کتب خانہLibrary

جماعت اسلامی کراچی اور پاکستان بھر کے دھرنے کیوں امین اشعر

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

جماعت اسلامی کراچی اور پاکستان بھر کے دھرنے کیوں؟ ۔۔۔امین اشعر 21مارچ 2022 جماعت اسلامی کی جدوجہد اصل میں تمام مسلمانوں کی جدوجہد ہے جو اللہ پر اس کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، جماعت اسلامی کی کامیابی تمام مسلمانوں کی کامیابی ہے اور جماعت اسلامی کی ہار تمام مسلمانوں کی ہار اور شکست ہے۔جماعت اسلامی ,اسلامی نظام کے قیام کے لئے معرض وجود میں آئی ہے، یعنی اس مملکت پاکستان کو اسلام کا گہوراہ بنانا اور اگر جماعت اسلامی اور اس کی قیادت اپنے نصب العین سے روگردانی کرتی ہے تو یہ اصل میں تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت ہو گی، جماعت اسلامی کوئی فقہی جماعت نہیں جو کسی ایک مکتبہ فکر کی نمائندہ ہوبلکہ جماعت اسلامی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر تمام راسخ العقیدہ مسلمان مجتمع ہو سکتے ہیں اور ہیں، یہ ہی وہ بنیاد ہے جس کی بنا پر جماعت اسلامی کو ایک اسلامی انقلابی پارٹی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اسلامی انقلاب کوئی فقہی جماعت نہیں لا سکتی اور اگر لے بھی آئے تو وہ اسی ایک ملک میں مقید ہو کر رہ جائے گا جس طرح ایران میں ہوا۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں یہ دور سرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ کا دور ہے، سرمایہ دارانہ نظام نے ہماری انفرادیت ، معاشرت اور ریاست کو مکمل طور پر اپنے کارندوں کے ذریعےاپنی گرفت میں لیا ہوا ہے،اور یہ گرفت اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے بیرون سے اس پر حملہ کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے، ہمارے پاس واحد راستہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندرون سے ہی اس کی انفرادیت معاشرت اور ریاست کی تسخیر ہے، وہ اسی صورت ہو سکتا ہے جب ہم سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات سے اچھی طرح واقف ہوں اور ہر اس موقعہ سے اپنے مقصد (اسلامی انقلاب کی آبیاری) کی تقویت کا سامان مہیا کریں۔ سرمایہ دارانہ نظام جمہوریت (الیکشن میں کامیابی )کے ذریعہ اقتدار کی منتقلی کاموقعہ ملکی عوام کو دیتا ہے(جو اصل میں ایک دھوکہ ہے) اور احتجاجی سیاست کا بھرپور موقع فراہم کرتا ہے، آئینی اور دستوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے، ظاہر سی بات ہے کہ ایک اسلامی تحریک کے لئے اصل پیمانہ شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی ہے، اسلامی تحریک اصل میں اپنے تمام امور کی انجام دہی شریعت کے مطابق کرنے کی پابند ہے، اور نظام جمہوریت اور احتجاجی سیاست میں حصہ اصل میں اپنی معاشرتی قوت کو تقویت دینے کے لئے ہی کرتی ہے اور کرنا چاہئے۔ جمہوری اور احتجاجی سیاست کا اسلامی علمیت میں کوئی مقام نہیں، مگر ایک اسلامی تحریک ان قبیح اعمال کے ذریعہ اپنے مقصد وجود یعنی اقتدار اسلامی اور اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کو مہمیز دینے کا کام باآسانی کر سکتی ہے اگر اسلامی تحریک کی قیادت سرمایہ دارانہ نظام کی کمزوریوں اور اس کے اندرونی تضادات سے اچھی طرح واقف ہو۔ پچھلے چند ماہ پہلے جماعت اسلامی گوادر اور جماعت اسلامی کراچی نے ایک ایک ماہ کا دھرنا دیا جس کا بظاہر مقصد شہری حقوق اور معاشی حقوق کا حصول تھا، اور کئی مطالبات موجودہ حکومتی حلقوں کو پیش کئے جو بظاہر سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے منظور بھی کر لئے،دیکھا جائے تو ان دھرنوں میں جماعت اسلامی کو ملکی معاشرتی طور پر بڑی پزیرائی ملی کیوں کہ یہ سرمایہ دارانہ حقوق کے مطالبات تھے اور ان کا مقصد شہری سطح پر سرمایہ دارانہ عدل کا قیام تھا، عام عوام کی بہت بڑی تعداد اس پوری دھرنا مہم میں مولانا ہدایت اللہ کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور ایک جذباتی فضاء بھی پیدا ہوگئی(ہمیں معلوم نہیں کہ یہ فضا اسلامی جزباتیت کا اظہار تھی یہ نہیں، جبکہ کراچی کا معاملہ تھوڑا مختلف تھا، کراچی جماعت نے جو کراچی کو حق دو کےمطالبات پیش کئے تھے اس کی شہر بھر میں بھر پور پزیرائی ملی ، اور کراچی کی قوم پرست جماعتوں کو تو یہ کراچی حقوق دھرنا بہت ہی پسند آیا اور ایک قوم پرست لیڈر مصطفی ٰ کمال تو اس دھرنے میں اپنے کارکنا ن کے بڑی تعداد کے ساتھ شامل ہو نے تک آگیا،جبکہ اندرون سندھ کچھ جماعت اسلامی کے حلقوں میں بھی نا پسند کیا گیا کیوں کہ اندرون سندھ سندھی عصبیت سندھی قومیت میں بہت زیادہ رچی بسی ہے جو اسلامی عصبیت کے مقابل آ کھڑی ہو جاتی ہے اور سندھی حلقوں میں تو بہت ہی ناگوار محسوس کیا، بظاہر دیکھا جائے تو مطالبات مان لیئے گئے، مگر عملدرآمد کو کوئی گارنٹی نہیں ہو سکتی، گوادر میں تو آج کل پھر دھرنا شروع ہوگیا ہے کیونکہ صوبائی حکومت معاہدے سے روگردانی کر رہی ہے۔

