جماعت اسلامی کا اجتماع عام بدل دو نظآم پہلا حصہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام21، 22 اور 23 نومبر2025 مینار پاکستان لاہور جماعت اسلامی کا نصب العین " حکومت الہٰیہ یا اسلامی نظام زندگی کے قیام کے ذریعے رضائے الہٰی اور فلاح اخروی کا حصول"ایک اسلامی جماعت جس کا نصب العین حکومت الہٰیہ یا اسلامی نظام زندگی کے قیام کے ذریعے رضائے الہی اور فلاح اخروی کاحصول ہو اور اگر وہ اس نصب العین کو سہو نظر کردے اور اپنے سعی اور جہد کا مقصد معاشرتی اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام عدل کی اصلاح رہ جائے تو کیا کہا جاسکتا ہے، اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ نصب العین خود بتا رہا ہے کہ یہ پورا نصب العین صرف ایک جملہ شریعت اسلامی کے نفاذ سے بد ل دیاجائے تو کیا ہی بہتر ہو، اگر نصب العین صرف یہ بنالیا جائے کہ جماعت اسلامی کا نصب العین" شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر سطح پر نفاذ" جو تمام لفاظیوں کو ختم کرکے مقصد زندگی تمام سطحوں پر واضح کردیتا ہے، اور ہر قسم کے خدشات اور سوالات کے جوابات دے دیتا ہے۔ جماعت اسلامی ایک نظریاتی اسلامی انقلابی جماعت ہے کیونکہ اس کے نصب العین میں اس کاواضح مقصد یہ بتادیا گیا ہے ایک ایسی ریاست قائم کرنا جماعت اسلامی کا نصب العین ہے جو اللہ تعالی کی رضااور خوشنودی کی طلب گار ہو،جس کا مقصدتمام انسانیت کو دنیاوآخرت میں کامیاب کروانا ہو۔ 21،22 اور 23 نومبر 2025 کو مینار پاکستان میں اجتماع عام منعقد کیا گیا ، سالانہ اجتماع جماعت اسلامی کی دیرینہ روایات میں شامل رہا ہے، جواصولی طور پر ارکان جماعت پر مشتمل ہونا چاہئے لیکن ارکان کارکنان اور متفیقین کا اجتماع جسے اجتماع عام کہا جاتا ہے وہ بھی گاہے بگاہئےمنعقد کیا جاتا رہا ہے، اور اسی دوران اجتماع ارکان بھی ہوا کرتا تھا لیکن اس دفعہ اجتماع ارکان نہیں کیا گیا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ شوریٰ میں یہ طے ہوا تھا کہ اجتماع ارکان نہ کیا جائے اس کی مزید وضاحتین مجھے تو کہیں سننے کو نہیں ملیں کہ اجتماع ارکان کیوں نہیں کیا گیا، اجتماع ارکان جماعت اسلامی کے تمام کام کا جائزہ لینے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں لیکن موجودہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان صاحب کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اجتماع ارکان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اپنی شوریٰ جو اصل میں اپنے کنٹرول میں رکھنے کے قائل ہے اسی کے ذریعہ پورے نظم کو چلاتے ہیں اور شاید پوری شوریٰ ان کی مٹھی میں بند محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے اقدامات کی مخالف کہیں محسوس نہیں ہوتی،ا ور اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کرنا وہ خوب جانتے ہیں.. اجتماع گاہ ایک بہت بڑے اسٹیج سے مزین تھی جو تقریباً تین کنٹینروں پر تلے اوپر رکھ کر بنائی گئی تھی اور ایک وسیع اور عریض اسٹیج تھا،جس پر پرانی روایات کی طرح قرآن آیات تھیم ہوا کرتی تھی لیکن افسوس اس اجتماع کی تھیم "بدل دو نظام " تھا جو اسٹیج پر بڑی تین سے چار بہت بڑی ل ٹی وی اسکرین دیوہیکل ٹی وی اسکرینوں کے ذریعہ دیکھائی جا رہئے، اسٹیج کے اور زمین کے درمیان بھی ایک بڑی دیو ہیکل ٹی وی اسکرین لگائی گئی تھی جس پر اسٹیج کی جانے والی ساری کاروائی کی عکاسی کی جارہی تھی کیوں کہ اسٹیج اتنا اونچا تھا کے قریب بیٹھے ہوئے افراد کے لیے اسٹیج کر کیا ہورہا ہے بہت مشکل تھا، اسٹیج پر بے انتہا لائٹیوں سے مزین تھا جو پوری آب وتاب سے روشنی کررہی تھیں اور مستقل چاروں طرف گھوم رہی تھی کسی طور ایک اسلامی اجتماع کا اسٹیج نہیں محسوس ہورہا تھا بلکہ کسی ڈانس کے لئے بنائے گئے اسٹیج کا منظر پیش کررہا تھا، اور جیسے ہی موقع ملاتا بدل دو نظام کا ایک ترانہ جو میوزک سے مزین تھا چلایا جاتا اور لائیٹیں اس طرح چاروں طرف گھومتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں جیسے کوئی نوجوانوں کا ڈانسنگ پروگرام ہےایک تخمینہ کے مطابق صرف اسٹیج پر لاگت تقریباً پچاس لاکھ تک لاگت آئی ہوگی ، اس کے علاوہ اجتماع گاہ میں کئی اور جگہ بھی بڑی دیوہیکل اسکرینیں لگائی گئیں تھیں جو اجتماع گاہ میں میں خواتین کی اجتماع گاہ علیحدہ تھی لیکن کیمروں کے ذریعہ بڑی اسکرینوں کے ذریعہ خواتین کی اجتماع گاہ کے شرکاء بھی دکھائی جارہی تھی.کیوں کہ کیمرے اجتماع گاہ میں چاروں طرف لگائے گئے تھے، اور وہ جدید کیمرے تمام کے تمام وہ تھے جو جاری نشریات دیکھانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ، اس کے علاوہ ڈروں کیمرہ بھی مستقل استعمال کیا جارہا تھا، جوفضائی نشریاتی ریکاڈنگ کا کام سر انجام دے رہا تھا.اجتماع گاہ میں شرکاء کےلئے کرسیوں کا انتظام کیا گیا تھا اور اسٹیج کے سامنے اگلی سیٹوں پر بڑی تعداد میں صوفے لگائے گئے تھے ،شرکاء کی نماز کے لئے علحیدہ سے کوئی انتظام نہیں تھا البتہ کرسیوں کے درمیان اور بہت ساری صفحیں خواتین اور مرد شرکاء کی کچھ ایک ساتھ بھی موجود تھیں لیکن علحیدہ سے کو بڑا انتظام نہیں کیا گیا تھا کہ تمام شرکاء ایک جگہ جمع ہو کر نماز ادا کریں، جب نماز ہوتی شرکاء چاہیں تو اسٹیج سے جو نماز پڑھی جارہی ہے اس میں شریک ہوجائیں چاہے تو اپنی اپنی جماعتیں کر لیں،اجتماع گاہ کھلے آسمان کے نیچے ہی بنائی گئی تھی بہت زیادہ ٹھنڈ نہیں تھی، تمام شرکاء آرام سے بیٹھ کر اجتماع گاہ میں شریک رہئے جب بھی کوئی اہم خطاب ہوتا شرکاء کی بھرپور تعداد شریک ہوتی سب سے زیادہ حاضری آخری دن امیر جماعت اسلامی کے اختتامی خطاب میں تھی اور جب انٹرنیشنل سیشن ہورہا تھا جب اور زیادہ تر شرکاء اسٹیج کے قریب امڈ آئے تھے، اور بہت توجہ سے اسٹیج پر ہونے والی کاروائی سے مستفید ہورہے تھے۔
موبائل فون نے جس طرح پوری معاشرے کو مغلظ کیا ہوا ہے اسے طرح اجتماع عام میں بھی خواتین اور خاص کر نوجوان خواتین مستقل اپنی سلفیاں اور تصویری کھنچتی ہوئی نظر آئیں، اسی طرح چند من چلی نوجوان لڑکیاں موٹر سائیکلوں پر ریلی کی صورت میں جینز اور ہیلمٹ پہن کر شریک اجتماع ہوئیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو جماعت اسلامی کو فیس بک پیج پر بھی سراہا گیا جو باعث شرم بات ہے، اجتماع 21 نومبر 2025 کونماز جمعہ سے شروع ہوا نماز جمعہ بادشاہی مسجد میں اور اجتماع گاہ میں علحیدہ علحیدہ ادا کی گئی اجتماع گاہ میں ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی رئیس الاتحاد العالمی العلما ء المسلمین اور ڈاکٹر عطاالرحمان نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز جمعہ ادا کروائی ، جبکہ بادشاہی مسجد میں جو اصل میں کراچی ، اسلام آباد اور پنجاب کے کچھ علاقہ جات کے رہائشی کیمپ بھی تھے اس میں ادا کی گئی ،نماز کے بعد کھانے کاو قفہ کیاگیا۔لیکن اس میں بھی تاخیر رہی۔عموماً شرکاء نے نماز مسجد میں ہی پڑھی اور پھر اجتماع گاہ میں شرکت کی کھانا دیر سے ملنے کی وجہ سے شرکاء دیر سے اجتماع گاہ پہنچے اجتماع عام کی باقاعدہ کاروائی نماز عصر کے بعد تلاوت قرآن مجید، نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شروع کی گئی لیکن جماعت اسلامی کی اجتماعات میں اس پہلے کبھی ہم نے نہیں دیکھا تھا کہ تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ پاکستانی ترانہ بھی پڑھ جائے لیکن اس اجتماع عام کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی ابتداء میں پاکستان کا ترانہ پڑھا گیا اور تمام شرکاء نے کھڑے ہوکرترانہ پڑھا اس کے بعدناظم اجتماع عام محترم لیاقت بلوچ صاحب نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور مختصر خطاب کیا نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور ناظم اجتماع لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں شرکاء کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتا ہوں، آج آپ کی موجودگی اس بات کی گواہ ہے کہ جماعت اسلامی کا پیغام لوگوں کے دلوں میں اتر چکا ہے اور اس قافلے کے قدم مضبوط ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ نے اس عظیم الشان اجتماعِ عام کا فیصلہ کیا تھا اور آج وہ لمحہ ہے جو آپ سب کی شرکت سے تاریخ رقم کر رہا ہے،پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اجتماعِ عام کا ایسا منظر کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ اجتماع، نظم و ضبط، عزم و حوصلے اور زندہ جذبوں کی نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ ان تمام کارکنان و ذمے داران کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مشکل ترین مراحل سے گزر کر اس اجتماع کے انتظامات کو تکمیل تک پہنچایا، مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود ہمارے کارکنان ہر مرحلے پر ڈٹے رہے۔ جماعت اسلامی نے مجھ پر ناظمِ اجتماع کی ذمے داری ڈالی ہے اور میں پوری دیانت داری سے اسے ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ انتظامات کے لیے 17 نائب ناظمین اور 47 شعبہ جات قائم کیے گئے جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس اجتماع کو کامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا،آج مینارِ پاکستان لاہور میں جگہ کم پڑ گئی ہے اور بادشاہی مسجد کے احاطے تک لوگ موجود ہیں۔ یہ منظر اس بات کا اعلان ہے کہ یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا، ہمہ گیر اور پرجوش اجتماعِ عام ہے۔ الحمدللہ! جماعت اسلامی کے کارکنان مکمل نظم و ضبط کے ساتھ معاملات کو سنبھال رہے ہیں،یہ بھی واضح کر دوں کہ اسٹالز پر موجود ہر فرد کو ہدایت ہے کہ وہ طے شدہ قیمت سے زاید وصول نہ کرے، جو بھی خلاف ورزی کرے گا، اسے فوراً رخصت کر دیا جائے گا۔شرکائِ اجتماع کے لیے کھانے اور پانی کے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی۔اجتماعِ عام کی کامیابی میں اسلامی جمعیت طلبہ، جمعیت طلبہ عربیہ، نیشنل لیبر فیڈریشن، اور بالخصوص الخدمت فاؤنڈیشن نے قابلِ ستائش کردار ادا کیا ہے،میں اپنے کارکنان سے ایک بار پھر گزارش کروں گا کہ انتظامی گاڑیوں کے راستوں کو استعمال نہ کریں، نظم و ضبط کا اعلیٰ نمونہ پیش کریں اور قربانی اور ایثار کا جذبہ ہر قدم پر نمایاں رکھیں،ہم سب ہی اس اجتماع کے میزبان بھی ہیں اور مہمان بھی،اس اجتماع کی کامیابی ہمارے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے، میں اہلِ لاہور کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مینارِ پاکستان اور بادشاہی مسجد میں جگہ تنگ ہو جانے کے باعث دور دراز سے آنے والے مہمانوں کو رہائش کا موقع دینے کے لیے ایثار کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے مختص رہائش گاہیں چھوڑ کر خود پنڈال میں رہائش کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ روح ہے جو ہماری تحریک کو مضبوط بناتی ہے۔
یعہ ایک پائیدار انقلاب لانا چاہتے تھے. نا مودودی ھے جو لا اس کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستاکن پ بھی تھے اس می کے لئے ریکن اس دفعہ اجتماع ارکان نہیم کہا جاتا ہے وہ بھی گاہے بگاہن حافظ نعیم الرحمان نے اپنا افتتاحی خطاب کیا خطاب کی ابتداء سورہ ابراھیم کی آیت 24 اور 25 سے کیں اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِ(24)تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَاؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(25) کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے کلمہ پاک کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو جس کی جڑقائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوں ۔ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں ۔ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع عام کا سلوگن بدل دو نظام ہے،ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں حاکمیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہونی چاہیے،پاکستان میں موجود دستور قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہونا چاہیے،دستور کے مطابق قرآن و سنت کے منافی کسی بھی قسم کی قانون سازی کسی صورت نہیں کی جائے گی۔78 سال سے موجود ملک پر قابض انگریزوں کے غلاموں،حکمران ٹولے نے قوم کو ناامیدی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا،جماعت اسلامی قوم کو مایوس نہیں چھوڑسکتی،ہم نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔پورے ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم والے سن لیں کہ اللہ کے نزدیک کسی وڈیرے جاگیردار، آرمی چیف یا صدر کو استثنا حاصل نہیں۔پاکستان کے حکمران سمجھ لیں کہ اگرفلسطین کے مسئلے پر ابراہم ایکارڈ کا حصہ بننے کی کوشش کی گئی تو 25 کروڑ عوام انہیں نشانِ عبرت بنادیں گے،78 سال قبل لاہور مینار پاکستان میں قرارداد پاکستان کے ساتھ ایک اور قرارداد اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے قرارداد بھی شامل تھی، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، امریکا انسانیت کا کھلا دشمن ہے جس نے ہیروشیما ناگاساکی پر بم باری کی۔ امریکا خود ریڈ انڈین کو قتل کرکے وجود میں آیا تھا، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہر وہ قرارداد جو مظلوم کے حق میں ہو اس پر ویٹو کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔پاک بھارت جنگ میں پوری قوم نے مل کر فوج کا ساتھ دیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی کی،اگر یہ جنگ 2 روز اور جاری رہتی تو بھارت کو آئندہ کبھی بھی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی، ٹرمپ نے جنگ بندی میں کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا، حکمران بتائیں کہ کشمیر کے مسئلے پر کیوں بات نہیں کی گئی۔ پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اجتماع عام کے تیسرے اور آخری روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ظلم کے نظام کی خلاف ملک میں ہر کونے سے زبردست تحریک شروع کی جائے گی, حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج مینار پاکستان 329ایکڑ پر مشتمل چھوٹا پڑگیا، ملک کے تمام صوبوں سے عوام بڑی تعداد میں شریک ہوئے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں کارکنان نے اجتماع عام کے انعقاد میں دن رات ایک کرکے یہ فریضہ انجام دیا ہے، حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی سکرٹری ڈاکٹر حمیرا طارق کی قیادت میں خواتین کے لیے علیحدہ پنڈال سجانے کا انتظام کیا گیا،پاکستان میں موجود کوئی بھی پارٹی اس نوعیت کا اجتماع اور انتظامات منعقد نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہاکہ مولانا مودودی نے دین کے اصول کی جانب سب کو یکجا کیا اور بتایا کہ اقامت دین کے بغیر ہم کچھ نہیں کرسکتے،اقامت دین کا مطلب صرف نماز روزہ نہیں بلکہ معاشرتی و معاشی معاملات میں بھی دین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔مولانا مودودی کا لگایا گیا پودا آج پھل دار ہوگیا ہے، آج اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ 84 سال قبل قائم ہونے والی جماعت 74 افراد پر مشتمل تھی۔ جماعت اسلامی محض سیاسی جماعت نہیں جو شخصیات، وصیت، خاندان، اندرونی و بیرونی اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی ہو۔ ذہنی طور پر تیار ہوجائیں ! جب آپ نظام کو چیلنج کریں گے تو ہر طرح کے حالات آ سکتے ہیں۔جماعت اسلامی کی سیاست ذاتی غرض کے لیے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے نظام کے قیام کے لیے ہے، ہم مسلکوں کا احترام کرتے ہیں فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے،مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر امت کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔مکمل نظام صرف اور اسلام میں ہی ہے، اسلام یہودیوں، عیسائیوں اور ہر مذہب کے لوگوں کو برابر حق دیتا ہے، انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی جسے قوم کا خادم ہونا چاہیے وہ قوم کی حاکم ہوتی ہے،انگریزوں کی غلام اور ان کی نسلیں آج بھی ملک پر مسلط ہیں،چند لوگ جو خود تو بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں لیکن قوم کو جاہل بنا کر رکھتے ہیں،20 فیصد لوگوں کی اجارہ داری 80 فیصد لوگوں پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ چند لوگوں کی اجارہ داری قائم ہے اور پاکستان میں کٹھ پتلیاں کام کر رہی ہیں، جماعت اسلامی اسلام کے غلبے کی تحریک ہے۔ کشمیر، فلسطین اور غزہ کے لوگوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ہم اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے جس نظریے کے مطابق تحریک بنائی اسی تحریک کو نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ مولانا مودودی کی فکر کے مطابق ہم تنظیم و تربیت اور عوامی حمایت کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔ہم زیر زمین نہیں بلکہ برسر زمینی جدو جہد کر کے اقتدار میں آئیں گے۔فارم 47 اور کسی کی آشیرباد سے اقتدار میں نہیں آئیں گے۔جماعت اسلامی میں قوم پرستی اور فرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جماعت اسلامی اجتماع عام میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھی مینار پاکستان لاہور میں مقدمہ پیش کریں گے۔ امریکی غلامی کو چھوڑ کر بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں سے مل کر بات کی جائے۔ اندرون سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوں کا راج ہے۔ پنجاب میں بھی غریب کسانوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ گندم اور چینی کی امپورٹ کرکے اس میں اربوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے۔
اجتماع کے پہلے دن نماز مغرب کے بعد سلیم منصور خالد نے "سید مودودی فکر، تحریک و انقلاب " کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا جا وہ اسٹیج پر آکر پڑھ رہئے تھے،جو مولانا کی بے شمار تحریروں سے مزین تھا، جنہیں وہ پڑھ پڑھ کر سناتے رہئے جس کا لب لباب یہ تھا کہ مولانا مودودی ایک پر امن انقلا ب کے قائل تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعہ عوام الناس کے ذہن سازی کے ذریعہ ایک پائیدار انقلاب لانا چاہتے تھے، ظاہر سی بات ہے یہ پورا مقالہ مولانا مودودی رحمہ اللہ کی مدحت اور ستائش پر مبنی تھا ، جو مولانا مودودی رحمہ اللہ علیہ کے تینوں اصل انقلابی اجتہادات سے خالی محسوس ہوئے جو واضح طور پر کہتے ہیں کہ مغرب جاہلیت خالصہ ہے، اسلامی مکمل دین ہے اور اسلام ریاست کا وجود اقامت دین کے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد جنرل سیکٹری جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم نے بھی مولانا مودودی رحمہ اللہ کی مدحت اور تعریفوں کے قصیدے سنائے، کوئی ایسی گفتگو نہیں تھی جو کارکنان کے لئے لمحہ فکریہ ہوتی ایک غیر مربوط جذباتی گفتگو۔۔۔ اجتماع عام کے پہلے دن کا تیسرا سیشن ’’بدل دو نظام‘‘ کے عنوان سے بہت اہمیت کا حامل رہا لیکن افسوس اس میں جو گفتگوئیں ہو ئیں اس کا اسلام اسلامی نظام قیام یا اسلامی انقلابی جدوجہجثد سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ جس میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے سیاست، نامور سینئر وکیل اکرم شیخ نے عدلیہ، معروف معاشی ماہر اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین نے معیشت، وائس چانسلر شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی پرفیسر ڈاکٹر اقبال خان نے صحت اور صدر تنظیم اساتذہ پاکستان الطاف حسین لنگڑیال نے پاکستان کے تعلیمی مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی۔ اس سیشن میں ڈاکٹر عشرت حسین نے وہ سارے سرمایہ دارانہ طریقہ کار بیان کئے جس کے نتیجہ میں پاکستان ترقی کر سکتا ہے ، انہوں نے کارکنان جماعت اسلامی کو زور دے کر تلقین کی کہ آپ اپنی تما م بچتیں بنکوں میں جمع کرائیں، پاکستان کو جماعت اسلامی جیسے مخلص کارکنان کی ضرورت ہے جو ایمانداری سے اپنا ٹیکس ادا کرتے ہیں کسی ملک کی ترقی کا راز اس کے عوام کا ایمانداری سے ریاستی احکامات کو ماننا ہے ، دیگر تمام مقررین نے بھی انہیں تناظر میں اپنی گفتگوئیں کیں اور تجاویزیں پیش کیں ، سب سے افسوس ناک تقریر نائب امیر اسامہ بن رضی کی تھی، جو چیخ چیخ کر دہارڈ دہارڈ کر یہ بات ثابت کرنا چاہ رہئے تھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عوام کی رائے کا احترم نہیں عوام کو حق حکمرانی نہیں دی گئی جب سے پاکستان بنا ہے، اس پوری تقریر جو جذبات سے بھری ہوئی تھی، لیکن اسلام، ایمان جہاد اور اسلامی انقلابی گفتگو سے یکسر خالی تھی،افسوس صد افسو یہ اسامہ بن رضی جو انقلاب انقلاب ۔۔اسلامی انقلاب کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے وہ انقلاب انقلاب زندہ باد زندہ ، آئے گا آئے گا انقلاب آئے گا۔۔۔زندہ باد زندہ باد ۔۔۔انقلاب زندہ باد پہلے دن کا اختتام انور مسعور صاحب کی سربراہی میں ایک مشاہرہ کا انعقاد کیا گیا جو رات گئے تک جاری رہا جس کا موضوع بدل دو نظام تھا، لیکن شعرائے کرام نے اپنی مرضی کے شعر پڑھے، شرکائ کی تعداد بہت کم تھی لیکن شرکاء اس سے لطف انداز ہوتے رہئے، دوسرے دن فجر کی نماز اور درس حدیث سے شروع ہوا اور پھر ناشتہ کا وقفہ کر دیا گیا دوسرے دن کے سیشن میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا لاہور مینار پاکستان میں اجتماع عام کے دوسرے روز سیشن کے آغاز میں لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خاندان، وصیت اور وراثت میں چلنے والی پارٹیاں کبھی بھی انقلاب نہیں لاسکتیں،جماعت اسلامی نظریاتی وجمہوریت جماعت ہے،حکمران جمہوریت کی نرسری کالج و یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس کے انتخابات نہیں کرانا چاہتے، خاندان، وصیت اور وراثت پر چلنے والی پارٹیاں نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں،مسلم لیگ ن کے ظالمانہ بلدیاتی ایکٹ کے ذریعے تمام اختیارات پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز سن لیں کہ پنجاب کے ظالمانہ ایکٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں بھرپور تحریک چلائیں گے، پنجاب کے تمام شہریوں میں صاف وشفاف بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں،جب نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے جائیں گے تو اجارہ داری نظام کا خاتمہ ہوگا،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بہت بڑے جاگیردار اورجمہوریت کے دعویدار ہیں،وہ بتائیں کہ انہوں نے سندھ کے ہاریوں کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے؟،سندھ کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم کیوں نہیں دی جاتی؟، ڈیلی ویجز پر کام کرنے والی خواتین کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے جاتے؟،پورے ملک میں سرمایہ دارانہ ذہنیت کے تحت غریب کو مزید غریب کیا جارہا ہے،سندھ میں سرمایہ دارانہ ذہنیت کے خاتمے اور ظلم کے نظام کے خاتمے کے لیے بھی بدل دو نظام تحریک کو چلانا ہوگا، معیشت، تجارت یا تعلیم ہو سب سے جاگیرداروں اوروڈیروں کا خاتمہ کرنا ہوگا، آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا اور مالی و انتظامی معاملات فراہم کرنا ہے، مسلم لیگ ن کے صدرمیاں محمد نواز شریف اول تو پنجاب کے شہروں میں انتخابات ہی نہیں کرانا چاہتے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں،میاں محمد نواز شریف تمام اختیارات جاگیرداروں، وڈیروں اور خانوں کو دے کر مزید انہیں طاقت ور بنارہے ہیں، کارکنان ظلم کی ہر شکل کو بدلنے کے لیے جدوجہد کو تیز کریں،ہم آئین و دستور کے مطابق قرآن و سنت کے خلاف تمام ترامیم کو مسترد کرتے ہیں،ہمیں موقع ملا تو ملک کے آئین و دستور کے مطابق اختیارات گراس روٹ لیول تک پہنچائیں گے،گلی اور محلے کی سطح پر عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے کمیٹیاں بنائیں گے، عدالتی نظام کو آئین ودستور کے مطابق کریں گے،کارکنان اختلاف کو اختلاف کی طرح رکھیں، پی ٹی آئی کا ورکر ہو یا مسلم لیگ ن کا سب کو اپنے ساتھ ملائیں اور بدل دو نظام تحریک کا حصہ بنائیں، کارکنان اصولی موقف کو قائم رکھتے ہوئے سب کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے تو بہت جلد انقلاب آپ کو دستک دے گا، مملکت خداداد پاکستان میں پاکستان کی ریاست کا آئین و دستور بنایا تھا،آئین و دستور کے مطابق سب کو یکساں نظام تعلیم میسر ہوگی، مزدوروں کو ان کے حقوق دیے جائیں گے، آئین و دستور کے مطابق خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں گے، ملک سے آئے