بجٹ تقریر براے تحریک لبیک ایم پی اے سندھ اسمبلی علامہ قاسم فخری
بجٹ تقریر مجھے نہایت افسوس کے سے کہنا پڑتا ہے ہے پچھلے بارہ سالوں اور اس سال کے بجٹ میں سندھ معیشت کو شرع مطہرہ کے مطابق ڈھالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ان حالات میں اللہ کی رحمت سے توقعات باندھنا کہ وہ کرونا وباء کو ٹال دے گی احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ سند ھ میں سود اور سٹہ کا کاروبار عروج پر ہے، اور حکومت سندھ اس کاروبار میں پوری طرح شریک ہے، صوبے میں فحاشی اورعریانی کا سیلاب آیا ہو ا ہے، مسجدیں، مدارس اور خانقاہیں تو بند کر دی گئی ہیں، لیکن فحاشی کی نجی محفلیں روز سجا ئی جاتی ہیں۔شراب نوشی عام ہے، رشوت اور سرکاری لوٹ مار کا بازارگرم ہے، قہر خداوندی کے نزول کے با وجود ہم غضب الٰہی کو مستقل دعوت دیے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی کووڈ19 کی وباء کو روکنے کی مہم ملک میں سب سے زیادہ ناکام ہے ،سندھ میں مریضوں اور اموات کی تعداد ہر صوبے سے زیادہ ہے، پنجاب سے بھی زیادہ جہاں کی آبادی سندھ سے کئی گنا ہے، اموات اور مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، لاک ڈاون کی مہم پہلے دن سے ناکام ہے، اسی سے اموات اور مریضوں کی تعداد میں تو کمی نہ آ ئی لاکھوں بے کس عوام بے روز گار ہوگئے اور بھوکوں مررہے ہیں، ابھی سندھ حکومت مزید لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کرہی ہےتاکہ بے روزگار اور افلاس آسمان سے باتیں کرے اور اس کے وزرا ا ئر کنڈیشن بنگلوں سے خود اپنی تعریفیں کرتے رہیں۔ ان حالات میں وزیر اعلیٰ کا خود کومثالی کہنامضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے، , اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایات دامن کو ذرا دیکھ ذرابند قبا دیکھ سندھ کی حکومت ایک ظالم و جابر حکومت ہے اس کی معاشی پالیسی اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے ۔ ۱۲ سالہ حکومت کے دوران آج تک نہ سندھ کی صوبائی پیداوارکا اندازہ لگایا جاسکا،یا صوبائی سرمایہ کاری کا، نہ صوبائی قومی اور بین الاقوامی تجارت کا۔ بجٹ محض سرکاری اخراجات جاری رکھنے اور اخراجاتی اسکیموں کا ایک ناقابل فہم ملغوبہ ہے جس کے پیچھے کوئی مربوط معاشی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ آپ زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کی بات کس منہ سے کرتے ہیں، آپ نے اپنے سابقہ رہبروں (ذالفقار علی بھٹو)سمیت آج تک سند ھ کو وڈیرہ شاہی سے نجات نہ دلا ئی آپ کی حکومت کا پورا انحصار وڈیروں اور ساہوکاروں کی اعانت پر ہے، جو ہاریوں کا خون چوس رہے ہیں، آپ ان وڈیروں کے اتنے اسیر ہیں کہ ان کی زمینوں اور اس کی آمدنی پر بلا واسطہ ٹیکس بڑھانے کی ہمت نہیں کر سکتے ، آج تک زرعی آمدنی اور دولت محصولات اس قدر کم کیوں ہیں ، جب تک وڈیرہ شاہی کی نحوست ہم پر مسلط رہی گی سندھ کی زراعت ترقی نہیں کر سکتی۔ وڈیرہ شاہی کی باجگزاری کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ سندھ کی حکومت اور وسا ئل پیدا نہیں کرسکتی،2020-21 کے بجٹ میں صوبائی محصولات کی رقم 313اعشاریہ 9بلین رکھی گئی تھی حاصل وصولیاں اس ھدف سے ۲۱ فیصدکم یعنی ۲۵۰ بلین ہو ئیں 2020-21 کے تخمینوں کے مطابق صوبائی وصولیاں288 اعشاریہ 8 بلین رکھی گئی ہیں، جو ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہوں گی،یہ 2020-21 کی مجموعی وصولیوں کا صرف 23 فیصدبنتی ہیں۔ 2020-21 کے تخمینوں کے مطابق صوبائی وصولیوں کی مجموعی وصولیوں کی شرح 25 اعشاریہ 5 فیصدتھی۔آپ مرکز پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کو کتنی گالیاں کیوں نہ دیں۔ آپ سامراج کے بھی باج گزار ہیں2020-21 میں آپ کو ۵۲ بلین کی سامراجی بھیک ملنے کی توقع ہے،2019-20 میں آپ کو ۳۱ اعشاریہ ۷ بلین کی سامراجی بھیک ملی تھی 2020-21 میں بھیک کی اس رقم میں ۵۴ فیصداضافہ کی توقع رکھتے ہیں۔2020-21 میں سامراجی بھیک سے آپکے ترقیاتی منصوبوں کا تقریباً 25فیصدحصہ فائنانس( Finance) کیا تھا۔