حصہ ۲

جماعت اسلامی ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے، جماعت اسلامی کا الیکشن میں حصہ لینا اور احتجاجی سیاست ،دھرنا ، جلسے جلوس کرنے کے ذریعہ اصل میں اسلامی کارکنا ن کی تربیت اور اسلامی تحریک کی تقویت کا کام ہونا چاہئے ، مطالبات کوئی بھی ہوں اصل مقصد اپنے کارکنان کی بھرپور تربیت اور اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہئے اور وہ جذباتی فضاء پیدا کرنا ہونا چاہئے جس کے نتیجہ میں گلی محلہ اور بازار میں اپنی پارٹی کے اقتدارقائم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو، شہری اور ملکی سطح پر اسٹریٹ پاور میں ایسا اضافہ ہونا چاہئے جس کے سامنے ہر سطح کی حکومت گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہو جائے۔ کیا کراچی جماعت نے دھرنے کےذریعہ یہ مقصد حاصل کیا، ارکان کارکنان اور جماعت اسلامی کی ہمدروں نے اس دھرنے میں بھرپور شرکت کی؟ کراچی جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کئی بار صوبائی حکومت کو شدید دھمکیاں بھی دیں، مگر صوبائی حکومت نے انتہائی پیار محبت سے ان کی دی گئی دھمکیوں کو لیا، اور کسی بھی قسم کی فورسسز کو ان کے خلاف ایکشن میں نہیں لے کر آئے، آخر کیوں؟ کراچی دھرنے میں جماعت اسلامی کراچی شہر کے کارکنان اور ارکان نے روزآنہ بنیاد پر جو شرکت کی وہ تقریباًکی پانچ سوسے آٹھ سو افراد نے شرکت کی، دھرنے میں سب سے زیادہ رش مغرب سے شروع ہوتا تھا اور رات ساڑھے گیا رہ ، بارہ بجے تک رہتا تھا۔ ارکان کی بہت کم تعداد شریک ہوئے، جو عموماً اپنے اپنے دفاتر سے فارغ ہو کردھرنے میں رات کا کھانا کھانے آجاتے تھے، نمازوں کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا، مگر افسوس کئی شرکاء پیچھے کھڑے ہو کر باتیں کرتے رہتے تھے، اگر تمام نہیں تو نوے فی صد شرکاء بھی عصر مغرب و عشاء کی نماز باجماعت ادا کرتے اور اسٹیج سے سختی سے اس بات پر اصرار کیاجاتا تو دھرنے کی فضا میں دینی رنگ امڈ آتا ، دھرنے میں کئی دفعہ خواتین کو بھی جماعت اسلامی خواتین کے پلیٹ فارم سے پوری کراچی سے بلایا گیا،اور اسی دوران حسن اسکوائر چورنگی پر ایک بڑا خواتین کا جلسہ بھی کیا گیا، سب سے زیادہ افسوس کی بات اس دھرنے میں ایک دوترانے جو میوزک سے بھرا ہوئے تھے مستقل چلائے جاتے رہے اور خواتین کے جلسے میں بھی چلائے گئے، جو مذہبی ماحول طاری کرنے کے لئے سم قاتل کا کام کرتے رہئے،اور اسٹیج پر کئی دفعہ اناوئسر (نجیب ایوبی )ہلکےپھلکے انداز میں اس میوزک پر ناچتے اور جھومتے ہوئے بھی نظر آئے،اہم بات یہ کہ جس دن جمیعت اتحاد علماء کے وفد نے دھرنے میں شرکت کی اس روز انہوں نے اسی شرط پر شرکت کی کہ وہ میوزک سے بھر ے ترانے نہیں چلائے جائے گے، اور جب تک وہ موجود رہئے الحمد للہ وہ ترانے نہیں چلائے گئے، اس دھرنے میں روزآنہ کی بنیاد پر شرکاء کے لئے کھانا کراچی جماعت کی طرف سے آتا تھا، جوکارکنان میں ہر کسی کو علیحدہ علیحدہ بانٹ دیا جاتا تھا، اس کا بھی کوئی ایسا اہتمام نہیں کیاگیا جو کارکنان باہمی محبت اور انسیت کا ذریعہ بنتا۔دھرنے میں میں کئی بار خواتیں بھی آتی رہیں، جن کے لئے تھوڑا بہت علیحدہ انتظام کر دیا جاتا تھا، مگر بے پردگی کو اہمیت نہیں دی گئی۔ایک اندازے کے مطابق روز آنہ تقریباًتین لاکھ سے پانچ لاکھ کے اخراجات کئے جاتے رہئے، ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب کراچی جماعت کے بیت المال سے خرچ کئے گئے، اس دھرنے کے لئے مستقل فنڈز بھی ملتے رہئے اور اعلانات بھی ہوتے رہئے، سمجھ نہیں آتا کہ جو فنڈز لئے گئے وہ کس مد میں اور کیا سوچ و فکر کے ساتھ خرچ کئے گئے۔ دھرنے میں دو سے تین دفعہ امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق نے بھی شرکت کی اور بڑے جلسوں سے خطاب بھی کئے جس میں پورے شہر سے کارکنان جماعت کو شرکت کروائی گئی اور کراچی جماعت کی اس سرگرمی کو بہت سراہا اور کراچی جماعت کی کاوشوں کی بھر پور تعریفیں کیں، اور ساتھ ساتھ پورے ملک میں دھرنے دینے کا اعلان کر دیا، ظاہر سی بات ہے کہ اس میں اسلامی نظام ، اسلامی انقلاب کا کوئی نعرہ نہیں تھا، بلکہ عوام الناس کو سرمایہ دارانہ ظلم یعنی غربت اور مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے ابھارا گیا۔