ہوئے نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،جماعت اسلامی کے کارکن سردی گرمی اور ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرلیں گے لیکن ظلم کے نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، بھٹو اور عمران خان نے جاگیردار کے خلاف نعرہ لگایا تھا لیکن انہی لوگوں کو اپنا سرپرست بھی بنالیا تھا، جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنے سروں پر بٹھا کر تبدیلی کا نعرہ نہیں لگایا جاسکتا،ہم کسی کی آشیر باد سے نہیں بلکہ عوامی رائے سے اقتدار میں آئیں گے، پہلے جاگیردار اور اب کارپوریٹ جاگیردار ہیں جو عوام کو مزید غلام بنارہے ہیں، کارپوریٹ سسٹم سے جاگیرداروں اوروڈیروں کو خیر آباد کرکے کسانوں کو ان کی محنت کا حصہ دلوائیں گے،کسانوں کی قسمت میں غلام بن کر رہنا نہیں ہے بلکہ کسانوں ان کا حصہ ملنا چاہیے،عوام جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہوں،جماعت اسلامی عوام کے حقوق دلوائے گی، مشرقی پاکستان میں 4 بڑی جماعت میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات ہوئے اور سب میں اسلامک چھاترو کامیاب ہوئی ہے، یہ کامیابی اسلامی تحریکوں کی کامیابی ہے،جماعت اسلامی کی تحریک بدل دو نظام کی تحریک بھی اسلامی تحریک کا حصہ ہے۔ اجتماع عام کے دوسرے روز لاکھوں شرکاء سے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حسن بلال ہاشمی اورمنتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان مولانا محمد افضل نے بھی خطاب کیا،امیرجماعت اسلامی ضلع بہاولنگر ارسلان خان خاکوانی نے زراعت کے موضوع پر،صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی نے محنت کشوں کے مسائل کے موضوع پر، چیئرمین پلڈاٹ پاکستان نے بلدیاتی نظام پر اظہار خیال کیا،اجتماع عام میں معروف صنعت کار اور ماہرین اقتصادیات نے صنعت و معیشت کے چیلنجز اور حل پر قرارداد پیش کی،امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اسٹیج سے نعرے لگائے جس پر لاکھوں شرکاء نے بھرپور جواب دیا،اس موقع پر پوزیشن ہولڈرز قومی ہیروز کے لیے تحسین ماڈل تقسیم نیشنل ایوارڈ کا بھی انعقاد کیا،حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ اجتماع میں ملک بھر سے آئے ہوئے عوام لاکھوں کی تعداد میں شریک ہیں،بدل دو نظام کے حوالے سے لاکھوں شرکاء پر عزم ہیں، آئین و دستور کے مطابق حاکمیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن انسانوں کا نام صرف نیابت کرنا ہے،کسی بھی انسان کو اختیار نہیں کہ زمین پر خدا بن کر عوام پر ظلم کرے،اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ہی قائم ہوگا،کوئی شہنشا اور پالن ہار نہیں، ربوبیت صرف اور صرف اللہ کی ہے،مینار پاکستان کے سائے تلے لاکھوں انسان اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ رب کے سوا کسی کی معبودیت قبول نہیں کریں گے،ہم امریکا اور اس کے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے بلکہ اللہ کی حاکمیت اور اس کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے حکمران امریکا سے ڈرتے ہیں اور نعوذ باللہ امریکا کو خدا سمجھتے ہیں،انہوں نے کہاکہ حاکمیت کا مطلب یہی ہے کہ اللہ اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق دنیا کے نظام کو قائم کرنا ہے،حکمران طبقہ اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کے بجائے امریکا کی طرف دیکھتا ہے،اگر حکمران طبقہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا تو 27 ویں ترمیم پارلیمنٹ میں لائی ہی نہیں جاتی،حکمران عوام سے خوف زدہ ہوکر ایسی ترامیم پاس کرارہے ہیں جس سے وہ مزید ظلم کرسکیں ،رب کے نظام کے مطابق جب فاطمہ بنت محمد کو استثنا حاصل نہیں تو ہمارے ملک کا چاہے صدر ہو یا آرمی چیف کسی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے،ہم ایسے نظام کے حامل لوگ ہیں جس میں جاگیردار، وڈیرے، خانوں اور جرنیلوں کا نظام نہ ہو، اگر کوئی بندوق کے ذریعے قبضہ کرے گا تو اس کے خلاف ہمہ جہت تحریک چلائی جائے گی، ہمہ جہت تحریک کے لیے ایسی قیادت ضرورت ہے جو عوام کے ساتھ اور عوام اس کے ساتھ ہو، عوام کو ایسی قیادت کی ضرورت نہیں جو صبح اور شام موقف بدلتے ہیں اور جیل سے بیٹھ کر فرمان جاری کرتے ہیں، ہمارے حکمران انگریزوں کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق حکمرانی کررہے ہیں،آج وڈیرے اور جاگیردار اور ان کی نسلیں عوام پر حکمرانی کررہی ہیں،بیوروکریسی کا نظام بھی یہی ہے کہ یہ لوگ عوام کو خادم اور خود حکمران بن جاتے ہیں،سارے اختیارات پر وڈیرے،جاگیردار، خوانین اور بیوروکریٹ کے پاس ہیں جو اپنے سے اوپر کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے 25 کروڑ عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکمران نوجوانوں کی تعلیمی نسل کشی کررہے ہیں اور قوم کو جاہل بنارہے ہیں،بد قسمتی سے پاکستان میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا ایجنڈے میں تعلیم نہیں ہے، ملک میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں،پڑھے لکھے حکمران قوم کو جاہل بنارہے ہیں اور اپنے بچوں کو باہر پڑھارہے ہیں،کارکنان گلی گلی، محلوں میں جاکر پیغام پہنچائیں کہ 78 سال سے مسلط حکمران قوم کو جاہل بنا کر خود اقتدار کے مزے لے رہے ہیں، عوام کے ٹیکسوں کے پیسے عوام پر خرچ کرنے اور عوام کو بنیادی حقوق دینے کے بجائے ذاتی بینک بیلنس بھرنے میں لگے ہوئے ہیں، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں پوری قوم کے لیے یکساں نظام تعلیم ہو، 50 ارب روپے اگر تعلیم کے بجٹ پر خرچ کیے جائیں اور بچوں کو مفت و معیاری تعلیم فراہم کی جائے تو قوم ترقی کرے گی،ہمارے حکمران آئی ٹی کے میدان میں بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے، نوجوانوں میں پوٹینشل موجود ہے، بنوقابل پروگرام کے تحت پاکستان میں 12 لاکھ عوم رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، حکومت و ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن نوجوانوں کو تعلیم دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسرے دن خواتین کا بھی ایک سیشن ہوا جس میں پورا اسٹیج خواتین کے حوالے کردیا گیا اجتماع گا ہ میں سامنے کا پورا حصہ خواتین کو دے دیا گیا، چند انتظامہ کے افراد کے علاوہ اسٹیج پر ساری خواتین ذمہ دار موجود رہیں۔۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ عورت کو نعرے نہیں حقوق چاہئیں، خواتین اب بیدار ہوگئی ہیں ،جماعت اسلامی عورت کو گھر کی زینت اور معاشرے کی قوت بنانا چاہتی ہے،یہ بات انہوں نے اجتماعِ عام کے دوسرے روز خواتین سیشن بعنوان ’’جہاں آباد تم سے ہے ‘‘سے اپنے خطاب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماع عام میں خواتین کی بھرپور حاضری اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان کی خواتین بیدار ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ عورت بحیثیت ماں، بہن، بیوی بیٹی کمزور نہیں، اسلام نے اسے اسی حیثیت میں عزت دی ہے، آج وہی عورت ظلم، گھریلو تشدد اور وراثت سے محروم ہے۔حمیرا طارق نے کے بقول جیلوں میں قید خواتین کی بحالی، رہنمائی اور باعزت آزادی کے لیے جماعت اسلامی جدوجہد کر رہی ہے۔’’ناظمہ اجتماع اور ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن نے حلال و حرام، جائز و ناجائز کی مکمل وضاحت کر دی ہے۔ انہوں نے حضرت حفصہؓ، حضرت عائشہؓ کی علمی خدمات اور امام احمد بن حنبلؒ جیسے اکابر کی تربیت کرنے والی عظیم خواتین کا ذکر کیا اور کہا کہ قرآن ان باکردار عورتوں کی گواہی دیتا ہے، ہمیں بھی اُمید کی کرن بنتے ہوئے اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش جاری رکھنی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کے پرجوش نعروں سے ماحول گونج اٹھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس اجتماع میں خواتین کی بھرپور موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نظامِ تبدیلی کے لیے سرگرم اور پُرعزم ہیں۔ڈاکٹر زبیدہ جبین نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عورت پر مظالم کی بڑی وجہ قران کے نظام کا نفاذ نہ ہونا ہے۔