سب سے زیارہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سامراجی بھیک تعلیم کے شعبہ میں زیادہ سے زیادہ استعمال کی جا رہی ہے۔ سامراج ہمارے نوجوانوں کا ذہن پرا گندہ کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے، اسکولوں کے نظام پر سامراجی دست برد ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے، اور یہ سیکولر حکومت اسی رجحان کوپرورش چڑھارہی ہے،مدارس اور خانقاہیں تو بند کر دی گئی لیکن مذہبی تعلیم کے لئے 2019-20 کے بجٹ میں سے نہ ایک پیسہ خرچ کیا گیا نہ 2020 تا 21 کے بجٹ میں مذہبی تعلیم کے لیے ایک پیسہ رکھا گیا ہے۔ حکومت کے سودی کاروبار میں ہو شربا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس ( Capital & Expenditure ) ضمن میں 2020-21 کے بجٹ میں 63اعشاریہ 6 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ 2019-20 میں اس ضمن میں 29 اعشاریہ 5 بلین روپے رکھے گئے تھے، یعنی 215 فیصد زیادہ، حکومت کی شاہ خرچیوں (رواں اخراجات) میں بھی 13 فیصدکا اضافہ کیا جا رہا ہے،جو 2019-20 کے 783 اعشاریہ سے بڑھ کر 870 اعشاریہ 2 بلین ہو گئے ہیں اور 2020-21 کے مطابق مجموعی صوبائی اخراجات کا 70 فیصدہونگے، صوبائی حکومت کی پالیسیاں استعماری ترجحات کا چربہ ہیں، کووڈ 19 کے انسداد کی ناکام حکمت عملی خالصتاً سامراجی اسکیموں سے مستعار لی گئی ۔ مقامی حالات اور عوامی رجحانات کو مطلقاً نظر انداز کردیا گیا ، جن کروڑوں روپے باٹنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہےان کی حقیقت ایک عالم پر عیاں ہے، یہ رقم کہاں گئی اس کی آڈٹ کے لیے کونسے سامراجی ایجنٹ کو منتخب کیا گیا، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ آڈٹ رپورٹ فوراً اسمبلی کے سامنے پیش کی جائے اور اسمبلی کی ایک مجلس قائمہ وبا ئی اخراجات کی مستقل جانچ پڑتال کےلئےمقر ر کی جائے۔ یہ رقوم مجموعی صوبا ئی اخراجات کاتین فیصدبھی نہیں بنتی اور ان کر تر سیل میں نو کر شاہی نےاتنی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں، کہ عام آدمی خواہ مزدور ہو خواہ ہاری خواہ چھوٹا کاروباری ان کو حاصل کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا، یہی وجہ ہے کہ سندھ میں افلاس اور بے روز گاری روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس رقم کی ترسیل سے صرف حکومت کے چہیتے مستفیض ہو رہے ہیں، ڈپٹی کمشنروں کو ان رقوم کی ترسیل کا ذمہ دار بنانا اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ رقم خرد برد کر دی جاءے گی، اس سے سیاسی منظور نظر حلقہ ہی فاءدہ اٹھاءے گا۔ حکومت نے غیر سرکاری بر طرف ملازمین کی تنخواہوں کی فراہمی کےلئےکو ئی مثبت قدم نہیں اٹھایا، زبانی جمع خرچ سے کیا ہوتا ہے،آپ کو معلوم ہیں کہ کاروبار ڈھڑاڈھڑ بند ہو رہءے ہیں، چھوٹے کاروباری تنخواہیں کہا ں سے دیں۔2020-21 کے بجٹ میں صحت کے شعبہ کے لیے صرف 23اعشاریہ 3 بلین روپے رکھے گئے ہیں، جو مجموعی صوبائی اخراجات کا ۲ فیصد بھی نہیں، اس پر رونے کو جی چاہتا ہے، اور واضح ہوتا ہے کہ حکومت نےکرونا(کووڈ 19) کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور سارا انحصار لاک ڈاون پر کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں غریب عوام کی مصیبتو ں میں اضافہ ہو گا۔ یہ پیپلز پارٹی کا دیا گیا مسلسل بارہو ں بجٹ ہے جو وڈیروں اور ساہوکاروں کی ترجحات کا غماز ہے، یہ ایک عوام دشمن بجٹ ہے جس میں معیشت کو اسلامیانے کی ضرورت کا کو ئی شعور نہیں، یہ خدا کے غضب کو مزید دعوت دینے کی ایک اور جسارت ہے، جب تک ملک میں اسلامی حکومت قاءم نہیں ہو گی، ہم خدا کے عذاب کے مستحق رہیں گئے۔