی ریاست مدینہ اپنےہی ریاستی اداروں سے 129 ارب روپے کا سود کمانے کا توقع رکھتی ہے ۔عمرانی ریاست مدینہ کے سرکاری تمسکات کا اجراء ۲۰-۲۰۱۹کے بجٹ تخمینوں میں ۳۰۰ بلین روپیہ ہوگا جو ۱۹-۲۰۱۸ کے تمسکات کے اجراء سے دس گنا زیادہ ہوگا۔ عمرانی ریاست مدینہ ۲۰-۲۰۱۹ کے بجٹ تخمینوں کے مطاب588 بلین روپیہ کے اندرونی قرضہ لے گی جو مجموعی ریاستی سودی اوسط کا 50فیصد بنتےہیں ،عمرانی ریاست مدینہ 185بلین روپیہ کا اندرونی سود ادا کریگی جو پچھلے سال سے ۱۰فیصد کم ہوگا لیکن یہ تخمینہ یقیناً غلط ہے کیونکہ اس رواں سال کے دوران آئی ایم ایف دبا ؤ کے تحت سود کی شرح غالباً دوگنی کردی جائیگی ۔ عمرانی ریاست مدینہ کی ۲۰-۲۰۱۹ میں سودی ادائیگیاں دوہزار ۹۱بلین ہوجائینگی ۔۱۹-۲۰۱۸ کے ابتدائی بجٹ تخمینوں کے مطابق اس سال ان کوایک ہزار چھ سو ۲۰بلین ہوجانا چاہئے تھا لیکن سال کے آخر تک ایک ہزار ۹۹ارب ہوگئی یعنی ابتدائی تخمینوں سے ۱۲فیصد ذیادہ ۔جیسے جیسے روپیہ کی قیمت تبادلہ (exchange rate)گرتا ہے ویسے ویسے بیرونی سودی ادائیگیوں کی روپیہ کی مالیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔اگر جیسا کہ آئی ایم ایف کے منصوبہ سے واضح ہے ۲۰-۲۰۱۹ میں روپیہ کی قیمت کم از کم آٹھ فیصد گرائی جائیگی لہذا عمرانی ریاست مدینہ کے بیرونی سودی ادائیگیاں ۲۰-۲۰۱۹ کے تخمینوں کے مطابق عمرانی ریاست مدینہ کے بیرونی قرضہ جات اور سود کی ادائیگی کا حجم ایک ہزار ۵۰۰ سے بڑھ کر کم از کم ایک ہزار ہوجائیگا جو ۱۹-۲۰۱۸ کی بیرونی سودی ادائیگیوں سے جو مجموعی رواں(current)آمدنی کا20فیصد بنتاہے اور دفاعی اخراجات سے تقریباًساٹھ فیصد ذیادہ ہے ۔
عمرانی ریاست مدینہ کو اس کے بیرونی سرپرستوں سے بلا سود بھیک صرف ۳۴۰بلین روپے کی ۱۹-۲۰۱۸ میں ملی جو عمومی بیرونی قرضہ جات اور بھیک کا صرف 2اعشاریہ ۵فیصد حصہ ہے ۲۰-۲۰۱۹ میں بلاسود بھیک صرف ۱۶بلین (مجموعی بیرونی قرضہ جات اور بھیک کا صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد رہ جائیگی ) عمرانی ریاست مدینہ کا سودی کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے لیکن اس سے اس کے نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ رہاہے ۱۹-۲۰۱۸ میں عمرانی ریاست مدینہ نے اپنے ترقیاتی پروگرام میں ۸۱۹بلین روپے خرچ کئے جو کہ ابتدائی تخمینوں سے ۲۹فیصد کم تھے اور مجموعی اخراجات کا 12فیصد بنتے تھے ۔۲۰-۲۰۱۹ میں ترقیاتی خرچہ 950بلین رکھا گیا ہے جو مجموعی اخراجات کا 11 فیصد بنتا ہے لیکن اگر پچھلے سال کے حساب میں اس میں تخفیف ہوئی (اور اس سے زیادہ تخفیف کی امید ہے) یعنی تقریباً ۶۶۵بلین رہ جائیگا۔ عمرانی ریاست نے صحت کے شعبہ میں ۱۹-۲۰۱۸ مجموعی اخراجات کا صفر اعشاریہ ۲۵فیصد خرچ کیا ۔۲۰-۲۰۱۹ کے تخمینہ میں صحت پر مجموعی آمدنی کا صفر اعشاریہ ۱۵فیصد خرچ کیا جائے گا ۔تعلیم پر عمرانی ریاست مدینہ ۱۹-۲۰۱۸ پر مجموعی اخراجات کا 0.7فیصد خرچ کرچکی اور ۲۰-۲۰۱۹ میں تعلیم پر مجموعی اخراجات کا ایک اعشاریہ ایک فیصد خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ مذہبی امورپر عمرانی ریاست مدینہ نے ۱۹-۲۰۱۸ میں مجموعی اخراجات کا صفر اعشاریہ صفر ۲فیصد خرچ کیا ۲۰-۲۰۱۹ کے تخمینوں کے مطابق مجموعی آمدنی کا صفر ایک فیصد مذہبی امور پر کرچ کیا جائیگا اور اس کا بہت بڑا حصہ سرکاری گردواروں ،چرچوں اور مندروں کی تزین اور تعمیر نو کے لئے وقف کردیا گیا ہے ۔ مولانا مودودیؒ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف میں تحریر فرمایا ہے "سود سرمایہ دارانہ نظام کی روح رواں اور اس کا جاری لہو ہے "۔سود اور سٹہ کے کاروبار کے فروغ کے ذریعہ ہی سرمایہ دارانہ نظام قومی مقامی سطح پر کارفرما اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہوتا ہے پاکستان کی ہردہریہ حکومت نے سودی کاروبار کو فروغ دینے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے ا ور عمران کی ریاست مدینہ اس مذموم کا م میں سب حکومتوں سے دس ہاتھ آگے ہے ۔ امتناع سود کی کوشش کئی دہائیوں سے جاری ہیں لیکن ان سب کا نتیجہ منفی نکلا ہے۔سعودی اور خلیجی پیسہ کے سہارے سے یہاں پچھلے ۳۰ سال سے اسلامی بینکاری کا ڈھونگ رچایا جارہاہے لیکن اس کے نتیجہ میں کوئی اسلامی تمویلی نظام قائم نہ ہوسکا ۔"اسلامی بینکاری سود اور سٹہ کے بازاروں سے منسلک ہوگئے اور مسلمانوں کے کھربوں روپیہ ملکی اور بیرونی سودی کاروبار میں کھپا دیئے گئے اور پاکستانی معیشت عالمی سرمایہ دارانہ سامراج سے نتھی اور اس کی کاسہ لیس ہوتی چلی جارہی ہے ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے لیکر ۱۹ویں صدی کے وسط تک پوری اسلامی دنیا میں غیرسودی لین دین کا مربوط نظام سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر نافذ العمل رہا ہے اور امام عالمگیر ؒ کے دورمیں یہ نظام خوب پھلا پھولا۔اس نظام کی کارفرمائی کی تمام تفاصیل فتاویٰ عالمگیری میں درج ہیں۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیات یہ تھی کہ زر کے اجراء اور تقسیم کا نظام مکمل طور پر ریاستی گرفت میں تھا ۔عمران کی ریاست مدینہ میں زر کے اجراء اور تقسیم کا نظام سودی بازاروں کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس سودی بازار کا سرخیل اسٹیٹ بینک ہے اسٹیٹ بینک سودی تمسکات کی خرید وفروخت کے ذریعہ ہی زر کی مقدار میں اضافہ کمی کرتا رہتا ہے اور یوں زر کی ہرقسم (کرنسی ،ڈیپازٹ ،تمسکات M1, M2, M3) سود سے کھڑی ہوتی ہیں ۔سود کو ختم کرنے کا مطلب ہے زر کے اجراء کے اس نظام کو ختم کرنا اسٹیٹ بینک اور تمام بینکوں کو ختم کرنا ملکی سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل انہدام ،سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے اصول ہائے کا رفرمائی سے مکمل انحراف -کوئی بھی دہریہ جماعت ۔نہ تحریک انصاف،نہ مسلم لیگ،نہ پیپلزپارٹی نہ ایم کیوایم نہ اے این پی اس عمل کا تصور تک نہیں کرسکتی ۔لہذا اپنی تمام تر حکومت سے مخالفت کے اظہار کے باوجود نہ مسلم لیگ نے ، نہ پیپلزپارٹی نے آئی ایم ایف کے مجوزہ معاہدہ کی منسوخی کا وعدہ کیا ہے ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے اپنے دور اقتدار میں آئی ایم ایف سے اس قسم کے معاہدہ کئے اور اس کی تا بع داری کی-پاکستان کی تمام دہریہ جماعتیں سامراج کی باجگزار اور کاسہ لیس ہیں۔
اسلامی جماعتوں کی رد سود کی مہمات ناکام رہی ہیں ۔اس کی تین وجوہات رہی ہیں۔ایک تو نام نہاد اسلامی بینکاری کے وسیع پھیلاؤ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ حکومت نے ان مہمات کے پیدا کردہ تحرک کو مجروح کیا اور دولت مند مخلصین دین اس جھانسے میں آکر ان مہمات سے لاتعلق رہے ۔ دوسرے امتنائے سود کے لئے ہم نے سرمایہ دارانہ عدلیہ کی کارفرمائی اور فیصلوں پر انحصار کیااور عدالتوںمیں پے درپے شکستوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ہم نے نیوکلاسیکی معاشیات کے منہج کے تناظرمیں غیر سودی کارفرمائی کے جو ماڈل مرتب کئے ان کا ہماری تاریخ سے کوئی تعلق نہ تھا وہ سب مہمل اور ناقص العمل تھے اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ یہ بات فوراً پہچان گئی کہ ایک غیر سودی نظام کی کارفرمائی کے ذریعہ سرمایہ دارانہ اہداف حاصل نہیں ہوسکتے (جیسا کہ ہم دعوی کرتے تھے ) اور انہوں نے ان تمام ماڈلوں کو کچرے کے ڈبوں میں پھینک دیا ۔ تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ رہی کہ ہماری رد سود کی مہمات سے عوام بالکل لاتعلق رہے پاکستانی عوام میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا کوئی احساس نہیں ۔وہ سرمایہ دارانہ عقلیت کو معقول گردانتے ہیں اور بالخصوص ریاستی سطح پر کسی غیر سرمایہ دارانہ علمیت کے غلبہ کا تصور نہیں کرسکتے ۔سودی نظام کے خلاف ہماری تمام گفتگو ناقابل فہم ہے اور وہ رد سود کی مطالباتی مہم کے تحت نہ متحرک کئے جاسکتے ہیں نہ منظم ۔لہذا ریاست سے سودی نظام کے خاتمہ کا مطالبےصدا صحراکے علاوہ کچھ ثابت نہیں ہوسکتے ۔ لیکن پاکستان کے اسی فیصد عوام سود اور سٹہ کے کاروبار سے کچھ واسطہ نہیں رکھتے ۔۲۲کروڑ آبادی میں بینکوں کے کھاتوں کی تعداد ۳۵ لاکھ بھی نہیں۔ ایک عام پاکستانی کسی بینک کا دروازہ تک نہیں کھولتا ۔سٹہ بازار (stock market) کے کاروبار میں صفر اعشاریہ ایک فیصد پاکستانی بھی شریک نہیں ۔ایک عام پاکستانی ملازم نہیں ، اپنا کاروبار خود کرتا ہے وہ SELF EMPLOYED ہے، یہ بات ملک کے ہرLABOR FORCE SURVEYسے ظاہر ہوتی ہے ۔ملک میں ایک بہت بڑی حلال سود اور سٹہ سے مطلقاً پاک معیشت موجود ہے ۔سرمایہ دارانہ حکومت کی DOCUMENTATION کی مہم اس ہی حلال معیشت کو تباہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ یہ حلال معیشت وہ خردی بنیادیں (Micro Foundation) فراہم کرتی ہے جس کو سودی نظام کے بتدریج انہدام کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ہمیں ملک میں رائج سودی نظام کو خود درجہ بدرجہ ختم کرنا ہے اس معاملہ میں مطالباتی مہمات بیکار ثابت ہوئی ہیں۔ اجمالاً اس نظام کی خصوصیات حسب ذیل ہیں۔ کوئی راسخ العقیدہ اسلامی جماعت ملک میں ایک غیر سودی نظام معاشرہ کی بنیادی سطح پر کارفرمائی کرنے کا عزم کرے۔ چند منتخب مساجد میں اپنے معتبر کارکنوں کے ذریعہ مسلمانوں کی بچتوںکو جمع کرنے کا انتظام کرے ان رقوم کو مشارکاتی اور مضارباتی عہد کی بنیاد پر اپنے ہی ایسے معتبر کارکنوں کے کاروبار میں لگائے جو ایک عرصہ سے منافع بخش ثابت ہورہے ہوں۔ حاصل شدہ منافع یا نقصا ن کی تقسیم جماعت کی ذمہ داری ہو اور یہ نظام منظم کرنے والی جماعت خود کوئی منافع نہ لے ۔وہ ایک غیر سرکاری ریاستی ادارہ کا کردار ادا کرے ۔ جیسے جیسے مخلصین دین میں اس کی مقبولیت عام ہوگی ویسے ویسے پیسہ کھنچ کھنچ کر بینکاری نظام سے حلال تمویلی نظام کی طرف منتقل ہوگا ۔حلال کاروبار کا دائرہ کار وسیع ہوگا ۔سرمایہ دارانہ زر کی تحکیمی دسترس مجروح ہوگی اور اسلامی تمویلی ادارہ حلال زر (CREDITS) تخلیق کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے چلے جائینگے اور یوں سرمایہ دارانہ زر ی نظام اور سود نظام کی خردی بنیادیں (Micro Foundation)کھوکھلی ہوتی چلی جائینگی ۔تفصیل اس اجمال کی جناب یونس قادری صاحب کی کتاب"اسلامی بینکاری کا متبادل " میں دیکھی جاسکتی ہے ۔