انہوں نے اعلامیہ کی سفارشات میں کہا کہ نظام کی تبدیلی پر صحت مندنسل کی تیاری کے لے تعلیمی ادارے بچوں کی اخلاق،نفسیاتی اور جسمانی نشوونما کے بھی ذمے دار بنیں گے،ماں اور بچے کو صحت مند ماحول کی فراہمی،سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کی تربیت اور فری ہیلتھ کئیر کا قیام شامل ہے اس خواتین سیشن میں نمایاں خواتین کو ہائی ایچیورز ایوارڈ دیے گئے ۔ ان میں ملائیشیا سے ڈاتو ہاجا،زیرائدھا بینٹی کورنین،فلسطین سے ڈاکٹر فوزیہ حسن،بنگلا دیش سینور النساء صدیقہ،انگلینڈ سے لورئین بوتھ، آسٹریلیا سے سانو ابوشبان،ہسنا عبیداللہ عزیز انڈونیشیا،لائلہ زیتونی جرمنی،نورجہاں ہلوانی انڈونیشیا، عائشہ عطاالرحمن ترکیہ،ھداحسین محمد عتوم اردن،سمیرا تاج کو بحرین سے دیے گئے۔ خواتین سیشن میں ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر زبیدہ جبیں، عطیہ نثار، عائشہ سید، ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید، ناظمہ حلقہ لاہور عظمی عمران، ناظمہ کے پی کے شازیہ افضل، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب بھی موجود تھیں۔ دوسرے دن سیشن میں یوتھ سیشن اٹھوجہاں بدل دو بھی منعقد کیا گیا اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ حسن بلال ہاشمی نے جماعت اسلامی پاکستان کے تاریخی اجتماع عام کے یوتھ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نوجوانوں کے روشن مستقبل، نظامِ تعلیم و انصاف میں اصلاحات، اور ملک کی حقیقی تعمیر کے لیے عزم و جذبے کا پیغام دیا۔ ناظمِ اعلیٰ نے جماعت اسلامی کو اس تاریخی اجتماع عام کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر اجتماع عام کا انعقاد کر کے پاکستان کے نوجوانوں کو امید اور روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ ہمارے اسلاف نے پاکستان اسی لیے حاصل کیا تھا کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہو اور نظام حیات اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ ہمارے آباؤ اجداد نے جو خواب دیکھا تھا، ایک ایسی مملکت کا خواب کہ جہاں عدل و انصاف ہوگا، ترقی کے مواقع میسر ہوں گے، انسانی حقوق کا تحفظ ہوگا اور یہ ملک دنیا کے لیے رول ماڈل بنے گا لیکن گزشتہ 70 برس میں یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، آج بھی نوجوان عدل و انصاف سے محروم ہیں، عام آدمی کی کوئی حیثیت نہیں، اشرافیہ ملک کے وسائل پر قابض ہے، اور تعلیم کے دروازے محدود طبقے کے لیے کھلے ہیں۔ ناظمِ اعلیٰ نے پاکستان میں موجود تعلیمی بحران اور طلبہ کے بنیادی حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے لیے صرف 1.7 فیصد جی ڈی پی خرچ کی جاتی ہے، بنیادی سہولیات اور کوالٹی ایجوکیشن دستیاب نہیں۔ دنیا کے 192 ممالک میں پاکستان تعلیم کے معیار کے لحاظ سے 152 ویں نمبر پر ہے۔ جامعات میں مالی، انتظامی اور بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل ہیں، ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناکافی ہیں، اور طلبہ یونینز اور جمہوری پلیٹ فارمز پر پابندی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کر رہی ہے۔ دو کروڑ 62 لاکھ بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں، یہی وجہ ہے کہ نوجوان پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہیں اور بیرون ملک ہجرت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ تعلیمی منظرنامے کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 14 ہزار اسکولوں کی نجکاری کا اعلان کیا گیا۔ تعلیم کو مہنگا اور صرف اشرافیہ کے لیے محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گزشتہ برس میں تعلیمی اداروں کی فیسوں میں 600 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور کئی جامعات میں انرولمنٹ ریشو کم ہو رہا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جو نوجوانوں کو اپنے ملک سے مایوس کر رہے ہیں۔ ناظمِ اعلیٰ نے طلبہ یونینز اور جمہوری پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ 1984ء میں طلبہ یونینز پر پابندی لگائی گئی تاکہ جمہوریت کی نرسری بند ہو جائے اور نوجوان بنیادی حقوق اور آزادی اظہار سے محروم ہوں، اس کے بعد کئی جمہوری حکومتیں آئیں لیکن پابندی برقرار رہی۔ جب حکومتیں خود وراثت پر چلتی ہیں اور جمہوریت کے اصولوں پر عمل نہیں کرتیں، تو ہم نوجوانوں سے کیا توقع رکھیں کہ وہ ہمارے حقوق اور جمہوری اقدار کو یقینی بنائیں گے؟ بلال ہاشمی نے نوجوانوں کو ہمت اور عزم کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان سے مایوس نہیں ہوں گے، ہم اپنے مستقبل کو یہاں وابستہ کریں گے، اور اسی پاکستان کی تعمیر کریں گے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی تھیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار کو سنواریں، روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق اس ملک کی تعمیر میں حصہ ڈالیں۔ ہم اسی پاکستان کی بنیاد رکھیں گے جس کے لیے قربانیاں دی گئی تھیں، اسی تعلیم، انصاف اور ترقی والے پاکستان کی تشکیل کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئیے آگے بڑھیں، اپنے کردار کو سنواریں، اسلام سے تعلق کو مضبوط کریں اور اس مملکت کی تعمیر کے لیے اپنا حصہ ڈالیں، یہ پاکستان ہمارے اسلاف کے خوابوں کی تکمیل کا مقام ہے اور ہمیں اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اس موقع پر معتمدِ عام صاحبزادہ وسیم حیدر اور ناظمین صوبہ جات و اراکین مرکزی مجلس شوریٰ بھی ناظمِ اعلیٰ کے ساتھ موجود تھے۔
دوسرے دن ایک خواتین کانفرنس "جہاں آباد تم سے ہے" اور ساتھ میں یہ ترانہ بھی چلایا گیا جو بے نظیر کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جب وہ وزیر اعظم یہ مائیں بہنیں یہ بیٹیاں قوموں کی عزت تم سے ہے پورا اسٹیج خواتین کے لئے خالی کردیا گیا تھا تمام ذمہ داران خواتین اسٹیج پر موجود رہیں اور مستقل پورے پروگرام کی ریکارڈنگ ہوتی رہی کئی خواتین چہرے پر نقاب بھی نہیں تھا۔۔۔۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے اجتماع عام میں یوتھ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان بچیاں قوم کا روشن مستقبل اور حقیقی تبدیلی کی امید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کی باصلاحیت بیٹیاں وہ قوت رکھتی ہیں جو معاشرے کے بوسیدہ نظام کو بدل کر اسلام کے عادلانہ و منصفانہ نظام کو قائم کر سکتی ہیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق کے بقول پاکستان کی نوجوان نسل خصوصاً بچیاں علم، اخلاق اور قیادت کی صلاحیتوں سے مزین ہیں، اگر انہیں مواقع، رہنمائی اور اعتماد ملے تو یہ بچیاں ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نظام کی اصل اصلاح اس وقت ممکن ہے جب نوجوان ذمے داری، شعور اور مثبت کردار کے ساتھ آگے بڑھیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی طالبات اور بچیوں کے لییتربیتی سیشنز اور بنو قابل آئی ٹی کورسز کے ذریعے عملی زندگی میں رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔ انٹر نیشنل سیشن جس کی صدارت محترم سراج الحق صاحب کی ذمہ داری تھی لیکن انہیں صرف ایک منٹ کے خطاب کے لئے دیا گیا جو کہ اختتامی دعا کے بعد دیا گیا جس پر محترم سراج الحق نے ڈائس پر آکر نعرے لگانے والے کارکنان کو ڈانٹ کر کہا کہ مجھے ویسے ہی ایک منٹ تقریر کے لئے دیا گیا ہے وہ بھی آ پ لوگ نعروں کے ذریعے ضائع کرنا چاہتے ہو۔۔۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ امریکا کے باغیوں کی پوری دنیا کی قیادت ایک نئی صبح کی تلاش میں یہاں جمع ہے ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں نیکی کرنا آسان اور برائی کرنا مشکل ہو، جس میں کشمیر اور فلسطین کو آزادی نصیب ہوگی اور ہم اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ کو وطن لانے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی عدالت چاہتے ہیں جہاں عام آدمی کو انصاف ملے۔ ہم ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں غریبوں کو مفت علاج اور تعلیم کی سہولت ملے۔اجتماع عام کے دوسرے روز ’’جہان نو ہورہا ہے پیدا‘‘کے عنوان سے آخری سیشن میں 45ممالک سے آئے ہوئے 120مندوبین نے شرکت کی۔