حصہ ۳

اس بات کا برملا اظہار کیا گیا کہ صرف جماعت اسلا می ہی اس ملک کی ایماندار اور دیانت دار قیادت ہے جو اس ملک سے مہنگائی ، غربت اور بےروز گاری کا خاتمہ کر سکتی ہے، یہ ایک علیحدہ بات ہی کہ یہ باتیں صرف تقریروں کی حد تک ہیں یا ان کے دعوؤں کے حصول کے لئے کوئی ہم ورک بھی کیا گیا ہے یا نہیں (ہمیں معلوم نہیں) لیکن جماعت اسلامی کی ریسرچ اکاڈمیز شایداس طرح کا کوئی کام کررہی ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ کہ پورے شہر کی تما م تنظیمی اجتماعات کو ختم کردیا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ تمام تنظیمی اجتماعات دھرنے میں کئے جائیں، تاکہ شرکاء کی تعداد بڑھائی جا سکے۔جس کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا کہ اس کے نتیجہ میں کیاحاضری میں اضافہ ہوا یا نہیں، دھرنے میں روزآنہ دس بجے کے بعد امیر حلقہ کا ایک پالیسی بیان ہوتا جو دن بھر کی صورت حال اور دھرنے کی مستقبل کی حکمت عملی بیان کرنے کے لئے مخصوص ہوتا تھا، جس میں کارکنا ن کا زیادہ سے زیادہ تعداد کو شریک کرایا جاتا تھا۔ بظاہر دھرنے کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے لیکن اس دھرنے کے اصل مقصد اپنی اسٹریٹ پاور کو بحال کیا گیا یا نہیں اس کا کوئی جائزہ نہیں نظر نہیں آیا، اگر دیکھا جائے تو تقریباً ایک ماہ کے دھرنے میں روزآنہ تقریباً تین سے چار لاکھ خرچ ہوئے یعنی ایک ماہ میں سوا سے ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کئے گئے، جو جماعت اسلامی کے بیت المال سے خرچ کئے گئے، کیا ان تمام اخراجات کی جماعت اسلامی کراچی کے بجٹ میں گنجائش تھی یا نہیں۔ اخراجات کا تو صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے مگر اصل چیز پارٹی کی معاشرتی قوت اور اسٹریٹ پاور میں اضافہ کا جائزہ، جتنے کارکنان اور ارکان شریک ہوئے اس سے کیسا ربط رکھا گیا، ان سے جماعت کی اس حکمت عملی پر کوئی گفتگو کی گئی، ظاہر سے بات ہے کہ صرف واہ واہ کرنے والے کارکنا ن کے گرد یہ پورا دھرنا گھومتا رہا۔ کوئی سروے فارم نہیں بھروایا گیا، نہ ہی کسی قسم کے کوائف جمع کئے گئے۔ جماعت اسلامی کراچی کی شوریٰ میں ہو سکتا ہے کہ ان امور کا جائزہ لیا گیا ہو، مگر کارکنان جماعت کے بے بسی ہے کہ انہیں ان امور سے آگا ہ کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں۔۔اس کا بھیانک نتیجہ کارکنان میں بد دلی اور تحریک اسلامی سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہماری قیادت کو فہم وفراست عطا فرمائے کہ وہ اسلامی انقلابی جماعت کی قیادت کا حق ادا کر سکے، تاکہ دنیا میں بھی اسلامی نظام کے طرف پیش رفت ہو سکے اور کارکنان جماعت اخروی کامیابی کی طرف بھی گامزن رہیں اور انہیں وہ جذبہ اور جنوں حاصل ہو جو کسی انقلابی جماعت کے کارکنا ن کے لئے بہت ضروری ہے.