ہم آئی ایم ایف کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں
ہم آئی ایم ایف کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں میرے قریبی ساتھی ڈاکٹر وقار مسعود خاں جماعت کی رکنیت سے دست بردار ہو کر عمران خان کی سامراج نواز حکومت کے مشیر مالیات بن گئے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس سے ہمیں سہو نظر نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے عام کارکن ہماری ریاستی حکمت عملی کو پوری طرح نہیں سمجھتے اور ہمیں ایسی پالیسیوں کو اپنے عام کارکنوں کے لیے قابل تفہیم بنانے کی طرف خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ ڈاکٹر وقار مسعود خاں آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وکالت مدت دراز سے کر رہے ہیں۔ اپنی سرکاری ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد آپ نے رواں آئی ایم ایف کے ای ایف ایف معاہدہ کی حمایت 2019 کے اوائل سے تیز کر دی اور یہ موقف اختیار فرمایا کہ آئی ایم ایف کی تابعداری ناگزیر ہے۔ یہ رائے ہماری صفوں میں خوب پھیلی اور آج بھی بہت سے کارکن سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی باجگزاری ملک کے مفاد میں ہے۔ اسلامی جماعتوں کے جو کارکن ہمیں چھور کر دہریہ تحریک انصاف پارٹی میں شامل ہوتے ہیں ان میں یہ رائے عام ہے۔ ہم اسلامی انقلابی، ہمارا مقابلہ سامراج سے ہے۔ آئی ایم ایف وہ سامراجی بین الاقوامی ادارہ ہے جو 1944 سے سرمایہ دارانہ مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے قائم کیا گیا ہے اور جو پچھلے پچھتر سال سے مستقلاً غریب ملکوں کو سرمایہ دارانہ مالیاتی نظاماتی ظلم قبول کرنے پر مجبور کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے تمام قومی معاہدوں کا یہی مقصد ہے۔ لہٰذا ہم نےپہلے پاکستانی آئی ایم ایف معاہدہ (جو 1988 میں بینظیر نے کیا تھا) سے آج تک ہر آئی ایم ایف منصوبہ کی اصولی تردید اور عملی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا حالیہ ای ایف ایف منصوبہ جو ستمبر 2019 سے نافذ کیا گیا آج عملاً معطل ہے (کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے) لیکن دہریہ حکومت اس معاہدہ پر عمل درآمد جاری رکھنے کا پکا ارادہ کیے ہوئے ہے۔ اس معاہدہ کی شقوں کی تنفیذ سے ملکی سالمیت اور حیثیت کو بے اندازہ نقصان پہنچے گا۔ ہم اس معاہدہ کی مکمل تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس مضمون میں میں آئی ایم ایف کے حالیہ EFF2019-2023 معاہدہ کی تنفیذ سے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچ رہے ہیں وہ بیان کروں گا۔ 1۔ یہ معاہدہ پاکستانی معیشت کو عالمی مالیاتی اور اشیا مارکیٹوں سے ایسے وقت میں منسلک کرتا ہے جو اس وقت شدید انحطاط، کساد بازاری اور خلفشار کا شکار ہیں اور خود آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق 2020 میں عالمی پیداواری شرح نمو منفی رہے گی۔ ان حالات میں قومی معیشت کو عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کے تحکم میں پیوست کرنا ملکی معاشی خود کشی کے مترادف ہے۔ 2۔ جن نظریاتی مفروضات اور تصورات پر یہ منصوبہ منحصر ہے وہ سب ایک ایسی معاشی نظریاتی تناظر سے اخذ کیے گئے ہیں جن کا سرمایہ دارانہ مارکیٹوں (عالمی اور قومی دونوں) کی حقیقی کارفرمائی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مفروضات اور تصورات کی بنیاد پر جو پالیسی سازی کی جاتی رہی ہے وہ دنیا بھر میں ناکام ثابت ہوتی رہی ہے۔ اور پاکستان میں ان پالیسیوں کا نتیجہ قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور بیروزگاری کا فروغ رہا ہے۔ 2020-2019 میں جب (کرونا کا اثر صرف مارچ 2020 سے جون تک ہوا) پاکستانی شرح نمو حقیقتاً ملکی اور حکومتی تخمینوں کے مطابق صفر اعشاریہ تین رہی۔ آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق یہ شرح 2021 میں صفر اعشاریہ ایک فی صد رہ جائے گی۔ 3۔ آئی ایم ایف منصوبہ کا تنفیذی اور نگرانی کا عمل اس طرح وضع کیا گیا کہ ہمارے ریاستی اداروں کا فیصلہ سازی کا عمل سامراج کے تابع ہو جائے۔ اسٹیٹ بینک، وزارت مالیات اور تجارت (صوبائی اور وفاقی)، ایف بی آر، ایسی ای سی پی، کسٹمز وغیرہ، سب آئی ایم ایف کی تابعداری قبول کر کے سامراجی آلہ کار بن جائیں یعنی پاکستان کی قومی، سیاسی اور معاشی خود مختاری بالکل ختم ہو جائے۔ تمام کلیدی ریاستی معاشی ادارے سامراجی مینجمنٹ کے ماتحت آ جائیں۔ یہ پاکستانی ریاست کو کھوکھلا کر کے اسے سرمایہ دارانہ سامراج کا باج گزار بنانے والا پروگرام ہے۔
4۔ پاکستان ماحولیاتی ابتری سے بری طرح متاثر ہے۔ بالخصوص آبی صحت اور موسمیاتی تغیر (سیلاب، بادو باراں وغیرہ) ملکی معاشی تباہی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پروگرام اس ماحولیاتی ابتری سے نبردآزما ہونے کی کوئی تجویز موجود نہیں۔ 5۔ آئی ایم ایف پروگرام کا ایک اہم مقصد ملک بھر میں پھیلی ہوئی حلال معیشت کو تباہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت دستاویزیت (ڈاکومنٹیشن) کے ذریعہ حلال کاروباریوں کی محصولیاتی ناکہ بندی اور تعذیب کی جائے گی اور سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کا دائرہ کار نہایت وسیع کیا جائے گا۔ یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ہم آئی ایم ایف کے ای ایف ایف 2019 تا 2023 کے پروگرام کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہیں (تفصیل اس اجمال کی ہمارے مقالہ IMF Extended Fund Facility Program 2019-23 میں دیکھی جا سکتی ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہے) یہ ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ کسی پاکستانی دہریہ جماعت نے (نہ تحریک انصاف کے کسی دھڑے نے نہ مسلم لیگ نے نہ پیپلز پارٹی نے نہ اے این پی نے نہ متحدہ موومنٹ نے) اس پروگرام کی منسوخی کا مطالبہ نہیں کیا۔ اپنے دور اقتدار میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس ہی قسم کے آئی ایم ایف کے معاہدے نافذ کیے تھے اور اگر پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی تو اغلب گمان یہی ہے کہ وہ اس معاہدہ کے احیا کی کوشش کرے گی (الا یہ کہ اس کو اس معاہدہ کو ترک کرنے پر مجبور نہ کر دیا جائے)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی تمام غیر اسلامی دہریہ جماعتیں (مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، متحدہ موومنٹ، تحریک انصاف) سب سامراج کی باج گزاری پر رضامند ہیں اور کیوں نہ ہو جب ان کی دولت اور ان کے بچے سامراجی ممالک میں مقیم ہیں اور آزمائش کے وقت سامراجی ممالک ہی میں پناہ حاصل کرتے ہیں (پرویز مشرف، الطاف حسین،نواز شریف)۔ آج سامراج نے عمران خان کو اپنا پاکستانی وائسرائے رکھا ہوا ہے کل وہ بلاول بھٹو اور نواز شریف کو یہ شرف بخش سکتا ہے۔ صرف اسلامی انقلابی ہی رزم گاہ حیات کے ہر موڑ پر سامراج اور اس کے پٹھوؤں سے چومکھی لڑائی لڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔ (یہ مضمون ”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ کی ایک ابتدائی تشریح ہے)۔ جاوید اکبر انصاری