سیشن سے اخوان المسلمون کی نمائندے بزرگ رہنما شیخ حمام سعید،رہنما حکمران جماعت ملائشیا سے ڈاکٹر مازلی ملک، مراکش سے سربراہ تحریک التوحیدوالااحسان سید ڈاکٹر اوس رمال،برطانیہ سے نومسلم خاتون سماجی رہنما نورین بوتھ، ترکیی سے سعادت پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاتح اربکان،مرکزی رہنماحماس خلیل الحیہ،برازیل سے تھیاگوایویلا رہنما صمود فلوٹیلا،عراق سے ابواوس اخوان المسلمون کے شیخ اسماعیل،نیلسن منڈیلا کی ساتھی ڈاکٹر فرینک چکا، جنوبی افریقا سے اسلامک لبریشن فرنٹ فلپائن رہنما مورو اسماعیل ابراہیم، نائب امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش پروفیسر مجیب الرحمن، بوسنیا سے علیجاہ عزت بیگوچ پارٹی پروفیسر یحیٰ، رہنماآل پارٹیزحر یت صدر تحریک کانفرنس کے نمائندے پروفیسر غلام محمد صفی،تیونس سے رہنما تحریک النہضہ ڈاکٹر علی بن عرفہ،قائد علماء فلسطین شیخ مروان، برہان کایا بیکن،رکن ترک پارلیمنٹ نمائندہ صدر اردگان ڈاکٹرانس تکریتی، صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمن ودیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر شیخ علی محی الدین قرعہ داغی نے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ ڈائریکٹر امور خارجہ ڈاکٹر آصف لقمان قاضی نے نطامت کے فرائض انجام دیے۔سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اجتماع عام کے دوسرے روز ’’جہان نو ہورہا ہے پیدا‘‘کے عنوان سے آخری سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی ٹیم کو خراج تحسین اور شاباشی دیتا ہوں جنہوں نے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر علامہ اقبال کے خواب کے مطابق امت کے رہنماؤں کو جمع کیا۔اجتماع میں امریکا اور اس کے حواریوں کے باغی جمع ہیں اور امت مسلمہ کو جوڑرہے ہیں،ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی اور نظام اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ہو۔ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں قاتل کو نوبل پرائز کے انعام کے لیے نامزد نہ کیا جائے ملک میں ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں طبقاتی نظام رائج نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور افغان کے لوگوں نے قربانیاں دے کر شہنشائیت کا دور ختم کیا۔پاکستان میں بھی وہ دن ضرور آئے گا جب جاگیرداروں، وڈیروں اور خانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی۔اجتماع عام میں دنیا بھر میں مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں کے سربراہان نے شرکت کی جن میں صدر الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین قطرشیخ علی محی الدین قرہ داغی،مرکزی رہنما، حماس خلیل الحیہ،قائد علماء فلسطین شیخ مروان،رہنما، کشمیر سے آل پارٹیز حریت صدر تحریک کانفرنس کے نمائندے پروفیسر غلام محمد صفی،اردن سے بزرگ رہنما، مصر سے نائب مرشد عام، اخوان المسلمون ڈاکٹر حلمی الجزار،ترکی سے سربراہ، سعادت پارٹی ڈاکٹر فاتح اربکان،ترکی سے پارلیمنٹرین، جماعتِ صدر اردوان برہان کایاتْرک،نائب، رفاہ پارٹی ڈاکٹر دوآن بیکن،الجزائر سے نائب صدر، حرکتہ مجتمع السلم ڈاکٹر ناصر حمدادوش،سوڈان سے سربراہ، اخوان المسلمون شیخ عادل علی اللہ،سینیگال سے نائب صدر، تحریک عباد الرحمن مبنگے تلہ،صومالیہ سے شیخ احمدرہنماشیخ محمد،بوسنیا سے نمائندہ، علی عزت بیگووچ کی جماعت پروفیسر یحییٰ،مقدونیہ سے سعید رمضانی،مونٹی نیگرو سے امام جماعت امام ڈزتیمو،فلپائن سے رہنما، مورواسلامک لبریشن فرنٹ اسماعیل ابراہیم،ملائیشیا سے ڈائریکٹر امور خارجہ، حزب اسلامی ڈاکٹر خلیل عبدالہادی،ملائیشیا سے وزیر، صوبہ کلانتان حاجمہ ممتاز،انڈونیشیا سے رہنما، جسٹس پارٹی جزولی جوینی،برطانیہ سے ڈاکٹر انس التکریتی،فلسطین سے پروفیسر ڈاکٹر سامی العریان،دانشور،سربراہ، رفاہی ادارہ منیر سعید،امریکا سے کشمیری رہنماڈاکٹر غلام نبی فائی،برطانیہ سے کشمیری رہنمامزمل ایوب ٹھاکر،چین سے ڈاکٹر وکٹر گاؤ دانشور،امریکا سے پروفیسر، جارج واشنگٹن یونیورسٹیپروفیسر جان اسپیٹو،امریکا سے سماجی کارکنشان کنگ،بوسنیا سے دانشورپروفیسر یحییٰ ملاحاصلووچ،ملائیشیا سے سربراہ، تحریک اکرام بدلی شاہ،مصر سے ڈاکٹر محی الدین الزایط،برطانیہ سے سابق صدر، یو کے اسلامک مشنڈاکٹر زاہد پرویز،امریکا سے سابق صدر، اسلامک سرکل آف نارتھ امریکاڈاکٹر محمد یونس،ترکی سے اسپیکر، قومی اسمبلی نعمان قرطلمش شامل تھے۔
تیسرے دن کےسیشن جن جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ قوم جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑی ہوچکی ہے اور اب منزل دور نہیں۔ان کے بقول جماعت اسلامی اب صرف جدوجہد نہیں بلکہ منزل پر پہنچا کر دم لے گی۔لاہور میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے جماعت اسلامی کے تاریخی اجتماع عام کے تیسرے روز ‘‘ملکی منظرنامہ اور حل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہپاکستان کے عوام کو دہائیوں سے جھوٹے وعدوں، کھوکھلے نعروں اور سبز باغ دکھا کر ہمیشہ دھوکا دیا گیا، ہر دورِ حکومت میں عوام کی امیدوں کا بے دردی سے استحصال کیا گیا، مگر اب قوم مزید فریب اور آزمائش برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی جرات مند قیادت میں ملک میں حقیقی اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔ دیانت دار، پر عزم اور شفاف قیادت ہی عوام کو منزل تک پہنچا سکتی ہے اور اب پاکستان کو ایک نئے معاشی، سماجی اور سیاسی راستے کی ضرورت ہے جو صرف جماعت اسلامی ہی فراہم کرسکتی ہے- انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو ملک بھر سے بے پناہ عوامی اعتماد حاصل ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو تقسیم کرنے والے ہر طرح کے لسانی، صوبائی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر ‘‘بدل دو نظام’’ کی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے، پاکستان کو کرپشن، بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کے چنگل سے نکالنے کا واحد راستہ قرآن و سنت کے عادلانہ نظام کو نافذ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مینارِ پاکستان کے سائے میں لاکھوں افراد کا یہ اجتماع ثابت کر رہا ہے کہ قوم بیدار ہوچکی ہے، عوام اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے متحد ہیں اور اب پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید، خوشحال اور انصاف پر مبنی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا وقت آگیا ہے، یہ اجتماع صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک نئی قومی جدوجہد کی شروعات ہے اور یہی جذبات یہاں ہر سمت امڈتے ہوئے نظر آتے ہیں-لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار نہیں بلکہ خدمت، شفافیت اور عدل کے نظام کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہاہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور اداروں کی بے یقینی نے عام آدمی کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے، تیل ،گیس،پیٹرول، کوئلہ اور زراعت کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود سندھ میں غربت و افلاس اور عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں،پانی کی کمی کی وجہ سندھ کے کاشتکار پریشان اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیلنا میں پانی نہیں چھوڑا گیا تو2050ء میں ساحلی پٹی کے اضلاع ٹھٹھہ اور سجاول اپنا وجود کھو دیں گے۔ خوشحال بااختیار صوبے مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔ مینار پاکستان میں منعقد عظیم الشان اجتماع میں سندھ کے دیرینہ مسائل اور سندھ کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کو قیام پاکستان کی قرارداد پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستان کو اس وقت دیانت دار قیادت، مضبوط حکمرانی اور عوامی ترجیحات پر مبنی واضح لائحہ عمل کی ضرورت ہے اور جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جو عوام کو حقیقی تبدیلی اور شفاف نظام فراہم کرسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ سمیت پورے ملک میں کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور بدانتظامی نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔سندھ کے عوام پانی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں جب کہ حکمران جماعتیں صرف نعروں اور اعلانات تک محدود ہیں۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی سندھ میں حقوق کی بحالی، شہری مسائل کے حل، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے باوقار مستقبل کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے،عوام نے دیکھ لیا ہے کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے ملک کو استحکام دینے کے بجائے مزید بحرانوں میں دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ قوم ذاتی مفادات کے بجائے اصولوں اور کردار کی بنیاد پر قیادت کا انتخاب کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں شفاف انتخابات، مضبوط بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یقینی بنائی جائے تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوسکیں۔صوبائی امیر نے نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں اور خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت کو جماعت اسلامی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم ظلم، ناانصافی اور غیر منصفانہ معاشی نظام کے خلاف کھڑی ہوچکی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی سندھ بھر میں عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کرے گی اور ہر شہر، قصبے اور گاؤں تک اپنا پیغام پہنچائے گی۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمن نے مینارپاکستان پر ہونے والے عظیم الشان اجتماعِ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کو دہائیوں سے نظرانداز کیا گیا، وسائل سے مالا مال صوبہ آج بھی پسماندگی، غربت اور محرومی کا شکار ہے، اور اس کی بنیادی وجہ کرپشن، بدانتظامی اور نااہل حکمران طبقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے حقوق کی آواز ہر فورم پر بلند کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی کیونکہ پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے مشروط ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ آج کے اجتماع میں لاکھوں عوام کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم پرانی سیاسی جماعتوں کے جھوٹے وعدوں اور ناکام حکمرانی سے مایوس ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے پانی اور سیکورٹی جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ترس رہے ہیں لیکن حکمرانوں کی ترجیحات ہمیشہ اپنے مفادات تک محدود رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے ساحل، معدنیات اور جغرافیائی اہمیت پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے صوبے کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر شفاف گورننس، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی، اور وسائل پر بلوچستان کے عوام کا جائز حق یقینی بنایا جائے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان میں ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے کیونکہ جماعت کی سیاست اصولوں، امانت، خدمت اور سچائی پر مبنی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں اور خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع قومی سطح پر تبدیلی کے آغاز کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے شہروں، دیہاتوں اور ساحلی علاقوں میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن نے خصوصاً مکران ڈویژن، تربت، گوادر، خاران، لسبیلہ اور کوئٹہ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران جماعتیں سنجیدگی دکھاتیں تو آج بلوچستان پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ خطہ ہوتا۔ اجتماع عام میں مولانا ہدایت الرحمن کے خطاب پر شرکاء نے بھرپور تائید کی اور پرجوش نعرے لگائے۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمدمشتاق خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سرکاری مراعات یافتہ طبقہ مسلط ہے۔ لاہور میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے 6لاکھ افرادجان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، جموں کشمیر کو آزاد کیے بغیر آزادی مکمل نہیں، جموں کشمیر پر بھارت نے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے، کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، 5اگست کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے کشمیریوں سے شناخت چھین لی گئی، آزاد کشمیر کے لوگوں کو حکمرانوں نے سونے کی چڑیا سمجھ لیا ہے، بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری مراعات یافتہ طبقہ مسلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں سیاحت کو فروغ دیا جائے، سیاحوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی نے اجتماع میں قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ داسو ڈیم بنایا جائے، ہزارہ کو حقوق دیے جائیں۔ لاہور میں اجتماع عام کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسپتال بنایا جائے،ہزارہ کے لوگوں کو صوبہ نہیں دیا گیا، حکمرانوں نے وعدے پورے نہیں کیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہزارہ کو بجلی نہیں مل رہی، ہزارہ کے پہاڑوں پر معدنیات ہیں اس پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاق پختونخواکے 22 سو ارب کے واجبات ادا کرے۔لاہور میں اجتماع عام کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن بحال کیا جائے، بم دھماکوں سے صوبے کو پاک کیا جائے، کاروبار بند نہ کیا جائے، 22سو ارب کے پی کے وفاق پر ہیں، صوبے کے وسائل دیے جائیں۔
امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے کہا کہ شہری علاقوں سے فوج کو سرحدوں پر بھیجا جائے، اس سے امن بحال ہوگا۔لاہور میں اجتماع عام کے لاکھوں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن کا دور دورہ تھا، ڈالروں کے لیے فوجی آپریشن کیا گیا۔ پاک افغان سرحد پر امن تھا کاروبار تھا، بارڈر دوبارہ کھولے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاق پختونخواکے 22 سو ارب کے واجبات ادا کرے۔لاہور میں اجتماع عام کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن بحال کیا جائے، بم دھماکوں سے صوبے کو پاک کیا جائے، کاروبار بند نہ کیا جائے، 22سو ارب کے پی کے وفاق پر ہیں، صوبے کے وسائل دیے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی کے خطاب سے پہلے میاں محمد اسلم نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور امیر صوبہ پنجاب محترم جناب جاوید قصوری نے نظام بدلو تحریک کے لئے انفاق فی سبیل اللہ کی بھرپور اپیلیں اسٹیج سے کیں گئیں ذمہ دارانہ جماعت اسلامی نے لاکھوں اور کروڑوں کے فنڈ جماعت اسلامی کے نظام بد ل دو تحریک کے لئے جمع کئے گے، ایک کروڑ سوا کروڑ تک انفرادی فنڈ بھی دیئے گئے جو بھی فنڈز دیئے گئے وہ لاکھوں میں ہی اسٹیج سے دینے والے ذمہ داران کے نام کے ساتھاعلانات کئے گئے، ایک کارکن نے امیر جماعت اسلامی کا عینک ایک کروڑ بیس لاکھ کا خریدا، اس سے پہلے بھی یہ ہی کارکن جماعت اسلامی کے دھرنے میں یہ عینک ایک کروڑ کا خرید چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اجتماع گاہ میں بھی فیڈز جمع کرنے کے لئے بڑے بیگ دے کر فنڈز جمع کروایا گیا، اسٹیج سے تقریباً ایک گھنٹہ تک فنڈ جمع کرنے کا سلسلہ جاری رہا، یہ بھی ایک روایت بنتی جارہی ہے کارکنان سے بڑے بڑے فنڈز دلوائے جاتے ہیں ، دھرنوں اور بڑے اجتماع عام کےاخراجات بے تحاشہ کئے جاتے ہیں، اس بیت المال کے آڈٹ اور جائزے کے لئے کوئی طریقہ کار ارکان جماعت کے لئے نہیں کہ وہ چیک کر سکیں کہ کس مد میں کتنا فنڈ جمع ہوا ہے کتنا کہاں خرچ کیا گیا۔۔۔جماعت اسلامی سے سب اہم اجتماع جو صرف ارکان کے لئے ہوتا ہے جس کا مقصد جماعت اسلامی کے کام کوکارکنان کا شامل کرنا اور پوری جماعت کی تنظیم کو کارکنان میں پھیلانا وہ اب تقریباً ناپیدا ہوتا جا رہاہے، مقامی جماعتوں میں جہاں بھی اجتماع ارکان کرنا ضروری ہوتا ہے وہاں صرف ایک اجتماع سال میں ایک دفعہ کرنا پلاننگ کا حصہ بنایا گیا ہے، وہ اپنی اثر پذیری تقریباً کھو چکا ہے۔۔کل پاکستان اجتماع عام کے موقعہ پر اجتماع ارکان ہوتا تھا جو اس دفعہ منعقد نہیں کیا گیا۔کوئی فورم نہیں جہاں پوچھا جائے آپ اتنے بڑے بڑے ایونٹ کرتے ہیں فنڈز کہاں سے آتے ہیں کہاں خرچ کئے جاتے ہیں، محترم قاضی حسین احمد کی دور امارت میں نواز شریف نے 10 کروڑ فنڈ جماعت اسلامی کو الیکنش امیر جماعت اسلامی پاکستان کی اختتامی تقریر سورہ فتح کی ان قرآنی آیات سے شروع ہوتی ہیں،" هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاﭤ(28) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(29)
