کتب خانہJAS Library

افغان معیشت کا معاشی استحکام

رسالہاردواردو تحریریں
حصہ ۱

افغان معیشت کا معاشی استحکام امارت اسلامیہ افغانستان کے سامراجی حریف بھی مستقل وہاں کے بڑھتے ہوئے معاشی استحکام کا اعتراف کرنے پراپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ یہ بات سامراجی ادارہ ورلڈ بینک کی حالیہ (اگست 2023ء کی )رپورٹ سے واضح ہوتی ہے۔ بڑھتے ہوئے معاشی استحکام کا سب سے واضح اظہار قیمتوں کے رجحان سے ہوتا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2023ء میں مجموعی شرح افراط زر افغانستان میں 9 فیصد گرا۔ اور یہ شرح جنوری 2023ء سے مستقل گر رہی ہے۔ اس دوران خوردنی قیمتیں 12 فیصد اور غیر خوردنی قیمتیں 5 فیصد گریں۔ قیمتوں کے گرنے کی اہم وجہ افغان معیشت کی خود کفالت ہے۔ افغان معیشت بین الاقوامی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کے قیمتوں کے بڑھتے ہوئے رجحان سے متاثر نہیں ہوتی۔ افغان خوردنی بازار اور روزمرہ کے استعمال کی اشیائے بازار میں کوئی قلت نہیں۔ رسد اور طلب کا مکمل توازن موجود ہے۔ زرعی پیداواری سکت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور افغانستان میں ایک خودکفیل معاشی نظام مستحکم ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار افغان کرنسی کے شرح تبدل میں مستقل اضافہ سے ہوتا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2023ء سے اگست 2023ء تک افغانی کا شرح تبدل امریکی ڈالر کے مقابلے میں 8 فیصد پاکستانی روپیہ کےمقابلے میں 30 فیصد، تومان کے مقابلے میں 42 فیصد اور چینی کرنسی یوآن کے مقابلے میں 6 فیصد بڑھا۔ اس کا سبب بیرونی ترسیل زر پر عائید سخت پابندیاں بھی ہیں اور اندرون ملک بیرونی کرنسیوں کے استعمال پر پابندیاں بھی۔ بیرون ملک افغان رہائشیوں کے ترسیل زر میں تیزی سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ خود کفالت کا ایک اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ جو ڈالر افغان معیشت میں داخل کرتا ان میں 2023ء میں 2021ء کے مقابلہ میں 33 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود افغانی کی شرح تبدل مستقل بڑھ رہی ہے۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق افغان مرکزی بینک نے 2023ء اگست 2021ء سے پہلے کھولے جانے والے کھاتوں سے پیسہ نکالنے کی حد یومیہ 67 فیصد بڑھا دی۔ اگست 2021ء کے بعد کھولے گئے اکاؤنٹس سے پیسہ نکالنے کی کوئی حد نہیں۔ 2023ء میں کمپنی اکاؤنٹس پر پیسہ نکالنے کی حد ماہانہ 60 فیصد بڑھا دی گئی ہے۔ 2023ء میں بینکوں میں کھاتے کھولنے اور ان میں جمع کی ہوئی رقومات تیزی سے بڑھ رہ ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو تنخواہیں وقت پر دی جا رہی ہیں اور ملک بھر میں پیشہ ورانہ اور غیر پیشہ ورانہ ملازمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اجرتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور دیہی اور شہری علاقوں میں زرعی اور صنعتی پیداواری سکت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مجموعی معاشی قوت خرید اور مانگ بھی بڑھ رہی ہے اور WGAE کے تخمینوں کے مطابق 2023ء میں افغان مجموعی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہے گی۔ افغان حکومت کے محصولات 67 بلین افغان تھے جو 2022ء کے اسی دورانیہ کے حاصل شدہ رقومات سے 8 فیصد زیادہ تھے۔ بیرونی تجارتی محصولات اور کاروباری ٹیکسوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن دیگر محصولات صرف ایک فیصد (ان پانچ مہینوں میں) بڑھے۔ غیر ٹیکس محصولات میں کمی آئی۔ معدنی اور توانائی کے شعبہ سے حاصل شدہ محصولات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جنوری تا جولائی 2023 تک برآمدات تقریباً ایک بلین ڈالر رہے جو 2022ء کے اسی دورانیہ سے 3 فیصد زیادہ ہیں۔ پارچہ جاتی برآمدات کی اس دوران شرح نمو 5 فیصد رہی اور خوردنی اشیا کی برآمدات بھی بڑھیں۔ کوئلے کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی۔ 2023ء کے پہلے 6 مہینوں میں پاکستان کو کی جانے درآمدات 3 فیصد گریں جبکہ بھارت کو کی گئی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ اسی دوران افغانستان کا درآمداتی حجم 4 بلین سے تجاوز کر گیا۔ کیمیائی اشیا، مشینری اور معدنیات اور توانائی کی درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جو افغانستان میں تیز رفتار صنعت کاری کی غماز ہیں۔ زیادہ تر درآمدات ایران، متحدہ عرب امارت اور پاکستان سے حاصل کی جا رہی ہیں۔

حصہ ۲

ایک دشمن سامراجی ادارہ ورلڈ بینک کے پیش کردہ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کی معاشی گرفت مضبوط ہے اور افغانستان میں نہ فاقہ کشی ہے نہ افراط زر، نہ بے روزگاری ہے نہ کوئی معاشی بحران۔ لیکن سامراج معاشی بحران پیدا کرنے کی مستقل جستجو کر رہا ہے۔ اس سامراجی حکمت عملی کا مقصد افغان عوام کو اسلامی حکومت سے متنفر کرکے ان کو سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم کرنا ہے۔ وہ افغان معیشت اور معاشرت پر اطلاعات اسی مقصد کے حصول کے لیے وضع کر رہا ہے اور افغان نظاماتی تناظر میں سامراجی اداروں (ہیومینٹرین گروپ، یو این او اور ورلڈ بینک) کی اطلاعاتی تخریب کارانہ گرفت مضبوط نظر آتی ہے۔ ورلڈ بینک کا Third Party Monitoring Network مستقل اطلاعاتی مخبری کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک کا جاری Afghanistan Welfare Monitoring Survey بھی اسی مذموم مہم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ورلڈ بینک، ہیومینٹرین گروپ عوامی حلقوں سے ٹیلی فونک روابط استوار کیے ہوئے ہیں۔ ہیومیٹیرین گروپ نے ملک گیر سطح پر کمیونٹی تنظیموں اور این جی اوز کا ایک جال پھیلایا ہوا ہے۔ اس اطلاعاتی اور انتظامی تخریب کاری کو ختم کیے بغیر اسلامی حکومت کی معاشرتی گرفت مضبوط نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے جب کہ افغانستان کی اسلامی حکومت نے ایک قلیل عرصہ میں نہایت نامساعد حالات کے باوجود معاشی استحکام قائم کر دیا ہے۔ ہم افغانستان کے اسلامی نظام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ قیمتوں میں استحکام لانے کے بارے میں، روپیہ کے شرح تبدل کو مینج کرنے کے بارے میں، زرعی پیداواری سکت میں اضافہ کے بارے میں، محصولیاتی نظام کی تدوین و ترتیب کے بارے میں۔ ہمیں افغانستان کی اسلامی حکومت کو فوراً تسلیم کر لینا چاہیے تاکہ پاکستان میں معیشت کی اسلامی ہیئت سازی کی راہ کھل جائے۔