جس کا ترجمہ انہوں نے پیپرز پر دیکھ کر پڑھا یہ کہ "وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ھدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس نظام زندگی کو اور اس دین کو دنیا کے تمام نظام ہائے زندگی پر مکمل جنس دین پر غالب کر دے اور ظاہر کردے اور اللہ کے لئے گواہی کافی ہے، محمد صلی اللہ علیہ والہ اللہ کے رسول ہیں،اور جو لوگ ان کےساتھ ہیں وہ انکار کرنےوالوں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے انہیں رکوع اور سجود اور اللہ کے فضل اور خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں یہ ہے وہ صفت طورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے گویا ایک کھتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی پھر اس کو تقویت دی پھر وہ گدرائی اور پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی کاشت کرنے والے کو وہ خوش کرتی ہے،تاکہ کفر کرنے والے اور انکار کرنے والے انکے پھلنے پھولنے پر جلیں، اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے بے شک اللہ رب العلمین نے سچ فرمایا ہے، امیر جماعت اسلامی کا اختتامی خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے ’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کا اعلان کر دیا، جس کے تحت ملک بھر میں جلسے، جلوس اور دھرنے منعقد کیے جائیں گے۔ سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیارات بیوروکریسی کے بجائے مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہئیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے رہنماؤں سے کہا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے تحریک کا آغاز کریں،یہ صرف پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی طبقہ اشرافیہ اختیارات پر قابض ہے، جس کے خلاف تحریک چلانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام وقت کی ضرورت اور ہمارا اہم مطالبہ ہے۔ جماعت اسلامی کی کامیابی پاکستان کی ضرورت ہے، کشمیر اور فلسطین ہماری ریڈ لائن ہیں، ان پر کوئی سمجھوتا قابل قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اجتماعِ عام کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک بھر سے لاکھوں شرکاء بھرپور اجتماع کے بعد رخصت ہوئے۔’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کے تحت 50 لاکھ نئے ممبران شامل کیے جائیں گے اور 15 ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی نظام کو آئین میں تحفظ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب کے رہنماؤں کو ہدایت دی کہ اسمبلی کے سامنے دھرنے کی تیاری کریں۔ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم 1973ء کے آئین کو تباہ کرنے کی ہر کوشش کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر انتخابات کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس سے عوام کے حکومت بنانے کا حق سلب ہوتا ہے، کسی سیاسی جماعت پر پابندی قابل قبول نہیں۔ نہ ٹی ایل پی پر پابندی لگنی چاہیے اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر عمران خان کو جیل میں رکھا جانا چاہیے۔ ہم حق بات کہیں گے چاہے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کو ناگوار گزرے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان محض ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ہمارے عقیدے کا نام ہے، ہم ہر ممکن طور پر اس کی حفاظت کریں گے۔ جماعت اسلامی کا کارکن کسی قسم کی قوم پرستی کا شکار نہ ہو،ہم مقامی سیاست ضرور کریں گے لیکن قوم پرستی کی کسی لہر کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کوئی شکوہ نہیں، ہماری لڑائی اس پر قابض طبقہ اشرافیہ سے ہے، پاکستان کسی جرنیل، اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریٹ یا حکومت کا نہیں بلکہ عوام کا ہے۔ اجتماعِ عام میں پنجاب کے کارکنان نے اپنی رہائش گاہیں خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے شرکاء کے لیے وقف کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی تو پنجاب ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں اکثریت جنریشن زی کی ہے، ہم انہیں ساتھ لے کر چلیں گے، ہنر مند بنائیں گے اور اسٹارٹ اپس کے لیے آسان قرضوں کا انتظام کریں گے۔ طبقاتی نظامِ تعلیم کے باعث ان کے لیے آگے بڑھنے کی راہیں مشکل ہو گئی ہیں، ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ انہیں آئی ٹی کی تعلیم دیں گے، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ کھیلوں کی سہولیات فراہم کریں گے اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام متعارف کرائیں گے۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی نے جنریشن زی کے لیے کنیکٹیویٹی پروگرام کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کو متحد کر کے ملک کے بوسیدہ عدالتی نظام کو تبدیل کریں گے۔ آزاد خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو امریکہ کے زیر اثر پالیسیوں سے نکلنا ہوگا کیونکہ اس سے بدامنی پھیل رہی ہے، دوستی اور دشمنی دونوں میں وقار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ افغان حکومت کی ذمے داری ہے کہ اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور پاکستانی حکام کو بھی افغانستان کے حوالے سے وہی لہجہ اختیار کرنا چاہیے جو دیگر ہمسایوں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ مزید کہا کہ ہم فلسطین میں امن کے حوالے سے ٹرمپ اسپانسرڈ قرارداد کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ قرارداد تسلیم کرنے والوں کی شدید مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی فلسطین پالیسی سے انحراف ہے۔ کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور اسے بھارت کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حقِ خود ارادیت دینا ہی مسئلے کا اصل حل ہے۔ کشمیر پر سمجھوتہ کرنے یا ابراہیم معاہدہ یا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں عوام حکمرانوں کو نشانِ عبرت بنا دے گی۔کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں، لین دین کے معاملات شفاف رکھیں اور ہر معاملہ اللہ کے حکم کے مطابق تحریر کریں۔ کارکنان کو صلہ رحمی کی نصیحت کی اور کہا کہ رشتوں کو ہر ممکن حد تک نبھانے کی کوشش کریں۔ خود نمائی سے بچنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے انتخابات کے اعلان سے پہلے جماعت اسلامی کا کوئی نامزد امیدوار نہیں ہوگا، ہر کارکن جماعت اسلامی کی نمائندگی کرتا ہے اور امیدواروں کا فیصلہ انتخابات کے وقت ہی کیا جائے گا۔علاوہ ازیں خطاب کے بعد امیر جماعت اسلامی نے رقت آمیز اختتامی دعا کرائی جس میں ملک و قوم کی سلامتی، امن و استحکام، ظلم و ناانصافی کے خاتمے اور مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ لاکھوں شرکا ہاتھ اْٹھا کر آمین کہتے رہے، جس سے اجتماع گاہ کا ماحول روحانی کیفیت سے سرشار ہو گیا۔ انتظامیہ کے مطابق اختتامی سیشن میں شرکت کرنے والوں کی تعداد غیر معمولی رہی، جبکہ شرکا نے پورے اجلاس کے دوران مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
مدحت اور تعریفوں کے قصیدے پڑستان امیرالعلام ریاست کا وجود اقامت دین کے لئے ہا گیا جو باعش سلامی اجتماع کا استلامی اجتماع کا ا